Breaking News
recent

لیاری، تعلیم اور ایدھی

تعلیم، تعلیم، تعلیم۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے پارلیمنٹ کی تنقید کے بعد اپنی بنیادی پالیسی کی ترجیحات کو تبدیل کرتے ہوئے یہ اہم تقریر کی تھی، یوں برطانیہ میں سرکاری شعبے میں تعلیمی صورتحال بہتر ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کراچی کے علاوہ امریکا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، مگر یہ دونوں رہنما سندھ کی تعلیمی صورتحال کے لیے پالیسی نہیں بنا سکے۔ اس صدی کے 17 برسوں میں 8 سال سے زیادہ عرصہ پیپلز پارٹی سندھ میں حکمران رہی مگر سندھ کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے حالات زبوں حالی کا شکار ہیں۔ پیپلز پارٹی کا سندھ میں سب سے مضبوط قلعہ لیاری ہے مگر لیاری کے اسکولوں میں بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں۔

لیاری میں بلدیہ کراچی نے ہمیشہ سے پرائمری اور لوئر سیکنڈری اسکولوں کے قیام پر توجہ دی۔ اس وقت کے ایم سی کے 52 اسکول قائم ہیں جن میں 14 ہزار طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں، مگر بلدیہ کی عدم توجہی کی بنا پر صرف ایک اسکول میں سائنس کی لیبارٹری ہے، جو بہت زیادہ خراب حالت میں ہے، باقی 51 اسکولوں میں طلبا سائنس پڑھنے سے محروم ہیں۔ ان طلبا کا تعلق نچلے طبقے سے ہے۔ ان کے والدین مزدور ہیں، کچھ بیروزگار ہیں اور یہ والدین  اپنے بچوں کو پرائیوٹ اسکولوں میں تعلیم دلوانے کی سکت نہیں رکھتے۔ چونکہ ان میں سے بیشتر اسکول بہت قدیم ہیں اور ان اسکولوں میں طلبا کی اکثریت داخلہ لیتی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ کئی نسلیں اسکولوں میں بنیادی سہولتیں نہ ہونے کی بنا پر سائنس کی تعلیم سے محروم ہیں۔
لیاری کی رہنے والی اسما ایاز خان میرٹ کی بنیاد پر ترقی کر کے بلدیہ کے لیاری کے دفتر میں افسر تعینات ہو گئی۔ ان کے لیے طالب علموں کی علم کے لیے جستجو اور اسکولوں کی حالت تشویش کا باعث بنی۔ اسما نے پہلے تو کوشش کی کہ سٹی ڈسٹرکٹ کونسل کے بجٹ میں ان اسکولوں میں سائنس کی لیبارٹریز کے قیام کے لیے رقم مختص ہو جائے۔ ڈسٹرکٹ میونسپل ساؤتھ کے چیئرمین محمد فیاض بھی اس تجویز کے حامی تھے مگر ان کی کوشش فائلوں میں دب گئی۔ علم اور غریبوں سے محبت کرنے والے اس گروپ نے صاحب ثروت افراد کو تلاش کرنا شروع کیا۔ کراچی شہر میں فیاضی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے مگر ان صاحب ثروت افراد کی بنیادی ترجیح خیرات و صدقات کے نام پر رقمیں بانٹنا ہے۔

تعلیم اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی اہمیت کم لوگ محسوس کرتے ہیں۔ لیاری کے ان ہمدردوں کو پہلے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی مگر پھر ان صاحبان نے مولانا عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ صبا سے رابطہ کیا۔ عبدالستار ایدھی کے انتقال سے ایدھی فاؤنڈیشن کو جہاں بہت زیادہ نقصانات ہوئے ہیں وہاں ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ عطیات کے ملنے کی شرح کم ہو گئی ہے۔ فیصل اور صبا نے ایدھی صاحب کے انتقال پر یہ عہد کیا تھا کہ ایدھی صاحب نے ملک بھر میں جتنے منصوبے شروع کیے تھے وہ سب مکمل کریں گے۔ فیصل ایدھی فاؤنڈیشن کے نظام کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ انھوں نے ملک بھر میں متحرک اپنی ایمبولینسوں کی نگرانی کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک پروجیکٹ شروع کیا ہوا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ہر ایمبولینس کی لوکیشن کا ایدھی ہیڈ کوارٹر کو علم ہو گا۔ مگر فیصل تعلیم اور خاص طور پر سائنسی تعلیم کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں بلکہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سائنس کی حقیقی تعلیم سے نہ صرف نوجوانوں کا ذہن تبدیل ہو گا بلکہ ترقی کا عمل بھی بہتر ہو گا۔ یہی وجہ تھی کہ فیصل ایدھی اور ان کے معاونین نے ڈی ایم سی ساؤتھ کے افسروں اور منتخب چیئرپرسن سے مذاکرات کیے اور 15 اسکولوں کا تعین کیا، جہاں لیبارٹری فوری طور پر تعمیر ہو سکی۔

صبا نے اس پروجیکٹ کے لیے 40 لاکھ روپے مختص کیے، یوں صرف 3 مہینوں کی مدت میں ان اسکولوں میں لیبارٹریاں تعمیر ہو گئیں اور سائنسی آلات فراہم کر دیے گئے۔ ان سہولتوں کا فوری فائدہ یہ ہوا کہ 600 طلبا نے سائنس کے مضامین کی تعلیم کے لیے ان اسکولوں میں داخلہ لے لیا۔ فیصل اور صبا کا یہ عزم ہے کہ وہ تمام اسکولوں میں یہ لیبارٹریاں تعمیر کریں گے۔ دونوں میاں بیوی غور و فکر کررہے ہیں کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے فنڈ کس طرح حاصل کیے جائیں۔ سولجر بازار کی قدیم بستی میں قائم یہ اسکول ایک عیسائی خاتون نے قائم کیا تھا۔ اس اسکول کی عمارت کو قومی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ اسکول سولجر بازار اور اطراف کی بستیوں کے غریب بچوں کی تعلیم کا ذریعہ رہا ہے۔ سولجر بازار اور اطراف کے علاقوں کی زمینوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ 

اس بنا پر لینڈ مافیا کو اس اسکول کی زمین کی اہمیت کا اندازہ ہوا، یوں ایک منصوبے کے تحت اس اسکول کی عمارت کے ایک حصے کو منہدم کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس کے بعض افسران اس معاملے میں ملوث تھے مگر اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے جرأت کا مظاہرہ کیا اور آواز اٹھائی۔ الیکٹرانک میڈیا کے پاس اس دن سیاستدانوں کے جھگڑوں، مختلف علاقوں میں آپریشن اور دیگر موضوعات کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی، اس لیے اسکول کی عمارت کے منہدم ہونے کی خبریں مسلسل چلیں۔ اس طرح وزیراعلیٰ سندھ نے صورتحال کا نوٹس لیا اور ملزمان گرفتار ہوئے۔ مگر یہ سب اچانک نہیں ہوا اور یہ کراچی کا پہلا اسکول نہیں ہے، اس سے پہلے بہت سے اسکولوں کی عمارتوں پر مافیا قبضہ کر چکی ہے۔

ان اسکولوں کے کچھ ہیڈ ماسٹروں اور اساتذہ نے یہ مسائل اٹھائے تھے، مگر میڈیا پر کوریج نہ ہونے کی بنا پر لینڈ مافیا کامیاب ہو گئی۔ ان معاملات پر نظر رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر سرکاری عمارتوں خاص طور پر اسکولوں کی عمارتوں پر قبضے میں محکمہ تعلیم کا عملہ اور علاقے کی پولیس کے اہلکار ملوث ہوتے ہیں۔ مگر ایک بدعنوان نظام کی بنا پر یہ لوگ بچ جاتے ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے کیے جانے والے سروے میں سندھ میں تعلیمی شعبے کی پسماندگی کو واضح کیا جاتا ہے۔ اس وقت سندھ میں 50 فیصد بچے ناخواندہ ہیں۔ ناخواندہ بچوں کی تعداد کا شہری اور دیہی علاقوں سے تعلق ہے۔ حکومت سندھ یہ تسلیم کرتی ہے کہ لاڑکانہ، نواب شاہ اور دیگر علاقوں میں اب بھی گھوسٹ اسکول موجود ہیں۔

ان گھوسٹ اسکولوں میں اساتذہ کا تقرر بھی ریکارڈ پر ظاہر ہوتا ہے اور یہ اساتذہ اور دیگر عملہ تنخواہیں وصول کرتا ہے مگر اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت گھوسٹ اسکولوں کی شرح صفر تک پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ پھر ان کا جب پنجاب اور پختونخوا کے سرکاری اسکولوں سے موازنہ کیا جائے تو زیادہ مایوسی ہوتی ہے۔ پنجاب میں ہر اسکول میں سولر ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے جس سے لوڈشیڈنگ سے خاصی حد تک نجات مل گئی ہے۔ پھر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے اساتذہ اور دیگر عملے کی نگرانی خاصے عرصے سے جاری ہے۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں میں لائبریری، کلاس روم میں فرنیچر اور لیبارٹریوں کے قیام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسکول میں طالب علموں کو کتابوں کے علاوہ یونیفارم بھی فراہم کیا جاتا ہے جب کہ سندھ کے اسکول لوڈشیڈنگ اور بنیادی سہولتوں، حتیٰ کہ بیت الخلا جیسی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ حکومت صرف طلبا کو کتابیں فراہم کرتی ہے۔

یونیفارم اور ناشتہ کی فراہمی کا تصور نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ سندھ کے اسکولوں میں طلبا خاص طور پر طالبات کے اسکول چھوڑنے کی شرح زیادہ ہے۔ پھر میرٹ کو پامال کر کے بھرتی ہونے والے اساتذہ کی نااہلی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔ اندورن سندھ میں پہلے مدرسے نہیں تھے جب کہ اب ہر ضلع میں مدرسوں کا جال بچھ گیا ہے۔ ان مدراس میں طلبا کو رہائش، کھانا اور یونیفارم سب فراہم ہوتا ہے۔ پھر یہ لوگ انتہاپسندی کا آلہ کار بنتے ہیں۔ فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ نے دراصل حکومت کا بوجھ بانٹا مگر یہ عارضی انتظام ہے۔ اصولی طور پر ریاست پابند ہے کہ ہر شہری کو تعلیمی سہولتیں فراہم کرے، یوں صد فی صد شرح تعلیم کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔ فیصل اور صبا تعریف کے مستحق ہیں مگر وزیراعلیٰ کی بنیادی ترجیح تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم کب ہو گی؟

 ڈاکٹر توصیف احمد خان


No comments:

Powered by Blogger.