Monday, December 21, 2015

KHAWAJA UMER FAROOQ

رینجرز کو خصوصی اختیارات کے بغیر کراچی میں امن ناممکن

سندھ میں اپوزیشن جماعتوں اور گورنر عشرت العباد کے بعد کور کمانڈر کراچی لیفٹیٹننٹ جنرل نوید مختار نے بھی رینجرز اختیارات میں مشروط توسیع کی مخالفت کر دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن رینجرز کو دیےگئے خصوصی اختیارات سے ہی ممکن ہو سکے گا۔

کور کمانڈر لیفٹیٹننٹ جنرل نوید مختار نے جمعے کی صبح رینجرز ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران سے خطاب کیا۔
جنرل نوید مختار اس سے قبل بھی غیر روایتی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ رینجرز کے ترجمان نے ان کے دورے کے بعد چھ سطروں پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کیا ہے۔

کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کا کہنا ہے کہ کراچی میں رینجرز کا دہشت گردی کے خلاف کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور شہر میں امن رینجرز کو دیےگئے خِصوصی اختیارات کے بغیر ممکن نہیں ہو گا۔
جنرل نوید مختار کے مطابق غیر یقینی حالات جرائم پیشہ عناصر کو تقویت دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ رینجرز کراچی کے عوام کو دہشت گردی کے خلاف تحفظ پہنچانے میں اپنا موثر کردار ادا کرتی رہے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کی تھی۔ جس کے بعد گورنر سندھ کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ کراچی آپریشن روکنے کے لیے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
رینجرز نے پاکستان پیپلز پارٹی کےرہنما ڈاکٹر عاصم کو تین ماہ تک اپنی حراست میں رکھا
دوسری جانب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے رینجرز اختیارات میں توسیع کی مشروط قرارداد اور رائے کا اظہار کرنے کی اجازت نہ دینے پر احتجاج کیا، جس پر سپیکر نے اجلاس منگل تک ملتوی کر دیا ہے۔

رینجرز کے اختیارات میں مشروط توسیع کے معاملات نے ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ ایوان سے باہر بلدیاتی انتخابات میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف شدید تنقید کرتی رہی ہیں لیکن اب حکومت مخالف پیش قدمی میں ساتھ ساتھ نظر آ رہی ہیں۔

ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما خواجہ اظہار الحسن نے اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایم کیو ایم اختیارات میں توسیع کی مخالف نہیں ہے۔ دراصل وہ چاہتے ہیں کہ یہ اختیارات کراچی سے باہر پورے صوبے پر محیط ہوں۔
’جس طرح خیرپور میں انتخابات کے دوران تصادم ہوا، شکار پور میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا یا سانگھڑ میں دو روز قبل جو سیاسی کشیدگی کا واقعہ پیش آیا، ہم چاہتے ہیں کہ رینجرز کو اختیارات دیے جائیں اور آئینی و قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔‘

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ثمر علی خان کا کہنا تھا کہ وہ مخالفت برائے مخالفت نہیں کر رہے، اور جب عوام کے مفادات کے خلاف کوئی معاملہ آتا ہے تبھی وہ مخالفت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کورم پورا نہ ہونے کے باوجود سپیکر نے قرارداد منظور کر لی اور اس حد تک کے ووٹوں کی گنتی تک نہیں کی گئی تھی جو قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رکن شفیع جاموٹ نے ان کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ جس طریقے سے اسمبلی چلائی جا رہی ہے وہ من مانی ہے جو جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق سپیکر غیر جانبدار نہیں رہے وہ اب اس عہدے کے اہل نہیں رہے۔
 
سندھ اسمبلی نے رینجرز کے خصوصی اختیارات میں مشروط توسیع کرنے کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی ہے
اپوزیشن جماعتوں نے سپیکر آغا سراج درانی کے خلاف ایوان میں مذمتی قرار داد بھی جمع کرا دی ہے۔ خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تحریک عدم اعتماد لانے کا بھی راستہ موجود ہے۔

’ہم سپیکر اور وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پہلے انھیں مذمتی قرارداد کے ذریعے بات سمجھا دیں اگر سمجھ میں آیا تو ٹھیک ہے ورنہ دوسرے آپشن کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔ 

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچ

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :