Breaking News
recent

کے ڈی اے کا با اثر افراد کی غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی سے گریز

سپریم کورٹ کے حکم پر کے ڈی اے نے رفاہی پلاٹوں پر بنائے گئے شادی ہالوں اور سرکاری زمین پر قبضہ واگزا ر کرانے کی کارروائی شروع کی ہے لیکن اب تک با اثر افراد کے شادی ہالوں اور رفاہی اور فلاحی پلاٹوں پر قائم تعمیرات کے خلاف آ پریشن کر نے سے گر یز کیا جا رہا ہے۔ تفصیلا ت کے مطابق کے ڈی اے کی جانب سے اب تک 73 شادی ہالوں کو مسمار کیا گیا ہے لیکن رفاہی پلاٹوں پر قائم بااثر افراد کے شادی ہالوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیپا چو رنگی پر قائم شادی ہال جہاں اب نجی تعلیمی سرگرمیاں جا ری ہیں، اب یہاں شادی ہال بند کر دیا گیا ہے یہ رفاہی پلاٹ ہے لیکن کے ڈی اے حکام کی ملی بھگت سے اس کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے دیا گیا ہے.

گلشن چورنگی پر قائم شادی ہال اور ایک نجی اسکول بھی رفاہی پلاٹ پر تعمیر کیا گیا ہے لیکن اب تک ان کے خلاف بھی کارروائی نہیں کی گئی، ذرائع نے بتایا کہ کے ڈی اے حکام رفاہی پلاٹوں کی سرکاری زمین واگزار کرانے میں پسند اور ناپسند کا خیال رکھ رہے ہیں۔ گلستان جوہر کے مختلف بلاکس میں کھیل کے میدانوں اور پارکوں پر تعمیر شادی ہالوں کو اب تک مسمار نہیں کیا گیا جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بااثر افر اد کے زیر استعمال ہیں جس کی وجہ سے کے ڈی اے حکام ان کے خلا ف کاررو ائی نہیں کر رہی ہے.

ذرائع نے بتا یا کہ نارتھ کراچی اورسرجانی ٹاؤن میں بھی متعدد شادی لانز ایسے ہیں جن کو مسمار نہیں کیا گیا ہے یہ بھی سرکاری زمینوں پر تعمیر کیے گئے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ 4 کے چورنگی پر قائم شادی ہال کو صرف جزوی نقصان پہنچایا ہے اس کے ساتھ پاور ہاؤس چورنگی پر قائم ایک شادی ہال کی صرف تھوڑی سی دیوارکو گرایا گیا، ذرا ئع نے بتا یا کہ یہ شادی ہالز انتہائی بااثر افراد کے ہیں جس بنا پر ان کے خلا ف کا ررو ائی نہیں کی جا رہی ہے۔

اگر کی بھی جا رہی ہے توجزوی تاکہ بعد میں تعمیر کر لیا جا ئے، بااثر افراد کی غیرقانونی تعمیرات کو ٹیکنیکل طریقے سے بچایا جا رہا ہے، ذرا ئع نے بتایا کہ  کورنگی میں بھی سرکا ری زمینو ں پر قائم شادہ ہالز نجی تعلیمی ادارے ، جم کلب، سمیت دیگر تعمیرات کے خلا ف بھی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے، کئی گوٹھوں میں بھی پکے مکانات اور بڑی دکانوں کی تعمیر کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، ذرائع نے بتایا کہ کے ڈی اے حکام کی جانب سے نمائشی طور کارروائی کی جا رہی ہے اگر کے ڈی اے بلا تفریق کارروائی کر ے تو انتہائی قیمتی زمین واگزار  کرائی جا سکتی ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.