Breaking News
recent

جاوید نہاری : ایک نہاری سب پر بھاری

آگ کی تپش مصالحوں کی آمیزش اور بیف۔ ایک عام سا فارمولا لیکن نتیجہ ایک
مشہور ڈش۔ لیس دار شوربہ اور ساتھ میں ایک بڑی سے بوٹی یہ ہے نہاری کا پکوان جو کراچی کے ہر علاقے میں دستیاب ہے۔ نہاری کی ابتدا دہلی کے مغلوں سے ہوئی یا لکھنؤ کے نوابوں سے۔ فوجیوں کے لیے پہلے بنائی گئی یا سخت جان کام لینے کے لیے مزدوروں کے لیے تیار ہوئی اس پر مختلف آرا اور حوالے موجود ہیں، لیکن کراچی میں یہ قیام پاکستان کے بعد پھلی پھولی اور پھیلی ہے۔
کراچی میں نہاری کا شوق اور کاروبار کس تیزی کے ساتھ بڑھا ہے اس کی مثال فیڈرل بی ایریا میں واقع جاوید نہاری ریسٹورنٹ سے مل سکتی ہے۔ محمد جاوید میاں نے 40 سال قبل فٹ پاتھ سے نہاری اور روٹی کا کاروبار شروع کیا اور آج ایک بارونق ہوٹل کے مالک ہیں۔

ان کے مطابق وہ ساڑھے چار فٹ کا ہوٹل تھا جس میں وہ آٹے کی خالی بوریاں بچھاتے اور ٹین کی آٹھ کرسیاں رکھ کر گاہکوں کا انتظار کرتے تھے۔ نہاری اور روٹی دونوں ہی وہ خود بناتے تھے۔ انھوں نے محنت کی اور کام اچھا چل پڑا اس کے بعد 120 گز جگہ لی جہاں دس سال کام کیا اور اب اس مقام پر پندرہ سال ہوچکے ہیں۔ ویسے مصالحہ جات اور بیف کے استعمال کی وجہ سے نہاری ایک گرم پکوان ہے، لیکن سردی ہو یا گرمی نہاری کی فروخت بارہ مہینے جاری رہتی ہے۔ بقول محمد جاوید 'یہ غریب آئٹم ہے، شوربے والی چیز ہے اور اس میں ذائقہ بھی ہے اگر کوئی ایک پلیٹ لیتا ہے تو میاں بیوی اور چار بچے باآسانی پیٹ بھر کھا لیتے ہیں اگر کسی کباب تکے کی دکان پر بیٹھ جائیں تو اچھا خاصا بل بن جاتا ہے۔' جاوید میاں نے جب یہ کاروبار شروع کیا تو اس وقت نہاری کی پلیٹ ڈھائی روپے اور روٹی 50 پیسے کی ہوتی تھی اور آج فی پلیٹ قیمت 140 رپے اور روٹی دس روپے تک پہنچ چکی ہے۔
نہاری میں بونگ اور ران کا گوشت استعماال ہوتا ہے۔ تیاری کے بعد اس کے شوربے میں گوشت کے علاوہ میں مغز اور نلی کا گودہ ڈال کر اسے 'سپیشل' بنا دیا جاتا ہے جس سے اس کا ذائقہ اور قیمت دونوں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ نہاری صبح کا ناشتہ ہے تو دوپہر اور رات کا کھانا بھی۔ ان ہوٹلوں میں صبح کو طالب علم ، دوپہر کو مزدور تو رات کو لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ نہاری کھانے پہنچتے ہیں۔
محمد طلحہ اپنی ہم جماعت دوستوں کے ہمراہ نہاری کھانے آئے تھے۔ 'نہاری اچھی بھی لگتی ہے اور سستی بھی پڑتی ہے اس وجہ سے ہم 'گیٹ ٹوگیدر' کے لیے نہاری کھانے آجاتے ہیں۔ آج دوست کی برتھ ڈے ہے سوچا اس دن کو بھی منا لیں گے اور نہاری بھی کھا لیں گے۔ کراچی کے حالات نہاری کے کاروبار پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں، اگر شہر میں ڈبل سوار پر پابندی ہے تو نہاری کم بنتی ہے کیونکہ یہاں آنے والے لوگ زیادہ تر موٹر سائیکل سوار ہوتے ہیں۔ اگر اچانک حالات خراب ہوجائیں تو تیار نہاری کو ڈیپ فریزر میں رکھ دیا جاتا ہے کیونکہ صبح دیگ چڑھ چکی ہوتی ہے اس کو درمیان میں روکا نہیں جاسکتا۔

جاوید نہاری ریسٹورنٹ میں دو دو من کی دو دیگیں لگی ہوئی ہیں جو 24 گھنٹوں میں دو بار پکتی ہیں یعنی جو نہاری صبح تیار ہوتی ہے وہ شام تک پک کر قابل استعمال ہوتی ہے اور جو شام کو بنتی ہے وہ صبح کے لیے ہوتی، ایک دیگ کو تیار ہونے میں کم از کم چھ گھنٹے لگتے ہیں۔ نہاری کی تیاری کے لیے سب سے پہلے گھی ڈال کی کٹی ہوئی پیاز ڈالی جاتی ہے، اس پر لہسن کا پانی شامل کیا جاتا ہے اس کے بعد گوشت ڈلتا ہے جس کو آدھا گھنٹے تک بھونا جاتا ہے۔ اس کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے وقفے کے ساتھ نمک، مرچ، زیرہ، سونف، گرم مصالحہ اور پانی ڈال کر دیگ کو بند کر دیا جاتا ہے۔

حیدرآباد کے رہائشی محمد شریف کراچی کی نہاری کو پسند کرتے ہیں۔ بقول ان کے حیدرآباد سے صبح سات بجے نکلتے ہیں اور خواہش ہوتی ہے کہ یہاں کی نہاری کھائیں اس کے بعد وسطی شہر میں واقع جوڑیا بازار جاتے ہیں اور واپسی پر گھر والوں کے لیے لے کر جاتے ہیں۔ نہاری ایک اچھا کاروبار ہے، محمد جاوید میاں کا آدھا خاندان اس سے منسلک ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک بدتمیز کام بھی ہے۔'کوئی آتا ہے یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے والد کے عمر کا شخص ہے۔ آواز لگاتا ہے اے روٹی لا یہ فیشن ہے یہاں کا' اور یہ انھیں برا لگتا ہے۔ کراچی میں نہاری کے تمام ہی ریستورانوں پر غریبوں کو وہی کوالٹی کی نہاری اور نان مفت بھی ملتے ہیں۔ صاحب حیثیت لوگ ہوٹل کے مالک کو ادائیگی کر کے ٹارگٹ دے دیتے ہیں کہ اتنے لوگوں کو آج روٹی کھلانی ہے اور انھیں ہوٹل کے باہر ہی یہ سروس فراہم کی جاتی ہے جبکہ جاوید نہاری کی انتظامیہ انھیں پارسل کر کے دیتی ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

No comments:

Powered by Blogger.