Sunday, July 5, 2015

کراچی کیوں میتّیں گنتا رہا؟

کراچی میں شدید گرمی کی لہر میں تقریباً تیرہ سو افراد کے ہلاک ہو جانے کے کئی دن بعد بھی ہر کوئی حیران ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ اس سال اتنے زیادہ لوگ گرمی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

محمد بلال گذشتہ 25 سال سے ایک خیراتی ادارے کے ساتھ کام کر رہے اور ان برسوں میں وہ ہزارہا لاشوں کو ایک مقام سے دوسری جگہ لے جاتے رہے ہیں لیکن وہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی گرمی سے اتنے زیادہ لوگوں کو مرتے نہیں دیکھا۔
اس مرتبہ تو ’ پورے شہر سے مسلسل لاشیں آ رہی تھیں۔
محمد بلال کراچی کی مرکزی بندرگاہ کے قریب واقع ایدھی فاؤنڈیشن کے صدر دفتر کے انچارج ہیں۔
دو کروڑ لوگوں کے اس شہر میں ایدھی کے اہلکار روزانہ اوسطاً 40 سے 50 میتّوں کو اپنی گاڑیوں میں شہر کے مختلف علاقوں سے لاتے ہیں، لیکن محمد بلال کے بقول انھیں یاد نہیں کہ اس مرتبہ انھیں کل کتنی لاشیں اٹھانا پڑیں۔

 ہم ان ابتدائی لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے اتوار 21 جون کو خطرے کی گھنٹی بجانا شروع کر دی تھی جب گرمی سے مرنے والوں کی لاشیں غیر معمولی تعداد میں ہمارے مردہ خانے پہنچنا شروع ہوئیں۔
  ایدھی کے مردہ خانے کو کراچی شہر کا سب سے بڑا مردہ خانہ سمجھا جاتا ہے لیکن ان دنوں یہاں پر موجود سہولیات بھی ناکافی ثابت ہو رہی تھیں۔
’اتوار کے بعد کے آٹھ دنوں میں ہمیں 900 میتّیں وصول ہوئیں۔ ہمیں کئی ایک گھرانوں کو انکار کرنا پڑا۔ شہر میں قبرستانوں میں تدفین کے لیے جگہ بھی کم پڑ گئی۔

تقریباً 260 لاشیں ایسی تھیں جن کی کبھی شناخت نہیں ہو سکی۔ سرکاری حکام کے خیال میں ان میں اکثریت بے گھر افراد کی تھی جو سڑکوں پر سوتے تھے یا منشیات کے عادی لوگوں کی۔ ایسی لاشیں جن کا کوئی والی وارث سامنے نہیں آتا اور اکثر جن کا نام بھی معلوم نہیں ہو پاتا، انھیں ایدھی کے اپنے قبرستان میں دفنا دیا جاتا ہے۔

گذشتہ ماہ کراچی ہی نہیں بلکہ سندھ اور بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو گیا، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کراچی میں اتنی زیادہ اموات کیوں ہوئیں۔

کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ گرمی رمضان میں پڑی جب اکثر لوگ روزے سے ہوتے ہیں؟ یا اس کی وجہ بجلی کی طویل بندش اور کمی اور کراچی میں پانی کی شدید قلت تھی؟ اس کے علاوہ کئی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ شاید فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جن کی وجہ سے اس قدر شدید گرمی پڑ رہی ہے۔

جواب اتنا واضح نہیں ہے، اگرچہ سرکاری اہلکاروں کا اصرار ہے کہ شاید یہ ان تمام عنصر کا مجموعی اثر تھا کہ گرمی قابو سے باہر ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ مارے گئے۔

جو لوگ گرمی کی اس لہر میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں بڑی تعداد کمزور اور نادار افراد کی تھی اور مرنے والوں کی اکثریت ان ضعیف لوگوں پر مشتمل تھی جو اس لہر کے آنے سے پہلے ہی بیمار تھے۔

شہر کے کم آمدنی والے علاقے بلدیہ ٹاؤن کے 65 سالہ رہائشی شریف علی کہتے ہیں کہ ’ میں کراچی میں کئی شدید موسم گرما دیکھ چکا ہوں لیکن اس قدر دم گھوٹنے والی گرمی کا تجربہ مجھے آج سے پہلے نہیں ہوا۔‘ شریف علی کی بیمار اہلیہ کو اس گرمی میں ’ہِیٹ سٹروک‘ ہوا اور وہ چل بسیں۔
’سانس لینا مشکل ہو رہا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ ہوا میں آکسیجن رہی ہی نہیں۔

غصہ و پریشانی 

ایک چیز جو صاف دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ حکام سمیت زیادہ تر لوگ بے خبر تھے کہ اس سال گرمی کی لہر اس قدر جان لیوا ثابت ہو گی۔ اسی لیے محکمۂ موسمیات کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ اس آفت کی پیشن گوئی کیوں نہ کر سکے اور انھوں نے لوگوں کو بروقت خبردار کیوں نہیں کیا۔
جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد گرمی سے نڈھال ہونا شروع ہو گئی تو سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا تانتا بندھ گیا۔

کراچی کے ’جناح ہسپتال‘ میں گرمی کی آفت سے نمٹنے میں پیش پیش رہنے والی ڈاکٹر سیمی جمالی کہتی ہیں کہ ’ہم یہاں تھوڑی بہت افراتفری کے عادی ہیں لیکن یہ آفت ہمارے لیے بھی بہت بڑی تھی۔ ہزاروں لوگ شدید غصے اور پریشانی میں ہسپتال کے باہر جمع تھے اور صورتحال کسی بھی وقت پرتشدد شکل اختیار کر سکتی تھی۔

’امن بحال کرنے کے لیے اگر وقت پر یہاں فوج نہ آتی تو ہم گرمی سے متاثر ہونے والے ان ہزاروں مریضوں کو نہ دیکھ پاتے جو ہمارے ہاں لائے جا رہے تھے۔

غیر ذمہ دارانہ رویہ

ناقدین کا کہنا ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت نے لوگوں کی مصیبت سے نمٹنے میں شدید سست روی کا مظاہرہ کیا۔

جب کراچی میں سینکڑوں لوگ مر رہے تھے، اس وقت حکمران پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری اور ان کے گھرانے کے دیگر با اختیار افراد نے ملک سے چلے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی طرح صوبائی حکومت بھی اس آفت کا مقابلہ کرنے میں بے عملی کی شکار دکھائی دی۔
شہرمیں سینکڑوں افراد کی موت کے پُورے ایک ہفتے بعد بلال بھٹو واپس کراچی لوٹے اور ایک سرکاری ہپستال کا دورہ کیا جہاں انھوں نے گرمی سے متاثر مریضوں کی عیادت کی۔

اُس وقت تک پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں بارہ سو افراد مر چکے تھے۔
ہسپتال کے دورے کے بعد بھی بلاول زرداری بھٹو نے اس سانحے کے دوران صوبائی حکومت کی درد انگیز سست روی کی کوئی توجیح پیش نہیں کی۔ نہ صرف یہ بلکہ انھوں ان اموات کا الزام وفاقی حکومت اور ایک نجی کمپنی کی جانب سے بجلی کی بندش پر لگا دیا۔

اس موقعے پر پاکستانی سیاستدانوں کی جانب سے الزامات سے انکار اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا کسی کو بھی اچھا نہیں لگا۔ پاکستان کے سینیئر تجزیہ نگار زاہد حسین کے بقول ’کراچی میں اموات اور انسانی بے بسی کی ذمہ داری موسم کے ظلم سے زیادہ نا اہل صوبائی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر عائد ہوتی ہے۔

شاہ زیب جیلانی 
بی بی سی نیوز، کراچی

Wednesday, July 1, 2015

لاوارث شہر قائد

جس شہر میں ملک کے بانی کا بے بسی اور لاوارثی میں انتقال ہوا تھا، اسی شہر میں قائد کی وفات کے 67 سال بعد ایک ہزار سے زائد افراد بے بسی کی حالت میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور حکمران اس لاوارث شہر کے سیکڑوں لاوارثوں کی موت پر تماشائی بنے رہے۔ انھوں نے لاوارث شہریوں کی موت پر افسوس کا اظہار کر کے مرنے والوں پر احسان اور اپنی حکمرانی کا فرض ادا کر دیا۔

وزیر اعظم کے عزیز اور بجلی و پانی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ گرمی سے اگر کوئی مر جائے تو اس کی ذمے دار حکومت نہیں ہے۔ بجلی کے اس منہ زور وزیر کو اگر کچھ اسلامی تاریخ سے شناسائی ہوتی تو انھیں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کی یہ بات یاد ہوتی کہ دریائے فرات کے قریب اگر ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو اس کا ذمے دار بھی میں ہوں گا۔
اب سندھ حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ کراچی میں گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں پر وفاقی حکومت اور کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔ کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ تو دور کی بات ہے کے الیکٹرک کے خلاف بولنے کی تو کراچی کی ٹھیکیدار سیاسی پارٹیوں میں بھی جرأت نہیں تھی۔ کے الیکٹرک کی بے حسی سے کراچی میں جو سیکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔
اس سے قبل کراچی کی نمایندگی کرنے کے دعویداروں اور حکومتی پارٹی کے جیالوں کو کبھی کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج اور دھرنوں کا تو کیا کبھی مذمتی بیانات دینے کا بھی خیال نہیں آیا تھا کیونکہ ان پارٹیوں کے سیکڑوں افراد کو بھاری تنخواہوں پر ملازمتیں دے کر ان پارٹیوں کی کے الیکٹرک نے زبان بندی کر رکھی ہے۔ ان کے کارکنوں کی بھرتی کی وجہ بھی یہی تھی کہ کے الیکٹرک کراچی کے صارفین کے ساتھ جو لوٹ کھسوٹ کرے شہریوں کو غیر قانونی بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں مارے اضافی بلوں کے ذریعے 5 ارب روپے غیر قانونی طور پر ماہانہ کمائے مگر کوئی زبان نہیں کھولے گا وگرنہ ان کے رکھوائے گئے کارکنوں کو فارغ کر دیا جائے گا۔
کراچی میں سیاست کرنے والوں کو سیکڑوں افراد کی ہلاکت پر اب مجبوراً کچھ بولنا پڑا ہے مگر کچھ دنوں بعد جب معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا تو سب خاموش ہو جائیں گے اور پھر پہلے کی طرح کے الیکٹرک ہو گی اور شہر قائد کے بے بس صارفین بجلی اور لاوارث شہری۔

وزیر بجلی خواجہ آصف نے کہہ دیا ہے کہ کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں نہیں لیا جائے گا جب کہ مملکتی وزیر بجلی عابد شیر علی نے کہا تھا کہ نا اہلی پر کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں جس میں کے الیکٹرک کے با اثر بڑے بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کی یہ ہمت نہیں تھی کہ کے الیکٹرک کو کوئی وارننگ ہی دے دیتے وہ صرف کے الیکٹرک سے درخواست کرتے رہے کہ وہ اپنا سسٹم بہتر بنائے۔

کے الیکٹرک کے سی ای او نے اپنی نااہلی تو کیا اپنی کوئی غلطی ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے کیونکہ گرمی قدرت نے بڑھائی تھی گرمی بڑھی تو ذمے دار شہری تھے جنھوں نے بجلی زیادہ استعمال کی اور جب بجلی نہ ملی تو شدید گرمی برداشت نہ کر سکے اور اپنے حقیقی مالک کی طرف چلے گئے۔ ان کے مرنے میں واقعی کے الیکٹرک کا کیا قصور جان اسی نے لی جس نے دی تھی کے الیکٹرک کو شہریوں کی جانوں کی نہیں صارفین سے جبری وصول کیے جانے والے اضافی بلوں کی فکر رہتی ہے جن کی وصولی کے لیے اب دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
وزیر مملکت کے بقول کے الیکٹرک کی نجکاری جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئی، تحفظ پی پی نے کیا۔ وفاقی حکومت نے کہہ دیا کہ موجودہ حکومت کا قصور ہے ہی نہیں کے الیکٹرک کی نگراں سندھ حکومت ہے اب وہی نمٹے۔
 کے الیکٹرک کو من مانیوں کی اجازت وفاقی حکومت نے دی ہو یا سندھ حکومت نے۔ کے الیکٹرک سے معاہدے پر عمل کرانے کی ذمے داری کس کی ہے یہ تو عوام نہیں جانتے یہ ضرور جانتے ہیں کہ ان کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی اور وہ اپنے پیٹ کاٹ کر بجلی کے اضافی بل بھی بھر رہے ہیں اور گرمی سے مر بھی خود رہے ہیں کیونکہ وہ لاوارث شہر کے شہری ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے رمضان سے قبل واضح طور پر کہا تھا کہ ملک بھر میں سحری و افطار کے وقت لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی مگر ہوا کیا وزیر اعظم کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے اور ملک بھر میں وہ کچھ ہوا جس کا تصور نہیں تھا۔ مگر وزیر اعظم نے اظہار برہمی کے سوا کچھ نہ کیا۔ ملک بھر میں وزیر بجلی اور مملکتی وزیر بجلی کو ہٹانے کے مطالبے ہو رہے ہیں۔

سندھ حکومت نے بھی اپنے قائد کے حکم پر لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج اور دھرنا دے کر وفاقی حکومت سے احتجاج شروع کر دیا ہے جو عوامی نہیں سیاسی ہے۔ سندھ حکومت تو اے سی کمروں سے نکلنے کی عادی نہیں اس لیے مزار قائد کی گرمی کی بجائے سندھ اسمبلی ہی کو احتجاجی مرکز بنایا گیا تا کہ شدید گرمی میں کسی کو جانی نقصان نہ ہو اور اسمبلی کے ٹھنڈے کمرے وقت پر کام آ سکیں۔
وفاق ہو یا سندھ حکومتیں اے سی کمروں میں رہنے کی عادی ہیں۔ ارکان اسمبلی ہوں یا 17 گریڈ کا سرکاری افسر سب اے سی کے عادی ہو چکے ہیں انھیں کیا پتہ کہ بجلی نہ ہو، پنکھے ہی نہیں چل سکتے اور رمضان المبارک کی ابتدا شدید گرمی میں ہوئی جس کا حکومت کو اندازہ نہیں تھا۔

حکومتی لوگوں کو تو جنریٹر میسر ہیں انھیں کیا پتہ کہ بجلی کے بغیر وقت کیسے گزرتا ہے۔ قیامت کی گرمی میں بجلی نہ ہو تو پانی بھی نہیں ہوتا، روزے داروں نے تو وقت گزار لیا جس کا صلہ اللہ دے گا اور جو گرمی سے مر گئے انھیں غسل دینے کے لیے لاوارث شہر میں پانی میسر تھا نہ میتیں رکھنے کے لیے سرد خانے۔ ہلاکتیں اتنی بڑی تعداد میں ہوئیں کہ قبروں کا ملنا ناممکن ہو گیا۔ چند ہزار میں ملنے والی قبر کے چالیس ہزار مانگے گئے۔ شہری برف کے لیے مارے مارے پھریں۔ سرد خانوں میں صرف نجی ادارے آگے تھے جن کے سرد خانے چھوٹے پڑ گئے۔

لاوارث دو کروڑ آبادی کے شہر میں کوئی سرکاری سرد خانہ نہیں۔ میتوں کے لیے ایمبولینسیں بھی کم پڑ جائیں تو اس شہر میں کیسی قیامت برپا ہو گی اس کا احساس وزیر اعظم نواز شریف کو بھی نہ ہوا کیونکہ یہ قیامت کراچی میں آئی لاہور میں نہیں وگرنہ وزیر اعظم نواز شریف ضرور کراچی آتے۔ سندھ کے حکمرانوں نے جن کا کراچی آبائی شہر تو نہیں مسکن ضرور ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نوڈیرو جانے کے بعد پتہ نہیں کہاں چلے گئے انھیں بھی اپنے بچوں کی جائے پیدائش کراچی یاد نہ رہا۔ کوئی وزیر گرمی کے مریضوں کی عیادت کے لیے اسپتال نہیں گیا۔

سندھ کی حکمراں پارٹی کے نوجوان چیئرمین شہر میں کہیں نظر آئے نہ ضعیف العمر وزیر اعلیٰ ٹھنڈے کمروں اور ٹھنڈی کاروں سے باہر کہیں نظر آئے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت نے بھی اپنے شہریوں کا حال پوچھنا ضروری نہ سمجھا۔ شہر بھر میں بجلی سے محروم لوگ احتجاج میں ٹائر اور لکڑیاں جلا کر مزید گرمی بڑھاتے رہے۔

دن کی گرمی کے بعد لوگوں کو رات کو بھی بجلی سے محروم رہ کر راتیں جاگ کر گزارنا پڑیں ایسے میں کراچی کی بڑی مسجدوں نے روزے داروں کو بڑا سہارا دیا جہاں وضو کے لیے پانی بھی ملا اور جنریٹروں سے چلنے والے پنکھوں کی ہوا بھی میسر آئی۔ کسی کو کراچی کے لاوارث شہریوں کا خیال نہ آیا تو وہ عوامی حکومتیں تھیں پھر شہریوں نے یہ سمجھ کر صبر کر لیا کہ جہاں بانی پاکستان اور گورنر جنرل کو آخری وقت میں نہ پوچھا گیا تو لاوارث شہریوں کو کون پوچھے گا؟

محمد سعید آرائیں