Ticker

6/recent/ticker-posts

محفوظ کراچی کیوں ضروری ہے ؟

سابق صدر ایوب خان نے این آر ٹی سی کے نام سے ایک چھوٹا سا ادارہ ہری پور میں قائم کیا۔ فوج کے شعبۂ انجینئرنگ کا یہ ادارہ شروع میں تو شاید ایک دو کمروں پر بنایا گیا تھا مگر آج یہ ایک بڑے ادارے کا روپ دھار چکا ہے۔ یہ ادارہ بہت سی چیزیں بنا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے متعلق اِس ادارے نے جدید ترین آلات بنا کر کمال کر دیا ہے۔ آج یہ ادارہ دنیا کے کئی ملکوں کو جیمرز اور وائرلیس سسٹم سمیت کئی دیگر آلات فراہم کر رہا ہے۔ اگر آپ اِس ادارے میں جائیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ ادارہ کس قدر اہم ہے اور دنیا کے بہترین اداروں میں سے ایک ہے۔ بریگیڈیئر توفیق احمد ادارے کے ایم ڈی ہیں، بریگیڈیئر عمران گل ڈپٹی ایم ڈی کے طور پر فرائض ادا کر رہے ہیں جبکہ ایئر وائس مارشل اسد اکرام صدر ہیں۔ اِس ادارے نے ہمیں جنگی صورتحال میں حالات سے نمٹنے کے لئے بہت مدد کی۔ اِسی طرح انتظامی امور کو بہتر چلانے میں بھی مدد کی۔

شہروں اور اداروں کو محفوظ بنانے کے لئے بھی یہ ادارہ مددگار ثابت ہوا۔ پنجاب بھر کی جیلوں میں قیدی کسی نہ کسی طریقے سے ٹیلیفون کے ذریعے بیرونی دنیا سے رابطوں میں رہتے تھے مگر اِس ادارے نے قیدیوں کی یہ چال برباد کر کے رکھ دی، اِس ادارے نے اتنے زبردست جیمرز فراہم کئے کہ قیدیوں کا پورا سسٹم جام ہو کے رہ گیا۔ اسی طرح جب کورونائی موسم کی ابتدا ہوئی تو اِس ادارے نے شاندار وینٹی لیٹرز بنا کر ملک کا نام روشن کیا، سائنس کے وزیر فواد چوہدری اور وزیر اعظم عمران خان اِس کامیابی پر ادارے کو شاباش دینے ہری پور گئے۔ اِس ادارے سے آلات کا بڑا خریدار سری لنکا ہے اور عمان بھی کئی عرب ملکوں کو جدید آلات این آر ٹی سی فراہم کر رہا ہے۔ این آر ٹی سی نے شہروں کو محفوظ بنانے کے لئے ایسا سسٹم بنایا ہے کہ آپ ادارے کو داد دیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ اِس نظام کے تحت جونہی کوئی فرد شہر میں داخل ہوتا ہے تو اُس کی تصویر کے ساتھ ہی اُس کا شناختی کارڈ نمبر، اُس کی تمام معلومات اسکرین پر نمودار ہوتی ہیں، اگر کسی کا جرائم کا ریکارڈ ہو تو وہ بھی سامنے آ جاتا ہے ، اگر کوئی شخص مطلوب ہو تو اُس کا بھی پتا چل جاتا ہے اور اگر کوئی ملک کا شہری نہ ہو تو اُس کی خبر بھی ہو جاتی ہے۔ 

این آر ٹی سی ایسے چند اداروں میں شمار ہوتا ہے جہاں کام ہوتا ہے، کرپشن نہیں۔ یہی اِس ادارے کا کمال ہے۔ کراچی کسی زمانے میں خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ عرب ملکوں کے شہزادے یہاں چھٹیاں گزارا کرتے تھے، مغربی ملکوں سے لوگ کراچی دیکھنے آیا کرتے تھے. کراچی ایک بین الاقوامی شہر تھا۔ اُس کے ایئر پورٹ پر دنیا کے کسی بھی ایئر پورٹ پر دنیا کے کسی بھی ایئر پورٹ سے زیادہ جہاز اترتے تھے۔ یہاں زندگی تھی، روشنی تھی مگر پھر کراچی کو نظر لگ گئی۔ ستر کے بعد کراچی تبدیل ہونے لگا اور 80 کے بعد تو کراچی میں بدامنی کا ایسا ریلا داخل ہوا جو خوشیوں کو بہا کر کہیں لے گیا۔ کراچی میں مافیاز طاقتور ہوتی گئیں۔ اِس شہر کی گلیوں میں موت ہوا بن کے پھرنے لگی۔ خاص طور پر ایک جماعت نے تو کراچی میں کراچی والوں کے نام پر کھلواڑ کیا۔ ایسا کھلواڑ کہ ادب والے ادب بھول گئے، تہذیب رونے لگی، شاعری ماتم کرنے لگی، خوشی کی آنکھ میں آنسو آ گئے۔ 

خوشبو کی جگہ خون نے لے لی۔ چراغ بجھنے لگے، روشنی اندھیروں میں بدل گئی۔ چند سال پہلے ہمارے اداروں نے سوچا، آپریشن کیا، بہت حد تک امن بحال کیا، جرائم پیشہ افراد چھپ گئے مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں وہ وار ضرور کرتے تو ایک سوال کھڑا ہوتا کہ کراچی کو مزید محفوظ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ کیونکہ کراچی کا امن ملکی خوشحالی کا ضامن ہے۔ اِس سوال کا جواب تلاش کرتے کرتے بات این آر ٹی سی تک پہنچ گئی۔ چند روز پہلے کراچی کو محفوظ بنانے کی غرض سے این آر ٹی سی کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا ہے۔ اِس سے یقیناً بہتری آئے گی۔ کراچی ایک محفوظ شہر نظر آئے گا۔ وہاں کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی، رونقیں بحال ہوں گی، آپ کو ایسا کراچی نظر آئے گا جو کسی زمانے میں ہوا کرتا تھا بلکہ اُس سے بہتر نظر آئے گا۔

سیفٹی اینڈ سیکورٹی کا یہ معاہدہ محفوظ کراچی کا ضامن ثابت ہو گا۔ پاکستان کے لئے کراچی کو محفوظ بنانا کیوں ضروری ہے؟ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ چونکہ 80 کے بعد سے کراچی بدامنی کی تصویر بننا شروع ہوا، اُس کے بعد سے یعنی پچھلے چالیس سال میں کراچی کے حالات خراب ہوتے گئے، اِن حالات کے ساتھ ساتھ ہماری ملکی معیشت بھی خراب ہوتی گئی۔ کراچی کا محفوظ ہونا دراصل ہماری ملکی معیشت کا محفوظ ہونا ہے۔ جونہی کراچی کے حالات اچھے ہوں گے تو ہمارے معاشی حالات اچھے ہو جائیں گے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہماری ملکی معیشت کراچی کے حالات کے باعث خراب ہوئی۔ اب جب کاروباری سرگرمیاں بڑھنے لگی ہیں تو کراچی کو محفوظ بنانے کا سوچا گیا۔ اب کراچی غیرمحفوظ نہیں ہو گا، اب کراچی کے خلاف سازشیں اپنی موت آپ مر جائیں گی، ورنہ اِس سے پہلے تو غیرمحفوظ کراچی دیکھ کر یہ شعر یاد آتا تھا کہ؎

کیا ہوا شہرِ محبت تیری آبادی کو
ہم سے دیکھا نہیں جاتا ترا ویراں ہونا

مظہر برلاس

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments