کراچی کیلئے 1100 ارب روپے کے پیکیج کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے مابین اس بات پر لڑائی شروع ہو گئی ہے کہ اس پیکیج میں کس کا حصہ زیادہ ہے۔ جب یہ سوال پیدا ہوا کہ جس کا جتنا زیادہ حصہ ہے، کیا وہ اتنے پیسے دے گا تو دونوں طرف سے خاموشی چھا گئی۔ اب کوئی بھی فریق یہ بتانے کیلئے تیار نہیں ہے کہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔ دونوں حکومتیں اب اس پیسے پر لڑ رہی ہیں، جو کراچی کے ایک تعمیراتی ٹائون جانب سے زمین کی قیمت خرید اور اصل قیمت کے فرق کے طور پر سپریم کورٹ میں جمع کرایا جائے گا۔ تین سال میں یہ رقم 125 ارب روپے ہو گی۔ اس کے علاوہ دونوں کے پلے کچھ نہیں ہے۔ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت دونوں نے اس بات کو مخفی رکھا ہوا ہے کہ باقی 975 ارب روپے کہاں سے آئیں گے۔ وزارتِ منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات، حکومت پاکستان کے پریس ریلیز کے مطابق وفاقی حکومت نے 5 بڑے منصوبوں کا عہد کیا ہے، جن کی تخمینی لاگت 736 ارب روپے بنتی ہے۔
ان میں 46 ارب روپے کا پانی کا منصوبہ ’’کے 4‘‘، 300 ارب روپے کا کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ، 131 ارب روپے کا ریلوے فریٹ کوریڈور، 5 ارب روپے کا گرین لائن بی آر ٹی منصوبہ اور 254 ارب روپے ندیوں اور نالوں کی بحالی اور متاثرین کی آبادکاری کا منصوبہ شامل ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق وفاقی حکومت سپریم کورٹ سے یہ درخواست کرے گی کہ تین سال میں کراچی کے تعمیراتی ٹائون کی طرف سے جو 125 ارب روپے جمع کرائے جائیں گے، وہ وفاقی حکومت کو دیے جائیں تاکہ وہ کراچی پیکیج پر یہ رقم خرچ کر سکے۔ وفاقی حکومت کے 736 ارب روپے کے ’’حصے‘‘ میں سے باقی 611 ارب روپے کہاں سے آئیں گے۔ یہ پریس ریلیز میں نہیں بتایا گیا۔ صرف اتنا کہا گیا ہے کہ 1100 ارب روپے میں سے 736 ارب روپے وفاقی حکومت دیگی اور باقی 375 ارب روپے سندھ حکومت دے گی۔
وزیراعظم نے کراچی پیکیج کے منصوبے تین سال میں مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن رواں مالی سال میں صوبوں کیلئے 674 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں سے سندھ کو صرف 8.3 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ کراچی پیکیج کے منصوبوں کے لیے مختص رقم نہ ہونے کے برابر ہے۔ وفاقی حکومت کو اپنے 736 ارب روپے کے حصے سے ہر سال تقریباً 245.3 ارب روپے دینا ہیں لیکن کسی کو کچھ پتا نہیں کہ وہ کہاں سے دے گی۔ کراچی کے تعمیراتی ٹائون والے 125 ارب روپے پر سندھ حکومت کا دعویٰ ہے اور سندھ حکومت نے اس حوالے سے پہلے ہی عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ دوسری طرف سندھ حکومت کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں۔ کراچی پیکیج کے تمام منصوبوں کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ کراچی سے دو دن پہلے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کر دیا تھا۔
یہ منصوبے 802 ارب روپے کے تھے۔ وزیراعظم نے بھی پھر اپنے منصوبوں کا اعلان کیا اور کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومت نے پیکیج بنایا ہے۔ یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ 802 ارب روپے کے پیکیج کو 1100 ارب روپے کا پیکیج کیوں کہا جا رہا ہے۔ باقی 298 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا وفاقی اور صوبائی حکومت کی کسی دستاویز میں ذکر نہیں ہے۔ سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 802 ارب روپے کا پورا پیکیج اسی کا ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق ان منصوبوں پر اب تک 47.18 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں کیونکہ یہ پرانے منصوبے ہیں۔ اس سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ان منصوبوں کیلئے 31 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ باقی رقم وفاقی حکومت پی ایس ڈی پی، صوبائی اے ڈی پی، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) اور سی پیک سے پوری کی جائے گی۔
یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ غیرملکی مالیاتی اداروں، بینکوں، پرائیویٹ اداروں اور سی پیک سے معاملات کون کرے گا اور قرضے کون واپس کرے گا؟ دونوں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس معاملے پر خاموش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منصوبوں کی فنڈنگ کے لئے ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور تین سال گزرنے میں پتا بھی نہیں چلے گا۔ ویسے بھی پاکستان میں حالات اس قدر تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں کہ لوگ آئے روز نئے معاملات میں اُلجھ جاتے ہیں اور پرانی باتیں بھول جاتے ہیں۔ کراچی پیکیج کو بھولنے میں بہت کم عرصہ لگے گا۔ تین سال تو بہت بڑی مدت ہے۔ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے پاس اتنی مالیاتی گنجائش نہیں ہے کہ وہ 1100 ارب روپے کراچی پیکیج کیلئے سالانہ 366 ارب روپے کا انتظام کر سکیں۔ ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اے آئی آئی بی وغیرہ پہلے ہی اعلان کردہ قرضے دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
سی پیک میں سرمایہ کاری کرنے والے چینی ادارے پاکستان میں مختلف اداروں کی طرف سے سی پیک کو کنٹرول کرنے کے معاملے پر کھینچا تانی سے بےیقینی کا شکار ہیں۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کی تو کوشش یہی ہے کہ بیرونی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری نہ کریں۔ اس وقت حقیقت یہ ہے کہ وفاقی اور سندھ حکومت کے پاس کراچی پیکیج کے منصوبوں کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ کراچی کے تعمیراتی ٹائون والے پیسوں پر تنازع کی وجہ سے یہ پیسے کہیں اور جا سکتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی سیاست کیلئے ایسی باتیں کر رہی ہیں، جن کی وضاحت اس سرائیکی کہاوت سے کی جا سکتی ہے کہ ’’پیسہ نہ پلے، ہار گھناں کہ چھلے؟‘‘ یعنی میرے پلے ایک پیسہ بھی نہیں ہے، آپ کیلئے ہار خریدوں یا چھلے؟ کراچی والے اس سوال کا بھلا کیا جواب دیں۔
0 Comments