Breaking News
recent

عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ

سندھ کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ یہاں اسلام کے ابتدائی دور سے بلخ و بخارا، قندھار و بدخشاں سے لاکھوں فرزندان اسلام اور ہزاروں صوفیائے کرام وارد ہوتے رہے، انھوں نے نہ صرف اس خوب صورت خطہ ارض کو اپنا مسکن بنایا بلکہ توحید اور تبلیغ کی مشعلیں روشن کر کے لاکھوں افراد کو حلقہ بگوش اسلام کیا، یہ سلسلہ سندھ میں محمد بن قاسم کی سندھ آمد 712ء سے شروع ہوا اور کئی صدیوں تک مسلسل جاری رہا، ہندوستان میں اسلام کی داغ بیل سب سے پہلے سندھ کی سرزمین پر پڑی اور پھر رفتہ رفتہ دین اسلام ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلتا چلا گیا اور سندھ کو باب الاسلام کا شرف حاصل ہوا، اسی وادیٔ مہران نے ایک عظیم صوفی شاعر کو بھی جنم دیا جس کو دنیا شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے نام سے جانتی ہے۔

شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ سندھ کے قصبے ہالا حویلی میں 1102ھ بمطابق 1689ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام شاہ حبیب تھا جب کہ آپ کے دادا سندھ میں شاہ کریم بلڑی والے کے نام سے مشہور تھے۔ شاہ لطیفؒ کے بارے میں اکثر مورخین کا کہنا ہے کہ آپ نے باقاعدہ کسی مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن آپ کی شاعری اور کلام دیکھ کر اس بات کا کہیں سے بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ ان پڑھ تھے آپ کو عربی، فارسی، ہندی اور سندھی زبان پر خاص عبور حاصل تھا۔
شاہ لطیفؒ کی شاعری کا مجموعہ ’’شاہ جو رسالو‘‘ کے نام سے معروف ہے سندھ کے معروف شعرا شیخ ایاز اور آغا سلیم نے شاہ جو رسالو کے منظوم تراجم کیے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ادب کی گہری تخیلاتی دنیا میں سندھی زبان نے اگر کوئی کلاسیکیت پیدا کی ہے تو وہ ان کی تصوف پر مبنی نظمیں ہیں جن کا مجموعہ ’’شاہ جو رسالو‘‘ ہے۔
ایک مرتبہ جرمن اسکالر اور ماہر لسانیات ڈاکٹر این میری شمل نے کہا تھا کہ انگریزی کلاسیکی شاعری کی بہت بڑی شخصیات کو میں نے پڑھا ہے وہ لوگ کسی طرح لطیفؒ سے بڑے کلاسیکل شاعر نہیں ہیں اور ڈاکٹر شمل نے کہا تھا کہ سندھی سیکھنے کی میری سب سے بڑی وجہ لطیف کو سمجھنا تھا مگر شاہ لطیفؒ کے ساتھ ستم یہ ہوا کہ ان کی زبان صرف وہ سمجھتے ہیں جنھیں سندھی پر پورا عبور ہو، عام سندھی بول چال میں لطیفؒ کی زبان مفقود ہے۔ آپ نے جو کچھ حاصل کیا وہ اپنے ذاتی شوق، ذاتی لگن اور ذاتی کاوش سے حاصل کیا اور قرآن حکیم، مثنوی مولانا روم اور شاہ کریم کے ابیات کو ہمیشہ اپنے زیر مطالعہ رکھا۔

آغاز جوانی ہی میں جب آپ کی عمر تقریباً 20 سال بھی تو شاہ سائیں کو کوٹری کے مغل نواب مرزا مغل بیگ کی بیٹی سیدہ بیگم سے عشق ہو گیا اور آپ اس عشق میں گرفتار ہو کر معرفت الٰہی تک جا پہنچے اور اپنی محبوبہ کو پانے کی جستجو میں مگن رہنے لگے، اپنے عشق کو پانے کی تڑپ نے انھیں جوگی بنا دیا، انھوں نے گہرے پیلے رنگ کا لباس پہننا شروع کر دیا، ایک چھڑی اٹھا لی، صندل کی لکڑی سے بنا ایک پیالہ کھانے اور شفاف پتھر سے بنا دوسرا پیالہ پینے کے لیے ساتھ لیا اور جنگل کی جانب نکل گئے۔

یہ واقعی ان کی کرامت ہے کہ 43 برس کی بقیہ زندگی میں یہی دونوں پیالے اور چھڑی ان کے ساتھ رہے، نہ ٹوٹے اور نہ گم ہوئے، یہ چیزیں آج بھی ان کے مزار پر موجود ہیں۔ اس زمانے میں ان کی ملاقات مخدوم محمد حسین شاہ سے ہوئی۔ انھوں نے اپنی روحانی قوت سے شاہ سائیں کے دل و دماغ کو ریاضت کی بھٹی میں تپا کے سونا بنا دیا۔ دل کا درد، عشق کی تڑپ، چاہت کا سیل بے کراں، فراق کی مجبوریاں، سفر کی صعوبتیں، یہ سارے تجربے اور تمام دکھ درد ان کی شاعری میں ڈھل گئے تھے اور انھوں نے اس درد اور تڑپ کو سسی، مومل اور ماروی کی داستان میں سمو کر اہل دل کے سامنے پیش کر دیا۔

شاہ لطیفؒ نے کوٹری سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر ریت کے ایک ٹیلے کو اپنا مسکن بنایا چونکہ ریت کے ٹیلے کو سندھی میں بھٹ کہتے ہیں اس لیے آپ سائیں عبداللطیف بھٹائیؒ کے نام سے مشہور ہو گئے۔ سائیں لطیف وڈیروں، جاگیرداروں اور نوابوں سے دور بھوکے اور مظلوم عوام کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کا سارا دکھ درد شاہ کے کلام میں نظر آتا ہے، شاہ لطیف نے بیشمار سُر اور تال ایجاد کیے وہ امیر خسروؒ کے بعد سُروں کے سب سے بڑے موجد ہیں اور ان کو بجا طور پر سندھی زبان و ادب کا امیر خسروؒ کہا جا سکتا ہے۔
شاہ لطیفؒ کی شاعری عشق حقیقی کا مظہر اور معرفت الٰہی کا بہترین نمونہ ہے آپ نے اپنی شاعری میں وحدانیت و محبت کا عظیم درس دیا ہے۔

شاہ لطیفؒ کا ’’سرسری راگ‘‘ سندھ کی سیاست پر مبنی اس وقت کے اور آج کے سیاسی حالات کا حقیقی عکس نظر آتا ہے، شاہ لطیفؒ اپنے عہد میں انگریزوں کی آمد اور ان کے خطرناک عزائم کی نشاندہی اپنی شاعری میں بیان کرتے رہے، شاہ لطیفؒ نے اپنی شاعری میں سندھ کی دھرتی کو کشتی سے تشبیہہ دی ہے، سندھ کے حکمرانوں کو اپنے استعارے کی زبان میں اس بات کی تلقین کی ہے کہ اگر سمندر کی موجوں سے اس کشتی کو محفوظ رکھنا اور بچانا ہے تو ان باتوں کا خیال ضرور رکھنا کہ یہ کشتی پرانی ہو چکی ہے، سمندر کی تیز و تند موجوں کا اب یہ کشتی مقابلہ نہیں کر سکتی، کشتی کی پچھلی طرف سے چور داخل ہو رہے ہیں لہٰذا غفلت کی نیند سے جاگنا اور کشتی کو بچانا ضروری ہے۔

شاہ لطیفؒ کی شاعری کا پیغام اس بات کی بھرپور ترجمانی کر رہا ہے کہ شاہ صاحب کی دوربین نگاہوں نے سندھ کے مستقبل کا مشاہدہ کر لیا تھا اور سندھ کے آنے والے حالات سے پیشگی طور پر آگاہ کر رہے تھے سندھ جو امن و آشتی کی دھرتی ہے، اس دھرتی پر گزشتہ کئی برس پہلے انسان، انسان کا دشمن اور خون کا پیاسا ہو گیا تھا، روئے زمین پر جب انسان پر حیوانیت غالب آ جائے اور انسانیت محو خواب ہو تو ایسے موقعے پر شاہ لطیفؒ کے نزدیک اس کی اصلاح کی اشد ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ ضمیر کا جاگنا نہایت ضروری ہے اور عقل و شعور کے خنجر سے ہی انسانی ذہن و فکر میں جو حیوانیت کے خونخوار جراثیم پرورش پاتے ہیں ان کو کاٹا اور ختم کیا جا سکتا ہے۔

شاہ لطیفؒ کا یہی آفاقی پیغام دراصل مظلوم، ستم خوردہ، غریب و بے کس انسانوں کی نجات کا ذریعہ ہے، شاہ صاحب کی شاعری کا کمال ہے کہ وہ فن کی اتنی اعلیٰ و ارفع رفعتوں پر فائز ہیں کہ صدیاں بیت جانے کے باوجود آپ کی شاعری کے ذوق و شوق میں کسی درجہ کوئی فرق نہیں آیا۔شاہ لطیفؒ کی شاعری کے بول الفاظ کے بجائے ایک اسپرٹ ایک روح اور غضب کے جادو کا مقام رکھتے ہیں، 

شاہ صاحب نے 18 ویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کی سیاست، سلطنت مغلیہ کے زوال اور سندھ کی چھوٹی چھوٹی بنتی اور بگڑتی ہوئی حکومت کے اثرات سے دوچار ہونے والے عوام کو سہارا دے کر ایک نئی زندگی کی نوید سنائی، شاہ صاحب نے اس بات کا شعور اور درس عام کیا کہ سکون قلب دولت کی ریل پیل اور عیش و آرام کی فراوانی میں نہیں ہے بلکہ سکون خاطر تو ذکر الٰہی سے ملتا ہے۔ شاہ صاحبؒ کے دور میں خاندان مغلیہ کا سورج غروب ہونے کو تھا اور سندھ میں کلہوڑو خاندان کے حکمرانوں کا آنا یقینی ہو چلا تھا، آپؒ نے خود اپنی دوررس نگاہوں سے سلطنت دہلی کے اقتدار کے ہچکولے کھاتے اور ڈوبتے عبرتناک منظر نامے کو دیکھ لیا تھا۔

شاہ صاحب کے نواب مرزا مغل بیگ کی بیٹی سے عشق اور اظہار کے بعد نواب سے تعلقات خاصے کشیدہ ہو گئے تھے اور نواب نے اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ خود شاہ صاحب کے لیے کوٹری میں رکنا مشکل ہو گیا تھا اور وہ ہالا چلے آئے تھے تاہم خدا کا کرنا یہ ہوا کہ نواب کی حویلی پر حملہ ہوا، سارے مرد مارے گئے صرف ایک لڑکا اور چند خواتین باقی بچیں۔ نواب خاندان نے اسے شاہ حبیب کا مدعا سمجھا، خواتین شاہ کے پاس آئیں، معافی مانگی اور ہمارے اس عظیم صوفی شاعر کی مطلوب و محبوب لڑکی نکاح میں دے دی۔

آپ کی شاعری میں اسلامی تعلیمات پر مبنی امن و محبت اور انسان دوستی کا لازوال آفاقی پیغام پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعری ’’قومی ورثہ‘‘ کا درجہ رکھتی ہے، آپ کے عارفانہ اور صوفیانہ طرز کلام میں انسانوں خصوصاً سندھ کی عوام کے لیے امن و سلامتی، بہادری، جرأت اور انسان دوستی کا وہ واضح پیغام ہے جس نے شاہ صاحب کو نہ صرف سندھ بلکہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید کر دیا ہے آپ 1165ھ بمطابق 1755 عیسویں 63 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، ہر سال 14 صفر کو بھٹ شاہ میں آپؒ کا سالانہ عرس بڑی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

No comments:

Powered by Blogger.