Saturday, March 15, 2014

کاٹھیاواڑی چھولے........کراچی.


کراچی میں کم پیسوں سے عام شہری ٹھیلوں پر موجود ذائقہ دار کاٹھیاواڑی چھولے کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں، یہ چھولے اپنے منفرد ذائقوں کے باعث شہریوں میں مقبول ہیں، قدیم ترین کاٹھیاواڑی چھولوں کو اب مختلف انداز میں اس پیشے سے وابستہ افراد تیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مانگ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ایکسپریس نے کاٹھیاواڑی چھولے تیار اور فروخت کرنے والوں کے پیشے سے منسلک افراد پر سروے کیا ، اس پیشے سے منسلک کاریگر محمد جمال میاں نے بتایا کہ کاٹھیاواڑی چھولے کھانے کا رواج بہت قدیم ہے اور یہ رواج قیام پاکستان سے قبل چلا آ رہا ہے، ہندوستان کے مختلف علاقوںمیں یہ چھولے خصوصی طور پر تیار کیے جاتے ہیں اور پاکستان بننے کے بعد یہ رواج یہاں بھی منتقل ہوا، کاٹھیاواڑی چھولوں کا مرکز قیام پاکستان کے وقت کھارادر ، لیاری اور میٹھادر کے علاقے ہوتے تھے جن کی حیثیت آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے تاہم جیسے جیسے شہر کی آبادی پھیلتی گئی کاٹھیاواڑی چھولے جو گھروں میں تیار کیے جاتے تھے ان کی فروخت کرنے والوں کا پیشہ پھیلتا گیا اور اب کراچی کے تمام علاقوں کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں میں بھی یہ چھولے اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے عوام میں بہت مقبول ہیں۔

کراچی میں 3 سے 4 ہزار افراد اس پیشے سے وابستہ ہیں اور زیادہ تر اس پیشے سے میمن ، گجراتی ، کاٹھیاواڑی اور اردو کمیونٹی کے لوگ وابستہ ہیں لیکن اس کے اصل اور ماہر کاریگروں کی بڑی تعداد رنچھورلائن میں رہائش پزیر ہے اور اس وقت کاٹھیاواڑی کا مرکز رنچھورلائن اور لائنز ایریا ہے،انھوں نے بتایا کہ کاٹھیاواڑی چھولوں کا کام ٹھیلا کرائے پر لیکر5ہزار روپے سے شروع کیا جا سکتا ہے،یہ محنت طلب کام ہے،چھولوں کی تیاری میں چار گھنٹے لگتے ہیں لیکن اس کی فروخت میں8سے 12 گھنٹے لگ جاتے ہیں، اس پیشے سے وابستہ لوگ زیادہ تر مخصوص مقامات بازاروں ، مارکیٹوں ، فٹ پاتھوں اور دیگر مقامات پر ٹھیلے لگائے ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس پیشے سے وابستہ افراد نسل در نسل کام کررہے ہیں اور عرصہ دراز سے اس پیشے سے وابستہ افراد کی آئندہ نسل بھی بے روزگاری کے باعث اپنے آبائی پیشے سے ہی منسلک ہو رہی ہے ،انھوں نے بتایا کے کاٹھیاواڑی چھولے ٹاور، کھارادر، لیاری، رنچھورلائن، نانک واڑہ، عید گاہ، پاکستان چوک، اولڈ سٹی ایریا، جامع کلاتھ مارکیٹ، لیاقت آباد، لائنز ایریا، کریم آباد، حسین آباد، عزیز آباد، بلدیہ ٹائون ، اورنگی ٹائون ، ملیر ، نیو کراچی ، گلبرگ ، گل بہار ، لانڈھی کورنگی اور دیگر علاقوں میں فروخت کیے جاتے ہیں،انھوں نے بتایا کہ یہ چھولے سستے ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے ایک غریب آدمی 25 روپے میں دو روٹی اور ایک چھولے کا پیالہ کھا کر اپنا پیٹ بھر سکتا ہے ۔

Enhanced by Zemanta

Water Problems in Karachi



کراچی کے اہم ترین مسائل میں ایک اہم اور حساس مسئلہ پانی کی طلب و رسد میں عدم توازن ہے جس کے باعث پانی کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم ایک مشکل امر بن کر رہ گئی ہے اور میرے خیال میں اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کی عدم دستیابی ایک بحران کی شکل اختیارکرسکتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کراچی کی صنعتوں اور دیگر اداروں کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے بیروزگاری کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

ادارے کی جانب سے نکاسی آب کے نظام کو دوسری ترجیح ہونے کی وجہ اور وسائل کی کمی نے کراچی کو متاثر کیا جس کے سبب شہر، شہریوں اور سمندری و فضائی ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہوگیا اور اسی وجہ سے ماہی گیری کی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ روشنیوں کے اس شہر کا جمالیاتی حسن بھی شدید متاثر ہوا، چونکہ کراچی میں فراہمی و نکاسی آب کا مسئلہ ایک انتہائی حساس اور توجہ طلب مسئلہ ہے، اسی لیے سب سے پہلے کراچی کو فراہم کیے جانے والے پانی میں مرحلہ وار اضافہ اور اس کی مختصر تاریخ بیان کرنا چاہتا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کے درپیش مسائل اور اس میں اضافے کی بھی بات کروں گا۔ اس لیے آج کے اس موضوع میں کراچی کے دو بڑے انتہائی اہم اور ابتدائی مرحلوں، منصوبوں جس کی تاریخ میں نے وہاں کے مقامی لوگوں اور کراچی سے متعلق تاریخ کی دستیاب کتابوں سے حاصل کی ہے وہ بیان کروں گا۔

گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم جو کراچی جوائنٹ واٹر بورڈ کی مدد سے ڈالی گئی، جس کے تحت کراچی میں مرحلہ وار 280 ملین گیلن پانی دستیاب کرنا تھا اور اس کے بعد عالمی بینک کی امداد سے 10 کروڑ گیلن یومیہ پانی کا منصوبہ K-II اور وفاقی حکومت کی مدد سے مکمل کیا گیا منصوبہ K-III اور ساتھ ساتھ 1982 میں حب ڈیم سے کینال کے ذریعے ابتدا 8 کروڑ گیلن اور پھر 10 کروڑ گیلن پانی دستیاب ہوا، اس طرح آج کراچی شہر کو ان تمام منصوبوں کی مدد سے 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے (دھابیجی، گھارو، پپری پمپنگ مشینری بہت پرانے ہونے اور بار بار کی مرمت کے سبب واٹر بورڈ کے انجینئرز کی رائے میں یہ مشینری اپنی استعداد کار (Efficiency) کم ہوچکی ہے اور اب یہ مشینری 80 فیصد سے زیادہ کارکردگی کے قابل نہیں ہے)۔

میں کراچی کی موجودہ آبادی، صنعتوں، کثیرالمنزلہ عمارتوں اور کمرشل سرگرمیوں کو پورا کرنے کے لیے یہ سمجھتا ہوں کہ 1200 کیوسک یعنی 120 کروڑ گیلن پانی کی ضرورت ہے، جب کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے ٹرنک مین اور ڈسٹری بیوشن مین کے نظام کو وسعت دینے کی بھی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ کراچی کی اقتصادی ترقی اور بہتر رہائشی سہولتوں کے لیے انتہائی ضروری منصوبہ گریٹر کراچی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ S-III اور گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم K-IV کی اشد ضرورت ہے۔

ملوٹی واٹر سپلائی سسٹم: (کراچی کا پہلا اور قدیم باقاعدہ فراہمی آب کا نظام)۔ کراچی میں سب سے پہلے باقاعدہ پانی کا نظام 1839 میں تعمیر کیا گیا، جب کراچی کا نظام برٹش گورنمنٹ کے زیر انتظام تھا، اس وقت کراچی ایک چھوٹی سی بستی تھی اور پینے کے پانی کا واحد ذریعہ لیاری ندی اور شہر کے مختلف مقامات پر کھودے گئے کنوئیں تھے۔ اس نظام حکومت نے 1844 میں ایک کمیٹی بنائی، جس نے شہر کے مختلف مقامات پر 22 کنوئوں کا سروے کیا اور رپورٹ تیار کی جس میں یہ بات سامنے آئی چونکہ کراچی کا ساحل اس وقت میٹھادر اور کھارادر کو لگتا تھا، اس کی وجہ سے زیادہ تر پانی کے نمونے نمکین ہونے کی وجہ سے پینے کے قابل نہ تھے۔ اس کے بعد 1846 میں دوسری رپورٹ تیار کی گئی جس کے تحت اس بات پر زور دیا گیا کہ لیاری ندی میں سے ریتی بجری اٹھانے پر پابندی لگائی جائے تاکہ زیر زمین پانی کے ذخائر بڑھیں اور ان کنوئوں سے پینے کا پانی حاصل کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں 11 ہزار روپے کا اسٹیمیٹ بھی بنایا گیا لیکن ان ساری کوششوں کے باوجود پانی کی مطلوبہ مقدار حاصل نہ کی جاسکی۔ اس کے بعد مزید ایک رپورٹ پیش کی گئی کہ لیاری ندی کے علاوہ حب ندی (مراد بند) سے پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک اور منصوبہ تیار کیا گیا لیکن اس منصوبہ پر اخراجات کا تخمینہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ عرصہ کام نہ ہوسکا۔

پھر 1880 میں مسٹر جینس اسٹریچن نے 8 لاکھ 50 ہزار روپے کے اسٹیمیٹ سے باقاعدہ ملیر ندی کی سروے لینڈ پر 10 کنوئیں کھودے جانے کے احکامات جاری کیے اور تیار شدہ رپورٹ کی بنیاد پر ملیر ندی اور اطراف اور اکناف سے ریتی بجری اٹھانے پر پابندی لگا دی گئی۔18 فروری 1880 کو ٹیمپل اینڈ کری (T&C) جو کہ خداداد کالونی میں واقع ہے، اس مقام پر ریزر وائر کا بھی سنگ بنیاد رکھا گیا، اسی طرح حسن اسکوائر کے قریب لوئر سروسس ریزر وائر (LSR) بھی تعمیر کیا گیا۔ دے کھر کرو جو ملیر ندی کے وسط اور دادو ندی کا تسلسل ہے، جس میں دیہہ جانگڑی سے سیون کی پہاڑیوں سے آنے والا پانی جو سپر ہائی وے کو عبور کرکے رن پٹھانی کی جانب جاتا ہے وہ بھی بارشوں کے ذریعے ملیر ندی میں داخل ہوجاتا ہے، اسی طرح گزشتہ سال بارشوں کے دوران سعدی ٹائون میں لوگوں کی تکالیف و نقل مکانی کا باعث بنا، دراصل یہ پانی کیتھر کی پہاڑیوں سے بذریعہ سرجانی ٹائون سپر ہائی وے کو عبور کرکے ملیر ندی میں شامل ہونا تھا لیکن چونکہ بازار نالہ اور سیہون سے آنے والے پانی نے ملیر ندی کا لیول ہائی کردیا تھا، لہٰذا تھڈو نالہ سے داخل ہونے والا پانی جو ملیر ندی میں شامل ہوتا ہے، اس پانی نے ملیر ندی میں گنجائش نہ ہونے کے سبب آبادی کا رخ کرلیا۔


Enhanced by Zemanta

Future of Karachi




ہماری موجودہ جمہوری حکومت کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کے دور میں گیس بجلی کی کمی دور کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جاتے تو عوام کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابقہ حکومت کی نا اہلی کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑ رہا ہے۔ سابقہ حکومت اپنے دفاع میں یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ اس نے بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے لیکن کمی اتنی زیادہ تھی کہ اس کی کوششوں کے باوجود یہ کمی دور نہ ہو سکی۔ یوں الزامات اور جوابی الزامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلی حکومت میں بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ان میں رینٹل پاور بھی شامل ہے جو سابق وزیر اعظم کے گلے میں کرپشن کے طوق کی طرح پڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے موجودہ حکومت جو اقدامات کر رہی ہے حساس حلقے اس میں بھی کرپشن تلاش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ہم یہاں نہ کسی ایک حکومت کو اس حوالے سے نا اہل قرار دیں گے نہ کرپشن کے حوالے سے کوئی بات کریں گے۔ ہم یہاں صرف حکومتوں کی نا اہلی اور منصوبہ بندی میں مجرمانہ غفلت ہی کو اس مسئلے کی اصل بنیاد کہیں گے۔

باشعور با بصیرت اور عوام دوست حکومتیں اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے اہم قومی مسائل کا تعین کرتی ہیں اور ان کے حل کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے بناتی ہیں تا کہ عوام مستقبل میں کسی پریشانی سے دوچار نہ ہوں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بعض سنگین ترین مسائل کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے موجود ہوتے ہیں لیکن اپنی نا اہلی یا عوام سے لا تعلقی کی وجہ سے نہ ہم اس قسم کے مسائل پر نظر ڈالتے ہیں نہ آنے والے وقت میں اس کی سنگینی کا ادراک کر سکتے ہیں۔ یہ ایسا جرم ہوتا ہے جس کی سزا حکومتوں کو نہیں بلکہ عوام کو بھگتنی پڑتی ہے۔ جس کا مشاہدہ ہم گیس بجلی کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کی شکل میں کر رہے ہیں۔

مستقبل میں اس ملک کے لیے سنگین ترین صورت اختیار کرنے والا ایک مسئلہ کراچی کی بڑھتی ہوئی بے لگام آبادی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ مستقبل کے اس سنگین مسئلے کا کوئی سیاسی جماعت، کوئی مذہبی جماعت، کوئی حکومت نوٹس نہیں لے رہی ہے۔ ہم یہاں آبادی کے اس پھیلاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والے سماجی اور انتظامی مسائل پر بھی غور نہیں کریں گے یعنی ٹرانسپورٹ کا مسئلہ، بجلی گیس پانی کا مسئلہ، کچی آبادیوں کا مسئلہ، سیوریج کا مسئلہ، اسٹریٹ کرائم کا مسئلہ، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا مسئلہ، یہ سارے مسائل اپنی نوعیت کے حوالے سے بہت اہم بھی ہیں اور عوام اور حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ لیکن ہم جس مسئلے کو مستقبل کے ایک خطرناک مسئلے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں وہ مسئلہ ہے بڑھتی ہوئی آبادی۔ کراچی کی آبادی میں یہ خطرناک اضافہ دو طرح سے ہو رہا ہے ۔ ایک یوں کہ پسماندہ دیہی علاقوں سے بیروزگاروں کے قافلے مستقل چلے آ رہے ہیں دوسرے وہ لوگ ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا ترک وطن کر کے کراچی میں رہائش پذیر ہیں اور ان کی آبادی میں خاندانی منصوبہ بندی نہ ہونے سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

کراچی میں ترک وطن کر کے آنے والوں میں بنگالیوں کی تعداد 20 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ چونکہ ہمارا پورا ریاستی ڈھانچہ کرپشن کی بنیاد پرکھڑا ہوا ہے اس لیے ترک وطن کر کے کراچی آنے والوں کے لیے نہ شناختی کارڈ حاصل کرنا کوئی مسئلہ ہے، نہ پاسپورٹ بنوانا، نہ ڈومیسائل اور پی آر سی بنانا کوئی مشکل کام ہے اور جو لوگ یہ قانونی دستاویزات حاصل کر لیتے ہیں وہ اس ملک کے مکمل شہری بن جاتے ہیں ایسے غیر ملکی تارکین وطن کی آمد کو روکنے اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے بجائے ہمارے سیاستدان محض ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے انھیں نہ صرف اس ملک کا شہری تسلیم کر لیتے ہیں بلکہ ان کے حقوق کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

تقسیم کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے پاکستان آنے والوں کا جنھیں مہاجرین کا نام دیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے مسلم اقلیتی اور حساس علاقوں سے، جن میں مشرقی پنجاب، یو پی سی پی وغیرہ شامل ہیں، لاکھوں لوگ پاکستان آئے، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجرین کلچر کی یکسانیت کی وجہ سے مغربی پنجاب میں ضم ہو گئے لیکن ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے آنے والے مسلمان بوجوہ سندھ میں تحلیل نہ ہو سکے۔ اگست 1947ء کے بعد ایک عرصے تک ہندوستان سے عوام پاکستان آتے رہے اور مقامی آبادی نے انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ ان کا استقبال کیا انھیں گلے لگایا۔ اس دور میں کوئی تعصب موجود نہ تھا۔

نئے اور پرانے سندھیوں کے درمیان اختلافات کی مختلف وجوہ بتائی جاتی ہیں لیکن اس قسم کے مسائل جہاں بھی پیدا ہوتے ہیں اس کی اصل وجہ اقتصادی ہوتی ہے۔ جو لوگ ہندوستان سے آئے ظاہر ہے انھیں زندہ رہنے کے لیے روزگار بھی درکار تھا، کاروبار بھی درکار تھا۔ پرانے سندھیوں کو رفتہ رفتہ یہ احساس ہونے لگا کہ آنے والوں کی وجہ سے ان کے روزگار اور کاروبار کے مواقعے کم ہونے لگے ہیں جسے پرانے سندھی ناانصافی ماننے لگے۔ اس کی کچھ سیاسی وجوہات بھی تھیں جن میں ایم کیو ایم کی مقبولیت اور انتخابات میں شہری سندھ میں اس کی بھرپور کامیابیاں۔ یوں یہ احساس بڑھنے لگا کہ سندھ دیہی اور شہری علاقوں میں بٹ گیا ہے۔ بدقسمتی سے حکمراں جماعتوں نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر اس خلیج کو کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا۔ اور صورتحال عملاً سیاسی تقسیم جیسی ہو گئی اس خلیج کو پاٹنے کے لیے جن اہل فکر نے کوششیں کیں ان میں سندھی مہاجر دونوں ہی شامل تھے لیکن بات مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والی ہو گئی۔

اب ہم آتے ہیں مستقبل کے کراچی کی طرف۔ ہم نے اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ اس قسم کے تضادات کی بنیادی وجہ اقتصادی ہوتی ہے۔ پرانے سندھی منطقی طور پر یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ ہندوستان سے آنے والوں کی وجہ سے ان کا روزگار اور کاروبار مارا جا رہا ہے اب صورت حال میں بہت بڑی معنوی تبدیلی آ گئی ہے۔ کراچی میں ترک وطن کر کے رہنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے۔ پختون قیادت کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں 50 لاکھ سے زیادہ پختون رہتے ہیں، پنجابی قیادت بھی کراچی میں لگ بھگ 50 لاکھ پنجابیوں کے رہنے کی بات کرتی ہے، اس کے علاوہ بلوچ وغیرہ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ آبادی میں اتنی بڑی تبدیلی کے بعد منطقی طور پر نئے اور پرانے سندھیوں کا تضاد ختم ہو جانا چاہیے۔ لیکن یہ ابھی تک نہیں ہوا۔ اور اس کی وجوہات اقتصادی سے زیادہ سیاسی نظر آتی ہیں۔

ملک بھر خصوصاً کراچی میں عوام کو جس طرح اپنی زندگی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اس مسئلے کی وجہ سے بہت سارے اہم اور سنگین مسائل پس پشت چلے گئے ہیں اور ابھی تک کراچی کسی نہ کسی طرح اپنے عوام کو زندہ رہنے کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ اس لیے بھی اقتصادی نا انصافیوں کا مسئلہ دبا ہوا ہے۔ جس وقت اس شہر میں روزگار اور کاروبار کا سلسلہ سنگین صورت اختیار کرے گا ایک نیا حقیقی تضاد باہر آئے گا بے روزگار نوجوانوں کی نظر اس طرف جائے گی کہ اگر کراچی میں 10 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن نہ ہوتے تو ہمیں 10 لاکھ سے زیادہ روزگار اور کاروبار کے مواقع ملتے اور یہ ذہنیت پھیلتی گئی تو یہ تضاد خانہ جنگی میں بدل جائے گا اور المیہ یہ ہے کہ اس کا شکار غریب طبقات ہی ہوں گے۔ اس خطرناک امکان کی وجہ یہ ہے کہ بیروزگاروں کے قافلوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں دہشت گرد اور جرائم پیشہ بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں۔ کیا ہمارا حکمراں طبقہ ہمارے سیاستدان ہماری مذہبی قیادت اس سنگین مسئلے پر غور کر رہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی کر رہی ہے؟ اگر یہ تضاد شدت اختیار کر گیا تو بے چارے غریب عوام بھی اس کا شکار ہوں گے اور حکمران اور سیاستدان ایک دوسرے پر ہی الزامات اور جوابی الزامات لگاتے رہیں گے کہ یہ میرا نہیں تیرا قصور ہے۔




Enhanced by Zemanta

Traffic Problems In Karachi




شہر کراچی میں جتنی تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے اتنی تیزی سے ٹریفک بھی سڑکوں پر بے حد بڑھ چکا ہے۔ اس وقت ٹریفک قوانین کہیں نظر نہیں آرہے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی عدم دل چسپی کی وجہ سے ٹریفک کے ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل نظر آرہا ہوتا ہے نہ پولیس والے قوانین کے مطابق چل رہے ہیں اور نہ ہی عوام۔ جس کی وجہ سے روز اب حادثات کی بھیانک خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔

شہر میں غلط سمت ڈرائیونگ اور دیگر ٹریفک لا قانونیت سے جان لیوا حادثات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، غلط سمت پرجانے سے حادثات میں گزشتہ ایک سال کے دوران 21 فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔ کراچی میں سالانہ ٹریفک حادثات میں 1200 ہلاکتیں ہوتی ہیں جس میں 100 سے زائد کم عمر بچے بھی جان لیوا حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر 30 ہزار سے زائد افراد سالانہ ٹریفک حادثات میں زخمی ہوتے ہیں۔ 4دن سی این جی کی بندش کے باعث پٹرول پر چلنے والے رکشا، ٹیکسی، کار اپنا پٹرول بچانے کے لیے غلط سمت اختیار کرتے ہیں اور حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ شہری روز کی سی این جی بند ہونے کی وجہ سے مشکلات کا تو شکار ہیں ہی مگر اس قدر مہنگائی کی وجہ سے پٹرول بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اگر کراچی کے شہریوں کو سی این جی ہر روز یا پھر ہر دوسرے دن فراہم کی جائے تو کئی جانیں ضایع ہونے سے بچ سکتی ہیں۔ سندھ میں 72 فی صد گیس کی پیداوار موجود ہے پھر بھی کراچی والے سی این جی سے چار چار دن محروم ہیں۔ پاکستان میں گیس کی کمی نہیں پھر کیوں شہریوں کو تنگ کیا جارہا ہے۔ سی این جی کی ہر روز بندش کی وجہ سے شہری شدید ذہنی کوفت اور دشواریوں کا ہی شکار نہیں اس کے سبب اب حادثات میں بھی تیزی آرہی ہے اگر سی این جی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا تو پھر سارے سی این جی اسٹیشن کو بند کردیا جائے تاکہ عوام کوئی نہ کوئی اس کا حل ضرور نکال لیںگے اور ذہنی اذیت سے بھی بچ سکیںگے۔

کراچی میں بڑھتے ٹریفک حادثات میں جہاں سی این جی کی بندش نے اپنا بد ترین کردار ادا کیا ہے وہی ٹریفک پولیس کی عدم دل چسپی نے بھی ٹریفک حادثات کو ہوا دی ہے۔ کراچی میں فلائی اوورز، انڈر پاسز اور یوٹرن کی تعمیر سے شاہراہیں سگنل فری ہوگئی ہیں۔ روڈوں پر بہت کم ٹریفک پولیس نظر آتی ہے۔ ٹریفک پولیس کی غفلت، ایندھن کی بچت کے لیے شاہراہوں اور سڑکوں پر شارٹ کٹ اختیار کرنا روڈ سیفٹی کی تعلیم سے عدم آگہی ان تمام چیزوں نے حادثات کو جنم دیا ہے۔

حکومت کو تیزی سے بڑھتے ہوئے حادثات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا فرسودہ نظام بھی بہت زیادہ پریشان کن ہے، آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے مگر آبادی کے لحاظ سے پبلک ٹرانسپورٹ بہت کم ہے، پرائیویٹ گاڑیوں کی بھرمار سڑکوں پر نظر آتی ہے ، کراچی میں ایک اچھے ٹرانسپورٹ کے نظام کی اس وقت اشد ضرورت ہے، جیسے لاہور میں رائج ایک جامع ٹرانسپورٹ نظام موجود ہے اسی طرح کراچی والوں کو بھی سہولت فراہم کی جائے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے فرسودہ نظام کی وجہ سے سب سے زیادہ مسافر خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں روزانہ 12 لاکھ خواتین سفر کرتی ہیں، 13 ہزار بسوں میں خواتین کے لیے 1لاکھ 30 ہزار سیٹیں ہیں۔ 1970 سے 1999 تک 100 لوکل ٹرینیں چلائی جاتی تھیں ہر لوکل ٹرین میں خواتین کے لیے 100 سیٹوں والا ڈبہ مخصوص ہوتا تھا۔ 2 سے ڈھائی لاکھ خواتین ان ٹرینوں میں روزانہ سفر کرتی تھیں۔

ورکنگ خواتین کو آمد و رفت میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کے لیے بسوں میں مختص کمپارٹمنٹ مردوں کے کمپارٹمنٹ سے بہت چھوٹا ہوتاہے اور ستم یہ کہ خواتین کے کمپارٹمنٹ میں مرد حضرات آکر بیٹھ جاتے ہیں بعض اوقات تو یہ مرد حضرات عورتوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ غلط حرکتیں کرتے ہیں۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں اصلاحات کی جائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں عورتوں کے لیے مخصوص سیٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ خواتین کے لیے مختص کمپارٹمنٹ میں مرد مسافروں کے داخلے اور ان کے بیٹھنے پر پابندی عائد کی جائے، خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ نظام کے حوالے سے اسمبلی میں قانون سازی کی جائے۔ورکنگ خواتین، طالبات اور گھریلو خواتین کی بڑی تعداد اب چنگ چی رکشوں اور 6 سے 11سیٹر رکشوں میں سفر کرنے کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ خواتین ان رکشوں میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی ہیں، کراچی میں 23000 چنگ چی رکشا اور 6000 سے زائد 9 اور 11 سیٹر سی این جی رکشے چل رہے ہیں۔

اس وقت شہریوں کو ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا ہے، حکومت پاکستان کو ٹرانسپورٹ کے حوالے سے درپیش مشکلات کا حل جلد سے جلد نکالنا چاہیے۔ بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور درپیش ٹریفک مشکلات کو فوری حل کرنا ضروری ہے ورنہ روزانہ کئی افراد اپنی زندگی کی بازی ہار جائیںگے اور اپنے پیچھے ایک ہی سوال چھوڑ جائیںگے کہ ٹریفک حادثات کا ذمے دار آخر کون ہے؟

Traffic Problems In KarachiEnhanced by Zemanta

Tuesday, February 25, 2014

Karachi University memories




جامعہ کراچی ایسی درسگاہ ہے،جہاں سے فارغ التحصیل طلبا نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کااظہارکرکے دنیا کو حیران کیا۔اس جامعہ میں متوسط طبقے کے طالب علم حصول علم کے لیے آئے اورخوابوں کی تعبیر لے کر دنیا میں چھاگئے۔میں اگر ان میں سے چند نام یادکروں، تومیرے حافظے پر جن شخصیات کاتصور ابھرتاہے ،ان میںابوالخیر کشفی،جمیل الدین عالی،اسلم فرخی، عطاالرحمن،فرمان فتح پوری،حسینہ معین،ابن انشا،جمیل جالبی،منظور احمد،محمد علی صدیقی،پروین شاکر،سحر انصاری اور زاہدہ حنا جیسی شخصیات شامل ہیں۔

یہ فہرست بہت طویل ہے، میں نے تو صرف شعرو ادب سے وابستہ چند نام درج کیے ہیں۔اسی طرح جامعہ کراچی کے شیخ الجامعہ کے منصب کی فہرست بھی کئی بڑے ناموں سے سجی ہوئی ہے،ان ناموں میں شعبہ تاریخ کے اشتیاق حسین قریشی،انگریزی کے شعبے سے محمود حسین اورشعبہ اردوکے جمیل جالبی سمیت1951سے لے کر 2013تک 16شخصیات نے اس منصب کی ذمے داری کو احسن طریقے سے نبھایا۔ ہزاروں کی تعداد میں اس جامعہ سے فارغ التحصیل طلبا کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ابھی تک جامعہ کراچی کی نسبت سے جتنے نام یہاں درج کیے گئے ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ 64برس میں اس ادارے سے تعلیم حاصل کرکے جانے والوں نے علم کے چراغ روشن کیے۔تخیل کی سنہری دھوپ سے خیال کی فصلوں کو پکایا۔ باذوق تحریروں سے معنویت کی داستانیں رقم کیں۔افکار کے جگنو اور بیان کی تتلیاں ان کے اذہان سے اڑان بھر کر ساری دنیا میں محو پرواز رہیں۔

جامعہ کراچی سے منسوب یہ تصور اتنا خوبصورت ہے، جس کا یہاں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔یہ وہ ہی سمجھ سکتا ہے، جو کبھی اس جامعہ کا طالب علم رہا ہو۔جس نے اس کی راہداریوں میں بیٹھ کر اساتذہ کو آتے جاتے دیکھا ہو۔جس نے محمود حسن لائبریری کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر چائے پی ہو۔حبس زدہ دوپہروں میں جامعہ کے مرکزی دروازے تک آنے کے لیے کئی کلومیٹر پیدل مسافت طے کی ہو۔وہ ان ناموں اوراحساسات کی گہرائی کو زیادہ بہترطورپر سمجھ سکتاہے اورجو تصور کے اس درجے کو سمجھ سکتا ہے،وہ یہ بھی جانتا ہوگا کہ اسی جامعہ کے ساتھ کئی طرح کی تلخ حقیقتیں بھی پیوستہ ہیں،جن سے ہر طالب علم کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔

معاشرے جب زوال پذیر ہوتے ہیں، تو ان کو بنانے والے شعبوں پر بھی زوال آتا ہے۔یہی زوال جامعہ کراچی پر بھی آیا۔ طلبا کی اکثریت بھی ایسی آئی ،جنھیں صرف سند حاصل کرنے میں دلچسپی ہوتی ہے یا پھر وقت گزاری میں۔ جب معاشرے،ادارے اورافراد ایسے رویوں کے عادی ہو جائیں ،تو زوال کس دروازے سے آپ کے آنگن میں داخل ہوتا ہے،اس کا بھی احساس نہیں ہوتا۔

جامعہ کراچی کی روشن اور تخلیقی روایت کے ایسے ہی چار افراد کو میں جانتا ہوں،جنہوں نے خاموشی سے خود کو علم بانٹنے میں مصروف رکھا ہوا ہے،اس پر لطف یہ ہے کہ وہ صرف طالب علموں کو سیراب ہی نہیں کر رہے ،بلکہ خود کو بھی تخلیقی کیفیات سے جوڑ رکھا ہے۔ایک طرف تخلیق کار پیدا کر رہے ہیں ،تو دوسری طرف خود تخلیق کے کینوس پر اپنے اظہار کے رنگ بکھیر رہے ہیں۔یہ چار نام پروفیسر مسعود امجدعلی،ڈاکٹر افتخار شفیع ،ڈاکٹر رؤف پاریکھ اورڈاکٹر طاہر مسعود ہیں۔ایسے لوگوں کے دم سے ابھی علم کا چراغ جامعہ کراچی میں روشن ہے۔ان چاروں شخصیات کو آپ کسی ادبی میلے میں نہیں دیکھیں گے،شاید یہ میلے ٹھیلے کے لوگ بھی نہیں ہیں اور میلے کی انتظامیہ کو دکھائی بھی نہیں دیتے،لیکن یہی وہ لوگ ہیں، جنھیں ہم تخلیق کی آبرو اور خیال کی زینت کہتے ہیں۔جن کے احساس سے تخلیقات میں معنویت دھڑکتی ہے۔

ان میں سے پہلی شخصیت ’’پروفیسر مسعود امجد علی‘‘کا تعلق انگریزی کے شعبے سے ہے۔ساٹھ کی دہائی سے پڑھانے والے اس استاد سے ہزاروں طلبا فیض یاب ہوچکے ہیں۔ یہ 1994سے 1997تک اسی شعبے کے چیئرمین بھی رہے۔ یہ انگریزی زبان میں شاعری کرتے ہیں ۔ان کی نظموں کا مجموعہ ’’Chrysanthemum Blossoms‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شایع ہوچکا ہے مگر اہل شہر اس بات سے بے خبر ہیں اور انگریزی اخبارات کو بھی عام ڈگر سے ہٹ کر ایک معیاری نظمیں تخلیق کرنے والے اس شاعر کو دریافت کرنے کی زحمت نہیں کرنا پڑی،ایک ایسا شاعر جو مدرس بھی ہے اورجس کے لہجے اور تکنیک سے طلبا انگریزی زبان کی بُنت سیکھتے ہیں۔پروفیسر مسعودامجد علی اپنے شعبے کے بارے میں کس انداز میں رائے دیتے ہیں،یہی ان کی تخلیقی اُپچ کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ان کے خیال میں ’’جامعہ کراچی کا شعبۂ انگریزی ایک آرٹسٹ کے اسٹوڈیو کی طرح ہے،جہاں آپ فن اوررنگوں کا ذائقہ چکھتے ہیں۔‘‘

دوسری شخصیت کا تعلق بھی انگریزی کے شعبے سے ہے،انھیں ’’ڈاکٹر افتخار شفیع ‘‘کہاجاتاہے۔یہ فقیر منش استاد ہے،جس نے اپنی تہذیبی حساسیت کو تھام کر اورایک دوسری زبان کے شعروادب کو طلبا کے ذہنوں میں اتارا۔کم عمری میں پی ایچ ڈی کرنے والے اس مدرس کی بنیاد مولانا رومی کی شاعری تھی،جس کی عملی صورت ان کی شخصیت میں بھی دکھائی دیتی ہے۔عام سے لباس میں ایسی خاص باتیں کرتے ہیں،لفظوں کے معنی اس طرح کھول کر بیان کرتے ہیں کہ سننے والا اپنے آس پاس کا ہوش کھو بیٹھے، بے شک اہل شعور ایسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔کئی برس سے انگریزی ادب پڑھانے والے اس استاد نے اپنا دامن جھاڑا تو اردو شاعری کاخوبصورت مجموعہ ’’انگارہ‘‘ قارئین کومیسر آیا۔جس کا ایک شعر بہت سی ان کہی باتوں کا بیان ہے۔ لکھتے ہیں ’’جب بجھی شمع سخن گرمیٔ محفل کے لیے، آ گئے ہم بھی ہتھیلی پہ لیے انگارہ‘‘پروفیسر افتخار شفیع کی کتاب ’’انگارہ‘‘ کے دو سو تیراسی صفحات ان کے جذبات، وجدان، شعور اور مشاہدے کی اتھاہ گہرائیوں کو بیان کرتے ہیں اور بیان بھی ایسے شاعرانہ انداز میں، جیسے نرم وملائم بادصبا چھوکر گزر جائے ،وہ دکھائی نہ دے مگر اس کے ہونے کا احساس موجود ہو۔

تیسری شخصیت کا نام ڈاکٹر رؤف پاریکھ ہے۔یوں تو یہ کسی تعارف کے محتاج نہیں،لیکن میں رسم نبھانے کو اگر ان کے بارے میں کچھ بتاناچاہوں تومختصراً یہ ہے کہ ان کا تعلق شعبۂ اردو سے ہے،صرف جامعہ کے طلبا ہی ان کے علم سے فیض یاب نہیں ہوتے،بلکہ مجھ جیسے ناچیز بھی ان سے اکثر مواقعے پر رہنمائی لیتے ہیں۔یہ اردو ڈکشنری بورڈ،کراچی سے وابستہ رہے۔اردوکے شعبے میں پڑھانے کے علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے شعبہ لغت سے بھی وابستہ ہیں۔ایک موقر انگریزی روزنامے میں ہفتہ وار ادبی کالم بھی لکھتے ہیں۔انجمن ترقی اردو اور غالب لائبریری سے بھی وابستہ ہیں۔تصنیف وتالیف کاکام بڑی باقاعدگی سے کرتے ہیں اوراب تک ان کی تقریباً20کتابیں شایع ہوچکی ہیں۔یہ بھی دل کے صاف،سچے اوراپنے کام سے محبت کرنیوالے وہ شخص ہیں، جن پر کسی بھی ہم عصر کو رشک آتاہے۔چوتھی شخصیت کا تعلق شعبۂ ابلاغ عامہ سے ہے۔ان کا نام ڈاکٹر طاہر مسعودہے اور یہ اس شعبے کے موجودہ چیئرمین ہیں۔یہ ان چند اساتذہ میں سے ہیں،جو تخلیق کار ہیں اور ’’صورت گرکچھ خوابوں کے‘‘ان کی مشہور زمانہ کتاب ہے۔اس کے علاوہ یہ افسانے ،ادبی مضامین اور اخباری کالم لکھتے ہیں۔ان کے افسانوں کی کتاب کا نام ’’گمشدہ ستارے‘‘تھا،جس میں کئی رنگ ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں۔ان کے ہم عصر تخلیق کاراورمعروف شاعر فراست رضوی ان کے بارے میں اس کتاب کے دیباچے میں کچھ اس طرح اظہار خیال کرتے ہیں۔

’’ان کی کہانیوں کے کردار عام لوگ ہیں۔تقدیر کے جبر اور معاشرتی استحصال کے مارے ہوئے۔ان کے حالات زندگی بہت الجھے ہوئے ہیں۔یہ سب کسی نہ کسی دُکھ کا پہاڑ اٹھائے ہوئے زندگی کا بوجھ ڈھو رہے ہیں۔طاہر کی کہانیوں کے کردار خوش وخرم لوگ نہیں ہیںیہ سب زندگی کے ناکام افراد ہیں۔ ناآسودگی میں مبتلا کسی ادھورے پن کاشکار۔طاہر مسعود کی کہانیوں کے کردار ایسے کیوں ہیں؟ ’’وارڈ نمبر گیارہ کا معذور بوڑھا ’’منزل آخرفنا‘‘ کا عمر رسیدہ ریٹائرڈ کرنل، اکیلاپن جس کی روح میں اترگیا یاس زدہ گھرانے کی خاموش غم زدہ ماں۔’’خواب اورآنسو‘‘کاخواب گزیدہ ادیب۔ تنہائی کی ماری مسز رخشندہ کریم۔ادھوری بینائی کامالک صفدر علی اور حافظے کی قید سے آزاد ہو جانے والا کردار۔میں نے اس بارے میں سوچا تو مجھے ایسا لگا کہ طاہر مسعود انسان کے باطن میں اتر کر اس کی داخلیت کے نامعلوم گوشوں کو قاری پر منکشف کرنا چاہتے ہیں اورپھر کیا یہ سچ نہیں ہے کہ عہد جدید کاآدمی اتنا ہی دکھی اور ژولیدہ ہے جتنا طاہر نے اپنی کہانیوں میں دکھایا ہے‘‘

پروفیسر مسعود کی انگریزی شاعری،ڈاکٹر افتخار شفیع کی اردو شاعری اورانگریزی ادب کا فہم،ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی علمی سخاوت اورڈاکٹر طاہر مسعود کی اداس بھری تخلیق سے بھرپور کہانیاں اورکردارسب کے درمیان ایک نکتہ یکساں ہے اوروہ ہے ’’خاموشی‘‘ان تخلیقی ستونوں کے دروازے سچی فکر کے لیے کھلے ہوئے ہیں،مگر سیراب کی اس منزل کو پانے کے لیے آپ کو ان کی طرف جانا ہوگا۔

خرم سہیل

Karachi University


Enhanced by Zemanta

Tuesday, February 18, 2014

Problems Of Karachi City


را قم کو تقریبا ً 26 سال کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں مختلف حیثیتوں سے کا م کرنے کا مو قع ملا ان 26 سا لوں کے علاوہ مزید 5 سے 6 سال تک بحیثیت سول انجینئر حید رآباد ،حب ڈیم اور خضدار میں بھی کا م کا تجربہ رہا ۔ کراچی کے سابق میئرفاروق ستار نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں میری ملازمت کی ابتدا ء میں ہی مجھے کراچی کے بلک واٹر سپلائی کا انچارج مقررکردیا تھا ۔ ایک نئے انجینئر کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج تھا ، اس وقت کی بلدیاتی قیادت کی سپورٹ سے کراچی میں پا نی کی منصفانہ تقسیم کا نظام بہت بہترہوگیا تھا۔

اس تمام عرصے میں سپرنٹنڈنگ انجینئر پھر چیف انجینئر رہا۔ فاروق ستار کے دونوں ادوار یعنی بحیثیت میئرکراچی اور منسٹر لوکل گورنمنٹ ،راحیل ناصر شاہ ،آغا مسعود عباس ،نعمت اللہ خان اور پھر مصطفی کمال کے ساتھ کراچی میں قر یہ قریہ گھومتا رہا اور بلدیاتی امور سے آگاہی بڑھتی گئی۔ کراچی کی آبادکا ری گزشتہ 25 سالوں میں تیزی سے بڑھتی رہی شہر کے خدوخال بدلتے رہے اور کراچی کو دنیا کا ساتواں بڑا شہر بن گیا۔

کراچی اپنے منفرد محل و قوع متوازن موسم اور زبردست افرادی قوت کی وجہ سے صنعت و حرفت میں تر قی کی قو ت سے مالا مال ہے ۔ اس سلسلے میں ایک طرف صوبائی ووفاقی حکومت کی ذمے داریاں بہت اہم ہیں، ساتھ ساتھ میرے خیال میں کراچی کے صنعتکار ، بلڈرز اور ملٹی نیشنل اداروں کو اپنا بھر پورکردارادا کرنا ہوگا جنہیں کراچی اور اس کے عوام نے اپنی سخت محنت ومشقت سے کہا ںسے کہا ںپہنچا دیا ہے۔ شہرکی تر قی میں ان کا کو ئی رول نظر نہیں آتا یہ ادارے اپنی سوشل کارپوریٹ ریسپانسبلیٹی کے تحت شہری تقا ضوں سے قطع تعلق رہتے ہیں۔ ان کے بعض سربراہان تو پا نی کا ٹینکر بھی مفت ما نگتے ہیں جبکہ ان کے مکانا ت کروڑوں روپے مالیت کے ہوتے ہیں ان کے بنگلوں میں لاکھوں کی گاڑیاں کھڑی ہوتی ہے ۔

دوسری جا نب منفعت بخش کاروبار کر نے والے اداروں صنعتکاروں اور تاجر حضرات کو بلکہ تمام شعبوں میں جنہیں اس شہر نے کروڑ پتی اور ارب پتی بنا دیا، وہ مختلف سماجی کا موں میں حصہ لیتے ہیں غریبوں کی ہر مدد کر تے ہیں ،مختلف رفاہی کا موں میں حکومت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں لیکن کراچی جس نے ہزاروں لا کھو ں لوگوں اور بے شمار اداروں کو تر قی دے کر کہاں سے کہاں پہنچا دیا اس کی اجتما عی تر قی پر ان کی توجہ نہیں ہے ۔

کراچی ملک کی قدرتی بندرگا ہ ہے جہاں سے پو رے پا کستان کو تیل اور تمام اشیا ء فراہم ہوتی ہیں یہاں ہو نے والی صنعتی اور تجاتی سرگرمیاں لا کھوں خاندانوں کو روزگار فراہم کرتی ہیںاور سندھ حکومت کو 98 فیصد جبکہ وفاقی حکومت کو 70 سے 72 فیصد ریونیو کراچی سے حا صل ہو تا ہے۔

کراچی کی بڑھتی ہو ئی آبادی اور اس سے پیدا ہو نے والے بے شمار مسائل ، کراچی جو منی پاکستان کہلا تا ہے یقینا اس کی تعمیروتوسیع میں ملک بھرکی لسانی اکا ئیوں کا ایک بھر پور رول رہا ہے اور یقینا کراچی کی تمام ترصنعتی وتجارتی سرگرمیوں میں ان سب کا بہت اہم کردار ہے جو یقینا نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان تمام آبا دیوں کے لیے بھی بنیادی حقوق فراہم کرنا بھی ریاستی ذمے داری ہے مگر بے ہنگم پھیلا ؤ اور بلدیاتی سہولتوں کی عدم موجودگی اور سرکا ری زمینوں پر قبضہ مافیا کی سرگرمیوں کی وجہ سے بنیادی سہولتوں کی فراہمی نہیں ہوپاتی اور دوسری طرف انفرا اسٹرکچر فراہم کر نے کے لیے بلدیا تی اداروںکے پا س وہ وسائل بھی نہیں ہیں ۔

میری تجویز ہے کہ سب سے پہلے کراچی میں مردم شماری کے ساتھ ساتھ کراچی کی حقیقی حدود کا تعین کیا جائے جس کو آرگنا ئز کرنا کراچی انتظا میہ کی ذمے داری ہے ۔

وفاقی حکومت کو ایک طرف توکراچی شہر کے لیے حدود کا تعین کر نا ہوگا اور یہاں پر بسنے والے پاکستان بھر سے آئے ہو ئے لوگوں کو سہولتیں فراہم کر نے کے لیے یو ٹیلیٹی اداروں کو خصوصی فنڈز دینے ہوں گے ۔

میری نظر میں جودیگر اہم ترین مسائل ہیں ،ان کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں ۔

کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کو فراہمی و نکاسی آب کے نظام میں عدم توازن سے نجا ت دلانا ہو گی ،شہر میں تعمیر ہو نے والی کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پا بندی لگائی جائے، با زاروں میں یا عمارتوں میں پارکنگ کا نظام ،دفاتر اوررہا ئشی منصوبوں میں بھی پا رکنگ کی عدم موجوگی سے پیدا شدہ مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینا لازمی ہے ۔ علاوہ ازیں سڑکوں پر تجاوزات کی موجودگی اور ان کو متبادل روزگار کی فراہمی اور اس کے نظام کی تشکیل نوضروری ہے۔

15ہزار ٹن روزانہ سالڈ ویسٹ کو ٹھکا نے نہ لگا نے کے سبب شہر بھر میںکو ڑاکٹ کا ڈھیر سے نجا ت ، 280 کے لگ بھگ چھوٹے،بڑ ے سات نالے اور لیاری وملیر ندی پرآبادیو ں کا تسلسل اور اس میں سیوریج کے کنکشن اور سالڈ ویسٹ کی بھرائی اور اس سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے اقدامات۔

سپریم کورٹ کے نوٹس لیے جانے کے باوجود تمام انڈسٹریل ویسٹ کا زہریلا پا نی کی بنا کسی ٹریٹمنٹ کے سمندر کی نذرکرنا جس سے سمندری آلودگی میں بے پناہ اضا فہ اور ماہی گیری کی صنعت پر اثرات ۔Disaster Management کی عد م مو جودگی اور اس کی ضرورت ۔سرکاری اسکولوں کی حالت زار سرکا ری و پرائیوٹ اسکولوں کا تعلیمی معیار، سرکا ری اسپتالوں جناح ، سول اور عباسی شہید کے حجم کے مطابق عام آدمی کے لیے مزید اسپتالوں کی ضرورت خا ص طور پر کراچی کے مضافات میں 14فائر بریگیڈکی زبوں حالی اورکا رکردگی کو بہتر بنا نے کی ضرورت جبکہ دوسری طرف کراچی کے تنگ با زاروں تنگ انڈسٹریل ایریاز تنگ گلیاں اور کراچی میںتعمیر ہو نے والی کثیر المنزلہ عمارتوں کے لیے نئی اسنا رکل کی ضرورت ،عاملوں جنسی ادویات فروخت کر نے والوں جعلی دندان ساز اور غیر تعلیم یا فتہ افراد کی شعبہ طب میں کا م سے روکنا جعلی ادویات جعلی منرل واٹر کی فیکٹریا جعلی کاسمیٹک جعلی مشروبات،خواتین کے لیے با وقار روزگار کی فراہمی ،دعو توں میں خوراک کا ضیاع اوراوقات تقریبات کی پابندی اس مسائل ہیں جن کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔

Problems Of Karachi City