Friday, February 20, 2015

کراچی: ایک مشکل شہر....


رات کے کھانے کی میز پر ہر ایک کے پاس سنانے کے لیے ایک کہانی تھی: ٹریفک سگنلز پر گن پوائنٹ پر ڈکیتی، اور چوروں کا گھروں میں گھس آنا، یہ وہ تجربات تھے جو وہ سب شیئر کر رہے تھے۔

یہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کے متمول علاقے کا ایک گھر تھا مگر یہ کہانیاں ایسے علاقوں میں زیادہ خوفناک ہوجاتی ہیں جہاں لوگ سیکیورٹی 'خریدنے' سے قاصر ہیں۔ شہر کے ہر تیسرے شخص کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ اس عذاب سے گزرا ہے اور وہ بھی ایک بار نہیں کئی بار۔

شہر میں خون سستا ہوگیا ہے اور ڈاکوﺅں کے سامنے کسی قسم کی مزاحمت کی قیمت لوگوں کو اپنی زندگیوں کی صورت میں چکانا پڑتی ہے: بحث مت کرو یا احمقانہ جرات سے گریز کرو، یہ وہ عام مشورہ ہے جو شہر میں آنے والے ہر فرد کو دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ صحیح بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ قانون کی عملداری ملک کے سب سے بڑے شہر میں مکمل طور پر منہدم ہونے کے مقام پر پہنچ چکی ہے اور پولیس کی جانب رخ کرنا بھی آپ کے لیے بڑی مشکل کا باعث بن سکتا ہے۔
تو کوئی اس لاقانونیت کے ماحول میں کیسے خود کو بچا سکتا ہے؟ ڈکیتیوں اور لوٹ مار کی وارداتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہر کے تیزی سے تباہی کی جانب بڑھنے کو واضح کردیا ہے۔ اس زرخیر کاسموپولیٹن شہر میں لوگوں کے پاس بچنے کے اپنے طریقے ہیں کیونکہ یہ شہر اب بھی بے مثال مواقع فراہم کر رہا ہے۔

عوام کے لیے حکومت مکمل طور پر غیر متعلق یا قبضہ گروپ بن چکی ہے جسے نظرانداز کیے جانے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس دولت ہے تو اپنی سیکیورٹی خود خریدیں اور دیگر خدمات کے لیے رقم ادا کریں۔ اگر آپ اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تو پھر مافیاز اور مقامی سیاسی جماعتوں کی سرپرستی کے متلاشی بن جائیں، مگر یہ بھی آپ کی مکمل سیکیورٹی کی ضمانت نہیں۔

اب بھی یہ شہر ناقابلِ یقین رفتار سے پھیل رہا ہے اور 1998 سے اب تک کراچی کی آبادی کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے اور یہاں کے جغرافیے نے شہر کو متعدد معاشی، سماجی اور ثقافتی اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے جن کا ایک دوسرے سے بہت کم یا کوئی کنکشن نہیں۔ یقیناً اس تقسیم میں مزید نمایاں اظہار گزشتہ ایک دہائی کے دوران بڑی تعداد میں گھر بار چھوڑ کر یہاں آنے والے افراد کے اثر سے ہوا۔

یہ صرف شمال سے ہونے والی ہجرت نہیں تھی بلکہ بڑی تعداد میں لوگ اندرون سندھ سے بھی یہاں آئے، خاص طور پر آخری دو سیلابوں کے بعد۔ تاہم اس نے شہر کو پگھلتے برتن میں تبدیل نہیں کیا بلکہ اس نے ثقافتی اور معاشی تقسیم کو مزید وسیع کیا، چنانچہ ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر کلفٹن کے ساحل پر مختلف سماجی اور مالی حیثیت کے افراد کو اکھٹے دیکھا جاسکتا ہے۔

شہر میں نئے آنے والے بیشتر افراد ایسے علاقوں میں بس گئے ہیں جہاں ریاست کی جانب سے خدمات فراہم نہیں کی جا رہیں اور ان کا انحصار مختلف پاور گروپس پر ہوتا ہے، جس نے شہر کو مختلف سیاسی پیمانوں میں تبدیل کردیا ہے۔ خطے، پاور، کنٹرول یا حقوق کی اس جنگ کے نتیجے میں جرائم پیشہ مسلح گینگز کو بھی ابھرنے کا موقع ملا ہے جنہیں طاقت کے مختلف بلاکس کی سرپرستی حاصل ہے اور اس چیز نے شہر کو تشدد کے کبھی نہ ختم ہونے والے چکر میں دھکیل دیا ہے۔ کاروباری حضرات کی جانب سے بھتے کی رقم صرف ان گینگز کو ہی ادا نہیں کی جاتی بلکہ متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی نوازا جاتا ہے تاکہ اپنی بقاء کو ممکن بنایا جاسکے۔

ایک بار جب آپ کو اپنے علاقے کے سب سے طاقتور گروپ کے بارے میں معلوم ہوجائے تو کوئی مسئلہ نہیں رہتا کیونکہ وہ آپ کو سیکیورٹی کی یقین دہانی کروا سکتا ہے۔ ایک ممتاز صنعت کار نے مجھے بتایا کہ انہیں بس حکومتی ٹیکسز کا ایک حصہ انہیں ادا کرنا پڑتا ہے۔ مگر صرف یہی کافی نہیں، بلکہ آپ کو وزراء اور حکومتی افسران کو بھی خوش رکھنا پڑتا ہے۔ ہر ایک کی اپنی قیمت ہے۔ یہ صرف کراچی میں نہیں ہوتا، لیکن یہاں پر حالات زیادہ خراب ہیں اور اس کی وجہ سندھ حکومت کے اندر کی بہت زیادہ نچوڑ لینے والی فطرت ہے۔

کراچی کی بدترین مشکلات میں مزید اضافہ گذشتہ پانچ برسوں سے ایک منتخب شہری حکومت کی عدم موجودگی سے ہوا ہے۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے، پی پی پی حکومت ملک کے سب سے دولت مند شہر کا سیاسی کنٹرول کھونا نہیں چاہتی۔ دو کروڑ کے لگ بھگ آبادی والا یہ شہر متعدد یورپی ممالک سے بھی بڑا ہے اور اسے بیوروکریٹس چلا رہے ہیں جو اس شہر اور اس کے مسائل کو بمشکل ہی سمجھ پاتے ہیں۔

وفاق کے ریونیو کا بڑا حصہ اور صوبائی بجٹ کے لگ بھگ نوے فیصد حصے کو سپورٹ کرنے والے اس شہر کے لیے بہت کم فنڈز دستیاب ہیں۔ کراچی میں متعدد مناسب بلدیاتی خدمات بھی دستیاب نہیں، ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈز کے زیرتحت علاقوں سے باہر ملک کا یہ صنعتی مرکز کچرے کا ڈھیر لگتا ہے۔ مہاجرین کی بے مہار آمد نے شہر کے بڑے حصے کو ایک بڑی کچی بستی میں تبدیل کردیا ہے جہاں بنیادی شہری سہولیات تک میسر نہیں۔

اس میگا سٹی میں کوئی ماس ٹرانزٹ سسٹم نہیں بلکہ یہاں پبلک بسوں کی تعداد میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران کمی آئی ہے اور لوگوں کو اپنے دفاتر تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ موٹرسائیکلوں اور چھ سیٹر رکشوں کے انقلاب نے دباﺅ میں کمی میں مدد دی ہے، دو پہیوں کی سواری کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سستی موٹرسائیکلوں کی آسان اقساط میں دستیابی ہے۔

یہ الزام سامنے آتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کرانے سے انکار کی بنیادی وجہ وسیع اور مالی لحاظ سے پرکشش زمینیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت کے سابقہ اور موجود دور میں آنے والا انتشار حیرت انگیز ہے، کچی بستیوں کی تیزی سے توسیع ساحل سمندر کے سامنے بلند و بالا شاپنگ مراکز اور اپارٹمنٹس عمارات کے ساتھ ہوئی۔ یقیناً منظرنامے میں رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کی آمد نے تعمیراتی سرگرمیوں کو بڑی قوت دی ہے مگر یہ وہ بیل ہے جو سابق صدر آصف علی زرداری کے دروازے تک جاتی ہے۔

بلاول ہاﺅس کے قلعے کے لیے بڑی تعداد میں مکانات کو اطلاعات کے مطابق مارکیٹ قیمتوں پر خریدا گیا۔ انکار کو قیمت کی پیشکش کے جواب میں قبول نہیں کیا گیا۔ کلفٹن کنٹونمنٹ کی زمین کا بڑا حصہ اب بلند و بالا عمارات کا مرکز بن چکا ہے۔ قابلِ استعمال بنائی گئی زمینیں بااثر ٹائیکونز کے لیے خوش حالی کا زینہ بن گئی ہیں، دوسری جانب ایک نیا بحریہ سٹی بھی شہر کے مضافات میں سامنے آنے والا ہے۔

اس شہر کو تمام تر مسائل کے باوجود کیا چیز آگے بڑھا رہی ہے؟ اس کا جواب ممکنہ طور پر اس کی مزاحمت میں چھپا ہوا ہے۔ یہاں کا ثقافتی منظرنامہ ترقی پا رہا ہے۔ کچھ تخمینوں کے مطابق رواں برس کراچی ادبی میلے نے اپنی جانب کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار افراد کو متوجہ کیا اور یہ تعداد گذشتہ سال سے کئی زیادہ ہے، مگر مزاحمت نے یہاں تبدیلی کو بھی مشکل بنایا دیا ہے۔ ایک مروف شہری پلانر اور آرکیٹیکٹ عارف حسین کے الفاظ میں "اچھا ہی ہوتا اگر یہ شہر اتنی مزاحمت کا مظاہرہ نہ کرتا۔"

لکھاری ایک مصنف اور صحافی ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر لکھتے ہیں۔
zhussain100@yahoo.com
یہ مضمون ڈان اخبار میں 18 فروری 2015 کو شائع ہوا۔

Wednesday, February 18, 2015

کراچی کا امن : تعبیر کا منتظر خواب....


کراچی کے بارے میں حکومتی سطح پر جب بھی کوئی سنجیدہ غوروفکر ہوتا ہے، ہر پاکستانی کو خوشی ہوتی ہے۔ کراچی کا دکھ اب اس قدر پراناہے کہ اس کے حوالے سے اچھی خبر مشکل ہی سے آتی ہے، تاہم ہر شخص یہ خواہش ضرور رکھتا ہے کہ کراچی میں امن قائم ہو اور یہ شہر پہلے کی طرح عروس البلاد بن جائے۔ مَیں اکثر ایسے لوگوں سے ملتا رہتا ہوں جو کراچی دیکھنے یا اپنے عزیز و اقارب سے ملنے جانا چاہتے ہیں، مگر ایک انجانے خوف کی وجہ سے وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کراچی چھوڑ کر ملک کے کسی دوسرے حصے میں آباد ہونا چاہتے ہیں، لیکن کراچی کے جن علاقوں میں وہ رہتے ہیں، وہاں یورش کی وجہ سے ان کی جائیداد نہیں بکتی یا پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ انہیں بیچنے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی۔ 

کچھ لوگ تو اب بھی یہی کہتے ہیں کہ کراچی میں سب اچھا ہے، حالانکہ وہاں شہر کئی حصوں میں بٹ چکا ہے، ایک علاقے کے رہنے والے دوسرے میں نہیں جا سکتے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ کراچی میں مختلف سیاسی طاقتوں نے اپنے اپنے نوگو ایریاز بنا لئے ہیں، جہاں ان کی اجازت کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں ما رسکتی۔ ایسے میں جب ملک کے دو بڑے وہاں جا کر حالات سدھارنے کی بات کرتے ہیں تو ایک امید ضرور پیدا ہوتی ہے، مگر یقین نہیں آتا کہ کراچی کو امن و سلامتی کا گہوارہ بھی بنایا جا سکے گا۔

میرے نزدیک سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ ہم کراچی کی اس ا پیکس کمیٹی سے بہتری کی اُمید باندھے بیٹھے ہیں، جس کے سربراہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ہیں۔ عزم و حوصلے سے محروم شخص اتنے بڑے ٹاسک پر کیسے پورا اتر سکتا ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کو کراچی کے حالیہ اجلاس کے دوران کئی بار شاہ جی کو جھنجھوڑ کر جگانا پڑا۔وزیراعظم نوازشریف کے بائیں طرف آصف علی زرداری بیٹھے تھے، جن سے پہلا سوال تو یہی بنتا ہے کہ انہوں نے ایک پیرانہ سالی کے شکار شخص کو پچھلے سات برسوں سے سندھ کا وزیراعلیٰ کیوں بنا رکھا ہے۔ 

کراچی جیسے شہر کے لئے بہت بڑے اور جرات مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا سید قائم علی شاہ کے اعصاب اس کی اجازت دیتے ہیں۔ ویسے بھی اتنے بزرگ سیاستدان کے لئے یہ کہاں ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام رابطے ختم کر دے، وضع داری کو پس پشت ڈالے، غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے اور سخت فیصلے کرے۔ سو مجھے تو بہت کم امید نظر آتی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں جو ایک اہم اجلاس ہوا، وہ نتائج دے سکے۔بات اسی حالت میں چلتی رہے گی، تاوقتیکہ کسی دوسرے اجلاس کی ضرورت پیش نہ آ جائے۔

کراچی کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم محمد نوازشریف نے عمومی باتیں کیں، لیکن جنرل راحیل شریف نے حقیقی اقدامات کی نشاندہی کر دی۔ یہ بات تو آصف علی زرداری بھی کہتے ہیں کہ کراچی میں امن قائم ہونا چاہیے، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ موجودہ اندازِ حکومت کے ہوتے ہوئے امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ 

وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھی یہی کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیرہے، ہمارے پاس دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں، لیکن سوال پھر وہی ہے کہ اس کے لئے جو کڑے اقدامات اٹھائے جانے ضروری ہیں، وہ کون اور کب اٹھائے گا؟ راوی بتاتے ہیں کہ اجلاس میں جب سندھ پولیس کا ذکر آیا تو اس میں سیاسی مداخلت اور میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کرنے کی بات بھی ہوئی۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے یہ کہہ کر معاملہ ہی ختم کر دیا کہ سندھ پولیس میں بھرتیاں میرٹ پر ہو رہی ہیں۔ جب سید قائم علی شاہ کے مرشداعلیٰ یہ بیان جاری کردیں تو پھر شاہ جی سے یہ توقع کیونکر رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے مطابق میرٹ پر تقرریوں اور بھرتیوں کو یقینی بنائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اپنے اختیار کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔

 مفادات کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ہے،جس نے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اگر قیادت فیصلہ کرلے کہ کراچی کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کراچی میں امن قائم نہ ہو سکے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کراچی میں تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ایسا امن چاہتے ہیں، جو صرف ان کے مفاد میں ہو، جبکہ اس سے انتشار تو پیدا ہوسکتا ہے، امن قائم نہیں ہو سکتا۔

اصل نکتہ وہ ہے، جسے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے کراچی میں امن کے لئے ایک شفاف آپریشن کو ناگزیر قرار دیا ہے، جو فرقے، نسل، زبان، سیاسی وابستگی اور علاقائی تعصب سے بالاتر ہو کر کیا جائے، سیاسی مصلحتوں نے ہی ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے۔ کراچی میں بدامنی کا باعث بننے والے آسمانی فرشتے نہیں، زمینی دہشت گرد ہیں، جن کا کسی نہ کسی جماعت، گروہ یا مسلک سے تعلق ہے۔

 ستم بالائے ستم یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے جس مجرم کو پکڑتے ہیں، اسے کوئی نہ کوئی گروہ یا سیاسی جماعت اپنا کارندہ قرار دے کر معصوم ثابت کرنے پر تُل جاتی ہے۔ سیدھے ہاتھوں گھی نہ نکلے تو منفی پروپیگنڈے کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، سیاسی کمزوریوں کا شکار حکومت گھٹنے ٹیک دیتی ہے اور دہشت گرد و ٹارگٹ کلرز دندناتے رہتے ہیں۔ اس صورت حال سے کراچی کو مزید تباہ تو کیا جا سکتا ہے، اس کا کھویا ہوا امن واپس نہیں لایا جا سکتا۔ ایسے میں جنرل راحیل شریف نے بڑی جرات مندی اور وضاحت سے کراچی کا حل بتا دیا ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کے ایک ہی صفحہ پر ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ سیاسی قیادت عزم کا اظہار کرتی ہے تو عسکری قیادت اس کے عمل کی راہ دکھاتی ہے۔

کراچی میں ایک شفاف اور غیر جانبدار آپریشن کی اشد ضرورت ہے۔ ہر سیاسی جماعت کو اس کی حمایت کرنی چاہیے،اب وہ لیت و لعل نہیں چلے گی، جسے معاملات کو جوں کا توں رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ہم شمالی و جنوبی وزیرستان میں جتنے چاہیں آپریشن کرلیں، جب تک کراچی کو امن کا گہوارہ نہیں بناتے، قومی سلامتی کومستحکم نہیں کر سکتے۔ دنیا میں یہ کہاں ہوتا ہے کہ کسی ملک کا سب سے بڑا شہر عملاً حکومت کے کنٹرول سے نکل چکا ہو اور طاقتور گروہ اسے چلا رہے ہوں۔ 

سندھ حکومت کی اس حوالے سے ناکامی ایک مسلمہ امر ہے۔ اس سے انکار کیا ہی نہیں جا سکتا۔ شہر میں نظم و ضبط کا قیام پولیس کا کام ہے، لیکن حالت یہ ہے کہ اگر آج رینجرز کو کراچی سے نکال لیا جائے تو کراچی میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کراچی کے چند بااثر طبقے رینجرز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ آرمی کے نظم و ضبط میں بندھی رینجرز سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر امن و امان کے لئے کام کررہی ہے۔

 آرمی چیف نے بجا طور پر کراچی میں رینجرز کی کارکردگی کو سراہا ہے اور اسے مزید شدت کے ساتھ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کرنے کی تلقین کی ہے۔

جب سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آئی ہے اور فیکٹری میں 260کے قریب مزدوروں کو زندہ جلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، پورے ملک کی نظریں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں کہ حکومت مظلوموں کو کیسے انصاف فراہم کرتی ہے؟ وزیراعظم محمد نوازشریف نے بجا طور پر اسے سب سے سنگین معاملہ قرار دیا ہے اور ہر قیمت پر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کی باتوں سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ شاید اس کیس کو ملٹری کورٹ میں بھیج دیا جائے۔ ایسا ہونا اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ اس سے بڑی دہشت گردی اور کوئی ہو نہیں سکتی۔

 اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے یہ اہم اعلان بھی کیا کہ دہشت گردی کے دیگر مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں گے۔ اس سے ان لوگوں کا مطالبہ پورا ہو گیا ہے، جو یہ کہتے تھے کہ صرف مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لا کر امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ خصوصاً کراچی میں دہشت گردی کے مقدمات اگر فوجی عدالتوں میں بھیجے جانے لگے اور سرعت کے ساتھ سزائیں دی گئیں تو یقیناًاس کے شہر کے امن پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جیسا کہ مَیں نے آغاز میں کہا ہے، کراچی کے حوالے سے اٹھائے گئے ہر حکومتی اقدام کی قوم حمایت کرتی ہے، اس لئے حکومت کو اب کراچی کا امن واپس لانے کے لئے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دینا چاہیے

نسیم شاہد

کراچی کے مقتل میں...

قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا مگر اصل میں کراچی شہر ملک کی اقتصادی شہہ رگ بنتا چلا گیا، ایوب خاں یہاں سے دارالحکومت اٹھا کر تو اسلام آباد لے گیا مگر کراچی ہمارا معاشی، مالیاتی اور اقتصادی دارالحکومت بنا رہا۔یہیں ہمارا سٹیٹ بنک ہے، بین الاقوامی بندر گاہ ہے، عالمی فضائی راستوں پر واقع ایئر پورٹ بھی ہے، اور بحری دفاع کا نازک مقام بھی۔یہ بھی اقتصادی مفاد کی حفاظت کے لئے ہے کیونکہ کراچی کی بحری ناکہ بندی پاکستان کو خدا نخواستہ چند روز میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

یہی کراچی ہماری تہذیب و ثقافت کا نشان بھی تھا، علم و فن کا مرکز بھی۔یہ روشنیوں، رنگوں اور جاگتی راتوں کا شہر تھا۔
شاعروںنے دلی کے نوحے لکھے مگر کراچی کا نوحہ پڑھنے کی توفیق کسی کو نہیں، یہ بھی کسی نے نہیں کہا کہ دلی جوایک شہر تھا ، عالم میں انتخاب ،ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے۔

جنرل ضیاالحق کے دور میں جیسے کراچی کو نظر لگ گئی، اس کی روشنیاں گل ہوتی چلی گئیں۔رنگ و نور کا عالم گہنا گیا۔یہ شہر مرگھٹ بنتا چلا گیا، اب جو کوئی اس شہر میں بستا ہے، یہ اس کی جرات رندانہ کے مترادف ہے۔موت سے نباہ کرنامشکل ہے مگر پھر بھی لوگ وہاں آباد ہیں ، انہیں بربادہونے کا ڈر کیوںنہیں۔
گزشتہ روز وزیر اعظم اس شہر میں تھے۔آئین کی رو سے امن و امان کا مسئلہ صوبائی درد سر ہے مگر کوئی اختیار ایسا ہوگا جسے وزیر اعظم نے استعمال کیا ہوگا۔ شاید یہی اختیار کافی ہے کہ وہ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں۔انہوں نے آرمی چیف کو بھی طلب کر لیا۔اور ایک ایسااجلاس ہوا جس میں آصف علی زرداری بھی شریک ہوئے۔

 لگتا تو یہی ہے کہ یہ سب ماورائے آئین ہے مگر وہ جو کہا گیا کہ غیر معمولی حالات ،غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہیں، یہ ایک غیر معمولی اجلاس تھا۔کسی روز ایسا ہی ایک غیر معمولی اجلاس پنجاب اور پھر خیبر پی کے اور پھر بلوچستان میں بلایا جائے، پنجاب کے اجلاس میںمحمد سرور کو شریک کیا جائے، پشاور کے اجلاس میں عمران خان کو بٹھایا جائے ا ور بلوچستان میں جو بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں ، ان سے مشاورت کی جائے، میںنے جب یہ کہا تھا کہ ایپکس کمیٹیوںمیں عوام کو نمائندگی دی جائے تو اس کا مطلب یہی تھا۔ہر اسٹیک ہولڈر کو پتہ ہونا چاہئے کہ کیا ہونے جارہا ہے، اب تو کوئی شخص کہہ دیتا ہے کہ اسکولوں ،کالجوں کی دیواریں اونچی کر لو، ان پر خاردار تاریں لگا دو، گیٹ پر مورچہ تعمیر کرو، اور ایساہو جاتا ہے مگر کل کو کسی حاکم نے یہ کہہ دیا کہ سب گھروں ، دکانوں ، دفتروںاور فیکٹریوں کی دیوارو ں کو اونچا کر دو، ان پر خاردارتاریں لگا دو اور دروازوں پر مورچے تعمیر کرو تو اتنی ڈھیر ساری اینٹیں کہاں سے آئیں گی، اتنا سیمنٹ کہاں سے ملے گا اورلوہے کی تاریں نصب کرنے کے لئے چنیوٹ کی کانوں کی کھدائی کا انتظار کرنا پڑے گا۔

 ایسافیصلہ کرنے والی ایپکس کمیٹی میں اگر عام آدمی بیٹھاہوگا تو اس کا مشورہ یہ ہو گا کہ بھلے مانسو ،پوری ملک کی سرحد پر زمین سے فلک تک کوئی دیوار کیوں کھڑی نہیں کر لیتے۔ چین کے صدر نے اپنے ملک کے ایک شہر کو بچانے کے لئے اپنی پوری سرحد پر ایسی ہی دیوار کھڑی کرنے کا حکم دیا ہے۔

 بھارت نے پہلے ہی اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے آ ہنی دیوار نصب کر رکھی ہے اور اب جہاں کہیں کوئی دروازہ ہے جیسے واہگہ بارڈر اور میرے گاﺅں کے قریب حسینی والہ بارڈر ، تو وہاں بم پروف شیشے کے دروازے لگانے کا فیصلہ ہوا ہے، بھارت یہ کر گزرے گا، ہم نے اپنی سرحدیں کھلی کیوں چھوڑی ہیں، صرف اسلئے کہ ہر ملک ، ملک ماست۔ ہمارا بارڈر مادر پدر آزاد ہے، پوری دنیا میں جغرافیائی ریاستوں کی سرحد کو تقدس کا درجہ حاصل ہے، یورپ میں اگر سرحدیں مٹ گئی ہیں تو وہاں اس موت کا بسیرا نہیں جو جان نکالنے سے پہلے ہمارے بچوں کی کھوپڑیوں کو نشانہ بناتی ہے۔

ہم کبھی پشاور کا علاج کرتے ہیں ، اب کراچی کا رخ کر لیا ہے، پہلے ہم فاٹا میں الجھے رہے، مگر ہمارا دشمن ہماری رینج سے باہر ہے، وہ سرحد پار ہے، جب چاہتا ہے اپنی جنگ ہماری سرحدوں کے اندر دھکیل دیتا ہے اور جب چاہے سرحد پار پناہ گاہوں میں جا چھپتا ہے۔اسی کیفیت پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ محمد سعید نے رمضان کی ایک افطاری میں تجویز پیش کی تھی کہ ہمیں یہ جنگ واپس دشمن کی سرزمین میں دھکیل دینی چاہیئے۔ مگر ان کی بات کسی نے سنی نہیں اور ہم اپنے ہی ملک کو میدان جنگ بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔ کیا ہو گا اگر کراچی میں بھی مارا ماری شروع ہو جائے۔وہی جو فاٹا میں ہوا، دشمن ہماری آستین سے کھسک کر اپنے بیرونی مورچوں میں دبک جائے گا۔

کراچی میں مجرم کون ہے، اس کا کوئی نام نہیں، جو مارتا ہے ، جو لوٹتا ہے۔اس کا کوئی دوسرا نام کیا ہو سکتا ہے،مارنے والے کو ہر ملک میں قاتل اور لوٹنے والے کو ہر قانون کے تحت لٹیرا، ڈاکو، چور کہا جاتا ہے، اس کا کوئی نام ہو، کوئی رنگ ہو ، کوئی نسل ہو، کوئی بھی پہچان ہو، وہ قاتل اور لٹیرا ہی کہلائے گا۔فرعون نے بچوں کو مارا تھا ، ہم بھی اپنے بچوں کو مارنے والوں کو فرعون کہیں گے، نمرود نے ایک ا نسان کو آگ میں پھینکا تھا، ہم بھی زندہ جلانے والوں کو نمرود کا نام دیںگے۔ہلاکو ، چنگیز اور ہٹلر نے ہلاکت کا کھیل کھیلا تھا، آج جو بھی انسانوں کو ہلاک کر رہاہے، ہم اسے ہلاکو ، چنگیز اورہٹلر کا نام ہی دیتے ہیں۔

ہماری سلامتی کی جنگ پورے ملک میں پھیل رہی ہے۔اور جنگ لڑنے کی ذمے داری ہم نے فوج پر ڈال دی ہے، عدلیہ کا بوجھ بھی فوجی عدالتوں پر انڈیل دیا ہے۔تو ہمارے باقی ادارے کس مرض کی دوا ہیں۔ان پر کھربوں کا بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے، وہ کس کام کا۔لاہور میں کسی ایس ایس پی کی رہائش گا ہ دیکھیں،کسی تحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر کا گھر دیکھیں، گورنر ہاﺅس کی طرح عالی شان مگر کارکر دگی بھی تو عالی شان ہونی چاہیئے۔ورنہ گورنر سرور کی طرح سبھی استعفے دیں اور گھر کی روکھی سوکھی پر گزارا کریں۔

کل کو اگر فوج کم پڑجائے اور اس کی معانت کے لئے البدر اور الشمس کھڑی کرنی پڑے تو یہ فیصلہ پہلے ہو جائے کہ جب البدر اور الشمس کی قیادت کو مستقبل میں کوئی پھانسی دے گا تو کیا اس کے لئے کوئی آواز اٹھانے والا بھی ہو گا۔

اسد اللہ غالب

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...