Sunday, February 1, 2015

کراچی یا1980ء کا بیروت....


یادش بخیر!سابق چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری نے21ستمبر2013ء کو کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے دوران کہا تھاکہ’ کتنی تشویشناک بات ہے کہ شہر کی دکانوں سے لانچر اور اینٹی ایئر کرافٹ گن مل رہی ہیں ، سب کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں،حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں۔ اسرائیل، نیٹو ، امریکا اور بھارت کا اسلحہ آرہا ہے ، غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی کے لئے کرفیو بھی لگایا جاسکتاہے‘۔

 جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے تھے کہ ’یہاں اسلحہ کرائے پر مل رہا ہے، ہمارے زمانے میں تو سائیکل کرائے پر ملتی تھی‘۔ یاد رہے کہ 2011ء میں بھی سابق چیف جسٹس نے انتباہ کیاتھا کہ ’کراچی ’مِنی پاکستان‘ ہے اور اس شہر کو اگر آج کنٹرول نہیں کریں گے تو کبھی کنٹرول نہیں ہو گا‘‘۔ اسی تناظر میں فروری 2013 ء کوسپریم کورٹ نے حکومت سندھ سے کہا تھا کہ وہ اس عنوان کا اشتہار دے کہ’’شہری اپنی ذمہ داری پر گھروں سے نکلیں، 22 ہزار ملزم آزاد گھوم رہے ہیں، بد امنی کے باعث کراچی میں شفاف انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے، سیاسی مصلحتوں کے باعث حکومت قانون سازی نہیں کر رہی ، اس نے طے کر لیا کہ قاتلوں اور لٹیروں کو نہیں پکڑنا، عوام کا اداروں پر اعتماد ختم ہو گیا‘‘۔

 یہ کس قدر شرمناک اور افسوسناک بات ہے کہ عدالت عظمیٰ شہریوں کو یہ ہدایت کرنے پر مجبور ہوئی کہ وہ اپنے بچوں کو امام ضامن باندھ کر باہر بھیجا کریں۔ 2011ء میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے دوران کراچی کے18سو شہریوں کو لقمۂ اجل بنناپڑا تھا۔ پچھلی حکومت کے پانچ برس میں جتنے شہری’’ ٹرائیکا‘‘کی شہر پر قبضہ کرنے اور دھاک بٹھانے کی جنگ میں فنا کے گھاٹ اتارے گئے اتنے شہری ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان کی ’آزادی کی جنگ‘ میں بھی ہلاک نہیں ہوئے۔

زرداری حکومت کے پانچ سالوں میں صرف کراچی شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے دوران جاں بحق ہونے والے عام شہریوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق کسی بھی طور پانچ ہزار سے کم نہیں۔ ان شہریوں میں سے کسی کا ایک قاتل بھی آج تک گرفتار نہیں ہو سکا۔ سندھ میں دہشت گردوں کی دہشت کا عالم یہ ہے کہ اگر جرأت و ہمت سے کام لیتے ہوئے اُن کے خلاف کسی تھانے میں کوئی نامزد پرچہ کرا بھی دیا جائے تو چند ہی ماہ میں پولیس کے تفتیشی افسران، گواہوں اور مدعیوں کے لرزہ خیز قتل کی خبریں بتدریج سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ میں مارے جانے والے عام شہریوں کے ورثاء کی اکثریت ایف آئی آر درج کرانے اور گواہی دینے سے ڈرتی ہے۔جب یہ صورت ہو تو حکومت از خود حق حکمرانی کھو دیتی ہے۔ 

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کہ’ کراچی میں آپریشن کلین اَپ کے سوا چارہ نہیں‘ محض ایک آبزرویشن نہیں بلکہ 18 کروڑ پاکستانیوں کے محسوسات، جذبات اور خیالات کی عکاسی ہے۔ کسی وجود میں اگر چھوٹا موٹا کوئی زخم ہو تو مرہم اور پھا ہا اس کا سامانِ اندمال ہو سکتے ہیں لیکن جب یہ زخم ناسور بن جائے تو پھر اس کے لیے یقیناًکیمیوتھراپی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔کراچی کے تیزی سے بگڑتے حالات پر ہر محب وطن شہری مضطرب ہے۔ وہ اصلاح احوال چاہتا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کراچی کے شہری1980ء کے بیروت کے شہریوں سے بھی بدتر صورت حال سے دو چار ہیں۔

یہاں اس امر کا ذکر ناگزیر ہے کہ غیر قانونی اسلحے اور ریونیو چوری ہونے سے متعلق سپریم کورٹ کے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ رمضان بھٹی نے اپنی رپورٹ میں تحریری طور پر عدالت کو بتایا تھاکہ ’میری ٹائم اور کسٹم کا دعویٰ ہے کہ اس بات کے امکانات ہیں کہ ہمسایہ ملک سے اسلحہ گہرے سمندر سے لایا جاتا ہے اور وہاں سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ساحلی علاقے تک لایا جاسکتا ہے ،کسٹم کلکٹریٹ کے پاس تیز رفتار بوٹس بھی نہیں ہیں کہ وہ ایک ہزار کلومیٹر ساحلی علاقے کی نگرانی کرسکیں‘۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’ساحلی پٹی پر 39 مقامات ہیں جہاں پر لا نچیں آسانی سے لوڈ کی جاسکتی ہیں اور سامان اتارا جاسکتا ہے تاہم ان میں سے صرف 7 مقامات پر کسٹم کا عملہ تعینات ہے جبکہ 32 مقامات پر میری ٹائم اور کوسٹ گارڈ کا چیکنگ کا کوئی نظام نہیں ہے‘۔

ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ جہاں وزیرستان اورقبائلی علاقوں کے شدت پسند اور علیحدگی پسند ملکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں، وہاں بلوچستان اورکراچی کے عسکریت پسند بھی ناقابل معافی ہیں۔ کراچی کے حالات سے بھی چشم پوشی نہ کی جائے، پاکستان کے اس اقتصادی دارالحکومت میں دہشت گردی کا جو عفریت مافیاز کی شکل میں پھنکار رہا ہے، اس کا قلع قمع کرنا بھی مقتضیات وقت میں سے ہے۔ کون نہیں جانتا کہ عالمی، علاقائی اور قومی سطح پر کراچی شہر کا تشخص پاکستان کے اقتصادی دارالحکومت کاہے۔ سیکولر لسانی اور قوم پرست فاشسٹ مافیا ز نے تخریب کاری، دہشت گردی اور قتل و غارت کی بہیمانہ وارداتوں کے ذریعے اس پُر وقار تشخص کو اس حد تک مسخ کر دیا ہے کہ عالمی سرمایہ کار تو کجا امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث مقامی سرمایہ کار بھی سرمائے سمیت یہاں سے پرواز کر رہا ہے۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ شہر قائدمختلف مافیاز کے نرغے میں ہے۔ شہر قائد کو مافیاز کے محاصرے سے نجات دلانے کے لیے کراچی کی مؤثر اور با رسوخ جماعتوں کو ٹھوس، مثبت اور عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔کراچی میں ہر روز 125 کروڑ سے 150 کروڑ تک کی رقم بھتہ خور مافیا کو شہری اور کاروباری حضرات ’’دان‘‘ کرنے پر مجبور ہیں۔ شہری اس حد تک خوفزدہ ہیں کہ وہ بھتہ خوروں کے نام بھی ہونٹوں پر لانے سے گھبراتے ہیں۔

 سچ تو یہ ہے کہ بھتہ خور مافیا کی دہشت گردی کے سامنے طالبان کی دہشت گردی بھی ماند پڑ گئی ہے۔ اس پر بعض حلقوں کا یہ تجزیہ لائق توجہ ہے کہ ٹارگٹ کلر اور بھتہ خور مافیا کی دہشت گردی کو اس لیے برداشت کیا جا رہا ہے کہ اس کے مرتکبین علانیہ سیکولر ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ تو کیا سیکولر دہشت گردی ایک قابل قبول عمل ہے۔ حکومت کی جوائنٹ انوسٹی گیشن رپورٹ میں جن چار جماعتوں اور فشاری گروہوں کی نشاندہی کی گئی تھی، اُن میں سے کسی ایک کے خلاف اب تک حکومتی سطح پر کوئی مؤثر اور نتیجہ خیز کارروائی نہیں کی جا سکی۔ جن ارباب حکومت کی ذمہ داری یہ کارروائی کرنا ہے ، وہ اپنے اقتدار اور حکومت کا طرۂ امتیاز مفاہمت کی پالیسی اور مفاہمت کی سیاست کو قرار دیتے ہیں۔ مفاہمت کی سیاست کا مطلب اگر شہریوں کو مختلف انسانیت دشمن مافیاز کا چارا بناکر اُن کی زندگیوں کو عذاب مسلسل سے دو چار کرنا ہے تو عوامی رائے یہ ہے کہ ایسی مفاہمت کی سیاست سے توبہ ہی بھلی۔

گزشتہ کئی برسوں سے یہ معمول ہے کہ کراچی میں ہر سال تقریباً60دن ہنگاموں، مظاہروں، جلسوں، جلوسوں، ہڑتالوں ، دہشت گردانہ و تخریب کارانہ کارروائیوں کی وجہ سے تجارتی مراکز اور صنعتی ادارے بند رہتے ہیں۔ اگر یہ مراکز اور ادارے ایک دن بند رہیں تو تقریباًصنعت کاروں ، دکانداروں اور تاجروں کو 10ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ 30لاکھ کے قریب مزدور اور دیہاڑی دار محنت کش بیکاراور بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ ایک دن کی ہڑتال سے FBRکو دو ارب روپے کے محصولات سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ 

یوں گویا ہر سال کاروباری طبقہ کو 6 سو ارب روپے اور FBR کو ایک کھرب 20ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔متحدہ کے قائد کراچی کے شہریوں کے بوجوہ پاپولر لیڈر ہیں اور صوبائی اور قومی اسمبلی کی اکثر نشستوں پر عام انتخابات میں ان کی جماعت کے نامزد امیدوار ہی ٹھپہ شاہی کی بدولت کامیاب ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم ہر دور میں وفاق اور صوبے میں حکمران جماعت کے اتحادی کی حیثیت سے جملہ مراعات و سہولیات کے حصول کے ساتھ ساتھ مختلف وزارتوں کے قلمدان بھی ہتھیالیتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ تقریباً12برس سے سندھ کی گورنری بھی متحدہ ہی کے پاس ہے۔ 

گویا وفاق اور سندھ میں متحدہ ہی حکومت میں رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے میں زرداری دور میں متحدہ کے قائد یہ مطالبہ کس سے کر رہے تھے کہ ’سندھ حکومت دہشت گردی کے واقعات کو کنٹرول کرے‘۔حقیقت یہ ہے کہ اگر متحدہ چاہے اور اس کے وابستگان فعالیت اور تندہی سے کوشش کریں تو کراچی شہر میں 1984ء سے قبل کے دور کی رونقوں کا احیاء کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات زبان زد عام ہے کہ ’’تین الف‘‘ ایسے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو کراچی میں امن کے قیام کی راہیں بآسانی ہموارکی جا سکتی ہیں۔ یہ تین الف استعارہ ہیں، آصف علی زرداری، الطاف حسین اور اسفند یار ایسی مقتدر، معتبر اور بارسوخ شخصیات سے۔ کون نہیں جانتا کہ کراچی میں متحدہ ، پیپلزپارٹی اور اے این پی کا اثر و رسوخ ہے اور یہ تینوں جماعتیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں ایک دوسرے کی اتحادی بھی ر ہیں لیکن ستم ظریفانہ المیہ یہ ہے کہ اکثر بڑے خونریز واقعات کے بعد ایک عرصہ تک یہ تینوں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتی رہیں۔ اس کے باوجود سچ یہ ہے کہ اگر یہ ٹرائیکاعزم صمیم کر لے کہ کراچی کے امن کو بحال رکھناہے تو شہر قائد میں تجارتی، شہری، کاروباری، تفریحی، علمی، ادبی اور ثقافتی گہما گہمیوں اور سرگرمیوں کی گل شدہ شمعوں کو اجالنا ہو گا۔

حافظ شفیق الرحمن

Saturday, January 24, 2015

سرکلر ریلوے اور کراچی کے عوام....


جاپان نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا منصوبہ ترک کر دیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار جاپان سے کئی ترقیات منصوبے لے کر آئے مگر ان منصوبوں میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا منصوبہ شامل نہیں ہے۔ کراچی کے شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے بہتر ہونے کی جو امید قائم ہوئی تھی وہ ختم ہو گئی۔
ان کے مقدر میں ٹوٹی پھوٹی بسیں اور چینی ساختہ موٹر سائیکل چنگ جی رہ گئے ہیں۔ جاپان کے ترقیاتی ادارے ’’جائیکا‘‘نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے خطیر مقدار میں مالیاتی گرانٹ اور ٹیکنیکل امداد فراہم کرنے کی پیش کش کئی سال پہلے کی تھی۔ جاپانی ماہرین کو کراچی سرکلر ریلوے کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کراچی کا دورہ کرنا تھا۔ مگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں امن و امان کی صورت حال کو بہتر نہ بنا سکیں اور سیکیورٹی کلیئرنس کا معاملہ جاپانی ماہرین کے دورے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔

صوبائی حکومت کے ذمے سرکلر ریلوے کی زمینوں سے تجاوزات کے خاتمے کا فریضہ تھا۔ سندھ حکومت نے سرکلر ریلوے کی زمین پر قابضین سے خالی کرانے کے لیے کئی سال تک اجلاس کیے مگر عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ کراچی شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ کی تاریخ کچھ عجیب سی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت کراچی ایک چھوٹا شہر تھا۔ یہ شہر کیماڑی کی بندرگاہ سے شروع ہوکر لیاری، گارڈن، رنچھوڑ لائن، پارسی کالونی، دادابھائی نوروجی روڈ اور جیل پر ختم ہو جاتا تھا۔ دوسرا حصہ کلفٹن پر ختم ہوتا تھا۔ ملیر کا شاداب علاقہ لیاری سے دور تھا۔ جو نیشنل ہائی وے سے منسلک تھا۔ شہر میں بڑی بسیں ، ٹرام اور بگھیاں چلتی تھیں۔ کراچی میں ٹرام بمبئی سے پہلے چلی تھی۔ ٹرام کیماڑی سے ٹاور، بولٹن مارکیٹ ، چاکیواڑہ، صدر، کینٹ اسٹیشن اور سولجر بازار تک جاتی تھی۔

آزادی کے بعد جب لاکھوں لوگ کراچی میں آباد ہوئے تو بہت سی کالونیاں اور سوسائیٹز بن گئیں۔ یوں لالو کھیت، فیڈرل بی ایریا ، ایک طرف اور دوسری طرف ڈرگ کالونی، ملیر لانڈھی تک پھیل گیا۔ پھر بڑی بسیں کم پڑ گئیں۔ صنعتی ترقی کی بناء پر لوگ پنجاب اور خیبر پختون خوا سے آ کر کراچی میں آباد ہونے لگے تو پٹھان کالونی، بنارس کالونی آباد ہوئی۔ شیر شاہ، مہاجر کیمپ، لانڈھی وغیر ہ میں آبادی بڑھ گئی۔ ایوب خان کی حکومت نے ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے سرکلر ریلوے چلانے کا فیصلہ کیا۔ سرکلر ریلوے ایک طرف سٹی اسٹیشن سے پپری تک، مرکزی ریلوے لائن استعمال کر تی تھی۔

دوسری طرف اس کی پٹری کے پی ٹی، وزیر مینشن، آگرہ تاج، بلدیہ، سائٹ، جامعہ کراچی، ناظم آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر سے ہوتی ہوئی ڈرگ روڈ اسٹیشن پر مرکزی لائن سے منسلک ہو جاتی تھی۔ وزیر مینشن سے سائٹ، ناظم آباد آنے والے ریل گاڑی کا اختتام پپری پر ہوتا تھا۔ سرکلر ریلوے نے پپیری، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی سے کینٹ اسٹیشن تک کا سفر مختصر کر کے 20 سے 30 منٹ پر محیط کر دیا تھا۔ سٹی اسٹیشن `آئی آئی چندریگر روڈ پر ہونے کی بناء پر چندریگر روڈ اور اطراف کے علاقوں کے سرکاری دفاتر، مالیاتی اداروں، بینکوں، اسٹاک ایکسچینج اور دوسرے اداروں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد آسانی سے سفر کرتے تھے۔ 70 اور 80 کے دہائی کے دور میں سرکلر ریلوے سے سفر کرنے والے مسافر بتاتے ہیں کہ صبح کے وقت پر 10 سے 15 منٹ کے وقفے سے چلتی تھی۔

یوں لوگ اپنے وقت کے مطابق اسٹیشن پر پہنچ جاتے۔ پھر شام کے اوقات میں سٹی اسٹیشن سے اسی طرح سرکلر ریلوے چلتی تھی۔ یوں یہی صورتحال وزیر مینشن، ناظم آباد جانے والی گاڑیوں کی ہوتی تھی۔ سرکلر ریلوے کی بناء پر کراچی شہر کی مرکزی شاہراہوں، شاہ راہ فیصل اور ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کا دباؤ کم رہتا تھا۔ اسی دوران ٹرانسپورٹ مافیا ایک مضبوط گروہ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ سرکلر ریلوے کے نظام میں خلل پڑنا شروع ہوا۔ ریلوے کی بیوروکریسی نے اس طرح ریلوے کا نظام الاوقات تیار کرنا شروع کیا کہ صبح و شام کے اوقات میں مسافروں کو سرکلر ریلوے میسر نہ ہو۔ پھر ریل کے انجن راستوں میں خراب ہونے لگے۔

ڈبوں میں صفائی کا نظام ختم ہوا۔ بلب اور پنکھے غائب ہو گئے۔ بلا ٹکٹ سفر کرنے والے مسافروں کی حوصلہ افزائی کے لیے چیکنگ کا نظام کمزور پڑا۔اس مجموعی صورتحال میں مسافروں کا اعتماد کمزور ہونے لگا اور ریلوے کی آمدنی بھی کم ہو گئی۔ ریلوے حکام نے سرکلر ریلوے کے نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کے بجائے گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ یوں آہستہ آہستہ سرکلر ریلوے ختم ہوتی چلی گئی۔ سرکلر ریلوے کے بند ہونے کے بعد ریل کی پٹریوں اور ریلوے اسٹیشن پر لینڈ مافیا نے قبضہ کرنا شرو ع کیا۔ کراچی شہر کی بد قسمتی یہ ہے کہ ریلوے کی زمین پر قبضہ کرنے والوں میں لینڈ مافیا کے ساتھ سرکاری محکمے بھی شامل ہیں۔

لینڈ مافیا کی سرپرستی برسر اقتدار حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور بیوروکریسی کرتی رہی ہے۔ کراچی کی نمایندگی کی دعویدار جماعتوں نے سرکلر ریلوے کی زمینوں پر کچی بستیاں آباد کرنے کے لیے نئے طریقے وضح کیے اور ان بستیوں کو لیز مل گئی اور خوبصورت مکانات تعمیر ہو گئے۔ حکومت سندھ اس لینڈ مافیا سے لڑنے کے لیے تیار نہیں۔ جاپانی حکومت کی ہدایت پر سرکلر ریلوے کی زمینوں کو خالی کرانے کا کام نہیں ہو سکا۔ جب ڈاکٹر عشرت العباد نے گورنر سندھ کا عہدہ سنبھالا تھا تو سرکلر ریلوے کی بحالی ان کے ایجنڈے میں شامل تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب ایم کیو ایم سندھ کی حکومت میں اہم حصے دار تھی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے پرویز مشرف ملک کے صدر اور شوکت عزیز وزیر اعظم تھے۔ ڈاکٹر عشرت العباد نے وزیر اعظم شوکت عزیز کو سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے تیار کیا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں دلچسپی لے رہی ہے پھر کراچی کے عوام کو سرکلر ریلوے کی بحالی کی خوش خبری دی گئی۔ مگر اسلام آباد کی بیوروکریسی نے اس منصوبے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔

نہ اس وقت کی سندھ حکومت نے کوئی لائحہ عمل تیار کیا۔ ایک دن اخبارات میں ایک بڑی تصویر شایع ہوئی جس میں وزیر اعظم شوکت عزیز کو سرکلر ریلوے کا افتتاح کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ مگر یہ ریل گاڑی صرف سٹی اسٹیشن سے ڈرگ روڈ تک چلی۔ اس سرکلر ریلوے کے ٹکٹ فروخت کرنے کا ٹھیکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ٹھیکیدار کو دیا گیا۔ جو چند ماہ تک نقصان برداشت کرنے کے بعد ٹھیکہ چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ سرکلر ریلوے کا معاملہ اخبارات کی خبروں اور اداریوں تک محدود ہو گیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے پرویز مشرف کی حکومت ختم ہوئی۔ اور کراچی کے ایک اور باسی آصف علی زرداری صدر پرویز مشرف کے جانشین بنے۔

صدر زرداری نے اپنے دور صدارت میں سیکڑوں غیر ملکی دورے کیے۔ وہ متعدد بار چین گئے ان کے دوروں کی خبروں میں چین کی مختلف کمپنیوں سے ایم او یو سائن کرنے کا ذکر ہوتا تھا۔ مگر کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کا معاملہ ان میں کبھی شامل نہیں ہو سکا۔ آصف زرداری نے کراچی شہر کو ایک بلڈر کے حوالے کر دیا۔ جو مغل شہنشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں سے مقابلہ کر رہا ہے۔ مگر حکومت سندھ کے ایجنڈے میں سرکلر ریلوے شامل نہیں ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں لاہور میں میٹرو بس کا منصوبہ کامیابی سے چل رہا ہے۔ چند مہینوں بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری بھی جدید میٹرو بسوں میں سفر کریں گے۔ کراچی کے شہری سوچتے ہیں کہ دنیا کے جدید شہروں کی طرح کیا کبھی کراچی میں انڈر گراؤنڈ ٹیوب چلے گی؟ مگر میاں صاحب کا دور بھی انھیں مایوس کر رہا ہے۔ شہری کھٹارہ بسوں کے دھکے کھا رہے ہیں۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

Wednesday, January 14, 2015

کراچی میں اغواء برائے تاوان....

سال گزشتہ جہاں بہت سارے غم اور دکھ دے کر رخصت ہوچکا ہے ‘ وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے شہر میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کسی حد تک کمی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے ۔اغواء برائے تاوان شہر ِکراچی میں بسنے والے ہر اس شخص کا مسئلہ بنا ہوا ہے جو کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور شہر قائد کے باسیوں کے لیے سٹریٹ کرائم ،بھتہ خوری اورٹارگٹ کلنگ کی طرح اغواء برائے تاوان بھی ایک تیزی کے ساتھ ابھرتا ہوا جرم ہے جوشہر میں فعال جرائم پیشہ عناصر کے لیے تھوڑی سی محنت کر کے بڑی رقم کمانے کا آسان طریقہ بن چکا ہے۔   

سی پی ایل سی چیف احمد چنائے کا کہنا ہے کہ دسمبر میں اغوا برائے تاوان کی ایک واردات ہوئی جب کہ مغوی کا باحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث گروہوں کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی وارداتوں میں ملوث گروپوإ کا خاتمہ کیا جاچکا ہے جن میں اندرون سندھ اور حب، بلوچستان کے گروہ بھی شامل ہیں جس کے باعث اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی آئی ہے اور ہم کراچی کے شہریوں کو بہت یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیںکہ وہ اب سکون کا سانس لے سکتے ہیں ۔ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے خاتمے لیے سال2014میں بنائی گئی رینجرز ٹاسک فورس کے سربراہ نجیب دانے والا کا کہنا ہے کہ ہم نے ایک سال کے دوران اغوا برائے تاوان میں ملوث 16گروہوں کا خاتمہ کیا اور سالِ گزشتہ کے دوران بھتہ خوری کے 84کیسوں کو حل کیا جس کے بعد ان ورداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس حوالے سے تشہیری مہم بھی جاری ہے کہ ان وارداتوں کے سدِ باب کے لیے عوام ان سے رابطہ کریں ۔

 انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایف نے نہ صرف بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان میں ملوث ملزموں کو گرفتار کیا بلکہ 16لاپتہ لڑکیوں کو بھی اپنے خاندان والوں سے دوبارہ ملوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اغوا ء برائے تاوان کی وارداتوں کے سدِباب کے لیے کام کرنے والے افسرو ں کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان کے گروہ بڑے منظم ہوتے ہیں‘ ریکی کے لیے الگ ٹیم ہوتی ہے ، جب کہ ہدف کو اغوا کر کے دوسرے ملزموں کے سپرد کردیا جاتا ہے جو انہیں شہر سے باہر یا دوسرے صوبے میں منتقل کردیتے ہیں‘ اس دوران راستے میں آنے والے کچی آبادیوں یا گوٹھ میں قائم مکانوں میں رکھا جاتا ہے۔ 

اس دوران مغوی کے گھر والوں سے رقم کا مطالبہ جاری رہتا ہے‘ اگر بات بن گئی تو ٹھیک ہے ،دوسری صورت میں انہیںکسی دوسری پارٹی کے سپرد کردیا جاتا ہے‘ اس طرح چند لاکھ روپے کے لیے اٹھائے گئے مغوی کی قیمت کروڑوں تک چلی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر سگنل یا دیگر چیزیں کام نہیں کرتی تو ہمیں مقامی کھوجیوں کی بھی مدد لینا پڑتی ہے۔ اغواء برائے تاوان جہاں ایک طویل مدتی کام ہے‘ وہاں شہر میں ایک دوسری بڑی وشارٹ ٹرم کڈنیپنگ بھی ہے جس میں ایک شخص کو اغوا کر کے اسے شہر میں گھمایا جاتا ہے اور اس دوران اس کے گھر والوں سے پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور پیسے کسی مخصوص مقام پر منگوا کر مغوی کو چھوڑا جاتا ہے ۔

 اس حوالے سے سے ایس پی‘ اے وی سی سی مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے بہت سارے گروہوں کا خاتمہ کیا جاچکا ہے تاہم اس کے باوجود شارٹ ٹرم کڈنیپینگ میں اہم مسئلہ ان واقعات کا رپورٹ نہ ہونا ہے تاہم اس کے سدباب کے لیے مختلف ٹیمیں کام کررہی ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی ان کا خاتمہ کردیا جائے گا۔  ٭

عاطف رضا

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...