Breaking News
recent

ہائے ہائے پانی، بجلی اور گیس

فرہاد نے اپنی محبت (شیریں) کو پانے کے لیے پہاڑ کھودا تھا اور اس میں سے دودھ کی نہر بہہ گئی تھی۔ آج کا عاشق معشوق کے لیے پانی حاصل کرنے کے لیے بورنگ کرتا ہے تو اس میں گٹر کا پانی نکلتا ہے، یہ ہے آج کل کی محبت کا اثر؟

ہائے رے! کاش کہ آج پھر شیریں فرہاد کہیں پیدا ہوجائیں تو دودھ کی نہر چھوڑیں کراچی والوں کے لیے پانی کی ہی نہر نکال دیں تو سندھ میں پانی بحران سے متاثرہ علاقوں میں بظاہر مفت مہیا کیے جانے والے واٹر ٹینکرز پر بہت سوں کا ملنے والا کمیشن بھی بند ہوجائے گا اور متاثرین کراچی کو نہر سے پانی بھی ملنے لگے گا۔

لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر سُو تجاوزات مافیا کا قبضہ ہے۔ کراچی کی سڑکوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے جگہ نہیں تو پھر نہر کے لیے جگہ کہاں سے دستیاب ہوگی؟ سچی بات یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا وقت قریب ہے، برساتی مینڈک ابھی سے اچھل کود کر رہے ہیں تاکہ اپنی سیاسی دکان چمکائی جاسکے۔

پانی کا ذکر اس لیے آیا ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے اہل کراچی پینے کے پانی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ایک طرف بارش نہ ہونے کے سبب گنتی کے ڈیم خشک ہیں تو دوسری جانب واپڈا اور کے الیکٹرک کے صبح و شام کے جھوٹ سے عاجز آچکے ہیں۔ پانی کا جو ذخیرہ ہے وہ مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے وہ بھی بورنگ ملا پانی۔ ایسے میں رمضان المبارک کے مہینہ میں ویران مساجد بھی آباد تھیں لیکن وضو کرنے کے لیے پانی دستیاب نہیں تھا، ترقی کی ان شاہراہوں پر ہم گامزن ہیں جہاں تیمم کے لیے صاف و پاک مٹی بھی دستیاب نہیں ہے۔

واٹر بورڈ والے کہتے ہیں کہ بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے شہر کو اتنا اتنا ملین گیلن پانی فراہم نہ کیا جاسکا۔ بجلی والوں کا کہنا ہے کہ گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے مطلوبہ بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔ گیس والے کہتے ہیں کہ گیس کا ذخیرہ دن بہ دن کم ہوتا جا رہا ہے اسی لیے راشن کارڈ پر گزارہ کرو، یعنی گیس کی لوڈ شیڈنگ برداشت کرنے کی عادت ڈالو۔ ارباب اختیارات کا کیا کہنا، آئے روز پانی، بجلی اور گیس کی بابت اجلاس و میٹنگز کرکے خدمت خلق میں مصروف ہیں۔
عوام ہیں کہ ناشکرے کسی کی مجبوری کو کھاتے میں لائے بغیر جھلساتی دھوپ میں احتجاج کر رہے ہیں، ’’پانی دو، بجلی دو، گیس دو، ورنہ کرسی چھوڑ دو‘‘ کی نعرے بازی میں مصروف ہیں۔ کل رات ایک پڑوسی نے مجھ سے کہا اپنے موبائل فون پر ایک نمبر ملاؤ، میں نے کہا موبائل تمہارے پاس بھی ہے تم خود کیوں فون نہیں کرلیتے۔ اس نے کہا وہ میرا نمبر نہیں اٹھا رہا۔ شاید تمہارا نمبر ریسیو کرلے۔ میں نے کہا یہ کس کا نمبر ہے۔ میں کسی اجنبی کو کیوں فون کروں۔
میرا اس سے کیا لینا دینا؟ ویسے بھی یہ حکومتی آرڈر ہے کہ جس کسی کے فون سے رانگ فون کیا جائے گا اس کا ذمے دار وہی شخص ہوگا جس کے نام پر یہ موبائل نمبر ہوگا۔

 پڑوسی نے کہا کیا میں تمہیں بدمعاش لگتا ہوں جو میں کسی کو فون پر دھمکی دوں گا؟ تم بس نمبر ملاؤ جی! میں نے کہا تم شناخت بتاؤ، تم کس کو فون ملانا چاہتے ہو؟ یہ سن کر پڑوسی خفا ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر کہا تمہیں پانی چاہیے یا نہیں؟ میں نے کہا اوروں کی طرح میں بھی پانی کے لیے سرگرداں ہوں، جلدی سے پانی ملنے کا نسخہ بتاؤ، اس نے کہا نسخہ یہی ہے کہ تم یہ نمبر ملاؤ۔ میں سمجھ گیا یہ نمبر واٹر بورڈ والوں کا ہوگا۔

میں نے کہا صاف کہو بات کو کیوں مشکوک کرکے بیان کر رہے ہو۔ اس نے کہا تم میڈیا کے آدمی ہو اپنا حوالہ دو اور پانی کی عدم دستیابی کی بات کرو۔ میں نے کہا واٹر بورڈ والے کسی کی نہیں سنتے۔ حکمرانوں کے احکامات کو بھی خاطر میں نہیں لاتے، میں کس کھیت کی مولی ہوں؟ بس دل کو تسلی دینے کے لیے نمبر ملایا۔ بیل جا رہی تھی اور کوئی اٹھا نہیں رہا تھا۔ یہ تھا واٹر بورڈ کا شکایتی نمبر جہاں ریسیو کرنے والا کوئی نہیں تھا۔شاید وہ بھی پانی کی تلاش میں نکلا ہوگا۔

دور حاضر میں جس معاشرے میں روٹی کے بدلے گولی، کپڑے کے بدلے کفن اور گھر کے بدلے میں قبر مل رہی ہو اس معاشرے میں پانی، بجلی اور گیس کے بدلے جو اذیتیں مل رہی ہیں ان پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے، کسی کو رحم آئے یا نہ آئے۔ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے وہی ہم گناہ گار بندوں پر رحم کرنے والا ہے ابھی مینہ برسا دے گا ہر طرف پانی ہی پانی ہوگا۔ ڈیم بھر جائیں گے لیکن پانی فروخت کرنے والوں کے بڑے بڑے پیٹ پھر بھی بھر نہ پائیں گے اسی کا نام حرص ہے۔

بے شک رمضان المبارک کا مہینہ برکتوں کا مہینہ ہے لیکن ناجائز منافع خوروں نے اس برکت کا غلط مطلب نکالتے ہوئے امسال ناجائز منافع خوری کے ریکارڈ نہیں بلکہ کیسٹ توڑ دیے ہیں۔  مہنگائی آتی نہیں لائی جاتی ہے۔ ایک دل جلے کا کہنا ہے کہ پٹرول 70 روپے کا، سی این جی 71 روپے کی، دودھ 80 روپے کا لہٰذا اپنے بچوں کو پٹرول یا سی این جی پر منتقل کرلیں۔ بات ہو رہی تھی پانی کی۔
پہلے زمانے میں لوگ کسی غلطی پر شرمندہ ہوکر پانی پانی ہو جایا کرتے تھے یا چُلّو بھر پانی میں ڈوب مرتے تھے اب تو پانی بھی دستیاب نہیں تو زندہ ضمیر بھی نایاب ہوگئے ہیں۔ ہائے پانی! ہائے پانی کرتے کرتے ہمارا بچپن گزر گیا، جوانی ڈھل گئی اب ادھیڑ عمری بھی پانی پانی کرتے کٹ رہی ہے۔

نہ جانے اب مزید کتنی نسلیں اس عذاب میں گزرنے والی ہیں۔ حکمراں اور لیڈران قوم پر جب عتاب نازل ہوتا ہے تو یہ سب اپنے اپنے ظاہری اختلافات بھلا کر ایک میز پر جمع ہوجاتے ہیں اور راتوں رات اپنے حق میں قانون منظور کرتے ہیں۔ ایک بے چاری قوم ہے جو ہر عذاب سہہ لیتی ہے اور اف تک نہیں کرتی۔ اف کرے بھی تو کیسے کرے اس کی ہر سانس پر پہرے ہیں۔ سیاست کے پہرے۔ جب تک یہ سیاسی پہرے لگے رہیں گے عوام پانی، بجلی، گیس، مہنگائی، بے روزگاری، لوٹ کھسوٹ، قتل و غارت گری کا شکار رہے گی۔

شبیر احمد ارمان

No comments:

Powered by Blogger.