Wednesday, September 17, 2014

کراچی: 400 ارب روپے مالیت کی زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ.......


کراچی میں میگروو کے جنگلات کے علاقے میں جنگلات کا صفایا کرکے حاصل کی گئی چھ سو ایکڑ کی زمین وزیراعلٰی سندھ کے سابق سیکریٹری کو غیرقانونی الاٹمنٹ دی گئی تھی، جس کے خلاف ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے حکومتِ سندھ کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) میں ایک شکایت درج کرائی ہے۔
ڈی ایچ اے کریک ایونیو اور کورنگی روڈ کے درمیان واقع اس زمین کی مبینہ غیرقانونی فروخت کو ایک ’میگا اسکینڈل‘ قرار دیتے ہوئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی شکایت میں اس زمین کی قیمت کا تخمینہ چار سو ارب روپے لگایا ہے۔
یہ علاقہ بحیرہ عرب کا ایک وسیع دہانہ ہے، اور میگروز کے جنگلات پر مشتمل ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی اس اہم زمین کے مختلف دعویداروں کی جانب سے الاٹمنٹ کے جعلی کاغذات بڑی تعداد میں پیش کیے گئے تھے، لیکن ان کی یہ دھوکہ دہی کی کوششیں چوکس سول سوسائٹی اور فعال عدلیہ کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے نیب کو لکھے گئے اپنے خط میں نشاندہی کی ہے کہ اس علاقے پر مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا، اور سرکاری عہدے داروں کی ملی بھگت کی وجہ سے اس معاملے کی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں جان بوجھ کر پیروی نہیں کی گئی، اور تمام سرکاری افسران نے قومی مفادات پر سمجھوتہ کرلیا۔
اپنے خط میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اعلٰی سطح کا یہ عہدے دار جو وزیرِ اعلٰی سندھ کا سابق سیکریٹری بھی ہے، کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ سندھ بورڈ آف ریونیو کی طرف سے اس کو، یا اس کے رشتہ داروں یا اس کے ساتھی کے نام بطور تلافی یا اندرونِ سندھ کی دیگر زمین کے بدلے الاٹ کیا گیا تھا، جو کہ ایک غیرقانونی بنیاد پر ایک مشکل کیس ہے۔
نیب سندھ کے ڈائریکٹر جنرل سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ وہ حکومت سندھ کے اس غیرقانونی اقدام کا نوٹس لیں اور ان الزامات کی جانچ پڑتال کروائیں، جو اگر درست پائی جائیں تو اس سودے کو لازماً روکاجائےاور غیرقانونی الاٹمنٹ منسوخ کردی جائے۔ساتھ ہی جو بھی اس معاملے میں ذمہ دار پایا جائےتو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔


Karachi Land Mafia

Monday, September 8, 2014

کیماڑی بندرگاہ .... Keamari Port Karachi


بندرگاہ روڈ کیماڑی ملک کی تجارتی سرگرمیوں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس شاہراہ پر روزانہ سیکڑوں کارگو گاڑیوں کی بندرگاہ میں آمد اور روانگی ہوتی ہے تاہم حکومتی عدم توجہی سے اس سڑک پر کئی مقامات پر گڑھے پڑ گئے ہیں جس سے اس شاہراہ پر ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

 کراچی بندرگاہ جو ملک کی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس بندرگاہ کی حدود میں روزانہ ہزاروں کارگو گاڑیوں کی آمد اور روانگی ہوتی ہے جو درآمدی سامان مختلف ممالک سے اس بندرگاہ پر آتا ہے ، وہ کارگو گاڑیوں کے ذریعے اندرون ملک پہنچایا جاتا ہے جبکہ مختلف مصنوعات جو بیرون ملک برآمدہوتی ہیں، وہ انھیں کارگو گاڑیوں کے ذریعے اس بندرگاہ پر لائی جاتی ہیں۔سامان کی ترسیل کے لئے بندرگاہ روڈ کی توسیع اورمرمت کئی برس پہلے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں کی گئی تھی جبکہ بندرگاہ سے سامان کی تیز رفتار ترسیل کے لئے جناح برج ( نیٹی جیٹی پل ) کی توسیع بھی کی گئی ، بندرگاہ روڈ کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ کیماڑی ایک نمبر سے شروع ہوتا ہے اور گھاس بندر پر یہ روڈ نیٹی جیٹی پل کے آغاز کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو جاتاہے ، نیٹی جیٹی پل سے تین راستے نکلتے ہیں ،ایک راستہ ماڑی پور روڈ ، دوسرا راستہ ٹاور ایم اے جناح روڈ اور تیسرا راستہ مائی کلاچی اور سلطان آباد کی طرف جاتا ہے۔

دن کے اوقات میں کارگو گاڑیوں کا زیادہ لوڈ ماڑی پور روڈ کی طرف ہوتا ہے کیونکہ یہ روڈ یہاں سے ٹرک اڈے کے علاوہ سائٹ ایریا سے ہوتا ہوا شاہراہ پاکستان اور پھر سپر ہائی وے سے منسلک ہو جاتا ہے، بندرگاہ سے رات کے اوقات میں کارگو گاڑیوں کی اندرون شہر میں آمد شروع ہوتی ہے اور رات کے اوقات میں ہی اندرون ملک سے کارگو گاڑیاں سامان لے کر بندرگاہ پہنچتی ہیں ، دن کے علاوہ رات کو بھی بندرگاہ روڈ پر ہیوی ٹریفک کی آمدو رفت رہتی ہے۔
کئی برسوں سے بندرگاہ روڈ کی مرمت پر حکومت نے توجہ نہیں دی ہے ، جس کی وجہ سے یہ سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے اور کئی مقامات پرگڑھے پڑ گئے ہیں جبکہ غلط پارکنگ کی وجہ سے اس شاہراہ پر ٹریفک جام رہنا بھی روز کا معمول ہے، شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ شاہراہ کی ارسر نو بحالی اور مرمت کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں۔

اسٹریٹ لائٹس بندرہنے سے جرائم کی وارداتیں بڑھ گئیں

بندرگاہ روڈ پر رات کے اوقات میں اکثر اسٹریٹ لائٹس بندرہتی ہیں ، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹس لائٹس کی بندش کے باعث اس شاہراہ پر اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ہوتی ہیں اور شہری اپنے قیمتی سامان اور نقدی سے محروم ہو جاتے ہیں ،روڈ پر حضرت غائب شاہؒ کا مزار بھی واقع ہے جہاں ہر سال انتہائی عقیدت و احترام سے ان کا عرس منایا جاتا ہے، اسی شاہراہ پر کراچی میں برف کا قدیم کارخانہ اور بانسوں کی فروخت کے مراکزبھی واقع ہیں جہاں سے اندرون ملک بانسوں کی سپلائی ہوتی ہے۔

اسی شاہراہ سے لوگ گزر کر کیماڑی ایک نمبر پہنچتے ہیں جہاں سے وہ کشتیوں کے ذریعے منوڑا ، شمس پیر اور بابا بھٹ جزائر کا رخ کرتے ہیں اور یہاں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے بھی آتے ہیں ،اس شاہراہ کو سیکیورٹی کی بنا پر انتہائی حساس قرار دیا جاتا ہے ،تاہم سروے کے دوران یہ دیکھنے میں آیا کہ اس شاہراہ پر نیٹی جیٹی پل سے ایک نمبر تک سیکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں،شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس شاہراہ پرسیکیورٹی انتظامات کو بڑھایا جائے اور جو اسٹریٹ لائٹس خراب ہیں انکی فوری مرمت کی جائے ۔

بندرگاہ روڈ پر جیکسن الیکٹرونکس مارکیٹ مشہور ہوگئی

بندرگاہ روڈ پر جیکسن الیکٹرونکس مارکیٹ بھی واقع ہے، صدر کے بعد اس مارکیٹ کا شمار کراچی کی بڑی الیکٹرونکس مارکیٹ میں ہوتا ہے، یہاں پر 150 سے زائد دکانیں واقع ہیں جہاں بیرون ملک سے درآمد کئے گئے فریج ، ٹی وی ، ڈی وی ڈی ، کیمرے ، ایئرکنڈیشن ، سائیکلیں ، لیپ ٹاپ ، گاڑیوں میں لگائے جانے والے ٹیپ ریکارڈر اور الیکٹرونکس سامان فروخت کیا جاتا ہے ،مارکیٹ سے سیکڑوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ دن کے علاوہ رات گئے تک یہ مارکیٹ کھلی رہتی ہے اور بڑی تعداد میں شہری مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں اور یہاں سے خریداری کرتے ہیں ،اس کے علاوہ بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے غیر ملکی جہازوں پر جو عملہ آتا ہے ، وہ جب بندرگاہ کی حدود سے باہر آتا ہے تو وہ بھی اس مارکیٹ کا رخ کرتا ہے اور یہاں کے ماحول سے نہ صرف لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ مختلف سامان بھی خریدتا ہے۔ جیکسن الیکٹرونکس مارکیٹ میں رکشا اور ٹیکسی اسٹینڈ کے علاوہ چھوٹی کارگو گاڑیوں کا اسٹینڈ بھی ہے ،مارکیٹ میں جو خریدار مختلف سامان خریدنے کے لیے آتے ہیں وہ سامان کی خریداری کے بعد انھیں رکشا، ٹیکسی یا چھوٹی کارگو گاڑی کے ذریعے اپنی مطلوبہ منزل کی جانب روانہ ہوتے ہیں ۔

بندرگاہ روڈ سیکڑوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بن گیا

بندرگاہ روڈ کئی افرادکے روزگار کا ذریعہ بھی ہے، اس شاہراہ پر کئی مقامات پرکھانے اور چائے کے کھوکے اور ریسٹورینٹس ، ٹائر پنکچر کی دکانیں موجود ہیں جبکہ اسی شاہراہ پر جیکسن بازار میں قدیم ترین پشاوری ، رستم ریسٹورینٹ واقع ہیں، ان ریسٹورینٹس کی چنے کی کڑک دال، پشاوری پراٹھہ اور دیگر کھانے مشہور ہیں،بازار میں بڑے جنرل اسٹورز بھی واقع ہیں جہاں پر مختلف درآمدی مصنوعات اور سامان ملتا ہے، بندرگاہ روڈ پر ٹرکوں کے ڈرائیور اورکام کرنے والے بازار کا رخ کرتے ہیں، یہ بازار 24 گھنٹے کھلا رہتا ہے۔
بندرگاہ روڈ کا مرکزی مقام کیماڑی ایک نمبر کہلاتا ہے

بندرگاہ روڈ کا مرکزی مقام کیماڑی ایک نمبر کو کہا جاتا ہے جہاں ملک کا سب سے بڑا آئل ڈپو قائم ہے یہ حدود سیکیورٹی انتظامات کے تحت عام گاڑیوں کے لئے ممنوع ہے، کیماڑی ایک نمبر پر پبلک ٹرانسپورٹ کا اسٹاپ واقع ہے، ایک نمبر پر مچھلی کے مشہور اسٹال موجود ہیں رات گئے شہر سے لوگ کیماڑی ایک نمبر کا رخ کرتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مچھلی فرائی اور تکہ مچھلی شوق سے کھاتے ہیں۔

میرا کراچی کہاں ہے؟.......


گزشتہ روز اخبارات میں خبر پڑھی کہ حکومت کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے لیے مسافر بسوں کی سروس شروع کردی گئی ہے جو ابتدا میں لانڈھی سے ٹاور تک سفر کی سہولت مہیا کریں گی۔ اس خبر سے ایک بار پھر احساس ہوا کہ نہ صرف حکومتی ذمے داریوں کا بلکہ اس شہر کا بھی وہ کلچر بدل چکا ہے جو ان کا خاصہ ہوا کرتا تھا یعنی اب ریاستی سطح پر حکومت اپنی فلاحی ذمے داریوں سے (جوکہ کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمے داری میں شمار ہوتی ہیں) پہلو تہی برت چکی ہے مثلاً پینے کا پانی، ٹرانسپورٹ کی سہولیات، صحت اور تحفظ کی ذمے داریاں۔

اب شہری ’’کمیٹی کے نلکے‘‘ سے پانی کا حصول بھول چکے ہیں اور پیسہ خرچ کرکے منرل واٹر پیتے ہیں، سرکاری کی جگہ نجی اسپتالوں سے علاج کرانے اور نجی تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو تعلیم دینے کو ترجیح دیتے ہیں، تحفظ کے لیے نجی کمپنیوں کے سیکیورٹی گارڈ رکھتے ہیں، سفر کے لیے تو کوئی ’’چوائس‘‘ ہی نہیں سوائے پرائیویٹ یا نجی سواری کے۔ یہ وہ ایشوز ہیں کہ جن پر ہمارے عوامی نمایندے خاموش ہوچکے ہیں کہ انھیں اتنا ’’کچھ‘‘ مل جاتا ہے کہ وہ اپنی ہر ضرورت نجی طور پر ’’شاندار‘‘ طریقے سے پوری کرلیتے ہیں۔
دوسری تبدیلی جو اس ملک میں تیزی سے آ رہی ہے وہ شہروں کا نئی شکل اختیار کرنا اور دیہی علاقوں میں بھی قدرے شہروں کی طرح تبدیلی واقع ہونا ہے اور ان تمام میں سرفہرست کراچی شہر ہے۔آج کراچی کے شہری اچھی تفریح کے لیے کراچی شہر سے باہر کا رخ کرتے ہیں۔

 مختلف قسم کے فارم ہاؤسز یا دیہی علاقوں کے قدرتی مناظر ان کے لیے پرکشش ہیں، کیونکہ اب اس شہر میں سوائے بلند عمارتوں کے جنگل اور گاڑیوں کے 
دھوئیں، گردوغبار کے کچھ نہیں۔

مجھے یاد ہے کہ اسی شہر میں ہم اسکول کے دوست کبھی کبھار بس میں سوار ہوکر ٹاور کے آخری اسٹاپ تک جاتے اور پھر اسی بس میں واپس آجاتے اور اس دوران بس میں چلنے والے پرانے انڈین نغموں کا مزہ بھی لیتے، اسکول کارڈ پر 25 پیسے کا ٹکٹ لے کر اس تفریح کا مزہ لیتے تھے کیونکہ اس وقت شہر کی آبادی نہایت کم تھی اور مسافر نشست بہ نشست سفر کرتے تھے، کھڑے ہوکر سفر کرنا تصور میں نہ تھا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں اکثر دیسی مرغی کا انڈا لینے اپنے گھر کے قریبی گوٹھ پہنچ جاتا تھا جہاں انتہائی پرسکون اور قدرتی ماحول دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور کسی بھی گھر کی بلوچ خاتون کو کہتا ’’آنٹی! دو عدد مرغی کے انڈے دے دیں۔ 

اس گوٹھ میں مرغی اور بطخیں بھی کھلی گھومتی رہتیں اور ان کے دروازے بھی ہمیشہ کھلے رہتے۔ کسی چوری چکاری کا ڈر نہ خوف، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اکثر میں اپنے ہم عمر محلے کے لڑکوں کے ساتھ ان گوٹھوں میں رات کو ٹی وی دیکھنے پہنچ جاتا تھا۔ ایک بڑے کچے مٹی کے صحن میں چٹائی پر بیٹھ کر ہم ٹی وی بھی دیکھتے اور رات کے اندھیرے میں کہ جہاں راستے میں اسٹریٹ لائٹ بھی نہیں تھیں واپس گھر لوٹتے۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ حسن اسکوائر سے لے کر غریب آباد تک جہاں اب کباڑی فرنیچر بازار لگتا ہے، دیوہیکل پل اور آسمان سے باتیں کرتے فلیٹس قائم ہوچکے ہیں وہاں کبھی باغ ہوا کرتا تھا، ہر طرف کھٹارے، جنگل جلیبی، بیر اور نہ جانے کیسے کیسے درخت اور پھول پودے ہوتے تھے، دن کے سناٹے میں ’’کوکو‘‘ کی آوازیں آتی تھیں جو روایتی طریقے سے کھیتوں کو سراب کرنے کے لیے لگائی گئی ایک چرخی سے پیدا ہوتی تھی۔ اس کھیت اور باغ کے قریب ایک ندی بھی بہتی تھی جو اس قدر کم چوڑی اور صاف شفاف ہوتی تھی کہ اکثر ہم اس کو پیدل پار کرکے باغ میں داخل ہوجاتے تھے اور اس میں موجود چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی مچھلیوں کو پکڑنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔

لیکن آج یہ ندی جو عرف عام میں لیاری ندی کے نام سے مشہور ہے، انتہائی بڑی اور گندی ہوچکی ہے جہاں صاف شفاف پانی اور خوبصورت مچھلیوں کے بجائے بدبودار گندا کالا سیاہ پانی بہتا ہے اور اس کی وجہ وہ فیکٹریاں اور قریبی آبادیاں ہیں کہ جن کے سیوریج کا پانی اور کیمیائی گندہ پانی فضلہ یہاں سے بہتا ہوا گزرتا ہے۔ یوں آج آپ اس پل کے پاس بھی کھڑے ہوکر سانس نہیں لے سکتے(جو حسن اسکوائر اور غریب آباد کے درمیان واقع ہے) جہاں کبھی ندی میں بچے شفاف پانی سے لطف اندوز ہوتے تھے اور باغ میں گھومتے تھے اور باغ کے دوسری جانب آباد سندھی بلوچوں کے گوٹھ قدرت کا خوبصورت، رنگین دل نشیں، پرامن محبت بھری فضا کا نظارہ پیش کرتے تھے۔

مذکورہ بالا بیان کوئی ادبی یا افسانوی بات نہیں، راقم کی آنکھوں دیکھا حال ہے۔ آج دل میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کراچی شہر کے یہ خوبصورت مناظر کس نے تباہ کردیے؟ یہ شہر کے اندر ہی آباد ’’قدرتی فارم ہاؤسز‘‘ یعنی گوٹھ، باغ اور کھیت کس نے ختم کردیے، کسی نے ان گوٹھوں کو خرید کر اس شہر کی خوبصورت شکل کو بدصورتی میں بدل دیا یا کہ اس گوٹھ کے باسی خود ہی اپنے قیمتی و قدرتی اثاثے فروخت کرکے کہیں اور چلے گئے یا وہ بھی شہر کی مصنوعی اور غیر قدرتی جدت کے ہاتھوں یرغمال ہوگئے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں جب کبھی بھی بیمار پڑتے ڈاکٹر کے پاس جاتے تو ڈاکٹر اپنے پاس سے ہی دوا دیتا، بازار کے لیے نسخہ نہ لکھتا اور کبھی اتفاق سے لکھ دیتا تو ہمیں بہت دور دوسرے علاقے میں جاکر میڈیکل اسٹور ڈھونڈنا پڑتا تھا مگر آج ہر گلی کے کونے پر میڈیکل اسٹور دستیاب ہے، اگر دستیاب نہیں تو صاف ستھری فضا، ٹرانسپورٹ کا صاف ستھرا معقول نظام، نظم و ضبط والے سرکاری اسکول، صاف ستھری سڑکیں، صاف ستھری روشن ہوادار رہائشی یونٹس اور دستیاب نہیں تو قدرتی مناظر، اب ہم قدرتی مناظر دیکھنے کے لیے بھی اس شہر سے باہر جاتے ہیں، گاڑی کرائے پر لیتے ہیں، فارم ہاؤسز کے ٹکٹ خریدتے ہیں۔

آئیے! غور کریں، اس شہر کی نام نہاد جدت سے ہمارے مسائل بڑھے ہیں یا کہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ آئیے غور کریں کہ خوبصورت گوٹھوں، باغات، کھیتوں پر مشتمل کراچی ہمارے لیے جنت تھا یا موجودہ؟ آئیے تلاش کریں ’’میرا کراچی کہاں ہے؟ 

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری

Where is my Karachi?

Tuesday, September 2, 2014

Several police officers killed in Karachi operation

اسلامی جمہوریہ پاکستان جو گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جہاں پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کررہی ہیں‘ وہاں پولیس نے بھی اس جنگ میں اپنی جانیں دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھی مسلح افواج کے ساتھ اس جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔پورے ملک میں اگر دہشت گردی کے خلاف پولیس کی قربانیوں کو دیکھا جائے تو کراچی پولیس کے افسروں وجوانوں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کی مثال پورے ملک میں نہیں ملتی۔ رواں برس دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کراچی پولیس کے افسروں واہلکاروں کی ایک بڑی تعداد جان کی بازی ہار گئی ۔ 2014ء کے ابتدائی 8ماہ کے دوران دہشت گرد ی کی کارروائیوں میںمجموعی طور پر 116پولیس افسرااور اہلکار شہید ہوگئے ۔

ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں99پولیس اہل کار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ بم دھماکوں میں 2افسروں سمیت 17اہلکار ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ کراچی پولیس کی تاریخ میں اس قدر قلیل عرصہ میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں۔ رواں برس 2014ء کے 8ماہ کے دوران کراچی شہر میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان سمیت جرائم کی دیگر وارداتیں عروج پر رہیں جن میں ایک ہزار سے زائد افراد صرف ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کا نشانہ بن گئے ۔ رواں برس 116 پولیس افسرو اہل کار ٹارگٹ کلنگ و بم دھماکوں میں جاں بحق ہو ئے۔اعداد و شمار کے مطابق 99پولیس افسر اور اہل کار ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہو ئے جبکہ 17افسر و اہل کار بم دھماکوں میں جاں بحق ہو ئے۔ 2014ء کے آغاز میں جنوری میںسب سے زیادہ 26افسر اوراہل کار شہید ہوئے۔ماہ جنوری میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم،2اہل کار فرحان اور کامران پی آئی بی کے علاقے لیاری ایکسپریس پر ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق ہو ئے جب کہ ٹارگٹ کلنگ کے دوران آرام باغ میں نعمان ،پیر آباد میں علیم اور یونس ،سچل میں محسن،اتحاد ٹاؤن میں محمد خان، عبدالرحیم ،شاہ لطیف میں عبدالخالق ،اورنگی ٹاؤن میں انسپکٹر اقبال ملک،یوسف پلازہ میں ٹریفک پولیس کے دو افسر سب انسپکٹر اللہ دتہ ،اے ایس آئی ولی محمد ،تیموریہ میں جاوید اور آصف،زمان ٹاؤن میں اے ایس آئی کامران ،شاہ فیصل میں نذیر خاصخیلی ،سرجانی میں اے ایس آئی صابر ،لانڈھی میں اے ایس آئی نعیم ،جاوید ،آصف ،خلیل ،عاصم اور فداحسین ،پاکستان بازار میں اے ایس آئی منظور حسین جاں بحق ہو ئے ۔

 فروری میں 19افسر اوراہل کار جاں بحق ہوئے جن میں سے شاہ لطیف میں رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کی بس پر بم حملے میں 13اہل کار شہید ہوگئے جب کہ ٹارگٹ کلنگ میں اقبال مارکیٹ میں سپیشل برانچ کا افسر سب انسپکٹر نیاز کھوسہ ،ابراہیم حیدری میں سب انسپکٹر افراز احمد خان ،ہیڈ کانسٹیبل حاجی محمد شفیع ،دیدار علی ،اختر اور نیو کراچی میں سب انسپکٹر آفتاب کو نشانہ بنایا گیا۔مارچ میں 5افسر اور اہل کار ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہو ئے جن میں اے ایس آئی انوار الحق ،ہیڈ کانسٹیبل انور جعفری ،ہیڈ کانسٹیبل محبوب عالم ،ڈی ایس پی آغا جمیل اور اہل کار نعیم شامل ہیں ۔اپریل میں دہشت گردوں نے 8افسروں اور اہل کاروں کو شہید کیا جن میں پی آئی بی کے علاقے میں بم دھماکے کے نتیجے میں موچکو تھانے کے انچارج شفیق تنولی بھی شامل تھے۔ٹارگٹ کلنگ میں سب انسپکٹر اسحاق،صادق،سب انسپکٹر غلام مصطفی، کاشف،سب انسپکٹر ملک جاوید ،نسیم ،ہیڈ کانسٹیبل ظاہر شاہ جاں بحق ہوئے۔

مئی میں ٹارگٹ کلنگ میں 11افسر اوراہل کار ٹارگٹ کلرز کی گولیوں کا نشانہ بنے جن میں سب انسپکٹر صدر الدین، عبدالحمید،فردوس،اسپیشل برانچ کا اہل کار مقیم عارف،ارشد،اختر لودھی ،شاہد ،زکریا اور خادم شامل ہیں۔ جون میں ٹارگٹ کلرز نے 20افسروں اور اہل کاروں کی جان لی جن میں رمضان ،سب انسپکٹر سلیم ،تاج ملوک ،ہیڈ کانسٹیبل یوسف ،قاسم ،سپیشل برانچ کا اہلکار حسنات ،ٹریفک پولیس کے 2اہل کار فیض محمد اور ہیڈ کانسٹیبل اسلم ،اے ایس آئی آصف،اے ایس آئی طاہر ،ہیڈ کانسٹیبل سعید احمد، اشفاق،پاک فوج کے ریٹائرڈ اہل کار یاسر، عادل، محمد منور،غلام علی ،سومار،ہیڈ کانسٹیبل افضل، سلیم ،ٹریفک پولیس کے 2اہل کار اے ایس آئی عبدالکریم وراشد یوسف شامل ہیں۔ جولائی میں 16افسر اور اہل کار فائرنگ کے واقعات میں جان کی بازی ہار گئے جن میں ذیشان، اے ایس آئی تاج محمد ،موتن خان ،سب انسپکٹر عبدالرشید سرکی ،اللہ ڈنو،ہیڈ کانسٹیبل رحمان الدین ،اے ایس آئی محمد علی ،سب انسپکٹر رفیق بلوچ ،نیاز،اے ایس آئی محمد ابراہیم ،اے ایس آئی عبدالجبار ،اے ایس آئی علی اور لیڈ ی کانسٹیبل کرن اور کورنگی صنعتی ایریا میں پولیس اہل کار عبدالرزاق شامل ہیں جبکہ گزشتہ ماہ 7 اگست کو پیرآباد میں پولیس اہل کار سجاد عباسی اور9اگست کے روز سائٹ اے کے علاقے میں پولیس اہل کار حمید خٹک،12اگست کے روز ایس ایچ او پریڈی انسپکٹر غضنفر کاظمی ،اے ایس آئی جمیل اوراے ایس آئی سی آئی ڈی راجہ ارشد،17اگست کے روز اتحادٹاؤن میں پاک کالونی تھانے کا اہل کار عبدالوکیل،18اگست کے روز گلشن اقبال میں ایف صنعتی ایریا کا اے ایس آئی علی نواز، 19اگست کے روز اتحاد ٹاؤن میں پولیس اہل کار طاہر ،قائد آباد میں ہیڈ کانسٹیبل اظہر عباس اور اہل کار محمداعظم ،27اگست کے روز فائرنگ سے زمان ٹائون میں سب انسپکٹر صاحب دینو،نیوکراچی میں فائرنگ سے دو اہل کار خرم کمال اور جنید جاں بحق ہوئے ۔28اگست کے روز کلری میں پولیس اہل کار رحیم نیازی جاں بحق ہوا۔29اگست کے روز سہراب گوٹھ میں پولیس اہل کار لطف اللہ ہلاک ہوا۔ ریکارڈ کے مطابق جاں بحق ہونے والے پولیس افسروں اور اہل کاروں میں ایک ایس پی ،ایک ڈی ایس پی ،2 انسپکٹر،13سب انسپکٹر ،18اسسٹنٹ سب انسپکٹر ،11ہیڈ کانسٹیبل اور72سپاہی شامل ہیں ۔یہ واضح رہے کہ دہشت گردوں نے ان ایام کے دوران پاک فوج ، بحریہ، فضائیہ ،لیویز،فرنٹئیر کانسٹیبلری سمیت 8رینجرز اہل کاروں کو بھی فائرنگ کر کے شہید کیا ۔ 

Several police officers killed in Karachi operation