Breaking News
recent

کراچی میں ٹرن آؤٹ کم کیوں رہا؟

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں کئی اتحادوں اور درجن جماعتوں کی شرکت کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے خود کو گھروں تک محدود رکھا ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر اردو بولنے والوں کی آبادیوں میں زیادہ دیکھا گیا۔

لائنز ایریا، گارڈن، برنس روڈ، ، گلشن اقبال، نارتھ ناظم آباد، کورنگی اور لانڈھی میں کئی پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی بڑی قطاریں نظر نہیں آئیں جبکہ اس کے برعکس صبح کو حلوہ پوری کی دکانوں اور دوپہر کو سی این جی سٹیشنوں اور بریانی کی دکانوں پر پولنگ سٹیشنوں سے زیادہ لوگ موجود تھے۔

ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق کا کہنا ہے کہ شہر میں ایک منصوبہ بندی کے تحت خوف و ہراس کی فضا پیدا کرکے لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ اگر وہ باہر نکلیں گے تو چھاپے میں ان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے لیکن ایم کیو ایم سمجھتی ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلے اور ووٹ دیا۔

’اس وقت شہر میں تم لوگوں کو پتہ تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پولنگ سٹیشنوں پر موجود تھے اور پولیس بھی موجود تھی اب اگر 25 فیصد یا 33 فیصد بھی ووٹ کاسٹ ہوا ہے تو اس میں اکثریت کا تعلق ایم کیو ایم سے ہی ہوگا۔‘
ملک کے دیگر علاقوں کے برعکس کراچی میں حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے خود مہم چلائی لیکن انتخابی گہماگہمی کے ووٹنگ کے دن اثرات نظر نہیں آئے۔
شہر میں حساس پولنگ سٹیشنوں پر پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا تھا
جماعت اسلامی کے امیدوار اور کراچی کے امیر نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ لوگوں کا ردعمل توقع کے خلاف رہا لیکن ایم کیو ایم جس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ مہاجر کارڈ چلے گا یا صوبہ کارڈ چلے گا وہ بھی نہیں چلا۔
’ہم یہ سمجھتے تھے کہ لوگ تبدیلی کے لیے باہر آجائیں گے لیکن ایم کیو ایم نے یہ کارڈ بہت اچھی طرح استعمال کیا کہ خوف کی فضا قائم رہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حالات بدلنے نہیں جا رہے۔ وہ تو حیدرآباد میں بھی آگئے ہیں کراچی میں بھی آجائیں گےلیکن اس کے باوجو وہ پرامید ہیں کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کو ووٹ ملیں گے۔ 

ماضی میں انتخابات کے روز کئی سیاسی جماعتوں کے کارکن گاڑیوں کے ساتھ ہر محلے میں موجود نظر آتے تھے جو لوگوں کو گھروں سے پولنگ سٹیشن تک پہنچاتے تھے لیکن اس بار لوگوں کی اکثریت اپنے طور پر پولنگ سٹیشنوں تک پہنچیں۔

جماعت اسلامی کے رہنما نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اردو بولے جانے والی آبادیوں میں سیاسی کارکنوں کی ہلاکت کے بعد سیاسی سرگرمیاں محدود ہوگئی ہیں اسی وجہ سے ان آبادیوں میں کارکن اتنے سرگرم نظر نہیں آئے ہوں گے جتنی ان علاقوں میں ہلچل تھی جہاں اردو بولنے والے کم ہیں۔ اردو بولنے والی آبادیوں میں جماعت اسلامی کے علاوہ اور کوئی جماعت موجود نہیں لیکن کئی سیاسی و سماجی کارکنوں کو قتل کردیا گیا وہاں سیاسی ماحول ہی نہیں بننے دیا گیا۔
شہر میں حساس پولنگ سٹیشنوں پر پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ فوج کی 20 کمپنیاں بھی طلب کی گئی تھیں تاہم رینجرز زیادہ تر گشت میں مصروف رہی۔
کراچی سمیت پورے ملک میں پہلی بار بلدیاتی انتخابات سیاسی بنیادوں پر لڑے گئے ہیں
تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی لوگوں کی عدم دلچسپی کو خوف کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ’میرا خیال ہے کہ لوگ دہشت گردی کے حوالے سے ہی محتاط رہے اور ان کو خطرہ رہا کیونکہ کراچی کی یہ تاریخ رہی ہے یہاں پولنگ سٹیشنوں میں بھی گڑ بڑ ہوتی ہے۔ 

عارف علوی کے مطابق سنہ 2013 کے عام انتخابات کے تجربے کی روشنی میں یہاں تمام پولنگ سٹیشنوں کے اندر فوج کو ہونا چاہیے تھا۔ تبھی معاملات بہتر ہوسکتے تھے۔ انھوں نے تو کئی لوگوں کو کہا کہ باہر نکلو ووٹ دو چاہے کسی کو بھی دیں۔

اگر اردو بولنے والوں کی اکثریتی آبادیوں میں ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے تو یہ ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف تینوں کے لیے بہتر نہیں۔ایم کیو ایم ایم میں اس وقت خوف و ہراس زیادہ ہے لوگ باہر آنے سے ڈر رہے ہیں اس صورتحال میں خوف کا عنصر بھی شامل ہوسکتا ہے لیکن جہاں تک جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا تعلق ہے تو جماعت اسلامی کے جو کنزرویٹر لوگ ہوں انھیں تحریک انصاف اور جو تحریک انصاف کے روشن خیال لوگ ہیں انہیں جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد پر اعتراض رہا ہوگا

مظہر عباس، تجزیہ نگار

کراچی میں سنہ 2013 میں تخریب کاری کے واقعات کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد پولنگ سٹیشنوں تک پہنچی اسی طرح عزیز آباد میں حلقہ این اے 246 پر ضمنی انتخابات میں بھی ٹرن آؤٹ بہتر رہا ۔

سینیئر تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اگر ٹرن آؤٹ 35 سے 40 فیصد بھی رہتا ہے تو بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کافی کم ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر نکالنے میں ناکام رہی ہیں، شاید بلدیاتی اداروں اور سیاسی جماعتوں پر بد اعتمادی کا اظہار کیا جارہا ہے۔
کراچی سمیت پورے ملک میں پہلی بار بلدیاتی انتخابات سیاسی بنیادوں پر لڑے گئے ہی۔ تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف کے مطابق شہر میں حالات اور انفرسٹرکچر کی صورت حال اچھی نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ مایوسی کا شکار ہیں اور اس ہی وجہ سے بلدیاتی انتخاب میں ووٹروں کی تعداد کم رہی۔

ڈاکٹر توصیف کا کہنا ہے کہ اردو بولنے والی آبادیوں میں بھی متوسط طبقے والی آبادیوں میں ووٹر ٹرن آوٹ کم رہا اس کی برعکس غریب طبقے والی آبادیوں میں ٹرن آؤٹ زیادہ نظر آیا اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جو پارٹیاں نمائندگی کا دعویٰ کر رہی تھیں اور جو ان کی مخالف جماعتیں تھی وہ ووٹر کو نکالنے میں کیوں کامیاب نہیں ہو پائیں ۔

’اگر ایم کیو ایم جیتے گی تو یہ ایم کیو ایم کی بھی ناکامی ہے کہ وہ ووٹروں کی اکثریت کو نکال نہیں پائی، اس میں ان کے پیغام اور کارگردگی دونوں کا معاملہ ہے۔ 

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

No comments:

Powered by Blogger.