Friday, May 22, 2015

I am Karachi


کراچی شہر جہاں پر پورے پاکستان سے لوگ روزگار حاصل کرنے کے لیے آتے رہتے ہیں، یہ شہر غریب پرور ہے جہاں پر بھکاری سے لے کر امیر ترین آدمی مقیم ہے اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے۔ میری اس شہر سے بہت ساری یادیں وابستہ ہیں جو گزشتہ دنوں ہونے والے ایک پروگرام I am Karachi میں شرکت کر کے نہ صرف تازہ ہو گئیں بلکہ وہاں پر بنائی گئی ایک ڈاکومنٹری فلم کراچی کے بارے میں دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور افسوس بھی۔ خوشی اس لیے کہ اس میں پرانے کراچی کے مناظر اور تصویریں دیکھنے کو ملیں مگر دکھ اس لیے کہ اس وقت کراچی کا حال اچھا نہیں۔

میں جب پہلی مرتبہ کراچی میں 1968ء میں آیا تو مجھے اس شہر کا موسم، لوگ، ان کا پیار، ادب و آداب، مہمان نوازی، صفائی، سہولتیں اور تفریحی مقامات جس میں سینما گھر بھی ہیں بہت اچھے لگے۔ لاڑکانہ سے بذریعہ ٹرین جامشورو ریلوے اسٹیشن پہنچا، بس کے ذریعے سپرہائی وے پر سفر کیا۔ راستے میں صرف ایک ہی مڈوے ہوٹل تھا جو اب کھنڈر اور ویران نظر آتا ہے۔ بس صدر ایمپریس مارکیٹ پہنچی تو چاروں طرف بڑی چہل پہل نظر آئی کہیں پر تجازوات کا نام و نشان نہ تھا۔
بسیں، گھوڑا گاڑی، گدھا گاڑی اور سائیکلیں چلتی نظر آئیں اور کہیں کہیں تو اونٹ گاڑی بھی نظر آتی تھی۔ میں کراچی آیا تو مہینہ جون کا تھا پھر جولائی آ گیا۔ ان مہینوں میں آسمان پر بادل گھومتے نظر آئے اور کالی گھٹاؤں سے پھوار پڑتی تھی جس کو ہوا چاروں طرف جب پھیلاتی تو نظارہ اور ماحول بڑا دلکش بن جاتا۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتا تو موسلا دھار بارشیں شروع ہو جاتی تھیں۔ لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اس حسین موسم کو انجوائے کرتے تھے۔ کتنی بھی بارش ہوتی بجلی نہیں جاتی تھی اور نہ ہی گندے پانی سے شہر کی سڑکیں خراب ہوتی تھیں۔ لگتا تھا بارش تو ہوئی ہی نہیں۔

صدر کا علاقہ پیدل گھومتے تھے، چاروں طرف دکانوں، ہوٹلوں کے ساتھ سینما ہاؤسز نظر آتے تھے دوپہر کو میٹنی شو کے لیے بڑی لمبی قطاریں بنی نظر آتیں۔ اس زمانے میں فلم دیکھنا اور خاص طور پر فیملی کے ساتھ ایک بڑی تفریح تھی۔ فلم کے انٹرول میں چیزیں بیچنے والے آواز لگاتے تھے تو اس کا ایک عجیب سا رومانس ہوتا تھا۔ فلم دیکھنے کے بعد پیدل چل کر بڑی دور کھانا کھانے جاتے تھے، ایرانی ہوٹلز میں جا کر چائے پی جاتی تھی۔

کراچی روشنیوں کا شہر تھا ہر روڈ، راستہ، گلی، کوچہ، گھر، دکان اور محلہ جگمگاتا رہتا تھا۔ رات کو دیر تک لوگ بلب کے نیچے تاش، شطرنج کھیلتے رہتے تھے اور ریڈیو سننے کا بڑا رواج تھا۔ اس وقت لوگ سی ویو پر جاتے تھے اور وہاں پر ایک امن اور محبت کا ماحول ہوتا تھا اور لوگ عورتوں کی بڑی عزت کرتے تھے۔ کراچی میں رہنے والے ہوں یا پھر ملک کے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لوگ ہوں ایک دوسرے کا بڑا احترام کرتے تھے۔ اس وقت مکرانیوں کا بڑا زور ہوتا تھا جو خاص طور پر سینما گھروں میں یا پھر فیکٹریوں میں کام کرتے تھے۔ مکرانیوں کا ایک زبردست کلچر تھا اور وہ اسے شہر میں ہونے والے پروگراموں میں اپنے کلچر کو گا کر، ناچ کر بتاتے تھے۔

کراچی کی ایک اور بڑی پہچان ٹرام بھی تھی جس پر ہم لوگ بولٹن مارکیٹ سے لے کر صدر تک آتے جاتے تھے اور بندر روڈ پر اس کا بنا ہوا ٹریک اچھا لگتا تھا اور کبھی کبھی تو وہ پٹری سے جب اتر جاتی تھی تو لوگ اسے دھکیل کر پٹری پر لے آتے تھے۔ اس کے علاوہ لوکل ٹرین جو کراچی میں رہنے والوں کے لیے ایک بڑی سہولت تھی جو اب اپنا نام و نشان تقریباً ختم کر چکی ہے۔ لوگ چڑیا گھر کا رخ کرتے تھے جہاں پر ہر قسم کے پرندے اور جانور ہوتے تھے جس کا اب برا حال ہے اور آئے دن جانور اور پرندے بھوک اور کم سہولت کی وجہ سے مر رہے ہیں اور خالی پنجرے رہ گئے ہیں اور صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بڑی بدبو آتی ہے۔ منوڑہ جانا بھی ایک اہمیت رکھتا تھا جہاں پرکشتیاں ہوتی تھیں جن پر سوار ہو کر جانا پڑتا تھا اور وہاں پر حادثات کے واقعات شاذ و نادر ہوتے تھے۔

کراچی میں کئی فلم اسٹوڈیو بن گئے تھے جہاں پر اردو، سندھی اور پنجابی فلموں کی شوٹنگ ہوتی رہتی تھیں، ایک سو سے زائد سینما گھر تھے جہاں پر انگریزی، اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو فلموں کے الگ الگ فلمی تھیٹر تھے۔ اس زمانے میں لالوکھیت اور کلفٹن کا اپنا اپنا کلچر ضرور تھا، مگر کوئی دولت کا مقابلہ نہیں تھا اور ہر طبقہ اپنے طور پر خوش اور مطمئن تھا۔

مجھے یاد ہے کہ جب رات میں ہوا چلتی تھی تو راستے میں چلتے چلتے آنکھیں بند ہونے لگتی تھیں اور نیند آ جاتی تھی۔ بس میں سفر کرتے وقت عورت کا احترام اور بزرگوں کی عزت بہت ہوتی تھی نوجوان اور بچے خود کھڑے ہو جاتے اور معمر یا عمر رسیدہ لوگوں کو اپنی سیٹ دے دیتے تھے اور عورتوں کے پورشن میں کبھی نہیں جاتے تھے آج کل اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ اس وقت برداشت کا بڑا عمل تھا اور بس کے کنڈیکٹر اور مسافروں کے درمیان ایک اخلاق اور رواداری نظر آتی تھی۔

کراچی میں صرف سرکاری اسکول اور سرکاری اسپتال زیادہ ہوتے تھے جہاں پر ہر غریب آدمی تعلیم اورصحت کی سہولتیں حاصل کرتا تھا اور اب تو پرائیویٹ اسکولوں اور اسپتالوں کا اتنا جال بچھ گیا ہے کہ سرکاری ادارے اس میں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ سرکاری اداروں میں رشوت کا کوئی اتنا غلبہ نہیں تھا اور اگر رشوت صرف چپڑاسی یا پھر کلرک قبول کرتا تھا اور اگر آپ نہ دیں تو کوئی ضد یا دھمکی نہیں دیتے تھے۔

اب تو کھلم کھلا کہتے ہیں کہ جسے کہنا ہے کہو پیسے کے بغیر کام نہیں ہو گا۔ سپر ہائی وے بننے کے بعد گلشن اور سہراب گوٹھ بننا شروع ہوئے۔ بھٹو صاحب کے آتے ہی ترقیاتی کاموں میں تیزی آئی اور خاص طور پر پنجاب، سرحد سے لوگ روزگار کے حوالے سے کراچی کی طرف آنے لگے جو سلسلہ اتنا تیز ہو گیا کہ کراچی میں خالی پڑی ہوئی زمینوں پر کچھ قبضہ اور کچھ قانونی طرح سے فلیٹ، بنگلے اور شاپنگ مرکز تیزی سے تیار ہونے لگے جس پر حکومت نے کوئی خاص attention نہیں دی جس کی وجہ سے سینی ٹیشن، بجلی، پانی کی فراہمی، روڈز اور رہائشی پلاٹس کا پرابلم پیدا ہو گیا۔

صدر ایوب خان اور بھٹو صاحب کے شروع والے ادوار میں کوئی ہتھیار کی دوڑ یا موجودگی نہیں تھی اور کچھ غنڈہ قسم کے لوگوں کے پاس چاقو اور کلپس ہوتے تھے اور لڑائیاں زیادہ نہیں ہوتی تھیں۔ جب جنرل ضیا الحق کا دور آیا تو افغانستان سے ہتھیار، ہیروئن اور افغان مہاجروں کا بڑا اندراج ہوا۔ آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے جرائم ہونے لگے، اور پھر اغوا، لوٹ مار، ڈکیتیوں نے اس شہر کو اپنے نرغے میں لے لیا۔ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی نے مسائل میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ۔

یہ عالم دیکھ کر پڑھے لکھے لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک کمپین شروع کی ہے جس کے تحت وہ لوگوں کو کراچی کو بچانے کے لیے کئی علمی، ادبی، کلچرل پروگرامز کرتے رہتے ہیں تا کہ یہاں رہنے والا ہر شخص کراچی کو مصیبتوں اور مسائل سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس شہر کی ایک اور بڑی ضرورت پبلک ٹوائلٹس ہیں جن کے نہ ہونے کی وجہ سے بڑی پریشانی ہوتی ہے جس میں خواتین سرفہرست ہیں۔ آئی ایم کراچی والوں کے پروگرام قابل ستائش ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ کراچی میں رہنے والے اپنی شناخت کراچی سے منسلک کر دیں اور اس کے علاوہ جن جگہوں پر بڑے بڑے تعمیراتی پروجیکٹ بنائے جا رہے ہیں وہاں پر موجود قومی ورثہ اور پرانی بستیوں کو مسمار نہ کیا جائے جو کراچی کی پہچان ہیں اور جو لوگ صدیوں دے اس شہر کی یادوں کو آباد کیے ہوئے ہیں ان کا بھی خیال رکھا جائے۔

یہ شہر جو کئی کلاس کی سوسائٹیوں میں بٹا ہوا ہے اسے ایک بنانے کے لیے تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں کو غریبوں اور کم Privileged علاقوں میں زیادہ بڑھایا جائے جس کے لیے موجودہ حکومت کو پلاننگ کرنی ہو گی۔
  
نئی بستیوں میں اور پرانے علاقوں میں جا کر مسائل کو حل کرنا ہو گا جہاں ہر ایک گھر میں ایک کمرے میں گنجائش سے زیادہ لوگ رہتے ہیں جس کی وجہ سے سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور کئی ذہنی اور جسمانی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے سسٹم کو اچھا بنایا جائے اور گھروں کے کرائے کم کرنے چاہئیں کیونکہ آدمی کی پوری آمدنی ٹرانسپورٹ اور کرائے میں ہی خرچ ہو جاتی ہے۔ جس سے غربت اور کرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ امن و امان کی صورتحال کو صحیح کرنے کے لیے قانون کی بالادستی قائم کرنی ہو گی۔ اس زمانے میں تو ایک سائیکل والے کا بھی چالان ہوتا تھا یہ عالم تھا قانون کا۔

لیاقت راجپر