Breaking News
recent

کراچی کا ’قیمتی‘ کچرا

چاروں طرف کچرے کے پہاڑ سلگ رہے ہیں، ایک کونے میں ہیما کچھی اپنی بیٹی کے ساتھ موجود ہے۔ جس کی نظریں کچرے کو سکین کرتی ہیں اور ساتھ ہی وہ ایک چھڑی پھیرتی ہیں۔ یہ مقناطیسی راڈ ہے، جس کے ذریعے وہ کچرے میں موجود دھات کھینچ نکالتی ہیں۔ گذشتہ 20 سالوں سے یہ کچرا ہی ہیما کا روزگار ہے وہ اور ان کے دو بیٹے یہی کام کرتے ہیں۔ ہیما کے مطابق وہ کچرے میں سے سلور، تانبہ، پیتل، شیشہ اور ہڈیاں نکالتی ہیں، دو دن جمع کر کے اسے فروخت کرتی ہیں، اس سے ان کے دو روز کے راشن کا خرچہ نکل آتا ہے۔ جو تقریباً پانچ سے چھ سو روپے بنتا ہے۔

کراچی سے حب بلوچستان جانے والی سڑک پر واقع نور محمد گاؤں کے قریب کچرے کا میدان واقع ہے، یہاں روزانہ 200 ٹرک چار ہزار ٹن کے قریب کچرا لاتے ہیں، جس سے ڈھائی سو کے قریب لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 12 ہزار لوگ کچرے سے روزی کماتے ہیں۔ کراچی میں ایسے چار مقامات ہیں جہاں شہری ادارے کچرا پھینکتے ہیں۔ کچرے کو پہلے آگ لگائی جاتی ہے، جس کے بعد اس سے کام کی اشیا حاصل کی جاتی ہیں۔ صبح سورج نکلتے ہی یہ مزدور یہاں آجاتے ہیں اور تپش بڑھنے سے قبل واپس روانہ ہو جاتے ہیں۔ 

زرعی زمین کی طرح یہاں کچرے کے ڈھیر لوگوں میں تقسیم ہیں جہاں سے وہ اپنی روزی حاصل کرتے ہیں۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جو بغیر دستانوں اور ماسک کے ایسے آلودہ ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں سانس لینا بھی دشوار محسوس ہوتا ہے۔ نور محمد گاؤں کی چالیس فیصد آبادی اس کچرے پر پل رہی ہے۔ اس گاؤں میں کچرے سے حاصل ہونے والی اشیا کی خریداری کے پانچ مراکز موجود ہیں۔ جہاں دھات، ہڈیوں اور شیشے کی خریداری کی جاتی ہے جو بعد میں کراچی اور پنجاب کے مختلف کارخانوں کی طرف روانہ کر دیے جاتے ہیں، جہاں یہ خام مال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

دکاندار محمد عیدن نے بتایا کہ ’لوہا 20 روپے، ڈبے دس روپے، سلور 80 رپے، تانبہ 70 روپے فی کلو لیتے ہیں، جبکہ روزانہ سو کلو لوہا، پچاس کلو ڈبے، تین چار کلو تانبہ پیتل اور دس بارہ کلو سلور آجاتا ہے۔‘ دو کروڑ نفوس کی آبادی کے شہر کراچی میں 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے، اس کچرے کو اٹھانے اور اسے ’ری سائیکل‘ کرنے کا کوئی موثر نظام دستیاب نہیں۔ شہر میں کچرا دانوں سے پلاسٹک، کاغذ اور گتا پہلے ہی چن لیا جاتا ہے، شہر میں درجنوں ایسی دکانیں اور گودام موجود ہیں جو یہ کاروبار کرتے ہیں۔ شہر سے کچرے کو اٹھانے کی ذمہ داری اب ایک چینی کمپنی کے حوالے کی گئی ہے، جس نے ابتدائی طور پر ضلع جنوبی اور شرقی سے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کچرا اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کی ری سائیکلنگ کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر اے ڈی سجنانی کا کہنا ہے کہ فیلڈ پر کنویئر بیلٹ لگائے جائیں گے جس کے ذریعے کاغذ، گتا، پلاسٹک اور دھات حاصل کی جائے گی، اس کے علاوہ ویسٹ سے انرجی پیدا کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جس میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے پیشکش طلب کی ہیں۔ ’چینی کمپنیاں گھروں اور علاقوں سے کچرا اکھٹا کر کے گاربیج سٹیشن تک لانے کی ذمہ دار ہوں گی یہ کچرا سالڈ ویسٹ بورڈ کی ملکیت ہو گا، کیونکہ انرجی پلانٹ لگانے والا یہ ضرور معلوم کرے گا کہ کچرا کس کی ملکیت ہے۔

کراچی کے میئر وسیم اختر کچرا اٹھانے کا کام چینی کمپنی کو دینے سے ناخوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ کچرا اٹھانا میونسپل سروسز میں شامل ہے اور ان کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت نے بورڈ بنا کر یہ ذمہ اس کے حوالے کر دیا ہے۔
’کچرے میں مافیا ملوث ہے جو اس کو ڈمپنگ پوائنٹ تک پہنچنے نہیں دیتی، مختلف جگہوں پر کچرا پھینک دیا جاتا ہے، جہاں سے افغانی اور دیگر بچے کام کی اشیا حاصل کرتے ہیں، جو فیکٹریوں کو بھیجی جاتی ہیں، افسوس ہے کہ حکومت اس کو خود کیوں ہینڈل نہیں کرتی اس سے پاور جنریشن کیوں نہیں کی جاتی بجائے فائدہ لینے کے ہم اس پر خرچہ کر رہے ہیں۔‘

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر اے ڈی سجنانی کا کہنا ہے کہ بورڈ کے قیام سے قبل صرف 40 فیصد کچرا اٹھایا جاتا تھا، باقی کچرا زمین کے حصول کے لیے ندی، نالوں اور ساحل کے کنارے پھینک دیا جاتا تھا۔ اس وقت بھی پانچ کینٹونمنٹ، پورٹ، سول ایوی ایشن سمیت دیگر شہری علاقوں کا کچرا ڈمپنگ سٹیشن نہیں آرہا وہ کہیں اور جا رہا ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
 

No comments:

Powered by Blogger.