Breaking News
recent

Future of Karachi




ہماری موجودہ جمہوری حکومت کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کے دور میں گیس بجلی کی کمی دور کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جاتے تو عوام کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابقہ حکومت کی نا اہلی کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑ رہا ہے۔ سابقہ حکومت اپنے دفاع میں یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ اس نے بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے لیکن کمی اتنی زیادہ تھی کہ اس کی کوششوں کے باوجود یہ کمی دور نہ ہو سکی۔ یوں الزامات اور جوابی الزامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلی حکومت میں بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ان میں رینٹل پاور بھی شامل ہے جو سابق وزیر اعظم کے گلے میں کرپشن کے طوق کی طرح پڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے موجودہ حکومت جو اقدامات کر رہی ہے حساس حلقے اس میں بھی کرپشن تلاش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ہم یہاں نہ کسی ایک حکومت کو اس حوالے سے نا اہل قرار دیں گے نہ کرپشن کے حوالے سے کوئی بات کریں گے۔ ہم یہاں صرف حکومتوں کی نا اہلی اور منصوبہ بندی میں مجرمانہ غفلت ہی کو اس مسئلے کی اصل بنیاد کہیں گے۔

باشعور با بصیرت اور عوام دوست حکومتیں اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے اہم قومی مسائل کا تعین کرتی ہیں اور ان کے حل کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے بناتی ہیں تا کہ عوام مستقبل میں کسی پریشانی سے دوچار نہ ہوں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بعض سنگین ترین مسائل کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے موجود ہوتے ہیں لیکن اپنی نا اہلی یا عوام سے لا تعلقی کی وجہ سے نہ ہم اس قسم کے مسائل پر نظر ڈالتے ہیں نہ آنے والے وقت میں اس کی سنگینی کا ادراک کر سکتے ہیں۔ یہ ایسا جرم ہوتا ہے جس کی سزا حکومتوں کو نہیں بلکہ عوام کو بھگتنی پڑتی ہے۔ جس کا مشاہدہ ہم گیس بجلی کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کی شکل میں کر رہے ہیں۔

مستقبل میں اس ملک کے لیے سنگین ترین صورت اختیار کرنے والا ایک مسئلہ کراچی کی بڑھتی ہوئی بے لگام آبادی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ مستقبل کے اس سنگین مسئلے کا کوئی سیاسی جماعت، کوئی مذہبی جماعت، کوئی حکومت نوٹس نہیں لے رہی ہے۔ ہم یہاں آبادی کے اس پھیلاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والے سماجی اور انتظامی مسائل پر بھی غور نہیں کریں گے یعنی ٹرانسپورٹ کا مسئلہ، بجلی گیس پانی کا مسئلہ، کچی آبادیوں کا مسئلہ، سیوریج کا مسئلہ، اسٹریٹ کرائم کا مسئلہ، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا مسئلہ، یہ سارے مسائل اپنی نوعیت کے حوالے سے بہت اہم بھی ہیں اور عوام اور حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ لیکن ہم جس مسئلے کو مستقبل کے ایک خطرناک مسئلے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں وہ مسئلہ ہے بڑھتی ہوئی آبادی۔ کراچی کی آبادی میں یہ خطرناک اضافہ دو طرح سے ہو رہا ہے ۔ ایک یوں کہ پسماندہ دیہی علاقوں سے بیروزگاروں کے قافلے مستقل چلے آ رہے ہیں دوسرے وہ لوگ ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا ترک وطن کر کے کراچی میں رہائش پذیر ہیں اور ان کی آبادی میں خاندانی منصوبہ بندی نہ ہونے سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

کراچی میں ترک وطن کر کے آنے والوں میں بنگالیوں کی تعداد 20 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ چونکہ ہمارا پورا ریاستی ڈھانچہ کرپشن کی بنیاد پرکھڑا ہوا ہے اس لیے ترک وطن کر کے کراچی آنے والوں کے لیے نہ شناختی کارڈ حاصل کرنا کوئی مسئلہ ہے، نہ پاسپورٹ بنوانا، نہ ڈومیسائل اور پی آر سی بنانا کوئی مشکل کام ہے اور جو لوگ یہ قانونی دستاویزات حاصل کر لیتے ہیں وہ اس ملک کے مکمل شہری بن جاتے ہیں ایسے غیر ملکی تارکین وطن کی آمد کو روکنے اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے بجائے ہمارے سیاستدان محض ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے انھیں نہ صرف اس ملک کا شہری تسلیم کر لیتے ہیں بلکہ ان کے حقوق کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

تقسیم کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے پاکستان آنے والوں کا جنھیں مہاجرین کا نام دیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے مسلم اقلیتی اور حساس علاقوں سے، جن میں مشرقی پنجاب، یو پی سی پی وغیرہ شامل ہیں، لاکھوں لوگ پاکستان آئے، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجرین کلچر کی یکسانیت کی وجہ سے مغربی پنجاب میں ضم ہو گئے لیکن ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے آنے والے مسلمان بوجوہ سندھ میں تحلیل نہ ہو سکے۔ اگست 1947ء کے بعد ایک عرصے تک ہندوستان سے عوام پاکستان آتے رہے اور مقامی آبادی نے انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ ان کا استقبال کیا انھیں گلے لگایا۔ اس دور میں کوئی تعصب موجود نہ تھا۔

نئے اور پرانے سندھیوں کے درمیان اختلافات کی مختلف وجوہ بتائی جاتی ہیں لیکن اس قسم کے مسائل جہاں بھی پیدا ہوتے ہیں اس کی اصل وجہ اقتصادی ہوتی ہے۔ جو لوگ ہندوستان سے آئے ظاہر ہے انھیں زندہ رہنے کے لیے روزگار بھی درکار تھا، کاروبار بھی درکار تھا۔ پرانے سندھیوں کو رفتہ رفتہ یہ احساس ہونے لگا کہ آنے والوں کی وجہ سے ان کے روزگار اور کاروبار کے مواقعے کم ہونے لگے ہیں جسے پرانے سندھی ناانصافی ماننے لگے۔ اس کی کچھ سیاسی وجوہات بھی تھیں جن میں ایم کیو ایم کی مقبولیت اور انتخابات میں شہری سندھ میں اس کی بھرپور کامیابیاں۔ یوں یہ احساس بڑھنے لگا کہ سندھ دیہی اور شہری علاقوں میں بٹ گیا ہے۔ بدقسمتی سے حکمراں جماعتوں نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر اس خلیج کو کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا۔ اور صورتحال عملاً سیاسی تقسیم جیسی ہو گئی اس خلیج کو پاٹنے کے لیے جن اہل فکر نے کوششیں کیں ان میں سندھی مہاجر دونوں ہی شامل تھے لیکن بات مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والی ہو گئی۔

اب ہم آتے ہیں مستقبل کے کراچی کی طرف۔ ہم نے اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ اس قسم کے تضادات کی بنیادی وجہ اقتصادی ہوتی ہے۔ پرانے سندھی منطقی طور پر یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ ہندوستان سے آنے والوں کی وجہ سے ان کا روزگار اور کاروبار مارا جا رہا ہے اب صورت حال میں بہت بڑی معنوی تبدیلی آ گئی ہے۔ کراچی میں ترک وطن کر کے رہنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے۔ پختون قیادت کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں 50 لاکھ سے زیادہ پختون رہتے ہیں، پنجابی قیادت بھی کراچی میں لگ بھگ 50 لاکھ پنجابیوں کے رہنے کی بات کرتی ہے، اس کے علاوہ بلوچ وغیرہ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ آبادی میں اتنی بڑی تبدیلی کے بعد منطقی طور پر نئے اور پرانے سندھیوں کا تضاد ختم ہو جانا چاہیے۔ لیکن یہ ابھی تک نہیں ہوا۔ اور اس کی وجوہات اقتصادی سے زیادہ سیاسی نظر آتی ہیں۔

ملک بھر خصوصاً کراچی میں عوام کو جس طرح اپنی زندگی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اس مسئلے کی وجہ سے بہت سارے اہم اور سنگین مسائل پس پشت چلے گئے ہیں اور ابھی تک کراچی کسی نہ کسی طرح اپنے عوام کو زندہ رہنے کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ اس لیے بھی اقتصادی نا انصافیوں کا مسئلہ دبا ہوا ہے۔ جس وقت اس شہر میں روزگار اور کاروبار کا سلسلہ سنگین صورت اختیار کرے گا ایک نیا حقیقی تضاد باہر آئے گا بے روزگار نوجوانوں کی نظر اس طرف جائے گی کہ اگر کراچی میں 10 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن نہ ہوتے تو ہمیں 10 لاکھ سے زیادہ روزگار اور کاروبار کے مواقع ملتے اور یہ ذہنیت پھیلتی گئی تو یہ تضاد خانہ جنگی میں بدل جائے گا اور المیہ یہ ہے کہ اس کا شکار غریب طبقات ہی ہوں گے۔ اس خطرناک امکان کی وجہ یہ ہے کہ بیروزگاروں کے قافلوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں دہشت گرد اور جرائم پیشہ بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں۔ کیا ہمارا حکمراں طبقہ ہمارے سیاستدان ہماری مذہبی قیادت اس سنگین مسئلے پر غور کر رہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی کر رہی ہے؟ اگر یہ تضاد شدت اختیار کر گیا تو بے چارے غریب عوام بھی اس کا شکار ہوں گے اور حکمران اور سیاستدان ایک دوسرے پر ہی الزامات اور جوابی الزامات لگاتے رہیں گے کہ یہ میرا نہیں تیرا قصور ہے۔




Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.