Thursday, July 3, 2014

Karachi Land Mafia


پاک سرزمین پر لاقانونیت خودرو جنگلی پودوں کی طرح پھل پھول رہی ہے، لیکن شہرِ قائد میں لاقانونیت جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے اور اس آگ میں جل کر سب بھسم ہونے کو تیار ہے۔ زندگی کے کسی بھی شعبے میں قانون کی حکمرانی تو کجا قانون تک نظر نہیں آتا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق ہر شعبے میں طاقت، غنڈہ گردی اور قانون شکنی کا راج ہے۔ لاقانونیت کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اگر کہیں قانون کی کرن نظر آتی ہے تو وہ اب بھی عدلیہ ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے 24 جون کو کراچی میں اپنے ایک فیصلے میں حکم دیا ہے کہ کراچی کی 59 ہزار ایکڑ اراضی سرکاری اداروں اور نجی افراد کے قبضے سے واگزار کی جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بورڈ آف ریونیو اور صوبائی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ چھ ماہ میں مذکورہ اراضی کو واگزار کرانے کے اقدامات کرے۔ تفصیلات کے مطابق عدالت کے حکم پر ممبر ریفارمز آف بورڈ آف ریونیو ذوالفقار علی شاہ اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ملک اسرار نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ کراچی کی 59 ہزار 803 ایکڑ سرکاری زمین پر نجی اور سرکاری ادارے قابض ہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ 5257 ایکڑ زمین ڈی ایچ اے اور 769 ایکڑ کے پی ٹی کے قبضے میں ہے، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 9512 ایکڑ اراضی کا بغیر رقم کی ادائیگی کے الاٹمنٹ حاصل کرلیا ہے، ایم ڈی اے نے 3158 ایکڑ اراضی پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے، جب کہ ایل ڈی اے کے قبضے میں 8175 ایکڑ اراضی ہے، پورٹ قاسم اور ملیر کینٹ نے بالترتیب 3960 اور 1522 ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ جعلی گوٹھوں کے نام پر 6528 ایکڑ، اور 1216 ایکڑ پر ناجائز تجاوزات قائم ہیں۔ یہ تو اُس اراضی کا ریکارڈ ہے جو محکمہ ریونیو نے عدالت میں پیش کیا ہے، جب کہ فی الحقیقت کراچی میں مزید ایسی سینکڑوں ایکڑ اراضی اب بھی موجود ہے جس پر ناجائز تجاوزات اور قبضہ قائم ہے۔ ان میں پارکس، رفاہی پلاٹ اور گرین بیلٹ شامل ہیں، جب کہ بدنام زمانہ چائنا کٹنگ کے ذریعے سینکڑوں ہزاروں ایکڑ اراضی فروخت کی جا چکی ہے۔

سوال یہ ہے کہ زمینوں پرقبضے کا ذمہ دار کون ہے؟ پارکوں اور رفاہی پلاٹوں پر قبضہ مافیا کس کی سرپرستی میں سرگرم عمل ہے؟ اور قطعاتِ اراضی کی چائنا کٹنگ کس کے ایماء پر ہو رہی ہے؟ اس حوالے سے ایک پٹیشن سپریم کورٹ میں سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں کراچی کے پارکوں پر ایک لسانی سیاسی گروہ کے قبضے کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے واگزار کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔ لیکن اب تک اس بارے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔ اسی طرح کچی آبادیوں اور جعلی گوٹھوں کے نام پر سرکاری اراضی پر قبضہ کیا جاتا ہے اور پھر غیرقانونی قبضہ کو الاٹمنٹ کی صورت میں قانونی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ ناجائز اور حرام کاروبار کئی عشروں سے کراچی شہر میں جاری ہے۔ اگر کراچی میں سرکاری اراضی پر قبضے اور لینڈ مافیا کی سرپرستی کا معلوم کرنا ہے تو اس کے لیے کسی تحقیقی و تفتیشی ادارے کی ضرورت نہیں ہے، یہ سب کچھ ہماری اور آپ کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے اور اس کے مجرم بعض سیاسی گروہ اور حکمران ہیں۔ حکمران اور بااثر مسلح سیاسی گروہ کراچی کی زمین کے سب سے بڑے سوداگر ہیں۔
یہ بات یقینا خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضے کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں اور سپریم کورٹ نے اس اراضی پر قبضہ ختم کرانے کے لیے چھ ماہ کی مہلت بھی دے دی ہے۔ لیکن ہمیں شبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوسکے گا اور اس کی راہ میں قانونی موشگافیوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے اس اراضی کی بندربانٹ کی جائے گی۔ ہماری دانست میں کراچی میں سرکاری اراضی کے تحفظ کے لیے ایک مستقل عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو نہ صرف مذکورہ بالا فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے بلکہ محکمہ ریونیو میں بدعنوانیوں پر نگاہ رکھے اور حکمرانوں کو سرکاری اراضی کو مالِ مفت سمجھ کر ہڑپ کرنے سے روکے۔

پنجاب میں سرکاری اراضی کو قبضہ اور لینڈ مافیا سے محفوظ رکھنے کے لیے سرکاری زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے منصوبے پر کام شروع ہوچکا ہے۔ سندھ اور بالخصوص کراچی میں بھی سرکاری زمینوں کو لٹیروں سے بچانے کے لیے تمام زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ جسٹس تصدق جیلانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عدالتِ عظمیٰ اس فیصلے کا تعاقب کرے گی اور اس کے نفاذ کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

بلال احد
Karachi Land Mafia

Wednesday, June 25, 2014

Mumtaz Mahal: Karachi Zoo's Mythical Foxy Lady


دنیا بھر میں شہروں یا جنگل بیابانوں میں قائم چڑیا گھروں میں ہمہ نوع جانور،چرند پرند رکھے جاتے ہیں۔لوگ آتے ہیں، جنگلی حیات کی مخلتف اقسام دیکھتے ہیں اور ان سے محظوظ ہوتے ہیں۔

لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے چڑیا گھر میں یہ کیا ہے۔یہاں تو ایک عجیب وغریب مخلوق پائی جاتی ہے جو''آدھی لومڑی اور آدھی عورت'' ہے۔نام اس کا ممتاز محل ہے اور کئی عشروں سے موجود ہے۔

مگرحیرت زدہ ہونے یا دنگ رہ جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کوئی انوکھی مخلوق نہیں ہے بلکہ یہ ایک تینتیس سال کا نوجوان ہے جس نے اپنے دھڑ پر لومڑی کی کھال پہن رکھی ہے اور چہرہ عورت نما بنا رکھا ہے۔

اس نوجوان کا نام مراد علی ہے اور وہ گذشتہ سولہ سال سے ''ممتازمحل'' کا کردار نباہتا چلا آرہا ہے۔اس سے قبل اس کا والد یہ کردار ادا کررہا تھا لیکن جب وہ اس جہانی فانی سے رخصت ہوا تو چڑیا گھر والوں نے گھر کی وراثت گھر ہی میں رہنے دی اور مراد علی کو ''ممتاز محل'' بنا دیا۔

مراد کا کہنا ہے کہ ''چڑیا گھر کی سیر کو آنے والے زائرین میرے پاس آکر خوش ہوتے ہیں اور مجھے بھی خوش کرکے چلے جاتے ہیں۔میرے اور ان کے درمیان محبت کا رشتہ قائم ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے،اس کو مسکراہٹیں بکھیرنے پر ہی صرف ہونا چاہیے''۔

ممتاز محل محض آدھی عورت آدھی لومڑی نہیں ہے بلکہ وہ تو لوگوں کے دکھ بانٹنے ،ان کے مسائل کا حل اور خوابوں کی تعبیر بتانے تک کا بھی فریضہ انجام دے رہی ہے۔ وہ زائرین کو شادیوں کے مشورے دیتی ہے،طلبہ کو یہ بتاتی ہے کہ امتحانات میں کیسے کامیابی حاصل کرنا ہے اور ان کی ہاتھوں کی لکیریں کیا کہہ رہی ہیں۔ننھے منھے بچے اور بڑے ممتاز محل کے پاس آکر گپ شپ کرتے ہیں لیکن یہ سب کچھ مفت میں نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے لیے انھیں ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔

ممکن ہے بعض لوگوں کو مراد علی کی ممتاز محل کے روپ میں یہ مشقت بھرا کردار نبھانا بہت ظالمانہ لگے اور وہ شاید اس کو پسند بھی نہ کریں مگر چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ اس فن کارانہ عمل سے انھیں کافی آمدن حاصل ہوجاتی ہے اور مراد علی کی ماہانہ تن خواہ بھی نکل آتی ہے۔ایک ٹکٹ میں دونوں کے مزے ہوجاتے ہیں۔زائرین بھی خوش اور مراد علی المعروف ممتاز محل بھی راضی۔


   Mumtaz Mahal: Karachi Zoo's Mythical Foxy Lady

Sunday, June 22, 2014

کراچی کا امن.........



’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کے بعد ملک بھر سمیت خاص طور پر کراچی میں ایک خاص سراسیمگی دکھائی دے رہی ہے ۔ بے یقینی اور خوف کی ایک ایسی فضا ہے جس میں کراچی کے عوام کو خدشہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا سب سے سخت ری ایکشن کراچی میں’’ طالبان ‘‘کی جانب سے ہوگا اور کراچی تقریبا دوکروڑ آبادی اور بغیر پلاننگ آباد ہونے والا شہر ہے جہاں کی پولیس سیاست زدہ اور صوبائی حکومت نااہل ہے اس لیے ہمیشہ سے کراچی جرائم پیشہ افراد سے لے کر ملکی اور غیر ملکی مطلوب شخصیات کے لیے محفوظ کمین گاہ کے طور پر سمجھا جاتا رہا ہے۔

لسانیت ، قوم پرستی ، گروہی اور فرقہ وارانہ کشیدگیوں نے کراچی کو منقسم کرنا شروع کردیا اور غیر محسوس طور پر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے افراد نے اسی بستیوں میں خانہ آبادیاں کیں جو ان کے قبیلے ، ذات ، فرقے،نسل یا زبان سے تعلق رکھتی تھیں۔

گو کہ’’ آپریشن ضرب عضب ‘‘کے بعد شمالی وزیرستان سے خاندانوں کی نقل مکانی تیزی سے شروع ہوچکی ہے اور ابتدائی دنوں میں تین لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیںجب کہ کرفیو میں پابندی کی نرمی ہوتے ہی شمالی وزیرستان کے لاکھوں عوام تیزی سے، افغانستان یا پاکستان کے مختلف شہروں وعلاقوں کے ساتھ عارضی طور پر قائم آئی ڈی پیز کیمپوں میں منتقل ہوجائیں گے ، گو کہ اطلاعات کے مطابق ابھی مقامی افراد کے محفوظ انخلاہونے تک آبادیوں میں آپریشن شروع نہیں کیا گیا ہے۔

گو کہ بتایا یہی جا رہا ہے کہ ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ سے ایک ہفتہ قبل ہی اہم مطلوب شخصیات افغانستان منتقل ہوچکی تھیں اور ممکن ہے فرار ہونے والی شخصیات کو انتظار ہو کہ جب شمالی وزیرستان میں فوج مکمل طور پر داخل ہوجائے توگوریلا جنگ کا ایک سلسلہ شروع کر دیا جائے نیز پاکستان کے اہم شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے ان کے نیٹ ورک پہلے ہی اپنی جڑیں مختلف شہروں میں مضبوط کرچکے ہیں۔

تمام صوبائی حکومتوں نے پیش بندی کے طور پر حساس شہروں کے انتہائی حساس مقامات اور تنصیبات پر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا عمل شروع کردیا ہے جب کہ خاص طور پر کراچی میںجس کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا شروع سے یہی کہتا آرہا ہے کہ کراچی کے ایک چوتھائی حصے پر شدت پسند تنظیموں کا مضبوط نیٹ ورک اور قبضہ ہے،مزید حساس ہو گیا ہے۔ تمام حساس اور اہم مقامات و تنصیبات کو تین حصاروں میں تقسیم کیا جارہا ہے جو پولیس ، رینجرز اور فوج کا ہوگا ۔لیکن کراچی میں اصل دارومدار حساس اداروں سمیت مقامی پولیس ، رینجرز کی انٹیلی جنس رپورٹس اور مقامی مخبروں کے ساتھ مقامی آبادی کی جانب سے تعاون پر ہوگا۔

تاہم ابھی تک کراچی کے وہ علاقے جہاں بغیر کسی جانچ پڑتال کے آباد کاریاں حکومتی اداروں کے اہلکاروں کی رشوت ستانی کے سبب ممکن ہوئیں ، ان علاقوں کی بابت مربوط پلاننگ کا نظر نہ آنا ، اہم معاملہ ہے ۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر کراچی کے39علاقے انتہائی حساس قرار دیے جاتے ہیں ، جہاں عسکریت پسند عناصر بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان علاقوں میں قانون کی عمل داری بھی بہت کم ہے ۔ رینجرز اور پولیس پر حملے اور بم دھماکے کیے گئے ۔

کراچی میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد کئی سالوں سے آباد ہے ، کراچی کے تمام بڑے ترقیاتی پراجکیٹ میں استعمال ہونے والی تمام بھاری مشینریوں کی ملکیت ان وزیر اور محسود قبائل کے پاس ہے۔ ڈمپر ، لوڈر،کرینیں سمیت سڑکوں کی تعمیر کے لیے کرش ، ریتی ، سمیت تمام تر بھاری ساز و سامان ان دونوں قبائل کے سرمایہ داروں نے فراہم کیے اور کراچی کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

کروڑوں روپوں کی سرمایہ کاری کے ساتھ مہمند ، دیر سے تعلق رکھنے والے عوام نے افرادی قوت مہیا کی اور جہاں بھاری مشینری استعمال نہیں ہو پاتی وہاں یہ افرادی قوت سخت سے سخت ، اور تنگ سے تنگ جگہ پر دشوار گذار علاقوں میں اپنے خون پسینے سے شہر کی خوب صورتی میں اضافہ کرتے، آفریدی قبائل، سوات، مالا کنڈ ڈویژن اور تورغرضلع سے تعلق رکھنے والوں نے سرمایہ کاری کرکے کراچی کے لیے پاکستان کی بہترین ، سہل اور فوری ٹرانسپورٹ مہیا کی اور بڑی بسوں سے لے کر رکشہ ، ٹیکسی ، سوزوکی تک کراچی کے عوام کی خدمت کے لیے صرف کردی۔

پشاور ، بنوں، کوہاٹ کے افراد نے کراچی کی بڑی مارکیٹوں کو کامیاب بنانے کے لیے کپڑے ، قالین کے کاروبار سے کروڑوں روپوں کی سرمایہ کاری کی اور کہا جاتا تھا کہ کسی بھی مارکیٹ کی کامیابی کا دارومدار پٹھانوں کی دکانوں پر ہے ، کہ وہ جس مارکیٹ میں دکان لیں گے وہ سو فیصد کامیاب ہوگی ۔ طارق روڈ ، جامع کلاتھ ، بولٹن مارکیٹ ،صدر، ناظم آباد، پاپوش نگر ، علی گڑھ جیسے مارکیٹیں اس کی بڑی مثالیں ہیں۔
اسی طرح کراچی کی جان ومال کی حفاظت کے لیے پٹھانوں کو خاص طور پر گھروں ، فلیٹس اور مارکیٹوں کی چوکیداری کے لیے رکھا جاتا تھا جو اس پورے علاقے کی چوکیداری ایک سیٹی اور ایک ڈنڈے کی مدد سے کرتا تھا ، کراچی کی رات کی رونقوں میں کوئٹہ ، پشین اور پشاور سے تعلق رکھنے والوں نے سرمایہ داری کرکے کراچی کے کونے کونے میں چائے کے ہوٹل کھولے جہاں صبح تک کراچی کے منچلے نوجوان ، بڑے بوڑھے بیٹھ کر دن بھر کی تھکان اتارتے تھے اب کراچی میں ان کے لیے کچھ نہیں باقی بچا، 80فیصد تمام کاروبار ختم ہوگیا یا زبردستی ختم کرا دیا گیا۔

اہم بات یہی ہے کہ جیسے جیسے لسانی سیاست غالب آتی گئی سب کچھ سمٹتا چلا گیا ، نقصانات میں جانی و مالی کی تفصیلات میں جانے کے لیے صفحات نہیں بلکہ سمندر جتنی روشنائی اور آسمان جتنے طویل صفحات درکار ہونگے ، لیکن ایک انسان کی جان کی قیمت کیا ہوگی ، کہ اسے قیمت دیکر لوٹا دیا جائے ، اس کا کوئی مول نہیں دے سکتا ، اب وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مقامی محسود اور وزیر قبائل کے عوام نے اپنے علاقوں میں رشتے داروں کے لیے اپنے مکانات خالی کرانا شروع کردیے ہیں، کرائے داروں کو نوٹس اور اپنے گھروں میں پارٹیشن بنا دیے ہیں، اب بھی کوئی وزیرستان کا مہاجر ، بوسیدہ کیمپوں میں نہیں رہے گا ۔

سندھ حکومت ان مجبور اور حالات کے ستائے ہوئے عوام کو اپنے صوبے میں آنے سے روکنے کی بھرپورکوشش کر ے گی ، بلاشبہ ایک تہائی کراچی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملداری نہیں ، اس میں بھی تو وقت لگا ہوگا کسی گروپ نے اجارہ داری کی ہوگی ،مفادات حاصل کیے ہونگے ،رشوتیں کھائیں ہونگی۔کراچی میں مکمل قانون کی رٹ کے لیے پہلے اداروں سے کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے تو بہتر ہوگا۔جب تک کراچی میں کرپٹ مافیا ، موجود ہے جو چند سکوں کی خاطر اپنی قوم کو فروخت کرنے میں تامل نہیں برتتی اس وقت تک 
کراچی کا امن دراصل پاکستان کی بقا کا اصل محاذ ہے۔

قادر خان