Ticker

6/recent/ticker-posts

جرائم مافیا کا خاتمہ کیسے ہو

گزشتہ سال پولیس اور رینجرز سے مقابلوں میں 700 ملزمان ہلاک ہوئے۔ ملزمان کی فائرنگ سے 95 پولیس، رینجرز اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار شہید ہوئے۔ کراچی میں گزشتہ سال ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کم ہوئی۔ گزشتہ سال 986افراد ہلاک ہوئے۔

پولیس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2014 میں ایک ہزار 925 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پنجاب میں بھی پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونیوالے افراد کی تعداد خاصی رہی۔ کراچی میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی اتنی بڑی تعداد انسانی حقوق کے کارکنوں اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے آواز اٹھانے والی بین الاقوامی تنظیموں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان کا نظام 1973کے آئین کا پابند ہے۔

   آئین کے انسانی حقوق کے باب میں پاکستان کے ہر شہری کی جان کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ پولیس، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اور عدالتیں آئین کی پاسداری کی امین ہیں۔ پولیس کے قوانین کے تحت ہر ملزم کو گرفتارکرنے کے لیے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا لازمی ہے۔

ایف آئی آر میں ملزم کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کے تحت الزامات درج کیے جاتے ہیں اور پھر پولیس کا فرض ہے کہ گرفتار ملزم کو متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے اور ملزم کو اپنے دفاع کے لیے وکیل پیش کرنے کا بھی حق ہے۔ آئین کے تحت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں قتل اور اقدام قتل کے تحت دیگر خطرناک الزامات کے مقدمات چلائے جاتے ہیں۔ ملک میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں قائم ہیں جو دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اسی جیسے دیگر خطرناک الزامات کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ فوجی عدالتیں بھی ملک میں قائم ہیں۔
ملک میں رائج قوانین کے تحت متعلقہ صوبے کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے کسی ملزم کی پھانسی کی سزا کی توثیق کے بعد متعلقہ صوبے کے گورنر اور صدرِ پاکستان کی جانب سے ملزم کی رحم کی درخواست مسترد کرنے کے بعد پھانسی کی سزا پر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔ کراچی گزشتہ کئی عشروں سے بدامنی کا شکار ہے۔ یہ بدامنی سیاسی جماعتوں کے تصادم سے شروع ہوئی، مختلف قومیتوں کے درمیان لسانی فسادات ہوئے۔

اس کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ نائن الیون کی دہشت گرد ی کے بعد جب تورا بورا میں امریکی اور اتحادی افواج نے کارپیٹ بمباری کی اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو طالبان کی بڑی تعداد  بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں منتقل ہوگئی اور پھر طالبان کراچی کے مضافاتی علاقے میں آئے۔ اسی دوران نیشنل ہائی وے، سپر ہائی وے اور ناردرن بائی پاس کے اطراف کی وسیع العریض زمینوں پر قبضے کی لڑائی میں کراچی میں متحرک سیاسی جماعتوں نے کردار ادا کرنا شروع کیا۔ اسی طرح یہ لڑائی شہر میں داخل ہوئی اور مختلف علاقوں تک پھیل گئی۔

طالبان اور ان کے اتحادی انتہاپسند گروہوں نے خودکش حملے شروع کیے۔ لیاری میںمتحرک گینگ وار میں ملوث گروہوں نے لیاری اور شہر میں ٹارگٹ کلنگ شروع کیا۔ شہر میں مختلف گروہ وجود میں آئے جنھوں نے بھتے کے لیے مختلف پروفیشنل گروپوں کے اراکین کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے شہر میں ڈاکٹر، اساتذہ، وکلاء، صحافی، خواتین، سماجی کارکن، پولیس، رینجرز اورانٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار قتل ہوئے۔

طالبان سے منسلک گروہوں نے قومی تنصیبات پر حملے کیے۔ گزشتہ سال کراچی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن شروع ہوا۔ بہت سے ملزمان اس آپریشن میں مارے گئے۔ مارے جانے والوں میں طالبان بھی تھے، لیاری میں گینگ وار میں ملوث ملزمان بھی ان میں شامل تھے اور شہر میں اغواء برائے تاوان، کاریں چھیننے کی وارداتوں میں ملوث افراد اور دیگر جرائم پیشہ افراد بھی ان ہلاکتوں میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اس آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے۔اس صورتحال سے یوں تو کئی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکن متاثر ہوئے مگر ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، کا احتجاج زیادہ نمایاں ہوا۔

لیاری کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ بعض خطرناک ملزموں کی ہلاکت کی خبروں کے بعد وہاں لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا مگر مجموعی طور پر شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ ایک حد تک کم ہوا۔ یوں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ماورائے عدالت ہلاکتوں کی مدد سے امن کا راستہ تلاش کرلیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں ماورائے عدالت قتل کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ بااثر ملزمان کے خلاف ثبوت فراہم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

عام شہری کسی ملزم کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ قانونی پیچیدگیوں اور ذہین وکلاء کی ترکیبوں کی بناء پر جرائم پیشہ افراد بری ہوجاتے ہیں۔ ملزمان اور ان کی پشت پناہی کرنے والے ایسے طاقت ور ہوتے ہیں کہ پولیس افسروں،گواہوں اور ججوں تک کو قتل کردیا جاتا ہے۔ یوں ایسے مجرموں کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کرنا ہی معاشرے کی اصلاح ہے۔ 30 برسوں سے پبلک پراسیکیوٹر کے فرائض انجام دینے والے وکیل شاہد علی کا کہنا ہے کہ قانون سے ماورا کسی بھی شہری کا قتل غیر قانونی ہے۔ شاہد علی اس معاملے پر مزید کہتے ہیں کہ حقیقی مجرموں کو سزا دینے کے لیے ایک جامع نظام کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گواہوں کے تحفظ کا قانون نافذ ہونا چاہیے۔ اس قانون کے تحت ایک عدالتی پولیس فورس قائم ہونی چاہیے جو صرف گواہوں کو تحفظ فراہم کرے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو انسانی حقوق کے تحفظ کی تربیت کے نصاب میں خصوصی مضامین شامل ہونے چاہئیں۔ شاہد علی اس معاملے میں وکلاء کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وکلاء میں پروفیشنل ازم کی کمی ہے ۔ بعض وکلاء محض اپنے مؤکل کو ریلیف پہنچانے کے لیے غیر قانونی طریقے استعمال کرتے ہیں جس سے ملزمان سزاؤں سے بچ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وکلاء میں حقیقی پروفیشنل ازم سے حقیقی ملزمان کو سزا مل سکتی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں جہاں ماورا عدالت قتل پر احتجاج کرتی ہیں وہیں انھیں انسانوں کو قتل کرنے والے ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

گزشتہ برس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع ہوا تھا۔ گواہوں کاتحفظ کرنے کے لیے قانون کے نفاذ اور انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی تعداد میں اضافے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے پر اتفاق ہوا تھا مگر   عدالتیں قائم نہیں ہوئیں۔ ان عدالتوں میں جج اپنے کمرے میں سماعت نہیں کرتے۔ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی مکمل کرتے ہیں۔ اسی طرح ملزمان انھیں پہچان نہیں سکتے۔ کراچی میں کئی پولیس افسران اور گواہ قتل کردیے گئے ۔ اسی طرح سبین محمود قتل کیس کے واحد گواہ بھی نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

کراچی میں دہشت گردوں کو گرفتار کرنے والے ایک پولیس افسر کو حیدرآباد میں قتل کردیا گیا۔ دہشت گردی کے خاتمے میں ملوث پولیس اہلکاروں کا اعتماد مجروح ہوا۔ مگر غیر قانونی راستے اختیار کرنے سے مظلوموں کے قتل ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ حکومتِ سندھ کو اس صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔

کراچی میں گزشتہ سال پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک مہذب ریاست کے لیے بڑا دھبہ ہے۔ حکومت کو اس معاملے کا جامع حل تلاش کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیںورنہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں بے نظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کی اس صورتحال میں ہلاکت جیسے واقعات خوفناک شکل اختیار کرجائیں گے۔ قانونی طریقہ کار سے ملزموں کو سزا سے ہی معاشرے کو حقیقی امن مل سکتا ہے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

Post a Comment

0 Comments