Breaking News
recent

کراچی شہر کی کچھ اور باتیں

گزشتہ کالم میں کراچی کے مسائل کے حوالے سے کچھ حقائق کو بیان کیا گیا تھا۔
اس کالم کے ردعمل میں قارئین کی ایک بڑی تعداد نے کراچی شہر کے دیگر بہت سے مسائل کی جانب توجہ دلائی اور کالم کو اس حوالے سے پسند بھی کیا کہ آج کل میڈیا میں سیاست پر تو بہت بات کی جاتی ہے لیکن شہریوں کے اس ایشوز پر بات نہیں کی جاتی جس کے باعث مسائل میں اور بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ عرض ہے کہ ایک کالم بمشکل بارہ، تیرہ سو الفاظ کا ہوتا ہے، جس میں ظاہر ہے کہ اتنے بڑے شہر کے مسائل کو بیان نہیں کیا جاسکتا، اس لیے آج کے کالم میں کچھ اور باتیں بھی شامل کی گئیں ہیں۔ ایک اہم سوال ہے کہ کراچی شہر کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس شہر کو بیک وقت کئی قوتوں سے اپنے حقوق درکار ہیں اور یہ قوتیں حقوق دینے میں اپنا کردار درست طور پر ادا نہیں کر رہی ہیں، جس کی جو بھی وجوہات ہوں بہرحال نقصان شہریوں کا ہی ہے۔

ان قوتوں میں پہلی اور بڑی قوت وفاق کی ہے۔ چونکہ وفاق اور سندھ کی سیاسی قوتیں مختلف ہیں لہٰذا ان میں سیاسی کھچاؤ یا کشیدگی کا نقصان بھی کراچی کو پہنچتا ہے، مثلاً پاکستان اسٹیل ملز کا مسئلہ حل ہوکر نہیں دے رہا ہے، نہ تو اس کی نجکاری کی جارہی ہے نہ ہی اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے ملازمین کو چار چار ماہ بعد تنخواہ ملتی ہے۔ کوئی نہیں سوچتا کہ اس ادارے میں کام کرنے والے کراچی کے شہریوں کے گھر میں چولہا کیسے جلتا ہوگا؟ یہ ایک بہت بڑا ادارہ ہے جہاں کراچی کے ہزاروں شہری ملازمت کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک طویل عرصے بعد اس شہر کے لیے صرف ایک ’گرین بس منصوبہ‘ سامنے آیا ہے۔

جامعات کی گرانٹ کے سلسلے میں ملک کی سب سے بڑی جامعہ کراچی کی حالت قابل رحم تھی، اٹھارویں ترمیم کی رو سے اختیارات سندھ حکومت کے حصے میں آنے سے اس جامعہ کی حالت اور بھی بری ہوگئی ہے اور جامعہ کراچی اپنے مالی وسائل کے لیے کبھی وفاق تو کبھی سندھ حکومت کی طرف دیکھتی ہے۔ سندھ حکومت کا یہ حال ہے کہ وہ ان جامعات کو زیادہ گرانٹ فراہم کرتی ہے جن میں زیرتعلیم طلبا کی تعداد جامعہ کراچی کے طلبا کی تعداد سے کہیں کم ہے، نیز اختیارات کے معاملے میں سندھ حکومت جامعات کے اختیارات کو مزید کم کرنا چاہتی ہے، جب کہ وہ خود وفاق سے اپنے اختیارات میں اضافہ کا مطالبہ کرتی ہے۔

اس وقت ملک کی سب سے بڑی جامعہ کراچی کا یہ حال ہے کہ طلبا کے لیے بسیں (پوائنٹس) ضرورت کے مقابلے میں آدھی بھی نہیں، واش روم اور عمارتیں مینٹیننس نہ ہونے کے سبب انتہائی گندی اور خستہ حال، جب کہ اساتذہ اور اسٹاف کی تنخواہوں کے لیے طلبا کی فیسوں کے جمع ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ سندھ کی جامعات کے اساتذہ سندھ حکومت سے اپنے اختیارت کی بحالی اور حصول کے لیے تحریکیں چلا رہے ہیں۔ یوں تعلیمی سطح پر کراچی شہر کے ہی نہیں سندھ کے تمام اساتذہ اسکول سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں تک آئے دن احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔

غور کیا جائے تو تعلیمی میدان میں بھی اس شہر کے رہائشی سندھ حکومت سے لے کر وفاق تک اپنے مسائل کے حل کے لیے شکوہ بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ مسائل حل ہوکر نہیں دیتے کیونکہ وفاق میں کسی اور کی، سندھ میں کسی اور کی، اور کراچی میں کسی اور کی سیاسی قوت ہے۔ ان تینوں کی سیاسی کشمکش میں نقصان اس شہر کا ہورہا ہے اور حال اس قدر بدتر ہے کہ اب کچرا تک اٹھایا نہیں جاتا، ہر گلی محلے میں ہی نہیں، شہر کی عام شاہراہوں پر صبح شام اس جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ کو آگ لگادی جاتی ہے، جس سے پورے شہر میں جگہ جگہ دھویں کے بادل دکھائی دیتے ہیں۔

کسی کو یہ خیال نہیں کہ اس سے کس قدر آلودگی اور بیماریاں پھیلیں گی۔ ایک اور قوت اس شہر کے بلدیاتی ادارے ہیں۔ چونکہ دیگر اداروں کی طرح ان کی کارکردگی بھی صفر ہوگئی ہے لہٰذا کم وسائل میں شہر کی جو صفائی ستھرائی ہوسکتی تھی وہ بھی نہیں ہو رہی۔ یہ ادارے کوڑا کرکٹ اٹھانے تو نہیں آتے، البتہ اس میں آگ لگانے کا فریضہ ضرور ادا کرتے ہیں تاکہ کوڑا کرکٹ جل کر ختم ہوتا رہے اور انھیں شہر سے باہر پھینکنے کی زحمت اٹھانا نہ پڑے۔ ایک اور چھپی ہوئی قوت سرمایہ داروں کے ادارے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں چونکہ جمہوری ادارے اور ریاست مضبوط پہلے ہوئی اور بعد میں ان اداروں نے قوت پکڑی لہٰذا ان ممالک میں اس قسم کے ادارے جب اپنی حدود پار کرکے عوام کو نقصان پہنچانے کو کوشش کرتے ہیں تو ریاست انھیں کنٹرول کر لیتی ہے جب کہ ہمارے ہاں چونکہ ریاست کمزور ہے لہٰذا یہ ادارے عوام کو نقصان پہنچائیں تو کوئی قوت انھیں روکنے والی نہیں ہوتی۔

یہی وجہ ہے کہ پراپرٹی کی قیمیتں ہوں یا عام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ یا پھر دھوکا دہی یا کسی اور شکل میں عوام کا استحصال کرنا، انھیں نقصان پہنچانا، عوام کو کبھی بھی انصاف ملتا نظر نہیں آتا۔ مثال کے طور پر یہ کہ ہمارے ہاں بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور بھی باقاعدہ کار پارکنگ کا اہتمام کم ہی کرتے ہیں، نتیجے میں شہر کا ٹریفک تک جام ہوجاتا ہے مگر ان کے خلاف نہ تو ٹریفک پولیس کا کوئی اقدام نظر آتا ہے، نہ ہی کسی شہری یا قانونی ادارے کی جانب سے کوئی ایکشن ہوتا نظر آتا ہے۔ اسی طرح بجلی کے محکمے سے متعلق عوام کی شکایات بھی اس کی واضح مثال ہے۔

سب سے چھوٹی اور اہم قوت خود عوام کی ہوتی ہے مگر اس شہر میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے جس قدر آبادی کو بے ہنگم انداز میں بڑھا دیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں عوام اب خود اپنے مسائل کو بڑھانے لگے ہیں۔ افراتفری کے باعث عوام میں شعور کم ہوگیا ہے، دین سے دوری کے باعث صبروتحمل اور برداشت کی بھی کمی ہوگئی ہے، چنانچہ روز ہی یہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ چند لوگوں کی بے صبری سے ٹریفک سگنل، بازار اور گلیوں میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ ایک شخص دکان سے کئی فٹ آگے اپنی دکان کا سامان سجا دیتا ہے، اس کے بعد کوئی شخص اپنا تخت یا ٹھیلہ وغیرہ لگا دیتا ہے جس سے راستہ مزید تنگ ہوجاتا ہے۔

نیز یہ راستہ اس وقت مزید تنگ ہوجاتا ہے کہ جب کسی موٹر سائیکل یا کار والے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ گاڑی سے اترے بغیر ہی سامان خرید لے یا بہت ذمے داری کا مظاہرہ کرے تو وہیں گاڑی کھڑی کرکے دکان پر سامان خریدنے چلا جائے۔ اس قسم کے عمل سے اس شہر کی بہت چوڑی اور کشادہ سڑکوں پر بھی ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کوئی قومی تہوار آئے مثلاً رمضان یا عید وغیرہ تو پھر کیا کہنے۔ ہم سب مل کر گلی کوچوں میں بھی ٹریفک جام کرنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں اور ساتھ ہی گندگی کا بھی بھرپور بندوبست کرتے ہیں۔ آئیں کچھ دیر سوچیں کہ اس قسم کی گندگی اور ٹریفک جام کی وجہ حکومت، یا حکومتی ادارے ہیں یا ہم خود؟

وفاق چاہے تو کراچی آپریشن کی طرح دیگر معاملات میں بھی بہتری کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتی ہے، سندھ حکومت چاہے تو کم از کم جس طرح وہ وفاق سے اختیارات مانگتی ہے، ویسے ہی کراچی شہر اور جامعات کو بھی صرف اختیارات دے کر بہت کچھ کرسکتی ہے، اسی طرح عوام بھی شعور کا مظاہرہ کرکے غلط کام کرنے والے شہری خود کو سدھار کر بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں۔یہاں راقم نے مختصر صورتحال کا جائزہ لیا ورنہ تو ہم سب اچھی طرح واقف ہیں کہ کراچی شہر کے مسائل بڑھانے میں وفاقی وصوبائی حکومتوں، کاروباری اداروں سے لے کر ہمارے شہری ادارے اور منتخب نمائندوں سمیت یہاں کے رہنے والوں کا بھی قصور شامل ہے۔ اب اگر اس شہر کو درست کرنا ہے تو پھر ان تمام قوتوں کو اپنی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ کردار تو ادا کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری


No comments:

Powered by Blogger.