کراچی والوں پر قیامت صغریٰ برپا ہوئی ایک طرف سے نہیں بلکہ ہر طرف سے یلغار ہوئی۔ دن رات کی مسلسل بارشوں نے پورے شہر کو لپیٹ میں لے کر بری طرح ادھیڑ ڈالا، سارا انفرا سٹرکچر تباہ ہو گیا۔ 6 سے 10 فٹ تک سڑکوں پر پانی جمع ہو تا رہا۔ گاڑیوں اور غریبوں کی موٹر سائیکلیں ڈوب گئیں، دکانوں اور گھروں میں پانی بھر گیا ،اربوں روپے کا سامان تباہ ہو گیا ۔ میئر صاحب تو اپنی مدت پوری کر کے ساری ذمہ داری سندھ حکومت اور مرکز پر ڈال کر رخصت ہو گئے۔ سندھ حکومت میئر صاحب پر پہلے ہی اربوں روپے فنڈ ہضم کرنے کاالزام لگا کر اپنا دامن چھڑا رہی ہے اور مرکزسے صرف 10 ارب کی توقع کر رہی ہے۔بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ اس رقم کیلئے بلبلا رہے ہیں ۔ بجٹ کا بڑا حصہ سندھ حکومت کو ہر سال ملتا ہے ، جو ہزاروں ارب روپے ہوتا ہے، مگر کراچی کے لئے ترقیاتی پروگراموں کا اعلان صفر۔
اس شہر کو درجنوں اداروں نے آپس میں مل بانٹ رکھا ہے اور سارا ٹیکس اور بجٹ کا حصہ جو مرکز سے ملتا ہے، سب مل کر مک مکا کر لیتے ہیں کچھ حصہ کچی آبادی پر مشتمل ہے۔ کچھ کنٹوٹمنٹ بورڈ والے ذمہ دار ہیں۔ کچھ کے پی ٹی کا حصہ ہیں، باقی کراچی میئر کو ملتا ہے۔ البتہ ٹیکس سندھ حکومت کے اکائونٹس میں جمع ہو تا ہے ۔ 70 فیصد سے زائد ٹیکس دینے والا خود مرکز اور صوبائی حکومتوں کے درمیان فٹ بال بنا ہوا ہے ۔ کوئی اس سے ہمدردی تک نہیں جتاتا۔ستم ظریفی تو دیکھئے 3 صدر بالتر تیب آصف علی زرداری، ممنون حسین اور عارف علوی کا تعلق کراچی سے تھا۔ دیگر صوبوں اور مرکز میں نیلی پیلی ٹرینیں ، بس، پل، سڑکیں ، ہائی ویز اس کے پیسوں سے بن چکے ہیں۔ کراچی کو ایک بس بھی میسر نہیں ہے، سارا بجٹ سندھ حکومت بہت ہوشیاری سے ہضم کر جاتی ہے اور مرکز سے امداد کی توقع رکھتی ہے۔ ان 3 صدور نے ایک مرتبہ بھی 15 سال میں کراچی کی ترقی کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔
وزیر اعظم عمران خان جن کو پہلی مرتبہ 38 ایم این اے ، ایم پی اے کراچی والوں نے ایم کیو ایم سے ناطہ توڑ کر دئیے ۔ آج سب کے منہ کو تالے لگے ہوئے ہیں ۔ ستم ظریفی دیکھیں ایک طرف بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی، دوسری طرف کے الیکٹرک والے بجلی بند کر کے غائب ہو گئے اور چار، چھ دن بجلی غائب، جنریٹروں کے لئے پٹرول بھی ختم ہو گیا ۔ گھروں میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے لوگوں نے نقل مکانی کی یا چھتوں پر راتیں گزاریں ۔ سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان کا بیان آیا کہ کراچی والو گھبرانا نہیں ہم تمہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ کراچی والے ابھی تک ان کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں۔ صدر مملکت عارف علوی نے بھی کراچی آنے کی زحمت گوارہ نہیں کی، جو الیکشن سے پہلے تو پچھلی بارشوں میں نکلے تھے اور ووٹ لینے کے لئے کہہ رہے تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہوتی تو بارش سے اتنا نقصان نہیں ہوتا یہ نواز شریف کی نا اہلی ہے ۔
البتہ فوج کے سربراہ 2 دن کے لئے اس شہر میں آکر چلے گئے۔ پہلے ایم کیو ایم کے دور میں کراچی ہڑتالوں ، گھیرائو جلائو سے برباد ہوا۔ ایک ایک ادارہ سندھ حکومت نے لے کر خوب ٹیکس کمایا مگر کہیں بھی نہیں لگایا ۔ وہ اس لئے نالاں ہے کہ کراچی والے پی پی پی کو ووٹ نہیں دیتے لہٰذا پی پی پی والے کراچی اور حیدر آباد کے ساتھ سوتیلی ما ں کا سلوک کرتے ہیں۔ شہروں کے نوجوانوں پر نوکریوں پر مکمل پابندیاں ہیں مگر یہ نوجوان اُف تک نہیں کرتے، مقامی اداروں میں کام کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں یا پھر سڑکوں پر رکشہ چلا کر، ٹھیلا لگا کر چپ ہیں۔ کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ جب وہ الگ صوبے کی بات کرتے ہیں تو یہی حکمران ان کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔ کیا کراچی سندھ کی دھرتی ماں نہیں ہے جس کو کاٹ کر الگ ڈال رکھا ہے۔ صرف سپریم کورٹ کے محترم چیف جسٹس جناب گلزار احمد اکیلے سندھ حکومت کو بار بار عدالت میں بلا کر آئینہ دکھاتے ہیں تو کچھ دن اُن پر اثر ہوتا ہے ۔
پھر وہی بے حسی طاری ہو جاتی ہے۔ اس مرتبہ پہلی بار ڈی ایچ اے بارش کی وجہ سے دیگر علاقوں کی طرح ڈوبا اور پانی گھروں میں اور بیسمنٹ میں چلا گیا جس سے وہاں بھی اربوں روپے کا نقصان ہوا، جب بارشیں رکیں تو وہاں کے رہائشیوں، مکینوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کا گھیرائو کیا، نعرے بازی کی متعلقہ افسران سے ٹیکس معاف کرنے کی استدعا کی کچھ شر پسندوں نے بھی کام دکھا یا اس وقت تو بورڈ کے افسران بھیگی بلی بنے رہے ۔ دوسرے دن ایف آئی ار کٹوا کر معزز اراکین کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ ایک تو نا اہلی پھراس پر سینہ زوری ۔ البتہ سیاسی جماعتوں میں صرف جماعت اسلامی کراچی کے ناظم حافظ نعیم الرحمان اور ان کے ساتھی اس بارش میں امدادی کام کرتے رہے یا پھر مقامی رفاعی ادارے جن میں بیت السلام ، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ، سیلانی ویلفیئر، ایدھی اور چھیپا کے کارکن گھروں پر کھانا اور راشن پہنچاتے رہے۔ سندھ حکومت اور مرکزی حکومت بالکل خاموش اور لا تعلق رہی، حتیٰ کہ ایم کیو ایم والے بھی غائب رہے ۔ کورونا سے تو اللہ نے اس شہر کو بچا لیا مگر اس زمین کے حکمرانوں نے اس کی کسر شہر کو تباہ کر کے نکال دی۔
0 Comments