Breaking News
recent

کراچی مافیاؤں کے قبضے میں

راقم نے کراچی شہر کے مسائل سے متعلق متعدد بار کالم لکھ کر حکمرانوں اور
خود شہریوں کی توجہ دلائی ہے کہ وہ ان مسائل کے حل میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کراچی شہر میں بغیر منصوبہ بندی اور غیرقانونی طور پر عمارتوں کی تعمیر سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی توجہ دلائی ہے۔ گزشتہ ہفتے اخبارات میں ایک ایسی خبر آئی کہ جس سے راقم کے لکھے گئے کالم کی تائید بھی ہوتی ہے اور اس شہر کی خطرناک صورتحال کا بہت حد تک اندازہ بھی ہوتا ہے۔
خبر کے مطابق ایک حساس ادارے کی رپورٹ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کراچی میں چار ہزار غیر قانونی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور گزشتہ چند ماہ کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سب سے زیادہ غیر قانونی عمارات ضلع وسطی اور شرقی (ایسٹ) میں تعمیر کی گئی ہیں۔

اعلیٰ حکام کو بھیجی گئی رپورٹ میں غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دو ہزار سے زائد ایسی رہائشی عمارتوں کی غیر قانونی تیسری اور چوتھی منزلیں تعمیر کی گئی ہیں جن عمارتوں کی بنیادیں دو یا تین منزلوں کے لیے ڈالی گئیں تھیں، خاص طور پر ضلع وسطی میں ایسی عمارتوں کی ایک پوری سیریز تعمیر ہوچکی ہے جو کہ انسانی زندگیوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے، کسی بھی زلزلہ یا قدرتی آفت کی صورت میں انتہائی نقصان دہ ثابت ہوں گی اور بڑے پیمانے پر انسانی زندگیوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ ایسی عمارتوں کو روکا جانا انتہائی ضروری ہے۔ خبر کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے ان علاقوں میں ایسی خطرناک عمارتیں تعمیر کرنے والے ڈیڑھ سو سے زائد چھوٹے بلڈرز کے خلاف سخت آپریشن کی ضرورت ہے اور انھیں اور ان کی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کراچی میں پانی اور ریتی بجری کے بعد تیسری مافیا شادی ہال کی ہے، جس نے ہزاروں شادی ہالز گزشتہ چند سال میں تعمیر کرکے اسے ایک باقاعدہ انتہائی منافع بخش کاروبار بنادیا ہے اور ایک ہزار سے زائد شادی ہالز رفاہی پلاٹوں، گرین بیلٹس، ایس ٹی پر قبضہ کرکے کھیلوں اور پارکوں کے اندر بزور قوت قائم کیے گئے ہیں۔ حساس ادارے کی جانب سے مذکورہ رپورٹ مستقبل کے اہم خطرات سے آگاہ کر رہی ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جب تک اس ملک میں کوئی بڑا حادثہ نہ ہو کسی مسئلہ، رپورٹ کی جانب کبھی توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ بھی اس ملک کی بہت بڑی بدقسمتی اور خرابی ہے کہ یہاں رشورت اور لاقانونیت کا کلچر اس قدر عام ہوچکا ہے کہ چھوٹی چھوٹی قوتیں بھی بڑی بڑی مافیا بن گئی ہیں اور ان کی قوت اس قدر خطرناک ہوگئی ہے کہ اب وہ ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے لگی ہیں اور ریاست ان کے آگے کمزور ہوگئی ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ کراچی شہر میں ایک بڑے آپریشن کے باوجود نہ صرف صوبے کے چیف جسٹس کے بیٹے کو دن دہاڑے اغوا کرلیا جاتا ہے بلکہ ایک معروف قوال کو مصروف علاقے میں قتل کرکے قاتل موٹر سائیکل پر باآسانی فرار بھی ہوجاتے ہیں۔

یہ وقت ہے سوچنے کا، پانی سر سے گزرا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حساس ادارے صرف اس لیے ہیں کہ ان سے مختلف معاملات پر رپورٹ بنوالی جائے اور اس پر عمل نہ کیا جائے؟ کیا یہ بات قابل غور نہیں کہ اس شہر میں دو ہزار بلند و بالا عمارتیں ایسی ہیں کہ جن کی بنیادیں قابل بھروسہ نہیں اور خدانخواستہ کسی بھی زلزلہ وغیرہ کی صورت میں کسی وقت بھی زمین بوس ہوسکتی ہیں اور خود اپنے بوجھ سے بھی کسی حادثے کا شکار ہوسکتی ہیں۔

ہمارے صوبائی ادارے، حکام اور سیاسی نمایندے کیوں خاموش ہیں؟ اور میڈیا اس اہم موضوع کو اہمیت کیوں نہیں دے رہا؟ کیا بریکنگ نیوز کسی عمارت کے حادثے کے بعد ہی آنا ضروری ہے، پہلے نہیں؟ کیا بلڈرز اتنی بڑی مافیا بن چکے ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی؟ غیر قانونی شادی ہالز کے بارے میں بھی حساس ادارے کی رپورٹ بہت کچھ کہہ رہی ہے، عمارتوں کی ناجائز اور خلاف قانون تعمیر ہو یا شادی ہالز وغیرہ کی شکل میں اس شہر کی زمینوں پر قبضے ہوں، ان سب کی وجہ سے ایک جانب تو شہر میں پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور دوسری جانب شہر کی خوبصورتی اور حالت بھی بدتر ہوگئی ہے۔

شہر میں اب بڑے بڑے خالی میدان تو کیا چھوٹے خالی پلاٹ بھی اور فٹ پاتھ بھی دیکھنے کو نظر ترستی ہے، کم جگہ میں زیادہ آبادی کو زبردستی بھر دیا گیا ہے، کچی مٹی شہر سے باہر ہی نظر آتی ہے، چنانچہ بارش ہو تو پانی زمین کے بجائے بہہ کر کہیں اور چلا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب گنجان علاقوں میں دو سو فٹ پر بورنگ کرانے کے بعد بھی شہریوں کو پانی مشکل ہی سے دستیاب ہوتا ہے۔ چھوٹی بڑی مافیائیں اس شہر کو نگل رہی ہیں مگر ہمارے حکمران، حکام، منتخب نمایندے سب خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں، یہ صرف اس وقت جاگتے ہیں کہ جب کوئی بڑا حادثہ ہو اور میڈیا پر شور مچنے لگے اور چینلز پر بریکنگ نیوز آئے، لیکن بریکنگ نیوز ابھی شاید نہ آئے کیونکہ عام حالات میں ایسی خبریں شاید مطلوبہ ریٹنگ حاصل نہ کرسکیں۔

ہمارے ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ مڈل کلاس کے بچوں کی شادی کے لیے اب کسی شادی ہال کا ملنا بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ شادی ہالز کی ایک بڑی تعداد ایئرکنڈیشنڈ / بینکوئٹ بنادی گئی ہے اور ان کے کرائے پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ کردیے گئے ہیں۔ گویا شہریوں کی مفت کی زمین پر قبضہ کرنے والوں نے شہریوں سے ریٹ بھی ناقابل برداشت وصول کرنا شروع کردیے ہیں۔ ظاہر ہے یوں جب کسی گروہ کو کھلی چھٹی ملے گئی تو وہ پھر بڑی مافیا کی شکل تو اختیار کریں گے۔ مگر سوال اپنی جگہ پھر موجود ہے کہ کیا حساس اداروں کی رپورٹ کے بعد بھی ان مافیاؤں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کیا جائے گی؟
راقم نے اپنے کئی کالموں میں اس طرف توجہ دلائی تھی کہ کراچی کی آبادی بے ہنگم طور پر تو بڑھ ہی رہی ہے مگر رہائشی یونٹس بناکر فروخت کرنے والے زیادہ منافع کمانے کے لیے رہائشی یونٹس میں روشنی اور ہوا کا گزر بھی کم سے کم کردیتے ہیں، یوں قانوناً بھی نقشہ کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور ان میں رہنے والے افراد مختلف بیماریوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ رپورٹ میں جن علاقوں میں بلندوبالا عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں بھی یہ بات دیکھی جاسکتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس شہر سے ہر قسم کی مافیاؤں کا خاتمہ کیا جائے، خاص کر بلڈرز، پراپرٹی ایجنٹس، ٹینکرز اور ٹرانسپورٹ جیسی مافیا کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ اگر اس سلسلے میں کوتاہی برتی گئی تو شہر کا انتظام اور امن مزید تباہ ہونے کا اندیشہ ہے، نیز کوئی بھی منصوبہ جو شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہو، خواہ وہ اورنج بس کا منصوبہ ہی کیوں نہ ہو، کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ آیئے ہم سب غور کریں کہ یہ مسائل ہم سب کے ہیں، کسی اور کے نہیں۔

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری


No comments:

Powered by Blogger.