Sunday, August 31, 2014

برنس روڈ - شہر کی سب سے بڑی فوڈ اسٹریٹ


کراچی ملک کا معاشی اور تجارتی حب کہا جاتا ہے، اس شہر میں جہاں کئی اہم مقامات اور تفریح گاہیں ہیں۔
اس شہر کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہ شہر مختلف مسالک اور قومیتوں کا گلدستہ کہلاتا ہے،جس طرح لاہورمختلف اقسام کے کھانوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر ملک بھر میں مشہور ہے ،اسی طرح کراچی کی برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ ملک بھرمیں اپنی منفرد پہچان رکھتی ہے، یہاں پر لاتعداد ریسٹورینٹس ، باربی کیو ، حلیم ، بریانی، ربڑی، مٹھائی اوردہی بڑے کی دکانیں واقع ہیں،برنس روڈ پر تجاوزات اور پارکنگ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے دن کے علاوہ رات کے اوقات میں بھی فوڈ اسٹریٹ پر رش ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی میں خلل واقع ہوتا ہے۔

حکومت اگر تھوڑی سی توجہ دے تو یہ فوڈ اسٹریٹ نہ صرف جدید سہولتوں سے آراستہ ہو سکتی ہے بلکہ اس فوڈ اسٹریٹ کے باعث مزید لوگوں کو روزگار کی سہولت حاصل ہو سکتی ہیں، ایکسپریس نے کراچی کی مشہور شاہراہ برنس روڈ پر تفصیلی سروے کیا، سروے کے مطابق برنس کا آغاز فریسکو چوک سے ہوتا ہے اور یہ ریگل چوک پر اختتام پذیر ہوتی ہے، برنس روڈ کے دونوں اطراف قدیم بلڈنگیں واقع ہیں، جو قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں تعمیر کی گئیں۔
فریسکو چوک سے اگر ریگل چوک تک سفر کیا جائے تو دائیں اور بائیں جانب وومن کالج چورنگی تک لاتعداد ریسٹورنٹس، ہوٹلز، برگر، باربی کیو، فوڈ سینٹر، بریانی، مٹھائی اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں واقع ہیں ، برنس روڈ کی رونقوں کا آغاز صبح 11 بجے شروع ہو جاتا ہے اور رات گئے تک ہزاروں لوگ اس فوڈ اسٹریٹ کا رخ کرکے مختلف کھانے پینے کی اشیاء کھاتے ہیں، دن کے اوقات میں زیادہ ترحلیم اور بریانی کی دکانوں پر رش ہوتا ہے، برنس روڈ کے اطراف سندھ سیکرٹریٹ، ہائی کورٹ اور دیگر دفاتر واقع ہیں، جہاں ہزاروں ملازمین کام کرتے ہیں ،دن کے اوقات میں یہی ملازمین برنس روڈ کی رونق کا سبب بنتے ہیں۔

شام 7 بجے کے بعد برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور شہری اپنی فیملیوں کے ہمراہ اس فوڈ اسٹریٹ کا رخ کرتے ہیں اور مختلف انواع اقسام کے کھانے کھا کر لطف اندوز ہوتے ہیں،فوڈ اسٹریٹ میں روزانہ ہزاروں افراد کھانا کھاتے ہیں ،شہر میں مقامی حکومتوں کا نظام نہ ہونے کے باعث کئی برسوں سے اس شاہراہ کی استر کاری نہیں کی گئی ہے جبکہ پارکنگ کی سہولیات نہ ہونے اور ریسٹورنٹس چھوٹے ہونے کے باعث رات کے اوقات میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے اپنی دکانوں کے باہر ٹیبل ، کرسیاں اور مختلف اقسام کے کھانا پکانے کے اسٹالز لگا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ شاہراہ رات کے اوقات میں مکمل طور پر فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل ہو جاتی ہے اور یہاں سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔

برنس روڈ پر رات کے اوقات میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے باہر بڑی تعداد میں گدا گر بھی نظر آتے ہیں ، جو یہاں کھانے پینے کے لیے آنے والے شہریوں سے بھیک مانگتے ہیں ،جس کی وجہ سے بعض دفعہ شہریوں کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ برنس روڈ پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ شاہراہ لوگوں کے لیے سہولت کا باعث بن سکے۔
برنس روڈ پر لاتعداد اقسام کی کھانے پینے کی اشیا فروخت ہوتی ہیں، سروے کے مطابق مختلف ریسٹورینٹس اور دکانوں پر بیف حلیم ، چکن حلیم ، بیف بریانی ، چکن بریانی ، نہاری ، قورمہ ، پائے ، چکن تکہ ، چرغہ، سجی، بہاری کباب، سیخ بوٹی، کٹاکٹ، چانپ، چکن کڑہائی، بیف کڑہائی، مٹن کڑہائی، فش فرائی، پلاؤ سمیت دیگر کھانے کی اشیا فروخت ہوتی ہیں تاہم برنس روڈ کا حلیم ، بریانی اور مٹن کڑاہی اپنے منفرد ذائقے کے باعث مشہور ہے اور رات کے اوقات میں شہری بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

سروے کے دوران مقامی ہوٹل کے مالک شفیق احمد نے بتایا کہ برنس روڈ پر ویسے تو ہفتے بھر رش رہتا ہے لیکن ہفتہ اور اتوار کے روز یہاں پر عام دنوں کی نسبت زیادہ رش ہوتا ہے اور ان 2 دنوں میں ہوٹل رات کو 3 سے 4 بجے تک کھلے رہتے ہیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کے باعث گزشتہ کئی برسوں کی نسبت اب برنس روڈ کی وہ رونقیں نہیں رہی ہیں ، جو ماضی میں ہوا کرتی تھیں، تاہم گزشتہ سال شروع ہونے والے آپریشن کے باعث اب کچھ صورت حال بہتر ہوئی ہے اور یہاں کی رونقیں کچھ بحال ہوئی ہیں اور رش میں اضافہ ہوا ہے۔
برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ پر 100 سے زائد ریسٹورینٹس، مٹھائی اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں واقع ہیں۔ فوڈ اسٹریٹ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ بھتہ خوری ہے، مختلف گروپس کی جانب سے آئے دن بھتے کی پرچیاں دکانداروں کو ملتی ہیں اور نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، اس کے علاوہ برنس روڈ پر پینے کے پانی کی قلت ہے اور فوڈ اسٹریٹ کے دکانداروں کی اکثریت نے بورنگ کرائی ہوئی ہے، عام کاموں کے لیے کھارا پانی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ میٹھا پانی ماشکی سے ڈلوایا جاتا ہے جبکہ سرکاری لائنوں میں میٹھا پانی تو آتا ہے لیکن اس کا کوئی شیڈول نہیں ہے، برنس روڈ سے حکومت کو بڑی تعداد میں ریونیو حاصل ہوتا ہے۔

حکومت کی عدم توجہ کے سبب برنس روڈ پر صفائی کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ،دکاندار اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کراتے ہیں ، برنس روڈ پر ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز پر کام کرنے والے باورچیوں کی اکثریت کراچی کے مقامی افراد کی ہے جبکہ ان کا آبائی تعلق دہلی برادری سے ہے، جو منفرد کھانے بنانے کے حوالے سے مشہور ہیں جبکہ دیگر امور کا کام کرنے والے افراد کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، جو 11 مہینے ان ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کرتے ہیں اور پھر ایک ماہ کے لیے چھٹی پر اپنے آبائی علاقوں میں چلے جاتے ہیں، مالکان کی جانب سے ان کو رہائش اور دیگر سہولت بھی دی جاتی ہیں۔

عامر خان

Wednesday, August 13, 2014

کراچی کے ساحل پر 'ستر فٹ' لمبی وہیل مچھلی.......


کراچی میں گھاس بندر کے ساحل پر سترفٹ سے زائد لمبی ایک وہسڑ وہیل مچھلی مردہ حالت میں لائی گئی ہے۔
ڈان نیوز ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہی گیروں کا کہنا تھا کہ ابراہیم حیدری سے شکار کے لیے جانے والی دو لانچوں کے جال میں یہ مچھلی مردہ حالت میں پھنس گئی تھی، جسے آج صبح ساحل تک لایاگیا۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ مچھلی زندہ حالت میں لانچوں سے ٹکرا جاتی تو اس سے نقصان کا اندیشہ تھا۔
اس سے قبل بھی ایک تیس سے چالیس فٹ مردہ مچھلی کراچی کے ساحل پر پائی گئی تھی۔
ماہی گیروں کے مطابق ابھی تک انھوں نے انتظامیہ سے رابطہ نہیں کیا ہے۔
ماہی گیروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی فش ہاربر میں اس سیزن میں بڑی مچھلیوں کے ساحل پر آنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
جس کی بڑی وجہ سمندری آلودگی کو قرار دی جاتی ہے۔

Saturday, August 2, 2014

Palestinians walk through rubble from a building thatwas destroyed by an Israeli air strike

Palestinians walk through rubble from a building that police said was destroyed by an Israeli air strike, in the Burij refugee camp in the central Gaza Strip,

Unsafe Beaches of Karachi

“When a body is pulled out from the water, we pray that it is the last one. We don’t know how many drowned. The number of victims is being established by the number of dead pulled out or through the distress calls from their relatives,” said Edhi Madadgar Wahid Lodhi on Thursday afternoon when rescue agencies, including the Pakistan Navy, had pulled over 20 bodies from the rough sea off Seaview, Hawkesbay and Sandspit beaches. “I was eating biryani and my back was turned for just 10 minutes on Tuesday when my cousin Ijaz Ahmed disappeared. He must have gone into the water for a swim. We can’t find him anywhere,” said Mansoor Ahmed. “Ijaz is 13 years old.



This is what he looks like,” the man brought out his mobile phone to show the boy’s photograph. He said he was from Quetta and young Ijaz had brought him to Seaview to see the beach.
“Four of my nephews, all in their early twenties, Shafiullah, Ashraf, Akhtar Mohammad and Wali Mohammad, are missing,” cried Zareeb Khan hailing from Quetta. “They have been missing since 5pm on Wednesday,” he said.

“I am also looking for my cousins Fazl-i-Rehman and Zamir Khan,” said Zar Gul, holding the CNICs of two young men, both in their early to middle twenties. “These CNICs we found in their clothes that they had left on the beach before going into the water.
“We are all from Peshawar and the two left home around 4pm on Wednesday with a couple of other friends, Saeed Rehman and Gul Rehman, for outing and dinner. Saeed and Gul said that they decided to go to the beach where Fazl and Zamir wanted to go for a swim. But they didn’t return.
“We have been here since yesterday, waiting for some news about them but no one tells us anything. After they closed the beach to the public, we can’t even go to eat anything as then the people preventing others from coming to the beach won’t even let us come back and wait here till the bodies are recovered at least,” he said.

Ali Rahim said he was there from Banaras, looking for his 14-year-old nephew Nur Mohammad who left home for the beach on Tuesday, Eid day, with some other neighbourhood kids around his age. “Two of his friends’ bodies have been recovered now. But they haven’t been able to find him,” the uncle wept.
In another corner, several relatives of other missing men feared drowned at Seaview sat quietly. “We are all originally from Gilgit-Baltistan and have been settled in Karachi for a few years,” said Jamaluddin, vice president of the Punial Islamia Students Welfare Association, who said his several cousins and friends had gone missing in the tragedy.

“My uncle Ghulamuddin, a motorcycle mechanic, and cousin Junaid, a student, are missing. They are father and son. We are waiting here, bracing ourselves for the worst,” he said. “While the police and volunteer service ambulances patrol the beach, none, as you can see, are looking for anyone in the water,” pointed out Javed Akbar, a distressed relative of Fayyaz Ahmed from Ghizer district of Gilgit-Baltistan, who had been missing since chaand raat on Monday. “The police mobile vans and ambulances are just racing from one end of the beach to the other sounding their sirens to impress the various VIPs coming to the beach to record statements with the media. None of them really cares,” he said.

Murad Niyat, another relative there, said, “Our only hope is the navy. It was the navy helicopter that carried out the real search and recovery operation here and pulled the dead out of the water at 5am on Thursday. The rest of the drowning victims got washed ashore. “This public that has now been stopped from going to the beach, the police have only now been able to control, around 1pm on Thursday. Otherwise they were wandering about the whole place and coming in everyone’s way.

“And these policemen are here now after a tragedy of this magnitude. Why weren’t they here earlier, to stop people from going to the beach and into the water when they know that the sea is rough during the monsoons and there is also a ban on going into the water with the Section 144 imposed?” he said.

Lifeguards
Two Cantonment Board Clifton (CBC) lifeguards at the Seaview beach said they did all they could to discourage people from going into the water but no one listened. “They don’t care for their lives, and when something happens, they blame others for it, saying no one cared. We are deployed here from morning till evening with minimal equipment or ambulances at our disposal. We can only warn or jump in after someone if we see him or her drowning. And we are only a handful of people managing huge crowds of beach-goers. So it’s better safe than be sorry,” said senior CBC lifeguard Syed Muzammil Hussain.

“The picnickers grab us by our collars when someone has drowned. They scream and yell and want to know how we let it happen. How conveniently they forget those red flags we place on the beach asking them not to cross the line, how we request them to stay out of the water. We are only interested in their safety but they don’t understand,” said Bashir Ahmed, another CBC lifeguard. “We understand that there are very few spots for outing and recreation here and these are frustrated folk coming to the beach with various problems such as no power at home due to loadshedding, no water due to the current shortage, etc, but they should at least value their lives,” he said.