Breaking News
recent

کراچی کی کچی آبادیاں

برسوں سے کراچی کے گوٹھوں اورکچی آبادیوں کے مکین اپنی بستیوں کی
ریگولرائزیشن کے منتظر ہیں۔ کچھوے کی چال چلنے والی بیوروکریسی کو اس طبقے کے مسائل سے ویسے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے حالانکہ کراچی کی 40فیصد سے زیادہ آبادی ان ہی گوٹھوں یا آبادیوں میں رہتی ہے۔ ایک عشرہ قبل یہ مسئلہ اس وقت زیادہ ابھر کر سامنے آیا جب اس وقت کے ناظم نے 1985ء سے پہلے بننے والی کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کا اعلان کیا اور 1985ء کے بعد بننے والی آبادیوں کو غیرقانونی یا تجاوزات قرار دیا گیا۔ان کچی آبادیوں کا مسئلہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود پاکستان۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے آنیوالے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کراچی میں کیمپوں یا جھگیوں میں آباد ہوئی۔ اس کے بعد والے عشروں میں دوسرے صوبوں سے روزگارکی تلاش میں کراچی آنیوالوں اور دیہاتوں سے کراچی کی طرف نقل مکانی کرنیوالوں کی بدولت بھی کچی آبادیوں میں اضافہ ہوا۔ قدرتی آفات اور انسانوں کی پیدا کردہ آفات کے نتیجے میں بھی لوگ اپنے علاقے چھوڑ کر یہاں آئے اور یوں کراچی کی آبادی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
حکومتی ذرایع کے مطابق 23 مارچ 1985ء کے بعد کراچی میں 1293 کچی آبادیاں نمودار ہوئیں۔ سندھ کراچی آبادی ایکٹ 1987ء کے مطابق ان میں سے 1157 ریگولرائزیشن کے قابل تھیں۔ جنوری 2007ء تک ان میں سے 932 آبادیوں کے مکینوں کو مطلع کیا جاچکا تھا جب کہ 750 کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق مل گئے تھے۔ بہرحال گورنمنٹ کا ریکارڈ جو ظاہرکرتا ہے، کچی آبادیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ گوٹھوں اور کچی آبادیوں کی صحیح تعداد کا علم اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی پروین رحمن کو تھا۔ گوٹھوں اور کچی آبادیوں پر ان کے کام کی وجہ سے انھیں مار دیا گیا۔ قبضہ مافیا اور انتہا پسندوں کو یہ بات کون سمجھائے کہ کچی آبادیوں کا مسئلہ حل کیے بغیر کراچی کی ترقی ممکن نہیں۔ شہر کے دیگر حصوں کی طرح ان آبادیوں کو شہری سہولتیں فراہم کرنا اور انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنا بیحد ضروری ہے۔ ہماری بدقسمتی کہ ترقیاتی منصوبے سیاسی چپقلش یا مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ کچی آبادیوں کے مسائل سیاسی نہیں بلکہ انسانی مسائل ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنیوالوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ریاست کی ذمے داری ہے۔

کراچی کی بہت سی کچی آبادیوں اور گوٹھوں کو ناجائز تجاوزات قرار دے کر جب 2006ء میں کارروائی کی گئی تو سکندرگوٹھ کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق گوٹھ کے مکینوں نے ان پر حملہ کیا اور پولیس نے ان کو منتشرکرنے کے لیے آنسوگیس کا استعمال کیا۔ مظاہرین میں سے ایک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جب کہ 20 پولیس والے زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد اس وقت کے وزیراعلیٰ نے ایک گوٹھ ریگولرائزیشن کمیٹی بنائی۔ اس کے سربراہ وزیر معدنی وسائل تھے اور ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 808 گوٹھ ہیں، جن میں سے 458 گوٹھوں کو ریگولرائز کیا جاچکا ہے اور 51421 مکینوں کو مالکانہ حقوق دیے جاچکے ہیں۔ 1998ء کی خانہ شماری کے مطابق ہمیں چار اعشاریہ تیس لاکھ مکانات کی کمی کا سامنا تھا۔

2005ء، 2006ء کے اکنامک سروے کے مطابق ہمیں چھ اعشاریہ انیس ملین مکانات کی مزید ضرورت تھی اور تب ماہرین نے کہا تھا کہ اگلے بیس برسوں میں ہمیں سالانہ پانچ لاکھ مکانات بنانے ہوں گے۔ آبادی میں اضافے اور شہروں کی طرف ہجرت نے ہر خاندان کے لیے ایک مکان کے حصول کو سب سے اہم مسئلہ بنادیا ہے۔ اس لیے جب تک گوٹھوں اورکچی آبادیوں کو ریگولرائز نہیں کیا جائے گا اور غریبوں کے لیے کم قیمت والے مکانات تعمیر نہیں کیے جائیں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کچی آبادیوں اور جھگیوں کو مسمار کردینا ایک عارضی حل تو ہوسکتا ہے مگر غریبوں کے پاس اس کے سوائے اور کوئی چوائس بھی تو نہیں کہ انھیں جہاں جگہ نظرآئے وہاں جھگی ڈال لیں۔ کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنا بہت ضروری ہے، یوں نہ صرف ایک انسانی مسئلہ حل ہوگا بلکہ شہر کی خوب صورتی اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مکینوں کو مالکانہ حقوق اورشہری سہولتیں بھی مل جائیں گی۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق نومبر 2011ء تک کراچی کے 2173 گوٹھوں میں سے 653 گوٹھ شہری آبادی کی حیثیت اختیارکرچکے تھے۔ ان میں سے 60 گوٹھ شہری علاقوں کے اندر تھے، جب کہ 593 گوٹھ گڈاپ، کیماڑی اور بن قاسم میں تھے۔ بہرحال اس مسئلے کا ایک اور پہلو چند روز قبل اس وقت سامنے آیا جب ہماری ملاقات اﷲ رکھا برفت گوٹھ سے بے دخل ہونے والی چند خواتین سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا: ’’11 مئی 2016ء کو گڈاپ کے اﷲ رکھا برفت گوٹھ میں پولیس نے چھاپہ مارا اور گھروں میں گھس کر کوئی سو لوگوں کو گرفتار کرلیا اور ان کے مویشی بھی ساتھ لے گئے۔ عورتیں قرآن لے کرکھڑی ہوگئیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہاں دہشت گرد اور لینڈ مافیا کے لوگ چھپے ہوئے ہیں۔ پولیس کی فائرنگ سے فضا میں بارود کی بو اور دھواں پھیل گیا تھا۔

بارہ پندرہ سال کی عمر کے لڑکے اور بڑی عمر کے کئی مرد بھی زخمی ہوئے۔‘‘ ان خواتین کا کہنا تھا کہ ان کا گو ٹھ ریگولرائز ہوچکا تھا اور ان کے پاس دستاویزات بھی موجود ہیں۔ باوثوق ذرایع کے مطابق گوٹھ کا کچھ حصہ ساتھ واقع ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کے اندر پھیل گیا تھا اور پلاٹوں کی قسطیں بھرنے والے شہری اپنے حق کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔ ان کی زمین خالی کرانے کے لیے پولیس نے سارے گوٹھ پر ہلہ بول دیا اور ایک ہی رات میں برسوں سے وہاں رہنے والے لوگوں کو بے دخل کردیا۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ پولیس نے انھیں کوئی پیشگی نوٹس نہیں دیا تھا۔ ہم اس ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹوں کی قسطیں بھرنے والوں کے لیے انصاف چاہتے ہیں، لیکن اﷲ رکھا برفت گوٹھ کے مکینوں کے لیے رہائش کا متبادل انتظام کرنا بھی ضروری ہے۔ سماجی تحفظ اور رہائشی سہولت ہر شہری کا حق اور ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے دخلی کے خلاف لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری حکومتوں نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلامیہ، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے، بچوں کے حقوق کے کنونشن، عورتوں کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کے کنونشن اور ہر طرح کے نسلی امتیاز کے خاتمے کے کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں۔

مہ ناز رحمن

No comments:

Powered by Blogger.