Breaking News
recent

کراچی کا اصل درد جو ہے کوئی نہیں بتاتا

کراچی میں مشہوں افراد کا قتل کوئی نئی بات نہیں مگر اس شہر کے دانشور بہت عرصے سے ایک بات کہہ رہے ہیں کہ کراچی کے بارے میں چند بنیادی حقائق ہیں جنھیں جاننا ہماری ذمہ داری ہے مگر اس پر بات نہیں ہوتی۔ محمد حنیف نے کہا کہ امجد صابری ایک جانی پہچانی شخصیت تھے اور اس طرح کی ہلاکتوں کے نتیجے میں شہر میں خوف کی فضا پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کی شخصیات کو ہلاک کرنا بہت آسان ہوتا ہے کیونکہ امجد صابری بغیر کسی سکیورٹی کے آتے جاتے تھے۔
تو دہشتگردوں نے بغیر بھاری سرمایہ خرچ کیے ایک بڑی خبر بنائی جس سے دہشت پھیلی مگر ابھی یہ ساری باتیں قبل از وقت ہیں اور تحقیقات ہو رہی ہیں۔
صحافی ضیاالرحمان نے کہا کہ اس کیس کی تحقیقات سے ہی پتہ چلےگا کہ یہ کس نے کیا کیونکہ پروین رحمان جب قتل ہوئیں تو پولیس نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے چند دنوں بعد قاتلوں کو مار دیا ہے مگر بعد میں اصل قاتل پکڑے گئے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو مارنا مسئلے کا حل نہیں انھیں عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے جس سے عوام کو پتہ چلے کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔ پولیس کے بارے میں ضیاالرحمان نے کہا کہ گذشتہ بیس سالوں میں پولیس کو سیاسی بنیادوں پر بھراگیا ہے جس کا کوئی علاج نہیں کیاگیا۔

محمد حنیف نے کراچی میں آپریش کی تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دہرائی جانے والی تاریخ ہے بدامنی بڑھتی ہے اور آپریشن ہوتا ہے لوگ ادھر اُدھر ہو جاتے ہیں اور تاجر خوش ہو جاتے ہیں کہ بھتے کی پرچیاں آنی بند ہو گئیں اور کاروبار کچھ چل نکلا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کا درد جو ہے جسے میڈیا کور نہیں کرتا کہ کم از کم اس شہر کے بارے میں چند بنیادی حقائق ہیں جنہیں جاننا ہماری ذمہ داری ہے۔ کہ یہ اس شہر میں زمین کس کی ملکیت ہے اور وہ کس کے پاس جا رہی ہے، اس شہر کا پانی کہاں سے آتا ہے اور کس کو ملتا ہے اور کتنے میں بکتا ہے۔ اس شہر کی آبادی کتنی ہے؟ اس شہر کے لوگ کہاں سے آئے ہیں 
اور کون ہیں؟

بشکریہ بی بی سی اردو

No comments:

Powered by Blogger.