Breaking News
recent

کراچی میں بدبو کی وجہ کیا تھی ؟

پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی شہر کراچی میں دو روز قبل بدبو
کیوں اور کیسے پھیلی؟ اس کا جواب حکومت کا کوئی بھی تحقیقاتی اداراہ نہیں دے سکا ہے۔ ماحول کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ورلڈ وائیڈ فنڈ کا دعویٰ ہے کہ یہ بدبو سمندر میں ’نوک ٹی لوکا‘ نامی آبی حیات کی ہلاکت کی وجہ سے پھیلی تھی۔ کراچی کے ساحلی علاقوں اور وسطی شہر میں 31 مئی کی صبح فضا میں بدبو محسوس کی گئی تھی، جس کا اثر پورا دن رہا تھا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی کی پرنسپل سائینٹیفک افسر ڈاکٹر نذہت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سمندر میں تیل پھیلنے کی وجہ سے یہ بدبو پھیلی ہے تاہم اس بارے میں ان کی ٹیم تحقیق کر رہی ہے۔

حکومت سندھ کے محکمہ ماحولیات نے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ کراچی کے ڈائریکٹر عاشق لانگاہ کا کہنا تھا کہ ان کے محکمے کے پاس ایسے آلات ہی نہیں کہ وہ اس کی تحقیق کر سکیں۔ ورلڈ وائیڈ فنڈ کے تیکنیکی مشیر محمد معظم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کھلے سمندر میں نوک ٹی لوکا نامی آبی جانور پایا جاتا ہے، جو عمان سے لیکر کراچی تک بحیرہ عرب میں موجود ہے اور یہ اتنی تعداد میں ہوتے ہیں کہ سمندر کا رنگ سبز ہو جاتا ہے۔ محمد معظم خان کے مطابق نوک ٹی لوکا نامی یہ آبی جانور گزشتہ تین چار ماہ سے بحیرہ عرب میں موجود تھے اور جیسے ہی مئی کے آخری ہفتے میں مون سون کے آغاز میں جنوب مغرب سے ہوائیں چلیں اور سمندری لہروں میں تیزی آئی تو ان کی بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوئیں اور لہروں کی مدد سے یہ ساحل تک پہنچے اور نتیجے میں بدبو پھیل گئی۔

پاکستان میں ورلڈ وائیڈ فنڈ کے سینئر اہلکار محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے تجربے میں اتنی تعداد میں اس جانور کی ہلاکت اور بدبو پہلے نہیں دیکھی۔ ’یہ نکتے جتنا جانور ہے جس کا جوبن کبھی کبھی زہریلا بن جاتا ہے اور آبی حیات کی اموات ہوتی ہیں، جیسے عمان کے ساحل پر سطح پر تیرنے والے جھینگے کی اموات ہوئیں، لیکن پاکستان کی سمندری حدود میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘ جامعہ کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف میرین سائنس کی ڈائریکٹر ڈاکٹر راشدہ قاری، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے محمد معظم خان کے موقف سے اتفاق نہیں کرتیں، ان کا کہنا ہے کہ نوک ٹی لوکا کی ہلاکت سے اس قدر بدبو پھیل نہیں سکتی ہے۔ جو علاقے ساحل کے قریب ہیں وہاں تک تو بدبو آ سکتی ہے لیکن پورے شہر میں پھیل جائے اس میں اتنی شدت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر راشدہ قاری کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی ریسرچ نہیں دیکھی کہ اس موسم میں ان کی بریڈنگ ہوتی ہو، لیکن گرمی بہت ہے اس وجہ سے ہوسکتا ہے ان کی بریڈنگ ہوئی ہو یا کہیں اور سے یہاں آئے ہوں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکت کی وجہ موسمی تغیر ہو سکتا ہے، لیکن اس کے علاوہ انسان کی پھیلائی ہوئی آلودگی کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ ماحول کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے سمندر میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان اداروں کی رپورٹوں کے مطابق صنعتی فضلے کے علاوہ گھریلو فضلہ اور کچرہ بھی سمندر برد کیا جاتا ہے، جس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
 

No comments:

Powered by Blogger.