Ticker

6/recent/ticker-posts

ارب پتی افراد یونیورسٹی میں کون سے مضامین پڑھتے ہیں ؟

اچھی نوکری کا حصول ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے، خاص کر ایسی نوکری جو
آمدن کے لحاظ سے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ ویسے تو انسان کے امیر ہونے کے پیچھے اس کی قسمت کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اچھی حکمت عملی سے آپ اپنی قسمت بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
تو، اپنی نوکری سے ارب پتی بننے کا طریقہ کیا ہے؟

محققین کے مطابق اگر آپ سیدھے راستے سے بہت سارا پیسہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو اپنے پیشے اور تعلیم کا درست انتخاب کرنا ہو گا۔ نئے ملازمین بھرتی کرنے والے ایک برطانوی ادارے نے اپنی ایک تحقیق میں عوام کو بتا دیا ہے کہ اگر وہ ارب پتی بننا چاہتے ہیں تو یونیورسٹی میں کس مضمون کا انتخاب کریں۔ برطانوی ایجنسی نے اپنی تحقیق میں دنیا کے 100 امیر ترین افراد کی تعلیم، ان کی پہلی نوکری اور ان افراد کے ارب پتی بننے کے سفر کا مطالعہ کیا۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ دنیا کے امیر ترین 100 افراد میں سے 75 ڈگری یافتہ تھے اور ان 75 میں سے بھی 22 افراد نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔

ان 100 افراد میں سے 53 افراد نے اپنے خاندانی کاروبار سے منسلک ہونے کے بجائے اپنے بل بوتے پر کام کرنے کا انتخاب کیا۔ دنیا کے 100 امیر ترین افراد میں سے 19 افراد نے پہلی نوکری ’سیلز پرسن‘ کی حیثیت میں کی جبکہ 17 افراد نے کمانے کے لیے اسٹاک مارکیت کا تاجر بننے کی ٹھانی۔ 100 میں سے 17 فیصد افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ذاتی کاروبار سے کیا۔ اگر آپ ان افراد کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو جان لیں کہ دنیا کے ارب پتی افراد نے یونیورسٹی میں کس مضمون کی تعلیم حاصل کی۔

انجینئرنگ: 22.1 فیصد
کاروبار: 16.2 فیصد
فنانس اور اکنامکس: 11.3 فیصد
قانون: 6.4 فیصد
کمپیوٹر سائنس: 4.5 فیصد

ساتھ ہی یہ بھی جان لیں کہ یہ افراد سیدھا ارب پتی نہیں بن گئے بلکہ ان کی پہلی نوکری کچھ اور تھی۔
سیلز پرسن: 10.1 فیصد
اسٹاک ٹریڈر: 9.2 فیصد
سافٹ ویئر ڈویلپر: 5.3 فیصد
انجینئر: 5.4 فیصد
تجزیہ کار: 4.5 فیصد

اس حوالے سے برطانوی کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر راب اسکاٹ نوجوانوں کو ایک بہت اہم تجویز دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والے افراد ڈگری یافتہ ہیں، یعنی ڈگری کا حصول آپ کے کریئر کے تعین کا پہلا قدم ہے‘۔
 

Post a Comment

0 Comments