Breaking News
recent

پاکستان کے ماضی چور

پاکستان کا حال ہی نہیں ماضی بھی مسلسل چرایا جا رہا ہے۔ تازہ ترین شاخسانہ
گندھارا تہذیب کے ایک سو نو برس پرانے نوادراتی مرکز پشاور میوزیم میں بدانتظامی اور کرپشن کے بارے میں گذشتہ ماہ مرتب ہونے والی رپورٹ کی شکل میں ہے۔ اسے نیشنل میوزیم کراچی کے سابق ڈائریکٹر مکین خان اور خیبر پختون خوا کے انسدادِ بدعنوانی کے دو افسروں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی نے مرتب کیا۔رپورٹ کے مطابق میوزیم میں موجود قدیم اور تاریخی سکوں کی آخری دستاویز بندی 2004ء میں ہوئی۔ قدیم نمائشی سکوں میں سے لگ بھگ 80 سکے جعلی پائے گئے۔ (رپورٹ میں ان ٹریز کے نمبر بھی دئیے گئے ہیں جن میں جعلی سکّے بغرضِ نمائش رکھے گئے) جعلی سکوں سے بدلے گئے اصل سکے برٹش راج میں میوزیم کے ذخیرے میں شامل کیے گئے۔ ایک سکہ جس کا اصل غائب ہے، آج کی بین الاقوامی نوادراتی مارکیٹ میں اس کی قدر پچاس ہزار ڈالر کے لگ بھگ بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کسٹم حکام جو سمگل شدہ نوادرات پکڑتے ہیں ان میں سے بہت سے کسٹمز سے مقامی محکمہ پولیس تک اور پولیس سے میوزیم کو حوالے کرنے کے دوران غائب ہو جاتے ہیں۔ پشاور میوزیم کے پاس ان ضبط شدہ نوادرات کی وصولی کا ریکارڈ بھی نامکمل پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت پشاور میوزیم میں مختلف نوعیت کے پندرہ منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، لیکن ان میں دکھائے گئے دس فیصد ملازمین بوگس ہیں جو گھر بیٹھے تنخوا لیتے ہیں یا پھر میوزیم کے ملازمین کے رشتے دار ہیں۔ منصوبوں کے کئی ٹھیکے دار بھی کاغذی ہیں۔ کچھ ملازم دیگر سرکاری محکموں میں ملازم ہیں مگر میوزیم پروجیکٹس سے بھی محنتانہ سمیٹ رہے ہیں۔ رپورٹ کی بابت خیبر پختون خوا کے مشیرِ اطلاعات مشتاق غنی نے روایتی ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بے قاعدگیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر سخت کارروائی کی جائے گی۔
بیرونی دنیا لاہور میوزیم کو گندھارا تہذیب کی علامت ’فاسٹنگ بدھا‘ کے سبب جانتی ہے۔ فاقہ کش بدھا اٹھارہ سو چورانوے سے اس میوزیم میں تپسوی ہے۔ یہ بدھا اپنے پیروکاروں کو اس قدر عزیز ہے کہ جب میں اپریل انیس سو نو میں تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ سے دھرم شالہ میں ملا تو انھوں نے کہا کہ پاکستان تو خیر میں اپنی زندگی میں کبھی نہ جا سکا اور نہ آئندہ امکان ہے مگر میں نے لاہور میوزیم کے فاسٹنگ بدھا کو کئی برس پہلے ٹوکیو میں ضرور دیکھا جہاں اسے ایک نمائش میں بطورِ خاص لایا گیا تھا‘۔اس فاسٹنگ بدھا کے ساتھ یہ ہوا کہ چار برس (اپریل دو ہزار بارہ) قبل پہلی بار معلوم ہوا کہ اس کے دائیں ہاتھ کی دو انگلیاں غائب ہیں اور بائیں بازو میں صفائی کے دوران کریک پڑ چکا ہے جسے میوزیم کی کنزرویشن لیب کے عملے نے چھپانے کے لیے جلد بازی میں ایپوکسی (صمد بانڈ ٹائپ گوند) سے جوڑ دیا۔ یوں بازو پر کریک کا نشان مزید نمایاں ہوگیا۔

موقر انگریزی روزنامہ ڈان کی(جون دو ہزار چودہ) کی ایک رپورٹ کے مطابق دو ہزار نو کے بعد سے لاہور میوزیم کو کوئی کوالیفیائیڈ کنزرویشنسٹ نصیب نہ ہو سکا۔ لیب کا قائم مقام چارج ایک سادہ ایم اے آرکیالوجی کو دے دیا گیا۔ لیب ٹیکنیشن گذشتہ ڈائریکٹر کی ڈرائیوری پر مامور رہا اور ایک چوکیدار اس کی جگہ لیب کنزرویشنسٹ بنا رہا۔ ان حالات میں فاسٹنگ بدھا کا مزید خراب نہ ہونا بھی ایک معجزہ ہے۔ گندھارا نوادارت کا بہت بڑا کلیکشن انیس سو اٹھائیس سے قائم ٹیکسلا میوزیم میں ہے۔ آج تک جتنے غیر ملکی مہمانوں کو اسلام آباد کی قربت کے سبب ٹیکسلا میوزیم لے جایا گیا، یہ عزت پاکستان کے کسی اور میوزیم کے حصے میں نہ آ سکی۔ انیس سو اٹھانوے میں میری ملاقات ٹیکسلا میوزیم کے باہر موجود سووینئرز کی دکانوں میں سے کسی ایک پر ایک سنگتراش بابے سے ہوئی۔ دو ڈھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد بابا کھلا۔

اس نے انکشاف کیا کہ وہ کلاسیک بدھا تراشتا ہے اور پھر انھیں مختلف کیمیاوی جتن کر کے ڈھائی ہزار سال پرانا بھی کرتا ہے۔ اگر کاربن ڈیٹنگ نہ کی جائے تو بڑے سے بڑا جاپانی پھنے خان بھی اصل اور نقل نہیں پہچان سکتا۔ مَیں نے بابے سے پوچھا کہ اس میوزیم میں اصلی مال کتنا رہ گیا ہے؟ بابے نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے علامتی انداز میں بتایا ’یہاں بڑی لمبی کارروائیاں ہوتی ہیں صاحب، گائے کے تھنوں میں بہت کم دودھ بچا ہے، مگر جب خدا عیب ڈھانپنے والا ہے تو میں بھی کسی کا نام کیوں لوں‘۔ اس کے بعد بابے نے موضوع ہی بدل دیا۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.