Breaking News
recent

اولاد کی محبت کو ترستی مائیں

بدرالنسا نامی عمر رسیدہ خاتون جوانی میں ہی بیوہ ہوگئی تھیں، کبھی اس نے بچوں کو باپ کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا تھا۔ ایک ماں 7 بچے پال سکتی ہے لیکن اولاد سے ایک ماں کی بڑھاپے میں خدمت نہیں ہوسکتی۔ اس ضعیف خاتون کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اولاد کی عدم توجہی اور پیار نہ ملنے کے باعث نفسیاتی مریض بن گئیں اور اسی حالت میں وہ اولڈ ہوم ٹرسٹ میں رہائش پذیر تھیں، وہ اپنے بیٹے کو یاد کرنے کے بعد روتی اور چلاتی تھیں لیکن بدنصیب اولاد اسے اپنے گھر رکھنے کو تیار نہ تھی۔

جب یہ بوڑھی عورت زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی تو اس نے اپنے بیٹے کے ساتھ جانے سے انکار کردیا تھا۔ اولاد کی محبت و توجہ کو ترستی بدرالنسا بالآخر اپنے مالک حقیقی سے جا ملی۔ ٹرسٹ کی انتظامیہ نے اس کی لاش کو بیٹے کے حوالے کیا تو اس نے لاش کو ایک دن ایدھی سردخانے میں رکھا اور محلے والوں سے کفن دفن کے لیے چندہ جمع کرنے کے بعد ماں کی تدفین کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس مرحومہ ضعیف خاتون بدرالنسا کی فیملی کی معاشی حالت اتنی بدتر بھی نہیں تھی کہ وہ اپنی ماں کی بہتر دیکھ بھال نہ کر پاتے، یہ ساری ستم ظریفی معاشرے کی بے حسی ہے۔

بے حس اولاد کا اپنے عمر رسیدہ والدین کو اولڈ ایج ہومز میں داخل کرنے کے رجحان میں اضافے کے باعث اولڈ ہومز میں جگہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے، جو ہمارے اسلامی معاشرے میں قابل افسوس و ندامت کا مقام ہے۔ اگرچہ ان اولڈ ہومز میں عمر رسیدہ خواتین سہولتوں سے آراستہ زندگی بسر کر رہی ہیں لیکن اپنی اولاد سے دور وہ کرب کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔
اولڈ ہوم میں بیشتر داخل خواتین امیر اور تعلیم یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں، ان بوڑھی خواتین کی اولاد تو عالی شان مکانات میں رہائش پذیر ہیں لیکن بوڑھی ماؤں کے لیے ان کے پاس وقت نہیں، اکثر خواتین کی اولاد کاروبار کے لیے بیرون ملک چلی جاتی ہے اور عالی شان محلوں میں ماں باپ کو نوکروں یا پڑوسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں جہاں عدم توجہی سے والدین نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں، ضعیفی میں جسمانی طور پر کمزور اور اکیلے پن کے شکار والدین عمر کے آخری حصے میں معصوم بچوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں اور چڑچڑے پن کا شکار ہو کر اپنوں کے پیار کو ترستے ہیں لیکن اولاد انھیں اولڈ ہومز میں رکھنے کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ ان ضعیف والدین کو گھر میں رکھنے پر ان کے رتبے میں کمی آتی ہے۔

بچپن میں اولاد گھر سے باہر ہو تو والدین کو پریشانی میں نیند نہیں آتی، اپنی زندگی کا تمام تر سرمایہ اور بڑھاپے کی لاٹھی اپنی اولاد کو سمجھتے ہیں۔ والدین انھیں اف تک نہیں کرتے اور جب یہی اولاد خود والدین کے رتبے پر فائز ہوتی ہے اور جب دادی دادا کو اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیلنے کا وقت آتا ہے تو ان کی قدر و منزلت ان کی نگاہوں میں بڑھنے کے بجائے کم ہوجاتی ہے، اور وہ انھیں گھر کا کوڑا کرکٹ سمجھ کر اولڈ ہوم میں بھیج دیتے ہیں۔ یہ ماں کی محبت کی انتہا ہے کہ وہ اولاد کے خلاف بات کرنے سے گریز کرتی ہے کہ ’’ہماری اولاد جیسی بھی ہے آخر ہے تو ہماری‘‘ ان کے منہ سے پھر بھی بچوں کے لیے دعا نکلتی ہے۔ یہی ہے ممتا۔ جسے سمجھنے کے لیے نافرمان اولاد قاصر ہے۔
اولڈ ہوم میں مقیم 80 سالہ میمونہ جس کی تعلیمی قابلیت انٹرمیڈیٹ ہے اور وہ گٹار بجانے اور پینٹنگ میں ہر فن مولا تھیں، 6 سال نجی طبی کلینک میں ملازمہ بھی رہی ہیں، ان کا شوہر کمپیوٹر انجینئر کے عہدے پر فائز تھا انھوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکا بھیجا تھا کہ اسی دوران امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد خاتون کے عشق میں مبتلا ہوگیا اور والدین سے اپنی پسند کی شادی کی اجازت طلب کی۔

والدین نے امریکی شہریت کی لالچ میں اجازت دی، بہو نے ان کے بیٹے کے ساتھ بمشکل 6 سال ہی بسر کیے تھے، اس کے بعد ان دونوں کے درمیان بے اتفاقی کا سلسلہ شروع ہوگیا، بہو نے اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ نامناسب رویہ برتنا شروع کردیا جس کی وجہ سے سسر کا انتقال ہوگیا، اکلوتا بیٹا نشے کی لت میں مبتلا ہوگیا اور بہو نے ساس پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرانے کے بعد اولڈ ہوم میں بلامعاوضہ منتقل کردیا، بوڑھی خاتون 4 سے 5 کروڑ روپے کے عالی شان گھر کی مالکن ہے، ضعیف خاتون ذہنی طور پر صحت مند ہے اور جب وہ اولڈ ہوم میں کھانا کھاتی ہے تو اپنے بیٹے کو یاد کر کے بہت روتی ہے۔

اولڈ ہومز میں مقیم ہر والدین کی ایک درد بھری کہانی ہے۔ بے جا لاڈ پیار اور بچوں کی تربیت مغربی تہذیب کے خطوط پر کرنا بھی اولاد کو اکثر نافرمان اور سرکش بنا دیتی ہے۔ اولڈ ہومز میں مقیم والدین بدقسمت نہیں بلکہ ان کی اولاد، دیگر اہل و عیال بدبخت ہیں، نادان اولاد یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ’’جیسا بیج بوئیں گے ویسا ہی کاٹیں گے‘‘ مغرب کے ٹوٹے پھوٹے خاندانی سسٹم کے باعث جہاں بزرگ والدین کو اولڈ ایج ہومز میں داخل کرانے کا رجحان اپنے عروج پر ہے وہیں سے یہ ’’وبا‘‘ پاکستان میں بھی پھیل رہی ہے۔

یہ رجحان مشرقی روایات کے یکسر مخالف ہے۔ یہ روایت مغرب کی پروردہ ہے، ہماری مشرقی روایات اور نہ ہی مذہب ہمیں اس رویے کی اجازت دیتا ہے۔ بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہومز بھیجنے والی اولاد کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔
اسلام ماں باپ کے ساتھ اچھے سے اچھا برتاؤ اور ان کی خدمت کرنے، اگر وہ دونوں (والدین) یا ایک بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اف تک نہ کہنے اور انھیں جھڑکنے سے منع کرنے اور ان سے میٹھا بول بولنے اور ان کے سامنے عاجزی سے بازو جھکائے رکھنے کا حکم دیتا ہے۔

اور یہ دعا کرنے کا درس دیتا ہے کہ ’’اے میرے پروردگار! میرے ماں باپ پر رحم فرما جس طرح انھوں نے مجھے بچپن میں (شفقت کے ساتھ) پالا تھا‘‘ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ کوئی اولاد اپنے باپ کا بدلہ نہیں چکا سکتی الآ یہ کہ وہ باپ کو کسی کا غلام دیکھے اور اسے خرید کر آزاد کردے۔‘‘ (حوالہ: مسلم، ابوداؤد، ترمذی وغیرہ، ترغیب ص213، ج3)۔ حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا ہے کہ والدین تمہاری جنت بھی ہیں (اگر ان کے ساتھ حسن سلوک کرو) اور تمہاری دوزخ بھی (اگر ان کی نافرمانی کرو) (حوالہ:ابن ماجہ، ترغیب ص214، ج3)۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے آپؐ نے فرمایا ’’وہ شخص خاک آلود ہے، خاک آلود ہے، خاک آلود ہے(پوچھا گیا یا رسول اللہ! کون؟ آپؐ نے فرمایا، جس شخص نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور پھر بھی جنت میں داخل نہ ہوسکا۔ ‘‘(حوالہ: مسلم، ترغیب ص215،ج3)۔
’’مدر ڈے‘‘ مغربی خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کا شاخسانہ ہے جہاں اولاد ماں باپ کی شفقت سے محروم ہے جو ’’مدرڈے‘‘ کے نام پر اولاد والدین کو یاد کر کے تحفے پیش کرتی ہے۔ جب کہ ماں کی محبتوں سے محرومی کا مداوا ایک دن کی نمائش سے نہیں ہوتا۔ ماں باپ کی شفقتوں کی انسان کو ہر وقت ضرورت پڑتی ہے۔ آؤ! والدین سے پیار کریں۔

شبیر احمد ارمان


No comments:

Powered by Blogger.