Breaking News
recent

لاہور اور راولپنڈی کا سفر

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے لوگوں میں یہ احساس کمتری شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ جس شہر کی آمدنی سے ملک چل رہا ہے، اسے وفاقی اور صوبائی سطح پر مکمل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور 62 فیصد ریونیو کما کر دینے والے شہر قائد کو لاوارث بنا دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کراچی کے لوگوں کی اکثریت گزشتہ 30 سالوں سے ایم کیو ایم کو اپنی نمایندگی کا اختیار دے رہی ہے اور متحدہ اس عرصے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں متعدد بار شامل رہی اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں کافی حد تک بااختیار بھی رہی اور داخلہ، خزانہ اور بلدیات جیسے اہم محکمے متحدہ کے وزیروں کے پاس رہے اور ضلع نظام کے دور میں متحدہ کی سٹی حکومت کراچی کو جو وفاقی فنڈ ملے وہ ایک ریکارڈ ہے  

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سندھ کی اہم سیاسی قوتیں ہیں، جنھیں دیہی سندھ اور شہری سندھ کے عوام مسلسل اپنی نمایندگی کا حق دے رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں متحدہ کے بعد پیپلز پارٹی دوسری بڑی پارٹی تھی اور کراچی کے دیہی علاقے پی پی کا گڑھ تھے جو پی پی کی غلط پالیسیوں کے سبب اب نہیں رہے اور شہری علاقوں میں بھی پی پی کا ووٹ بینک بری طرح متاثر ہوا۔ پی پی نے کراچی سے اپنی نشستیں گنوائیں اور 2013ء میں کراچی سے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے پی پی کا ووٹ بینک توڑا اور متحدہ بھی متاثر ہوئی مگر حالیہ بلدیاتی انتخابات میں متحدہ نے اپنی سیاسی طاقت پھر ظاہر کر دی اور ایک عام تاثر ہے کہ سندھ کی پی پی حکومت نے اپنے سرکاری وسائل اور دباؤ سے کراچی کے تین اضلاع میں کچھ کامیابی ضرور حاصل کی ہے۔
پیپلز پارٹی کی سابقہ اور موجودہ قیادت کا کراچی سے گہرا تعلق رہا ہے، سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے بچے کراچی میں پیدا ہوئے مگر پی پی نے اپنی تمام حکومتوں میں کراچی کو وہ اہمیت اور فنڈز نہیں دیے جو کراچی کا حق تھا۔ پی پی نے کراچی کے دیہی علاقوں اور لیاری ہی کو اہمیت دی اور شہری علاقوں سے اعتماد حاصل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی اور کراچی سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا۔ سابق پی پی حکومت نے اپنے 5 سال ضرور مکمل کیے مگر کراچی کو اس کا جائز حق دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کراچی کا میئر بننے کا خواب ضرور دیکھتے رہے اور پی پی حکومت کے ساڑھے سات سالوں میں کراچی پر جو گزری وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، شہر اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ (ن) لیگ کے مقابلے میں متحدہ پی پی حکومتوں میں زیادہ شامل رہنے کے باوجود پی پی حکومت سے کراچی کو اس کا حق نہ دلا سکی۔

متحدہ اب وفاقی اور صوبائی سطح پر اپوزیشن میں ہے، جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے کراچی والوں کو بے پناہ شکایات ہیں مگر دونوں کراچی کو اپنا نہیں سمجھ رہے اور اس کے جائز اور قانونی حق سے محروم رکھ کر، دو کروڑ آبادی کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے جو سراسر زیادتی اور کراچی صوبے کے لیے جان بوجھ کر راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

کراچی کے لوگ پنجاب خصوصاً لاہور، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد کو خوش قسمت اور کراچی کو بدقسمت قرار دیتے ہیں کہ ملک کا سب سے بڑا اور ملک کو سب سے زیادہ کما کر دینے والا شہر کراچی لاوارث ہے، جس کو پیپلز پارٹی اپنا سمجھتی ہے نہ مسلم لیگ (ن) کراچی والوں کے دل جیتنا چاہتی ہے اور دونوں حکومتوں نے کراچی کو نظر انداز کر رکھا ہے۔

راقم کا حال ہی میں لاہور، راولپنڈی اور گزشتہ ماہ ملتان جانے کا اتفاق ہوا اور حکومت پنجاب کی ان شہروں پر خصوصی عنایات دیکھنے کا موقعہ ملا۔ لاہور میں میٹرو بس کے کامیاب منصوبے کی تکمیل کے بعد اب اورنج ٹرین کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا گیا ہے جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان صدر سے پاک سیکریٹریٹ تک جدید میٹرو بسیں چل رہی ہیں، جس کے لیے سڑک کے درمیان دو منزلہ سڑک بنا کر میٹرو بسیں چلائی گئی ہیں جس کے چوبیس اسٹیشن ہیں اور میٹرو بسوں کے ذریعے نہ صرف راولپنڈی اور اسلام آباد کے لوگوں کو بہت زیادہ سہولت حاصل ہوئی ہے اور ملک بھر سے آنے والوں کو بھی تیز رفتار بڑی اور جدید بسوں میں بہ سہولت سفر میسر آ گیا ہے جو آرام دہ ہی نہیں سستا بھی ہے۔

راولپنڈی میں راقم کو میٹرو بس میں سفر کا موقعہ ملا تو رات 10 بجے بھی بس میں اتنا رش تھا کہ بمشکل کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑا جب کہ میٹرو کے دو منزلہ پلیٹ فارم اور بکنگ آفس اور سیڑھیوں کے ساتھ اوپر جانے کے لیے لفٹ دیکھ کر لگا کہ ہم راولپنڈی میں نہیں بلکہ کسی اور ملک میں میٹرو پر سفر کر رہے ہیں۔ ان جدید بسوں سے لوگوں کو جو سہولیات حاصل ہوئی ہیں وہ آرام دہ اور مہنگی گاڑیوں سے سفر کرنے والے وہ سیاستدان نہیں جانتے جو اپنے سیاسی مفاد کے لیے ہر حکومتی اقدام پر تنقید کے عادی ہیں اور عوامی مسائل سے ان کا عملی واسطہ نہیں پڑا۔

لاہور میں میٹرو بس پر شدید تنقید ہوئی تھی مگر لاہور والوں کا رش میٹرو بسوں میں دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، لاہور میں اب اورنج ٹرین کے منصوبے پر کام جاری ہے اور اس منصوبے کی زد میں آ کر سیکڑوں افراد متاثر اور اپنے گھروں اور کاروبار سے محروم بھی ہوئے ہیں اور ٹرین کے روٹ پر تعمیری کام سے ٹریفک جام، گاڑیوں کا رش اور لوگوں کو عارضی پریشانی کا سامنا بھی ہے۔ راقم نے لکشمی چوک کی صورتحال دیکھی اور متاثر ہونے والوں کی شکایات بھی سنیں جس پر میرے کراچی سے تعلق رکھنے والے ساتھی فیصل خمیسہ نے جو جو جواب دیا وہ سننے سے تعلق رکھتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب اور خاص طور پر لاہور خوش نصیب ہیں جسے پنجاب سے تعلق رکھنے والے حکمران اپنا تو سمجھتے ہیں اور اس کی ترقی کے لیے دن رات کام کرا رہے ہیں مگر کراچی میں کچھ ہو رہا ہے اور نہ اندرون سندھ پنجاب جیسی ترقی کہیں ہوئی ہے۔ فیصل خمیسہ کا موقف تھا کہ اس ترقی کے حقدار کراچی اور سندھ والے بھی ہیں مگر وہاں کوئی کام نہیں ہو رہا۔ کراچی تباہ حالی کا شکار ہے جہاں لاہور جیسی کوئی ترقی ہے نہ اچھی سڑکیں ہیں۔

کراچی والوں کو صرف خواب دکھائے جاتے ہیں۔ جھوٹے وعدے کر کے بہلایا جاتا ہے۔ سرکاری اعلانات پر عمل نہیں ہوتا۔ لوکل ٹرینیں بند، سڑکیں تباہ حال، پرانی کھٹارا بسیں کراچی والوں کا مقدر اور اب کراچی والے چنگ چی کی سفری سہولت کو اپنا مستقبل سمجھ بیٹھے ہیں۔ وزیر اعظم بھی کراچی کے لیے سفری سہولت کا اعلان کر کے بھول گئے۔

سندھ حکومت من مانیوں میں مگن ہے کیونکہ دونوں کا ووٹ بینک کراچی میں ہے اور نہ یہ لوگ کراچی والوں کو اپنا بنانا چاہتے ہیں۔ فیصل خمیسہ کا کہنا تھا کہ تعمیری کام اپنے گھر میں بھی ہو تو پورا گھر متاثر ہوتا ہے اور اچھے مستقبل کے لیے کچھ کھو کر ہی کچھ پانا پڑتا ہے۔ کراچی والوں نے بھی ضلع حکومتوں میں تعمیری تکالیف دیکھی تھی مگر بعد میں سہولتیں بھی حاصل ہوئیں۔ کاش کوئی حکومت کراچی والوں کو بھی لاہور جیسا سمجھ لے مگر کراچی والوں کے یہ نصیب کہاں کہ کراچی میں میٹرو ٹرین توکیا میٹرو بسیں ہی میسر آ جائیں۔

محمد سعید آرائیں

No comments:

Powered by Blogger.