Monday, April 20, 2015

کراچی شہر کے چند اہم مسائل....


کراچی شہر ان دنوں ضمنی انتخابات کے باعث سیاسی جماعتوں کے جلسے جلوسوں کا میدان بنا ہوا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ ان سیاسی جماعتوں کے منشور میں ترجیحی مسائل کیا ہیں جن کو وہ ایوان میں پہنچنے کے بعد حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کریں گے۔
راقم یہاں ان چند ایک مسائل کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ جن کو شاید مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا، نہ ہی انھیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ یہ شہریوں کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہیں۔

کراچی شہر میں ان دنوں آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھی جاری ہے اور تجاویزات کے خلاف بھی جاری ہے۔ نہ صرف بڑے بڑے شادی ہال وغیرہ مسمار کیے گئے بلکہ گلی کوچوں میں ٹائر پنکچر والوں کے چند فٹ کے کیبن وغیرہ بھی سڑک کے کناروں سے صاف کردیے گئے۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کراچی کے شہریوں کی ایک بڑی رہائشی اسکیم جو اسکیم نمبر 33 کے نام سے معروف ہے۔ غیر ملکی افغانیوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کی آبادی کے باعث کم از کم تیس برسوں سے ناقابل استعمال بنی ہوئی ہے۔
کراچی کے شہری جن کے پلاٹس یہاں موجود ہیں وہ دن کے وقت بھی اپنے پلاٹس دیکھنے کے لیے اسکیم نمبر 33 واقع سپر ہائی وے جاتے ہوئے گھبراتے ہیں، کیوں کہ دن کے وقت بھی یہاں کی آبادیوں کے جرائم پیشہ افراد انھیں لوٹ لیتے ہیں۔

نواز شریف کی جانب سے موٹر وے بنانے کے اعلان کے بعد موٹر وے کے راستے میں آنے والی ان غیر قانونی آبادیوں کو وہاں سے ہٹادیاگیا ہے، تاہم ناجائز آبادیاں ابھی بھی قائم ہیں جن کے باعث 40 سال قبل پلاٹ بک کرانے والے کراچی کے شہری آج بھی اپنے پلاٹ کے حصول کا صرف خواب ہی دیکھتے ہیں۔
جس طرح شہر کے دیگر علاقوں میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں اور تجاوزات کا بھی خاتمہ کیا گیا ہے، ضروری ہے کہ سہراب گوٹھ اور اس کے قرب وجوار کے علاقے میں بھی آپریشن کرکے تجاوزات اور جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کیا جائے۔

ایک اور اہم ترین مسئلہ یہاں کے باسیوں کے لیے مناسب رہائش اور ذاتی رہائشی ہے، جس طرح یہاں سیاسی جماعتوں میں شامل بعض افراد نے کراچی کی زمین کی بندر بانٹ کی ہے اور کچھ لوگوں نے مافیا بن کر یہاں زمینوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا ہے اس کے باعث اس شہر میں پلاٹ اور مکانات کی قیمتیں انتہائی تیزی سے بڑھی ہیں، اس مافیا کے کردار کے باعث آج ایک 19 گریڈ کا ایماندار سرکاری افسر اپنا ذاتی مکان حاصل نہیں کرسکتا۔
اس سلسلے میں راقم کی تجویز ہے کہ پلاٹس اور مکانات کی خرید و فروخت کو ’’کاروبار‘‘ کی شکل سے نکالنے کے لیے عملی کوشش کی جائے مثلاً یہ قانون بناکر عمل بھی کرایا جائے کہ کوئی بھی شخص ذاتی رہائش کے علاوہ ایک سے زائد مکانات، پلاٹس نہیں رکھ سکتا، جس کے پاس ایک سے زائد ہو اسے موقع دیا جائے کہ انھیں فروخت کرکے کوئی اور کاروبار کرلے۔

اسی تناظر میں ایک اور مسئلہ بھی اہم ترین ہے جو طرز رہائش کا ہے، رہائشی یونٹس بناکر فروخت کرنے خصوصاً رشوت اور سیاسی بنیادوں پر سستے پلاٹس حاصل کرکے کاروباری حضرات کثیر المنزلہ رہائشی یونٹس بناکر فروخت کررہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ دولت کمائی جاسکے۔ آج کل بلند عمارتوں کی تعمیرات اس کثرت سے جاری ہے کہ شہر کے اندر آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، محض 240 گز کے پلاٹس پر دس دس منزلہ فلیٹس (اور نیچے دکانیں) بناکر فروخت کیے جارہے ہیں۔

جن میں روشنی اور ہوا کا مناسب گزر بھی نہیں ہے، جس شہر میں پہلے ہی بجلی کا بحران ہو، پانی کی قلت ہو وہاں یہ طرز تعمیر بجلی کی کھپت کو اور بھی بڑھادیتی ہے، کیوں کہ ایسی طرز رہائش میں دن کے وقت بھی بلب اور پنکھوں کی ضرورت پڑتی ہے، دوسری جانب اس قسم کی پتلی دبلی اور اونچی عمارتیں کسی حادثے کی صورت میں بڑی تعداد میں انسانی ہلاکتوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
ایمرجنسی میں کسی دس منزلہ عمارت سے رہائشیوں کا ایک ساتھ نیچے اترنا بھی ممکن نہیں ہوسکتا اور خدانخواستہ کوئی عمارت ’’مارگلہ ٹاور‘‘ کی طرح حادثے کا شکار ہوجائے تو پھر کیا ہوگا؟ ایک عمارت اپنے ارد گرد کی کئی اور عمارتوں کو بھی لے کر زمین بوس ہوجائے گی اور پھر ہمارے اس شہر میں تو فائر ٹینڈر بھی ضرورت کے مطابق نہیں ہیں اور جو ہیں ان کو وقت پر پانی بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ عمارت کا ملبہ ہٹانے کے لیے جدید مشینری و آلات بھی نہیں ہیں، مارگلہ ٹاور اسلام آباد کی طرح کسی حادثے کی صورت میں ہمیں غیر ملکی امدادی ٹیموں پر انحصار کرنا پڑے گا جن کے پہنچنے تک تو عمارتوں میں دبے لوگ دوسرے جہاں پہنچ جائیں گے۔

ہمارے نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو جو عوام سے ہمدردی کا دعویٰ رکھتی ہیں انھیں غور کرنا چاہیے کہ اس شہر میں اس قدر تیز رفتاری سے بلند و بالا عمارتوں کا کاروبار کیوں فروغ پارہا ہے اور اس کی قیمت عوام کو کس قدر ادا کرنا پڑے گی؟ آبادی میں تیزی سے اضافے اور اس طرز کی رہائشی کے باعث اب تو کراچی کے وہ علاقے جو 20 یا 30 سال قبل آباد ہوتے تھے (مثلاً نارتھ کراچی) وہاں بھی زمین میں پانی کی سطح انتہائی نیچے چلی گئی ہے اور بعض جگہ تو 100 فٹ کھدائی کے بعد بھی پانی دستیاب نہیں، لوگ اپنے گھروں میں دوبارہ سے بورنگ کررہے ہیں۔

بلند و بالا عمارتوں کی تعمیرات سے زمین کی جیالوجی پوزیشن بھی متاثر ہورہی ہے لیکن ہم سب خواب غفلت میں پڑے ہیں۔ بغیر صحن کے اس طرز رہائش نے شہریوں کی کثیر تعداد کو صحت کے مسائل سے دوچار کر رکھا ہے، بچوں کے لیے نہ گھر میں صحن، نہ اسکول میں، گھر کے باہر علاقے کے تمام خالی پلاٹس اور میدان لینڈ مافیا کی نذر ہوگئے، یوں اس کلچر نے ڈاکٹروں کے کلینکس اور اسپتال آباد کردیے ہیں۔

آیئے غور کریں، جس معاشرے میں بچوں کو گھر میں، اسکول میں اور محلے میں بھی کھیلنے کودنے کے لیے تازہ ہوا، صاف ستھرا ماحول میسر نہ ہو وہاں اسپتال آباد نہ ہوں گے تو کیا ہوگا؟ راقم کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے نمائندوں سے اور خاص کر ان سے جو عوام کے دکھ درد کا مداوا کرنے کی پوزیشن میں ہیں، گزارش ہے کہ مندرجہ بالا پیش کردہ مسائل پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا جائے اور ان کے حل کے لیے کوشش کی جائے کیوں کہ جب معاشرے کے افراد کو ذہنی سکون ہی حاصل نہ ہوگا تو وہ اپنا معاشرتی کردار احسن طریقے سے کیسے ادا کریں گے؟

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری

Saturday, April 18, 2015

کراچی کا معرکہ....الیکشن حلقہ این اے 246......


روشنیوں کا شہر کراچی....


بھلا کون کہہ سکتا تھا کہ بحیرہ عرب کے کنارے آباد بلوچ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی کی قسمت کبھی ایسے جاگے گی کہ وہ عالم اسلام کی سب سے بڑی اور دنیا کی تیسری بڑی ریاست کے دارلحکومت کا روپ ڈھال لے گی ، اسے وادی سندھ کی اقصادی شہ رگ اور جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی بندرگاہ ہونے کا امتیاز حاصل ہوگا اور اسکی طرف برصغیر پاک و ہند کے ہر خطہ اور تہذیب کے نمائندے کھینچے چلیں آئیں گے اوراسکے دامن میں ایک نئی مشترک تہذیب کی بنیاد ڈالیں گے۔

 قیام پاکستان کے وقت کسی نے کہا تھا کہ آج دلی کراچی کی قسمت پر رشک کررہی ہے اور کیوں نہ کرتی کہ جو مقام دلی کو صدیوں کے انقلابات زمانہ نے بخشا، کراچی نے چند برسوں میں ہی سمیٹ لیا۔گو کراچی، لاہور اور ملتان جیسے تاریخی اہمیت کے حامل شہروں کے مقابلے میں ایک نوزائیدہ یا یوں کہیں کہ نوعمر شہر ہے لیکن اسکی حیثیت ان شہروں سے کسی صورت بھی کم نہیں۔اگر لاہور کو حضرت علی ہجویریؒ اور ملتان کو حضرت بہاالدین ذکریاؒکے فیض نے سمیٹ رکھا ہے تو اہلیان کراچی حضرت عبداللہ شاہ غازی ؒجیسے مجاہد طبیعت ولی کے مرقد کے سائے میں آباد ہیں اوراگر لاہور کو پرتھوی ، غزنوی، غوری، اکبر اور جہانگیرجیسے عالم پناہوں کی داستانیں سنانے کا شوق ہے تو کراچی محمد علی جناح جیسے عظیم رہبر کے ذکر سے کیوں باز رہے۔
مورخین کراچی کی تاریخ کا تانہ بانہ اٹھاریں صدی سے جوڑتے ہیں، سقوط سندھ کے بعد انگریزوں نے اس جگہ کو جہاں آج کراچی آباد ہے خالص فوجی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی ٹھانی اور یہاں بندرگاہ اور چھاونی قائم کی۔بندرگاہ کیا قائم ہوئی کہ گجرات کے مسلم تاجروں کی قسمت ہی کھل گئی ، کھارادر اور میٹھادر کے علاقے اسی دور کی یاد ہیں۔ 1957 کی جنگ آزادی میں جہاں پورے ہندوستان نے بغاوت کی ایک تاریخ رقم کی وہیں کراچی کی فوجی چھائونی میں بھی یہ آگ اسی طرح پھیلی ، بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ جس جگہ پرآج ایمپریس مارکیٹ ٹاور اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ کھڑا اور جہاں دن بھر لین دین کے سودے زوروں پر ہوتے ہیں، دو صدی پہلے ٹھیک یہی جگہ درجنوں حریت پسندوں کے مقدس خون سے سیراب ہوئی تھی۔

کراچی نے قیام پاکستان کے بعد دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی اور چند برسوں میں ہی اسکا شمار دنیا کے بڑے معاشی مراکز میں ہونے لگا۔ یہاں کی بحری و فضائی بندرگاہیں،صنعتی و اقصادی مراکز اور تجارتی و کاروباری سرگرمیاں اسے ملک کے کسی بھی دوسرے شہر سے ممتاز کرتی ہیں۔ کہتے ہیں کراچی میں زندگی اتنی تیز اور برق رفتار ہے کہ گھنٹے سیکنڈ کی رفتار سے اور موٹر بائیک ہوائی جہاز کی رفتار سے بھاگتی ہوئی نظر آتے ہیں۔ یہاں ہر کوئی جلدی میں ہے ، یہ دیکھئے اتنی جلدی کہ گاڑیوں کو پارک کرنے کا بھی وقت نہیں اوریہاں تو اتنی جلدی کہ صاحب سرخ بتی بھاڑ میں جائے۔

لیکن جہاں یہ تیزی اور برق رفتاری قابو سے باہر نظر آتے ہیں ،وہیں اس شہر کے کئی کونے ایسے بھی ہیں جہاں ٹھہرائو اور دھیمے پن کا اپنا ہی انداز ہے، یہ گل جی ہیں عالمی شہرت یافتہ مصور، انکے رنگوں میں پھیلی گہرائی سے ملئے، یہ فاطمہ ثریا بجیا ہیں عالمی شہرت یافتہ ادیبہ انکے قلم کی شگفتی کو دیکھئے اور یہ ضیاء معین الدین ، شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو۔ بدقسمتی سے جب کبھی کراچی کی بات نکلتی ہے تو معیشت اور صنعت پر آکر رک جاتی ہے حالانکہ باغوں کی رونق ہو یا ساحلوں کی ہوا،نوجوان منچلوں کی ٹولیاں ہوں یا رومانی جوڑوں کی من موجیاں، ادب کی سنجیدہ محفلیں ہوں یا شعرا کے مشاعرے، آرٹ اورفنون لطیفہ کے شاہ پارے ہوں یا علم و دانش کی درسگاہیں، مذہب اور عقیدے کی برکتیں ہوں یا روحانیت کی برکات ، گویا روشنیوں کا یہ شہر زندگی کے ہر رنگ سے رنگا ہوا ہے اور خوشبو سے مہکا ہوا ہے۔ ایک دور تھا جب کراچی اپنی امن پسندی کے لئے مشہور تھا، لیکن نجانے اس شہر کی پر امن فضاء کو کس کی نظر کھاگئی۔ انیس سو چھیاسی میں بشریٰ زیدی کی حادثاتی موت کے بعد جو لسانی فسادات رونما ہوئے اس نے لسانی بنیادوں پر ایک نئی سیاسی تقسیم پیدا کی جو آگے چل اکثر مسائل کا سبب بنی۔ ریاستی آپریشن، فرقہ ورانہ کشیدگی ، گینگ وار، لینڈ مافیا، بھتہ مافیا اور چوری ڈاکے۔ 

معامالات ہیں کہ سنبھلنے کا نام ہی نہیں لیتے اور ایک ہلکی سی چنگاری بارہ مئی، ستائیس دسمبر جیسے واقعات کا پیش خیمہ ثابت ہوجاتی ہے۔لیکن ان تمام تر صورتحال کے باوجود حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اہل کراچی زندگی کی گاڑی روکتے نہیں، کاروبار بڑھ رہا ہے، لوگ آرہے ہیں، سماجی ، ادبی اور روایتی سرگرمیوں میں بھی وقت کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے جبکہ اعلی تعلیم کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے اور شاید اسی لئے قیام پاکستان کے وقت کسی نے کہا تھا کہ آج دلی کراچی کی قسمت پر رشک کررہی ہے اور کیوں نہ کرتی کہ جو مقام دلی کو صدیوں کے انقلابات زمانہ نے بخشا، کراچی نے چند برسوں میں ہی سمیٹ لیا۔

کاشف نصیر


Friday, February 20, 2015

کراچی: ایک مشکل شہر....


رات کے کھانے کی میز پر ہر ایک کے پاس سنانے کے لیے ایک کہانی تھی: ٹریفک سگنلز پر گن پوائنٹ پر ڈکیتی، اور چوروں کا گھروں میں گھس آنا، یہ وہ تجربات تھے جو وہ سب شیئر کر رہے تھے۔

یہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کے متمول علاقے کا ایک گھر تھا مگر یہ کہانیاں ایسے علاقوں میں زیادہ خوفناک ہوجاتی ہیں جہاں لوگ سیکیورٹی 'خریدنے' سے قاصر ہیں۔ شہر کے ہر تیسرے شخص کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ اس عذاب سے گزرا ہے اور وہ بھی ایک بار نہیں کئی بار۔

شہر میں خون سستا ہوگیا ہے اور ڈاکوﺅں کے سامنے کسی قسم کی مزاحمت کی قیمت لوگوں کو اپنی زندگیوں کی صورت میں چکانا پڑتی ہے: بحث مت کرو یا احمقانہ جرات سے گریز کرو، یہ وہ عام مشورہ ہے جو شہر میں آنے والے ہر فرد کو دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ صحیح بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ قانون کی عملداری ملک کے سب سے بڑے شہر میں مکمل طور پر منہدم ہونے کے مقام پر پہنچ چکی ہے اور پولیس کی جانب رخ کرنا بھی آپ کے لیے بڑی مشکل کا باعث بن سکتا ہے۔
تو کوئی اس لاقانونیت کے ماحول میں کیسے خود کو بچا سکتا ہے؟ ڈکیتیوں اور لوٹ مار کی وارداتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہر کے تیزی سے تباہی کی جانب بڑھنے کو واضح کردیا ہے۔ اس زرخیر کاسموپولیٹن شہر میں لوگوں کے پاس بچنے کے اپنے طریقے ہیں کیونکہ یہ شہر اب بھی بے مثال مواقع فراہم کر رہا ہے۔

عوام کے لیے حکومت مکمل طور پر غیر متعلق یا قبضہ گروپ بن چکی ہے جسے نظرانداز کیے جانے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس دولت ہے تو اپنی سیکیورٹی خود خریدیں اور دیگر خدمات کے لیے رقم ادا کریں۔ اگر آپ اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تو پھر مافیاز اور مقامی سیاسی جماعتوں کی سرپرستی کے متلاشی بن جائیں، مگر یہ بھی آپ کی مکمل سیکیورٹی کی ضمانت نہیں۔

اب بھی یہ شہر ناقابلِ یقین رفتار سے پھیل رہا ہے اور 1998 سے اب تک کراچی کی آبادی کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے اور یہاں کے جغرافیے نے شہر کو متعدد معاشی، سماجی اور ثقافتی اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے جن کا ایک دوسرے سے بہت کم یا کوئی کنکشن نہیں۔ یقیناً اس تقسیم میں مزید نمایاں اظہار گزشتہ ایک دہائی کے دوران بڑی تعداد میں گھر بار چھوڑ کر یہاں آنے والے افراد کے اثر سے ہوا۔

یہ صرف شمال سے ہونے والی ہجرت نہیں تھی بلکہ بڑی تعداد میں لوگ اندرون سندھ سے بھی یہاں آئے، خاص طور پر آخری دو سیلابوں کے بعد۔ تاہم اس نے شہر کو پگھلتے برتن میں تبدیل نہیں کیا بلکہ اس نے ثقافتی اور معاشی تقسیم کو مزید وسیع کیا، چنانچہ ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر کلفٹن کے ساحل پر مختلف سماجی اور مالی حیثیت کے افراد کو اکھٹے دیکھا جاسکتا ہے۔

شہر میں نئے آنے والے بیشتر افراد ایسے علاقوں میں بس گئے ہیں جہاں ریاست کی جانب سے خدمات فراہم نہیں کی جا رہیں اور ان کا انحصار مختلف پاور گروپس پر ہوتا ہے، جس نے شہر کو مختلف سیاسی پیمانوں میں تبدیل کردیا ہے۔ خطے، پاور، کنٹرول یا حقوق کی اس جنگ کے نتیجے میں جرائم پیشہ مسلح گینگز کو بھی ابھرنے کا موقع ملا ہے جنہیں طاقت کے مختلف بلاکس کی سرپرستی حاصل ہے اور اس چیز نے شہر کو تشدد کے کبھی نہ ختم ہونے والے چکر میں دھکیل دیا ہے۔ کاروباری حضرات کی جانب سے بھتے کی رقم صرف ان گینگز کو ہی ادا نہیں کی جاتی بلکہ متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی نوازا جاتا ہے تاکہ اپنی بقاء کو ممکن بنایا جاسکے۔

ایک بار جب آپ کو اپنے علاقے کے سب سے طاقتور گروپ کے بارے میں معلوم ہوجائے تو کوئی مسئلہ نہیں رہتا کیونکہ وہ آپ کو سیکیورٹی کی یقین دہانی کروا سکتا ہے۔ ایک ممتاز صنعت کار نے مجھے بتایا کہ انہیں بس حکومتی ٹیکسز کا ایک حصہ انہیں ادا کرنا پڑتا ہے۔ مگر صرف یہی کافی نہیں، بلکہ آپ کو وزراء اور حکومتی افسران کو بھی خوش رکھنا پڑتا ہے۔ ہر ایک کی اپنی قیمت ہے۔ یہ صرف کراچی میں نہیں ہوتا، لیکن یہاں پر حالات زیادہ خراب ہیں اور اس کی وجہ سندھ حکومت کے اندر کی بہت زیادہ نچوڑ لینے والی فطرت ہے۔

کراچی کی بدترین مشکلات میں مزید اضافہ گذشتہ پانچ برسوں سے ایک منتخب شہری حکومت کی عدم موجودگی سے ہوا ہے۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے، پی پی پی حکومت ملک کے سب سے دولت مند شہر کا سیاسی کنٹرول کھونا نہیں چاہتی۔ دو کروڑ کے لگ بھگ آبادی والا یہ شہر متعدد یورپی ممالک سے بھی بڑا ہے اور اسے بیوروکریٹس چلا رہے ہیں جو اس شہر اور اس کے مسائل کو بمشکل ہی سمجھ پاتے ہیں۔

وفاق کے ریونیو کا بڑا حصہ اور صوبائی بجٹ کے لگ بھگ نوے فیصد حصے کو سپورٹ کرنے والے اس شہر کے لیے بہت کم فنڈز دستیاب ہیں۔ کراچی میں متعدد مناسب بلدیاتی خدمات بھی دستیاب نہیں، ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈز کے زیرتحت علاقوں سے باہر ملک کا یہ صنعتی مرکز کچرے کا ڈھیر لگتا ہے۔ مہاجرین کی بے مہار آمد نے شہر کے بڑے حصے کو ایک بڑی کچی بستی میں تبدیل کردیا ہے جہاں بنیادی شہری سہولیات تک میسر نہیں۔

اس میگا سٹی میں کوئی ماس ٹرانزٹ سسٹم نہیں بلکہ یہاں پبلک بسوں کی تعداد میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران کمی آئی ہے اور لوگوں کو اپنے دفاتر تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ موٹرسائیکلوں اور چھ سیٹر رکشوں کے انقلاب نے دباﺅ میں کمی میں مدد دی ہے، دو پہیوں کی سواری کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سستی موٹرسائیکلوں کی آسان اقساط میں دستیابی ہے۔

یہ الزام سامنے آتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کرانے سے انکار کی بنیادی وجہ وسیع اور مالی لحاظ سے پرکشش زمینیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت کے سابقہ اور موجود دور میں آنے والا انتشار حیرت انگیز ہے، کچی بستیوں کی تیزی سے توسیع ساحل سمندر کے سامنے بلند و بالا شاپنگ مراکز اور اپارٹمنٹس عمارات کے ساتھ ہوئی۔ یقیناً منظرنامے میں رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کی آمد نے تعمیراتی سرگرمیوں کو بڑی قوت دی ہے مگر یہ وہ بیل ہے جو سابق صدر آصف علی زرداری کے دروازے تک جاتی ہے۔

بلاول ہاﺅس کے قلعے کے لیے بڑی تعداد میں مکانات کو اطلاعات کے مطابق مارکیٹ قیمتوں پر خریدا گیا۔ انکار کو قیمت کی پیشکش کے جواب میں قبول نہیں کیا گیا۔ کلفٹن کنٹونمنٹ کی زمین کا بڑا حصہ اب بلند و بالا عمارات کا مرکز بن چکا ہے۔ قابلِ استعمال بنائی گئی زمینیں بااثر ٹائیکونز کے لیے خوش حالی کا زینہ بن گئی ہیں، دوسری جانب ایک نیا بحریہ سٹی بھی شہر کے مضافات میں سامنے آنے والا ہے۔

اس شہر کو تمام تر مسائل کے باوجود کیا چیز آگے بڑھا رہی ہے؟ اس کا جواب ممکنہ طور پر اس کی مزاحمت میں چھپا ہوا ہے۔ یہاں کا ثقافتی منظرنامہ ترقی پا رہا ہے۔ کچھ تخمینوں کے مطابق رواں برس کراچی ادبی میلے نے اپنی جانب کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار افراد کو متوجہ کیا اور یہ تعداد گذشتہ سال سے کئی زیادہ ہے، مگر مزاحمت نے یہاں تبدیلی کو بھی مشکل بنایا دیا ہے۔ ایک مروف شہری پلانر اور آرکیٹیکٹ عارف حسین کے الفاظ میں "اچھا ہی ہوتا اگر یہ شہر اتنی مزاحمت کا مظاہرہ نہ کرتا۔"

لکھاری ایک مصنف اور صحافی ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر لکھتے ہیں۔
zhussain100@yahoo.com
یہ مضمون ڈان اخبار میں 18 فروری 2015 کو شائع ہوا۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...