Wednesday, March 1, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

کراچی میں ترقیاتی کاموں میں سست روی


Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ 3 سال میں مکمل ہو گا

 صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کے احیا کے لیے منصوبہ تیار کر کے صوبائی محکمہ منصوبہ وبندی وترقیات میں جمع کرا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر نو کا منصوبہ پاکستان اور چینی حکومت کے درمیان مشاورت سے30 دسمبر 2016 کو سی پیک سے منسلک ہوا، وزیر اعلیٰ سندھ  مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے سندھ ماس ٹرانزٹ سیل نے تیزی سے کام کرتے ہوئے اس کا پی سی ون اور فیزیبلٹی تیار کر کے گزشتہ دنوں صوبائی محکمہ ترقیات و منصوبہ کی پرونشل ڈسٹرکٹ ورکنگ پارٹی کو بھیج دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی محکمہ ترقیات ومنصوبہ بندی سے منصوبہ کا پی سی ون اور فیزیبلٹی رپورٹ ایک ہفتے میں منظور ہو کر وفاقی پلاننگ کمیشن کے سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک میں بھیجا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد مارچ کے آخر تک پاک چین جوائنٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی (جے سی سی) کے جوائنٹ ورکنگ گروپ میں جمع کرا دیا جائے گا جس کا دفتر بیجنگ میں قائم ہے حتمی منظوری کے بعد چین اور پاکستان کے درمیان آسان شرائط کے قرضے پر معاہدے طے پایا جائے گا۔
 کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر نو کیلیے تعمیراتی کام رواں سال اکتوبر میں شروع کر دیا جائے گا اور تین سال کی مدت میں مکمل کر لیا جائے گا، کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر نو کا منصوبہ 43.2 کلومیٹر پر محیط ہے جس میں 14.94 کلومیٹر زمینی اور 28.18 کلومیٹر بالائی گذرگاہ تعمیر کی جائیگی، اس کے ساتھ ہی ریلوے اسٹیشن کی تعمیر ومرمت کا کام بھی کیا جائے گا، واضح رہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کا موجودہ نظام تباہ و برباد ہو چکا ہے، پٹریاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ریلوے اسٹیشن خستہ حالی کا شکار ہیں۔

دوسری جانب نئے منصوبہ کے تحت کراچی سرکلر ریلوے کے 14 اسٹیشن بالائی ہوں گے اور 10 اسٹیشن زمین کی سطح پر تعمیر کیے جائیں گے، بالائی گزرگاہ ڈرگ روڈ اسٹیشن ، جوہر اسٹیشن ، الہ دین اسٹیشن، گیلانی اسٹیشن، یاسین آباد اسٹیشن، نارتھ ناظم آباد اسٹیشن، اورنگ آباد اسٹیشن، ایچ بی ایل سائیٹ اسٹیشن، منگھوپیر اسٹیشن، سائیٹ اسٹیشن، شاہ عبدالطیف اسٹیشن، بلدیہ اسٹیشن، لیاری اسٹیشن اور کراچی کینٹ اسٹیشن پر تعمیر ہوں گے جبکہ نیپا اسٹیشن، لیاقت آباد اسٹیشن، وزیر مینشن اسٹیشن، ٹاور اسٹیشن، سٹی اسٹیشن، پی آئی ڈی سی، ڈپو ہل اسٹیشن ، مہران ، چنیسر اور کارساز اسٹیشن پر زمینی ٹریک کی تنصیب کی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے اطراف غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کیلیے کمشنر کراچی کو ذمے داری سونپ دی گئی ہے جس پر جلد ہی عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

سید اشرف علی

Read More

Sunday, February 26, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

شہر کراچی

لگ بھگ بیس سال ہونے کو آئے مجھے کراچی میں، اس سے پہلے دس سال کے قریب اسلام آباد میں گزارے۔ شاہراہوں پر میری گاڑی اڑتی تھی۔ ترتیب تھی، سمت تھی، خواہ کتنا ہی اسلام آباد ہموار نہیں تھا۔ پہاڑ و میدان کا سنگم ہے یہ شہر۔ یوں تو اسلام آباد بھی وہ نہیں رہا جو کہ تھا، اب تو وہاں پر بھی راستوں پر لمبی لمبی قطاریں، ٹریفک جام کے مسائل رہتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی تاریخ کا جتنا بدنصیب شہر کراچی ہے، شاید ہی کوئی ہو۔ سمندروں کے عیال تھامے، مختلف زباں و نسل، فرقے و مذاہب، زباں و رنگ کے لوگ اس کے باسی ہیں۔ جتنا وشال یہ شہر ہے جو آئے وہ پائے، یہاں روزگار، نہ کوئی اجنبیت کا احساس، نہ کبھی یہ شہر چھوڑنے کا گماں۔ شاید ہی کوئی ایسا شہر ہو اِس مملکت خداداد کا۔ وفاق کی تجوری میں سب سے زیادہ سکے بھی یہ ڈالے، سب سے زیادہ ہنرمند یہاں کے شہری ہیں، مگر پاکستان کی دو بڑی طاقتیں اسٹیبلشمنٹ اور جمہوریت کے نام پر بنی حکومتوں کو اس شہر کی پرواہ ہی نہیں۔ اسے کہتے ہیں Locus of power وہ بھی ایک ایسا ملک جہاں انصاف و عدل صرف کتابوں میں محفوظ ہے۔

جنرل مشرف یہاں کے تھے، لیاقت علی خان کے بعد دوسری مرتبہ تھا کہ کراچی کو اقتدار حد سے زیادہ ملا۔ ہوا کیا؟ سب اڑ گیا۔ اس سے کراچی کو کچھ حاصل نہ ہوا، سوائے ایک مخصوص طبقے کے۔ جس طرح NFC  میں سندھ کو اب بھی اتنا نہیں میسر، لیکن ماضی کے مقابلے میں بہت کچھ۔ اس کے بعد بھی سندھ کے لوگوں کی تقدیر تبدیل نہ ہوئی، فقط ایک مخصوص ٹولے کی چاندی سنور گئی۔ اتنی گھمبیر ہے اس ملک کی سیاست کہ اس ملک کی شرح نمو جو کہ ہندوستان کی طرح 7  فیصد ہونی چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی۔ مجھے یاد ہے وہ زمانہ کہ کراچی میں، میں نے ٹرام چلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور ڈبل ڈیکر بسیں بھی، جو کہ اب تک لندن میں چلتی ہیں۔ خدا نہ کرے کہ اس شہر میں کوئی VIP آجائے گھنٹوں گھنٹوں، میلوں میلوں گاڑیوں کی طویل قطاریں، آدمی اگر پیدل چلے تو گھر پہلے پہنچ جائے، یا پھر اسکوٹر رکھے۔ جس طرح لاڑکانہ گدھا گاڑیوں کا شہر ہے، اسی طرح کراچی اب اسکوٹروں کا شہر ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی وجود ہی نہیں، اگر اکا دکا آپ کو مل ہی جائیں، اتنی بدحال وہ بسیں ہوتی ہیں کہ صرف ان میں بوریاں لاد دی جائیں تو بہتر ہیں۔ بہت ہی مفلس لوگوں کی سواری ہے یہ پبلک ٹرانسپورٹ، اور وہ بھی دن بدن سکڑتی جائے، جب کہ آبادی دن بدن بڑھتی جائے۔ اتنی بڑھتی جائے کہ شاید ہی کسی اور شہر میں ہو۔ جتنے زیادہ گھر ہوں گے اس شہر میں، اتنی ہی گاڑیاں ہوں گی اور اسکوٹروں، سائیکلوں کو بھی خاطر میں لیا جائے تو پھر یوں کہیے کہ ہر فرد کے پاس اپنی سواری ہے۔ دو کروڑ کی آبادی کے اس شہر میں، ایک کروڑ مختلف سواریاں۔ تو یہ آدمیوں کا شہر ہے یا اسکوٹروں، سائیکلوں، گاڑیوں کا؟ اور اس کے اوپر پھر اس شہر کے اندر ایک ٹرانسپورٹ مافیا بھی ہے جو راہ چلتے ہوئے کسی بھی فرد کے اوپر چڑھ سکتی ہے اور بیچارہ FIR کٹوانے سے بھی گیا۔ جتنے بھی اس شہر کے تھانے ہیں، چرس و گانجا بیچنے والوں کے علاوہ مستقل مزاجی سے اگر کوئی ان کو پیسے پہنچاتا ہے تو وہ ٹرانسپورٹ مافیا ہے۔

آپ اپنے گھروں میں رہیں یا دفاتر میں بیٹھیں، کھڑکی کھولیں کہ کوئی باہر کی ہوا آپ کو میسر ہو تو اس سے پہلے شور و ہنگامہ آپ کے کانوں میں چیرتا ہوا اترتا ہے۔ یہاں نہ کوئی اورنج بس ہے، نہ ٹرام، نہ سرکلر ریل، پانی کی فراہمی اتنی بدحال، کہ یہاں پر ٹریفک مافیا کے علاوہ ایک اور مافیا ہے اور وہ ہے ٹینکر مافیا۔
اور کچھ مافیائیں مر بھی گئیں، کلاشنکوفوں، بوری میں بند لاشوں، ٹیلیفونک خطابوں سے جان تو چھوٹی، مگر اب بھی اس شہر کی سیاسی سمت پر طرح طرح کے سوالیہ نشان ہیں۔ کوئی بیچے تو کیا بیچے، مہاجروں کو فلسفہ بیچے یا مذہبوں کا کاروبار کرے۔ یہاں پر لیاری بھی ہوتا ہے جہاں آدمی سے آدمی بھرا ہوا ہے۔ یہ اس شہر کی قدیم بستی ہے۔ اس علاقے کے باشندے بھٹو کے شیدائی تھے۔ وہ بھی اس نام پر لٹ گئے۔

اگر آپ 80 کی دہائی میں جائیں تو اس شہر سے بڑا پاکستان کا کوئی شہر نہ تھا، خواہ وہ انفرااسٹرکچر کے اس علاقے کے حوالے سے ہو، صنعتی پیداوار ہو یا تعلیم و ہنر کے حوالے سے۔ اور اگر 70 کی دہائی میں جائیں تو کمال تھا یہ شہر کہ جیسے کوئی جمال ہو۔ کھلا ہوا یہ شہر، آسمانوں سے باتیں کرتا ہوا یہ شہر۔ زلفوں اور گیسوؤں، چوڑی دار پاجامے، بڑے بڑے بالوں والے نوجوان، ڈرین پائپ پتلون اوڑھے، بش شرٹ پہنے، ویسپاؤں اور ففٹی اسکوٹروں پر رواں دواں، فقط کراچی یونیورسٹی ہی تو تھی اس وقت، جب الطاف بھائی بھی ففٹی اسکوٹر پر چل کر آتے تھے اور میرے دوست حاصل بزنجو بھی اور کئی اہلِ سخن، اہلِ ادب، انقلاب کے متوالے، سبط حسن جیسے دانشور بھی۔

کتنے سارے سارے خیالات و افکار تھے، اس زمانے میں قہوہ خانے تھے، چوراہے تھے، آدمیت پرستی تھی، ادارے تھے کہ ہمارے کراچی ایئرپورٹ کی وہ حیثیت تھی جو کہ اب دبئی ایئرپورٹ کی ہے۔ دنیا کے اْس اَور سے اِس اَور جانے کے لیے کئی سرائے تھے۔ ان دنوں نہ ٹینکر مافیا تھی، نہ ٹرانسپورٹ مافیا، نہ اتنے مدارس تھے، نہ اتنی نفرتیں بیچنے والے۔ سب خوش ہیں کہ کراچی اپنے اندر، اپنے آپ سے گتھم گتھا ہو، اسے یہ خبر بھی نہ ہو اس کا کتنا کچھ کوئی اور لوٹ کر چلا جاتا ہے۔ وہ جو وفاق کی تجوری میں کروڑوں اربوں دیتا ہے، اسے اس کے عیوض ملتی کوڑیاں ہیں۔

جمہوریت آئے تو وڈیروں کی حکومت، جِن کو اس شہر سے کوئی سروکار نہیں کہ یہ شہر ان کو ووٹ نہیں دیتا۔ جو انھیں ووٹ دیتے ہیں، ان کو اِن کی پرواہ نہیں۔ اور اگر آئے آمریت تو مخصوص یہ ٹولہ اپنے ووٹروں کو یہ باور کراتا ہے کہ وڈیروں کی جمہوریت سے لانگ بوٹوں کی غلامی بہتر ہے۔ حقیقت کیا ہے اس کے برعکس۔ کراچی کا بیانیہ یہ ہے کراچی کو اپنا یہ بیانیہ ڈس گیا ہے۔ میں جب کراچی شہر سے جامشورہ سے گزر کے سیہون جا رہا تھا، راستے میں موٹر وے آیا، وہ بھی کسی ستم سے کم نہیں تھا۔ ابھی بن کر مکمل ہوا نہیں ہے کہ انھوں نے 120/=  روپیہ فی گاڑی لینا شروع کر دیا ہے۔ گھنٹوں گھنٹوں ٹریفک جام۔ کوئی متبادل راستہ نہیں۔ یہ کوئی لاہور اور پِنڈی کے درمیان چلتا ہوا موٹر وے نہیں جو بالکل نیا نیا بنایا گیا تھا، وفاق کی تجوریوں سے پیسے نکال کر۔ یہ تو صدر ایوب کے زمانے کا بنا ہوا اس ملک کی شاہکار ترین شاہراہ سپرہائی وے تھا، جس کو بہتر کرکے موٹر وے کا نام دیا گیا ہے۔ یوں کہیے کہ انفرااسٹرکچر ملے تو بھی مصیبت اور نہ ملے تو بھی مصیبت۔ ہماری مظلومیت اگر آپ نے دیکھنی ہے تو ذرا غالب سے رجوع کیجیے۔

ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
اک شمع تھی دلیل سحر، سو وہ بھی خموش ہے

جاوید قاضی 

Read More

Saturday, February 18, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

کراچی کی مشکلات میں اضافے کے اسباب

Read g-n-mughal Column karachi-ki-mushkilaat-mein-izafay-ke-asbaab published on 2017-02-17 in Daily JangAkhbar

جی این مغل



Read More