Advertise Here

Wednesday, February 10, 2016

لیاری گینگ وار

سندھ کی سیاست میں بھونچال آگیا ‘رینجرز نے ایک سال بعد عزیر بلوچ کی گرفتاری ظاہرکردی‘ جس کا براہ راست تعلق پیپلز پارٹی کی قیادت سے جوڑا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے سندھ حکومت، وفاق سے مفاہمت پر تیار ہوئی اور رینجرز اختیارات کے نوٹیفیکیشن پراتفاق ہوگیا۔ لیاری کی خانہ جنگی کی تاریخ بہت قدیم ہے‘ یہ لڑائی گزشتہ صدی کے آخر میں شروع ہوئی۔

لیاری کی آبادی  کے ایک بڑے حصے کا تعلق بلوچستان اور ایرانی بلوچستان سے ہے، بلوچستان میں چلنے والی ہر تحریک کا مرکز لیاری رہا ہے ، مگر 2000 سے بلوچستان میں چلنے والی قوم پرست تحریک کو لیاری میں جگہ نہ ملی اور یہ سب کچھ گینگ وارکی وجہ سے ہوا ‘ یہ گینگ وارکیسے شروع ہوئی اس کی کوئی واضح تاریخ تو نہیں مگرگینگ وار میں ملوث ایک گروہ نے جب رحمن ڈکیت کی قیادت میں لیاری پر قبضہ کرنا چاہا تو رحمن ڈکیت کے ایک سابق معاون کے علیحدہ گروہ بنانے کے بعد اس جنگ میں تیزی آگئی‘ یہ کہا جانے لگا تھا کہ اس گینگ وارکے خاتمے کے بجائے ایک گروپ کی سرپرستی شروع کردی گئی ۔

اس طرح خانہ جنگی میں شدت آگئی‘ اغوا برائے تاوان‘ بھتہ‘ ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کم نہ ہوسکے‘ پیپلز پارٹی کے قائدین نے اس صورتحال کی سنگینی کا احساس نہیں کیااور مزاحمت کرنے کے بجائے گینگ وارکے کارندوں سے مفاہمت کی پالیسی اختیار کی‘ یوں یہ مجرم‘ سیاسی میدان میں داخل ہوگئے‘ ان لوگوں کو معتبر سمجھا جانے لگا۔
گینگ وار نے لیاری کی سیاسی‘ معاشی‘ سماجی صورتحال کو بری طرح متاثر کیا‘ سیاسی سرگرمیاں تھم گئیں‘ سیاسی کارکن یا تو لیاری چھوڑنے پر مجبور ہوگئے‘ یا گوشہ نشین ہوگئے‘ اس طرح کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں جن میں سرفہرست روزانہ شام کو ہونے والے فٹ بال کے مقابلوں کی رونق ختم ہوئی۔ فلم‘ تھیٹر سمیت ہر قسم کی ثقافتی سرگرمیاں اس جنگ کی نذر ہوئیں‘ اقتصادی ترقی رکی، لیاری  میں قائم قومی بینکوں کی شاخیں  دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئیں‘ کاروباری حضرات بھتے کی پرچیوں اور اغوا برائے تاوان کی دھمکیوں کے بعد کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے۔

بھتہ نہ دینے پر کلاشنکوف کی گولیوں کا نشانہ بننے کے خوف کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں کا رخ کیا‘ کاروبارکے لیے آنے والوں نے یہاں کا راستہ چھوڑ دیا ‘ جھٹ پٹ مارکیٹ‘ ایران ‘ افغانستان اور دوسرے ممالک کے سامان کا مرکز ہوتی تھی‘ مگر آئے روز فائرنگ کے بعد گاہکوں کے لیے اس مارکیٹ میں دلچسپی ختم ہوگئی‘ اس صورتحال کے باعث جائیدادوں کی قیمتیں گرگئیں‘ لوگ کم قیمت پر اپنے مکانات اوردکانیں فروخت کرنے پر مجبورہوئے‘ گینگ وار کے گروہوں نے لیاری سے متصل علاقوں میں لوٹ مار‘ بھتہ اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شروع کردیں۔

اس صورتحال کا براہ راست نشانہ شیر شاہ کی کباڑی مارکیٹ بنی‘ جہاں بھتہ نہ دینے پرکئی دکانداروں کو قتل کیا گیا‘ صرافہ بازار اور اطراف کی مارکیٹیں بھی ان کے دائرہ اثر میں آگئیں‘ اسی دوران ایک گروہ کا سرغنہ رحمن ڈکیت ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ساتھیوں سمیت مارا گیا ‘ اس پولیس مقابلے کے نگران ایس پی چوہدری اسلم( مرحوم) تھے‘ لیاری میں رحمن ڈکیت کے لیے ہمدردی کے جذبات تھے اورکہا جاتا تھا کہ رحمن ڈکیت اور اس کے ساتھی نوجوانوں نے بینظیر بھٹوکی کراچی آمد پر شاہراہ فیصل پر ان کے حفاظتی دستے کے فرائض انجام دیے تھے‘ اورکارساز پر خودکش حملے کے بعداس دستے نے بینظیر بھٹو کو اپنی حفاظت میں بلاول ہاؤس منتقل کیا تھا۔

لیاری جنرل اسپتال کا ایک سابق وارڈ بوائے عزیر بلوچ رحمن ڈکیت کا جانشین قرار پایا اور عزیر نے سردارکا خطاب اپنے نام کے ساتھ منسوب کیا ‘ سردار عزیر بلوچ کے مضبوط ہونے کے بعد لیاری میں نئی تبدیلیاں نظر آنے لگیں‘ پہلی دفعہ لیاری میں مذہبی انتہا پسندوں کی کمین گاہیں قائم ہوئیں‘کراچی میں بعض عبادت گاہوں پر خودکش حملہ کرنے والے نوجوانوں کا تعلق لیاری سے ظاہر ہوا ‘اس دوران صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کا کردار ابھرکر سامنے آیا‘ اب لیاری امن کمیٹی کے نام سے ایک الگ جماعت قائم ہوئی‘ لیاری امن کمیٹی کے عہدیداروں کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا۔

اس امن کمیٹی نے ایم کیو ایم کے خلاف ایک نئی جنگ شروع کردی‘ یہ جنگ اس وقت کے صدرآصف علی زرداری کی مفاہمتی پالیسی کے سراسر خلاف تھی‘ امن کمیٹی اور ایم کیو ایم کے جھگڑے کے باعث مہاجر بلوچ فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی‘ یہ کوئی حقیقی فساد نہیں تھا‘ مگر اس جھگڑے نے اردو اور بلوچی بولنے والے بہت سے نوجوانوں کی جانیں لے لیں اور اب امن کمیٹی کے  کارکنوں کا دائرہ پورے شہر میں پھیل گیا‘ شہر بھر سے مختلف لوگوں کو اغوا کرکے لیاری لایا جاتا اور بھاری تاوان کے عوض ان کو چھوڑ دیا جاتا‘ یہ وہ وقت تھا جب بلوچستان میں اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بدامنی کا دور شروع ہوا ‘ مگر ماضی کے برعکس لیاری اس صورتحال میں خاموش رہا‘ اس لڑائی نے لیاری کے عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات ڈالے۔

لیاری میں پولیس اور رینجرز کا آپریشن ہوا ‘ امن کمیٹی پر پابندی لگی‘ اس کے ایک رہنما حبیب جان فرار ہوکر لندن چلے گئے‘ باقی کو پیپلز پارٹی نے جماعت سے نکال دیا ‘کراچی آپریشن کی بنا پر لیاری میں امن قائم ہوا ہے‘ عزیر بلوچ‘ بابا لاڈلہ سمیت کئی افراد دبئی فرار ہوئے‘ عزیر بلوچ کی گرفتاری کی خبریں آنا شروع ہوگئیں‘ عزیر بلوچ کو حکومت سندھ واپس نہ لا سکی‘ مگرایجنسیوں نے عزیر کو پاکستان منتقل کرکے سیف ہاؤس میں محفوظ کردیا تھا ۔

رینجرز کے اختیارات میں اضافے کے نوٹیفکیشن کے جھگڑے کی بنیاد پر گرفتاری ظاہر کی گئی‘ عزیرکو عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کے مبینہ بیانات کے فوٹیجز نجی ٹی چینلز پر چلنے لگیں‘ ان فوٹیجز کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات کا شور مچ گیا‘ مگر اس حقیقت کو نظر اندازکیا گیا کہ عزیرکے صرف پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں سے تعلقات نہیں تھے اور بھی اہم افراد اس کی سرپرستی کرتے تھے۔

ماہی گیروں کو متحرک کرنے پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والے سعید بلوچ اور ان کے تین ساتھیوں کو گینگ وار میں ملوث گروپ سے منسلک کرنے سے کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ سعید بلوچ نوجوانی سے ترقی پسند تحریک سے منسلک ہوئے انھوں نے مزدوروں اور ماہی گیروں کے حالات کار بہتر بنانے، خطے کے ممالک کی مزدوروں کی تنظیموں میں اشتراک پیدا کرنے اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف رائے عامہ ہموارکرنے کی تحریکوں میں بنیادی کردار ادا کیا ۔ سعید بلوچ سابق آمر صدر پرویز مشرف کے کے خلاف چلنے والی وکلاء تحریک میں متحرک رہے۔

ہمیشہ جمہوری تحریکوں سے منسلک رہے اور عدم تشدد کو اپنی زندگی کا محور بنالیا ۔ اب عزیز بلوچ کی ایک سال بعد گرفتاری ظاہر ہونے پر سعید بلوچ کو مقدمات میں ملوث کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ معاملات کسی اور طرف اشارہ کررہے ہیں ۔ عزیر بلوچ ایک کرمنل ہے ، اس کی سرپرستی کس نے کی اورکن مقاصد کے لیے کی ، اس معاملے پر یہ اہم باتیں ہیں۔ عزیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد اب لیاری سے ہر قسم کے کرمنل کا خاتمہ ضروری ہے ،تاکہ لیاری کے عوام پُر سکون ماحول میں زندگی گزارسکیں۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

لاہور اور راولپنڈی کا سفر

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے لوگوں میں یہ احساس کمتری شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ جس شہر کی آمدنی سے ملک چل رہا ہے، اسے وفاقی اور صوبائی سطح پر مکمل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور 62 فیصد ریونیو کما کر دینے والے شہر قائد کو لاوارث بنا دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کراچی کے لوگوں کی اکثریت گزشتہ 30 سالوں سے ایم کیو ایم کو اپنی نمایندگی کا اختیار دے رہی ہے اور متحدہ اس عرصے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں متعدد بار شامل رہی اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں کافی حد تک بااختیار بھی رہی اور داخلہ، خزانہ اور بلدیات جیسے اہم محکمے متحدہ کے وزیروں کے پاس رہے اور ضلع نظام کے دور میں متحدہ کی سٹی حکومت کراچی کو جو وفاقی فنڈ ملے وہ ایک ریکارڈ ہے  

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سندھ کی اہم سیاسی قوتیں ہیں، جنھیں دیہی سندھ اور شہری سندھ کے عوام مسلسل اپنی نمایندگی کا حق دے رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں متحدہ کے بعد پیپلز پارٹی دوسری بڑی پارٹی تھی اور کراچی کے دیہی علاقے پی پی کا گڑھ تھے جو پی پی کی غلط پالیسیوں کے سبب اب نہیں رہے اور شہری علاقوں میں بھی پی پی کا ووٹ بینک بری طرح متاثر ہوا۔ پی پی نے کراچی سے اپنی نشستیں گنوائیں اور 2013ء میں کراچی سے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے پی پی کا ووٹ بینک توڑا اور متحدہ بھی متاثر ہوئی مگر حالیہ بلدیاتی انتخابات میں متحدہ نے اپنی سیاسی طاقت پھر ظاہر کر دی اور ایک عام تاثر ہے کہ سندھ کی پی پی حکومت نے اپنے سرکاری وسائل اور دباؤ سے کراچی کے تین اضلاع میں کچھ کامیابی ضرور حاصل کی ہے۔
پیپلز پارٹی کی سابقہ اور موجودہ قیادت کا کراچی سے گہرا تعلق رہا ہے، سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے بچے کراچی میں پیدا ہوئے مگر پی پی نے اپنی تمام حکومتوں میں کراچی کو وہ اہمیت اور فنڈز نہیں دیے جو کراچی کا حق تھا۔ پی پی نے کراچی کے دیہی علاقوں اور لیاری ہی کو اہمیت دی اور شہری علاقوں سے اعتماد حاصل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی اور کراچی سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا۔ سابق پی پی حکومت نے اپنے 5 سال ضرور مکمل کیے مگر کراچی کو اس کا جائز حق دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کراچی کا میئر بننے کا خواب ضرور دیکھتے رہے اور پی پی حکومت کے ساڑھے سات سالوں میں کراچی پر جو گزری وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، شہر اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ (ن) لیگ کے مقابلے میں متحدہ پی پی حکومتوں میں زیادہ شامل رہنے کے باوجود پی پی حکومت سے کراچی کو اس کا حق نہ دلا سکی۔

متحدہ اب وفاقی اور صوبائی سطح پر اپوزیشن میں ہے، جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے کراچی والوں کو بے پناہ شکایات ہیں مگر دونوں کراچی کو اپنا نہیں سمجھ رہے اور اس کے جائز اور قانونی حق سے محروم رکھ کر، دو کروڑ آبادی کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے جو سراسر زیادتی اور کراچی صوبے کے لیے جان بوجھ کر راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

کراچی کے لوگ پنجاب خصوصاً لاہور، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد کو خوش قسمت اور کراچی کو بدقسمت قرار دیتے ہیں کہ ملک کا سب سے بڑا اور ملک کو سب سے زیادہ کما کر دینے والا شہر کراچی لاوارث ہے، جس کو پیپلز پارٹی اپنا سمجھتی ہے نہ مسلم لیگ (ن) کراچی والوں کے دل جیتنا چاہتی ہے اور دونوں حکومتوں نے کراچی کو نظر انداز کر رکھا ہے۔

راقم کا حال ہی میں لاہور، راولپنڈی اور گزشتہ ماہ ملتان جانے کا اتفاق ہوا اور حکومت پنجاب کی ان شہروں پر خصوصی عنایات دیکھنے کا موقعہ ملا۔ لاہور میں میٹرو بس کے کامیاب منصوبے کی تکمیل کے بعد اب اورنج ٹرین کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا گیا ہے جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان صدر سے پاک سیکریٹریٹ تک جدید میٹرو بسیں چل رہی ہیں، جس کے لیے سڑک کے درمیان دو منزلہ سڑک بنا کر میٹرو بسیں چلائی گئی ہیں جس کے چوبیس اسٹیشن ہیں اور میٹرو بسوں کے ذریعے نہ صرف راولپنڈی اور اسلام آباد کے لوگوں کو بہت زیادہ سہولت حاصل ہوئی ہے اور ملک بھر سے آنے والوں کو بھی تیز رفتار بڑی اور جدید بسوں میں بہ سہولت سفر میسر آ گیا ہے جو آرام دہ ہی نہیں سستا بھی ہے۔

راولپنڈی میں راقم کو میٹرو بس میں سفر کا موقعہ ملا تو رات 10 بجے بھی بس میں اتنا رش تھا کہ بمشکل کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑا جب کہ میٹرو کے دو منزلہ پلیٹ فارم اور بکنگ آفس اور سیڑھیوں کے ساتھ اوپر جانے کے لیے لفٹ دیکھ کر لگا کہ ہم راولپنڈی میں نہیں بلکہ کسی اور ملک میں میٹرو پر سفر کر رہے ہیں۔ ان جدید بسوں سے لوگوں کو جو سہولیات حاصل ہوئی ہیں وہ آرام دہ اور مہنگی گاڑیوں سے سفر کرنے والے وہ سیاستدان نہیں جانتے جو اپنے سیاسی مفاد کے لیے ہر حکومتی اقدام پر تنقید کے عادی ہیں اور عوامی مسائل سے ان کا عملی واسطہ نہیں پڑا۔

لاہور میں میٹرو بس پر شدید تنقید ہوئی تھی مگر لاہور والوں کا رش میٹرو بسوں میں دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، لاہور میں اب اورنج ٹرین کے منصوبے پر کام جاری ہے اور اس منصوبے کی زد میں آ کر سیکڑوں افراد متاثر اور اپنے گھروں اور کاروبار سے محروم بھی ہوئے ہیں اور ٹرین کے روٹ پر تعمیری کام سے ٹریفک جام، گاڑیوں کا رش اور لوگوں کو عارضی پریشانی کا سامنا بھی ہے۔ راقم نے لکشمی چوک کی صورتحال دیکھی اور متاثر ہونے والوں کی شکایات بھی سنیں جس پر میرے کراچی سے تعلق رکھنے والے ساتھی فیصل خمیسہ نے جو جو جواب دیا وہ سننے سے تعلق رکھتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب اور خاص طور پر لاہور خوش نصیب ہیں جسے پنجاب سے تعلق رکھنے والے حکمران اپنا تو سمجھتے ہیں اور اس کی ترقی کے لیے دن رات کام کرا رہے ہیں مگر کراچی میں کچھ ہو رہا ہے اور نہ اندرون سندھ پنجاب جیسی ترقی کہیں ہوئی ہے۔ فیصل خمیسہ کا موقف تھا کہ اس ترقی کے حقدار کراچی اور سندھ والے بھی ہیں مگر وہاں کوئی کام نہیں ہو رہا۔ کراچی تباہ حالی کا شکار ہے جہاں لاہور جیسی کوئی ترقی ہے نہ اچھی سڑکیں ہیں۔

کراچی والوں کو صرف خواب دکھائے جاتے ہیں۔ جھوٹے وعدے کر کے بہلایا جاتا ہے۔ سرکاری اعلانات پر عمل نہیں ہوتا۔ لوکل ٹرینیں بند، سڑکیں تباہ حال، پرانی کھٹارا بسیں کراچی والوں کا مقدر اور اب کراچی والے چنگ چی کی سفری سہولت کو اپنا مستقبل سمجھ بیٹھے ہیں۔ وزیر اعظم بھی کراچی کے لیے سفری سہولت کا اعلان کر کے بھول گئے۔

سندھ حکومت من مانیوں میں مگن ہے کیونکہ دونوں کا ووٹ بینک کراچی میں ہے اور نہ یہ لوگ کراچی والوں کو اپنا بنانا چاہتے ہیں۔ فیصل خمیسہ کا کہنا تھا کہ تعمیری کام اپنے گھر میں بھی ہو تو پورا گھر متاثر ہوتا ہے اور اچھے مستقبل کے لیے کچھ کھو کر ہی کچھ پانا پڑتا ہے۔ کراچی والوں نے بھی ضلع حکومتوں میں تعمیری تکالیف دیکھی تھی مگر بعد میں سہولتیں بھی حاصل ہوئیں۔ کاش کوئی حکومت کراچی والوں کو بھی لاہور جیسا سمجھ لے مگر کراچی والوں کے یہ نصیب کہاں کہ کراچی میں میٹرو ٹرین توکیا میٹرو بسیں ہی میسر آ جائیں۔

محمد سعید آرائیں

Monday, February 8, 2016

کراچی میں ادبی میلے کی بہار










Saturday, January 30, 2016

کراچی اب بے خوف ہے

کتابوں میں پڑھا ہے اور فلموں میں اس وقت کو دیکھا ہے جب انسان اپنی طاقت کی ’طاقت‘ سے زندہ رہتے تھے اور کمزور ان طاقت وروں کی نوکری بلکہ غلامی کیا کرتے تھے۔ کوئی قانون قاعدہ نہیں تھا ‘کوئی عدالت نہیں تھی اور مجرم کو پکڑنے والی پولیس نہیں تھی اور انسان صرف اپنی طاقت کی طاقت سے ہی زندہ اور باقی رہتا تھا ورنہ وہ مرتا رہتا تھا یعنی مر مر کے جیا کرتا تھا۔

یہ ایک طویل داستان ہے کہ حالات کے مارے ہوئے انسان کی قسمت بھی جاگ اٹھی اور کچھ انسان ایسے پیدا ہو گئے جنہوں نے اپنی جنس کی یہ حالت دیکھ کر اسے بدلنے کی کوشش کی اور پھر رفتہ رفتہ انسانی زندگی نے یہ چلن اختیار کیا جو اب ہے یعنی پولیس سے لے کر عدالتوں تک اور زندگی کے ایک قانون تک جس کے مطابق انسانوں نے زندہ رہنا سیکھا۔ خود بھی زندہ رہنا اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے کا موقع دینا۔

انسان نے بے شمار دکھ سہنے کے بعد یہ منظم زندگی اختیار کی لیکن تعجب ہے کہ انسان کبھی کبھار کسی معاشرتی ضرورت یا اندر کی وحشت سے مغلوب ہو کر کسی حد تک اسی پرانی زندگی کی عادات کی طرف لوٹ جاتا ہے جن سے نجات پانے کی اس نے شعوری کوشش کی تھی اور کامیاب بھی رہا تھا آج ہم یہی پرامن اور ایک باقاعدہ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم معاشرتی نظم و ضبط کے لیے کوئی مشکل کھڑی کر دیتے ہیں۔

یہ باتیں مجھے کراچی کے بارے میں ہمارے سب سے طاقت ور شخص جنرل راحیل شریف کے ایک بیان سے یاد آئی ہیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہم کراچی کو محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے اور کراچی کے شہریوں کو بے خوف کر دیں گے۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ ایک چھوٹا پاکستان ہے جس میں ملک کے ہر حصے کے شہری آباد ہیں‘ ہر برادری اور ہر شعبے کے پاکستانی یہاں زندگی کر رہے ہیں۔ کوئی ملازمت کرتا ہے تو کوئی کسی کاروبار میں مصروف ہے۔ اسلام آباد بن جانے کے بعد اس شہر کے کچھ امتیازی ادارے یہاں سے اسلام آباد منتقل ہو گئے ہیں مثلاً سفارت خانے اور سفارتی دفاتر جو کراچی میں تھے اسلام آباد چلے گئے کہ ملک کا مرکزی شہر اور دارالحکومت اسلام آباد بنا دیا گیا‘ اس طرح کراچی کی سیاسی حیثیت میں کمی آ گئی مگر اس کی دوسری کئی حیثیتیں برقرار رہیں۔
ملک کی بندرگاہ اسی شہر میں ہے اور کاروباری مرکز ہے۔ صنعتیں بھی زیادہ تر یہیں ہیں غرض ملک کے باقی حصوں میں کراچی سے مانگے تانگے کے کچھ ادارے اور مراکز موجود ہیں مثلاً فیصل آباد میں کپڑے کا کام سب سے زیادہ ہوتا ہے اسی طرح کسی دوسرے شہر میں زندگی کے کسی شعبے کی مرکزیت زیادہ ہو گی لیکن کچھ بھی ہو کراچی ہی سب سے اہم شہر ہے اور پورے ملک کا کاروبار کراچی کے راستے سے چلتا ہے۔

آزادی کے بعد جب آبادی کی نقل و حرکت شروع ہوئی تو بھارت سے ایک بڑی تعداد کراچی منتقل ہو گئی خصوصاً یوپی وغیرہ جن کی زبان بولنے والے کراچی میں بہت تھے یا ان کی مسلسل آمد کی وجہ سے بہت ہو گئے تھے۔ کراچی صوبہ سندھ کا شہر اور صوبائی مرکز تھا لیکن اس نقل مکانی کی وجہ سے اس کی زبان بھی اردو ہی ہو گئی اور ظاہر ہے کہ اردو بولنے والے بھی زیادہ ہو گئے۔ کراچی سندھ کا بڑا شہر بن گیا لیکن بدامنی کراچی میں بہت کم رہی۔ کاروبار کی وجہ سے یہاں جب سرمایہ بڑھ گیا تو اس کی وجہ سے تاجروں اور کاروباری لوگوں کو لوٹنے والے بھی پیدا ہو گئے پھر بات بڑھتی گئی اور اتنی زیادہ کہ قتل و خونریزی میں بھی یہ شہر بڑھتا گیا اور بوری بند لاشیں ملنی شروع ہو گئیں۔

کراچی کی بدامنی اتنی بڑھ گئی کہ فوج کو اپنے امن کے دستوں کی مدد سے کام لینا پڑا اور اس شہر میں امن قائم کرنے کے لیے رینجرز کو اپنے معمول سے ہٹ کر کام کرنا پڑا۔ اس کے اندازے کے لیے کراچی کے مسائل پر ایک اجلاس کے بارے میں جنرل راحیل کا بیان کافی ہے وہ بتاتے ہیں کہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے اور ان کا انفراسٹرکچر ختم کر دیا ہے۔ کراچی سے باہر بھی ان کے ٹھکانوں اور رابطوں کو توڑا گیا ہے۔ خفیہ آپریشن کے دوران بڑی بڑی کامیابیاں ہوئیں۔ جنرل نے اعلان کیا کہ وہ کراچی والوں کو بے خوف بنائیں گے اور اس ضمن میں امن و امان قائم کرنے والے تمام اداروں سے کام لیں گے۔

کراچی سے جو غیر سرکاری اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شہر پھر سے انسانوں کی رہائش کے قابل ہو گیا ہے اور بدامنی کی زبردست لہر اب ٹوٹ چکی ہے اور دہشت گردی اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ کراچی کے شہری اپنی روز مرہ کی مصروفیات میں لگے ہوتے ہیں اور شہریوں کے دلوں سے خوف ختم ہو رہا ہے بلکہ ہو چکا ہے۔ یہی وہ خوف و ہراس تھا جس نے اس شہر کی روایتی زندگی اس سے چھین لی تھی اور فوج کا یہی ایک بڑا کارنامہ ہے کہ خوف کی فضا ختم کی گئی ہے۔ اب کراچی بدل چکا ہے اور بے خوف ہے۔

عبدالقادر حسن