Breaking News
recent

اسٹیل مل کی نجکاری یا بے روزگاری

عالمی سامراج نے  نیو ورلڈ آرڈر کے مطابق دنیا بھر میں نجکاری شروع کی۔ امریکا کے معروف انقلابی  دانشور اور ماہر لسانیات پروفیسر نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ ’’نجکاری کا مطلب عوام کی دولت چھین کر سرمایہ داروں کے حوالے کرنا ہے۔‘‘ اس سلسلے میں سب سے پہلے نجکاری جنوبی امریکا میں کی گئی، چونکہ وہاں کے عوام نجکاری کی  مصیبتوں کو بھگت چکے ہیں، اس لیے اب وہاں کی حکومتوں نے ازسر نو قومیانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ اس لیے سامراجیوں نے مشرق بعید کے بعد اب برصغیر میں نجکاری شروع کردی ہے۔ یہ کام بے نظیر بھٹو کے دور سے شروع ہوا اور اب نواز کے دور میں انتہا کو لے جایا جا رہا ہے۔
پاکستان میں نجکاری کے ہدف میں ایک اسٹیل مل بھی ہے۔ سابقہ وزیراعظم شوکت عزیز نے پاکستان  جیسے نیم زرعی اور نیم صنعتی ملک کو ڈبلیو ٹی او کی طرف دھکیل دیا۔ ڈبلیو ٹی او  میں جانے سے پاکستان کی رہی سہی صنعتی ترقی کا پہیہ بھی جام ہو گیا۔ اس کے علاوہ 2008-2009 میں بڑے پیمانے پر گڈانی کراچی میں شپ بریکنگ کی گئی۔ جو شپس توڑنے کے لیے امپورٹ کی گئیں ان پر نہ امپورٹ ڈیوٹی تھی اور سیلز ٹیکس بھی 0% تھا۔ ان شپس کو توڑنے سے حاصل ہونے والی پلیٹس کو سریا بنانے کے لیے استعمال میں لایا گیا۔

یہ پلیٹ مارکیٹ میں 31000 روپے ٹن میں فروخت ہو رہی تھیں، جب کہ اسٹیل ملز کے بلٹس کی قیمت جو کہ سریا بنانے کے لیے کام آتا ہے 51000 روپے تھی۔ اسٹیل ملز کو مجبوراً اپنی بلٹس کا کارخانہ بند کرنا پڑا۔ جو آج تک بند ہے۔ 2008 میں پوری دنیا میں اسٹیل انڈسٹریز کو بحران کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ چائنا کا انٹرنیشنل مارکیٹ سے لوہے اور خام مال کی خریداری کا عمل بند کرنا تھا۔
دنیا کے اکثر ممالک میں اپنی اسٹیل انڈسٹریز کو بچانے کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی سمیت کئی اقدامات کیے مگر پاکستان میں ایسا کوئی عمل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے پاکستان اسٹیل مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ ہاٹ رول کوائلز جن کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہے، اسٹیل ڈیلرز یہ کوائل چین، یوکرین، روس، جاپان، امریکا وغیرہ سے سستے داموں پر برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل نے اس حوالے سے نیشنل ٹیرف کمیشن میں مقدمہ بھی قائم کیا کہ ان کوائل کی امپورٹ پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کی جائے تا کہ اسٹیل مل مارکیٹ کا مقابلہ کرسکے۔ باوجود اس کے این ٹی سی نے پاکستان اسٹیل کا موقف تسلیم کر لیا، لیکن کئی سال سے یہ مقدمہ زیر التوا رکھنے کے بعد WTO کے معاہدے کا سہارا لے کر خارج کردیا۔ موجود حکمراں جو اسٹیل انڈسٹری کو چلانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں مگر وہ پاکستان اسٹیل کی سب سے بڑی انڈسٹری کو بیچ دینا چاہتے ہیں۔
پاکستان اسٹیل جس نے دوبارہ اپنی مقررہ پیدواری صلاحیت کی طرف بڑھنا شروع کر دیا تھا اور 60% پیداوار دینا شروع کر دی تھی، لیکن حکومت کی طرف سے سیلز پالیسی مقرر نہ کرنے کی وجہ سے اسٹیل مصنوعات مارکیٹ کا مقابلہ نہ کرسکی، اور مال اسٹاک ہونا شروع ہو گیا۔ جس میں سے اسٹیل مل اپنی Liability دینے سے قاصر ہو گئی۔ نیچرل گیس کمپنی جو کہ حکومتی ادارہ ہے اس کی 16 ارب روپے کی Liability ادا نہ کرنے کی وجہ سے اسٹیل مل کو دی جانے والی گیس کا پریشر کم کر دیا گیا۔ اب یہ 16 ارب روپے سود کی وجہ سے 52 ارب سے زیادہ ہو چکی ہے۔ گیس پریشر کم ہونے کی وجہ سے پاکستان اسٹیل کے تمام پیدواری یونٹس بند کر دیے گئے۔ گیس پریشر کو کم ہوئے آٹھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حکومت کی خاموشی اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیل انڈسٹری کو بند کر کے اس کی نجکاری کرنا چاہتی ہے۔ اس ساری صورت حال کا خمیازہ پاکستان اسٹیل کے 18 ہزار ملازمین بھگت رہے ہیں۔ حکومت نجکاری کمیشن کے توسط سے چار ماہ گزرنے کے بعد ایک یا دو ماہ کی تنخواہ ملازمین کو ادا کر رہی ہے۔ وہ بھی ملازمین کے بار بار احتجاج کے بعد یہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔

موجودہ اسٹیل مل انتظامیہ کی کارکردگی اور بے حسی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 9  ارب کے اسٹاک شدہ مال کو فروخت کیا گیا اور فروخت شدہ مال میں بھاری کمیشن کھایا گیا۔ اس کے علاوہ 26 ارب روپے کی کرپشن کے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے ہوئے بھی کئی سال گزر گئے ہیں۔ اب اس کیس کی فائل سردخانے میں پڑی ہوئی ہے۔ ابھی تک اسٹیل ملز کی لوٹی ہوئی رقم   ریکور نہیں کی گئی جس کی ذمے دار بھی گورنمنٹ ہے۔ پاکستان اسٹیل کی (By Product) جس میں بیٹری کے چلنے سے حاصل ہونے والی امونیا گیس کھاد کے کارخانے میں استعمال ہوتا ہے۔ Pitch جو تارکول کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس کے علاوہ آکسیجن پلانٹ کو اگر تجارتی بنیادوں پر چلایا جائے تو صرف آکسیجن پلانٹ ہی ملازمین کی تنخواہیں نکال سکتا ہے۔ ٹربو تھرمل پاور پلانٹ جس کی دو ٹربائن بیک وقت چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جن سے 110 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، ایک ٹربائن اسٹینڈ بائی رہتی ہے۔ پاکستان اسٹیل اگر فل Capacity میں اپنی پروڈکشن دے رہی ہو تو 40 سے 50 میگا واٹ بجلی خرچ ہوتی ہے، بقایا بجلی کے الیکٹرک کو فروخت کی جا سکتی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان اسٹیل کے الیکٹرک کو بجلی فروخت کرتا رہا ہے۔

پاکستان اسٹیل کے پاس اپنے اسکول کیڈٹ کالج، گیسٹ ہاؤسز، فروٹ فارمز ہیں۔ ان کو صحیح معنوں میں پروفیشنل میمجمنٹ دی جائے تو یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہیں، لیکن موجودہ گورنمنٹ کی نظریں اسٹیل مل کے ایسڈ پر ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کئی سیاسی جماعتیں جو پی ٹی سی ایل اور کے ای کی نجکاری کے حق میں تھیں، وہ آج مخالفت کررہی ہیں۔ جیسا کہ جب ذالفقار علی بھٹو اسٹیل مل قائم کرنے جا رہے تھے تو  ایک مذہبی سیاسی جماعت قومی ملکیت میں اسٹیل مل کے قیام کی بھرپور مخالفت کر رہی تھی اور آج نجکاری کی مخالفت کررہی ہے۔
پاکستان اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اربوں روپے کما کر دے رہی ہے، صرف اس کے فلڈ ورکرز سوا لاکھ سے زیادہ ہیں، اس کے اربوں روپے کے اثاثے ہیں، اب حکومت اس کی نجکاری کرکے ہزاروں فلڈ ورکرز کو بے روزگار کرے گی اور لاکھوں صارفین کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ سینیٹ اور صدر پاکستان ذاتی مداخلت کرکے اسٹیٹ لائف کی  نجکاری روکیں۔
یہی حشر وہ پی آئی اے کے ساتھ  بھی کرنا چاہتے ہیں۔ ان سرمایہ داروں کی نظریں صرف اور صرف پی آئی اے کے اثاثوں پر ہیں، جن کی مالیت کھربوں روپے بنتی ہے۔ یہ ان کو کوڑیوں کے بھاؤ میں خریدنا چاہتے ہیں۔ ان کی نظر میں Employee کی اہمیت نہیں۔

آئی ایم ایف نے جب ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگانے کے لیے سابقہ گورنمنٹ پر زور دیا تو حفیظ شیخ نے جب قومی اسمبلی میں بل پیش کیا تمام پارٹیوں کے سرمایہ دار، جاگیردار طبقے ایک پیج پر آگئے۔ کیونکہ یہ ٹیکس ان کی جائیدادوں پر لگنا تھا۔ آج تک یہ ٹیکس زیر التوا ہے۔ عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ آج گورنمنٹ آئی ایم ایف کے دباؤ پر اسٹیل مل، پی آئی اے سمیت 68 اداروں کو نجکاری کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہے اور لاکھوں محنت کشوں کو بے روزگار کر دینا چاہتی ہے۔ اس سے پہلے سابقہ حکومتوں کے ادوار میں مختلف اداروں کی آئی ایم ایف کے دباؤ پر نجکاری کی گئی، ان میں سے بیشتر ادارے جن کی نجکاری کی گئی اور ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا وہ ادارے آج تک بند ہیں، ان کو پرائیویٹ سیکٹر میں نہیں چلایا جاسکا۔ آج پھر ایک بار پاکستان اسٹیل مل کے مزدور سراپا احتجاج  ہیں، انھوں نے نیشنل ہائی وے کو بند کر دیا، پولیس نے تشدد کے ذریعے انھیں منتشر کیا، مگر کب تک؟ مزدور اپنے مطالبات آج نہیں تو کل منوا کر چھوڑیں گے۔  ہر چند کہ مسائل کا واحد حل ایک غیر طبقاتی نظام میں ہی مضمر ہے۔ وہ دن جلد آنے والا ہے، جب جائیداد، ملکیت، سرحدیں، ریاست کا خاتمہ ہوجائے گا، پھر لوگ جینے لگیں گے۔

زبیر رحمٰن

No comments:

Powered by Blogger.