Wednesday, May 4, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

A horse ride at Clifton beach in Karachi

A Pakistani owner waits for customers for a horse ride at Clifton beach in Karachi.
Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

تیس اپریل 1975 کو کراچی میں آخری بار ٹرام چلی


Read More

Monday, May 2, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

سطحِ سمندر میں اضافہ، کراچی ڈوب رہا ہے

پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیات نے سمندر کی سطح بلند ہونے
پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کراچی کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل کانفرنس بلوانے کی ہدایت کی ہے۔ سوموار کو سینیٹ کی کمیٹی کو قومی ادارہ برائے اوشن گرافی کی حالیہ رپورٹ کے بارے بریفنگ دی گئی۔
اس بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ سمندر کی سطح سالانہ ایک اعشاریہ دو ملی میٹر کی شرح سے بلند ہو رہی ہے اور اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو آئندہ ایک صدی کے دوران سمندر کی سطح بلند ہونے کی شرح دگنی ہو جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اسی رفتار سے سمندر میں پانی سطح بلند ہوتی رہی تو آئندہ 35 سے 45 برسوں کے درمیان کراچی کے ساحلی علاقے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا گیا کہ سمندر کی سطح بلند ہونے سے دنیا میں پانچ کروڑ افراد کی زندگیوں متاثر ہوں گی جبکہ سمندر کے قریب رہنے والے چار کروڑ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔

کمیٹی کو بتایا کہ گیا کہ کراچی کے قریب سمندر کی سطح اور انڈس ڈیلٹا کے علاقے میں پانی کی سطح کو ناپنے کے لیے سو سال پرانا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سمندر کی سطح بڑھنے سے سب سے زیادہ نقصان دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقے میں ہو رہا ہے جہاں دریا کا پانی سمندر میں گرتا ہے لیکن ڈیلٹا نشیب میں ہے اور ہموار ہے۔ اسی لیے سمندر کی سطح بڑھنے سے ان علاقوں کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بحیرہ عرب میں بڑھتے ہوئے طوفانوں کے باعث صوبہ سندھ اور بلوچستان کے علاقوں کو خطرہ ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی کے اراکین نے سمندر کی سطح بلند ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل کانفرنس بلوانے کی تجویز دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سپارکو کے تعاون سے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سمندر میں پانی کی سطح اور زمین کی سمندر بردی اور سیلاب کا جائزہ لینے کے لیے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

وزارت کے حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد طویل مدت میں معلومات اکٹھی کرنا اور اس کا معائنہ کرنا ہے تاکہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ اس ڈیٹا کے تفصیلی معائنے کے بعد پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ممکنہ طور پر ایسے مقامات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جہاں سمندر کا پانی داخل ہو سکتا ہے۔ سیینٹ کی کیمٹی نے اسلام آباد میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کمیٹی نے تجویز دی کہ دارالحکومت میں پلاسٹک کے تھیلے بنانے پر پابندی لگائی جائے۔

Read More

Sunday, April 24, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

پراپرٹی ڈویلپرز کی ہوس

یوں تو یہ کہانی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مگر جب تفصیلات واضح طور پر دیکھی جائیں تو یہ کہانی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دیتی ہے۔ طاقتور بلڈرز اور ڈویلپرز اپنے پسندیدہ علاقوں میں نسلوں سے رہائش پذیر غریب لوگوں کو ان زمینوں سے زبردستی بے دخل کر دیتے ہیں۔ پھر خالی کروائی گئی ان زمینوں پر اعلیٰ درجے کی قلعہ بند ہاؤسنگ اسکیمیں تعمیر کی جاتی ہیں جن کو پانی اور سیوریج جیسی میونسپل سہولیات تک خصوصی رسائی دی جاتی ہے۔ کچھ جگہوں پر تو بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

ان امتیازی کالونیوں کو عوام کے سامنے 'ترقیاتی منصوبے' کہہ کر متعارف کروایا جاتا ہے، اور ان 'ترقیاتی منصوبوں' کے اندر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے گھرانوں کو رہائش کے لیے تمام سہولیات سے آراستہ جگہیں فراہم کی جاتی ہیں۔
قوانین کو توڑا مروڑا جاتا ہے تاکہ ڈویلپرز کو سرکاری زمین کوڑیوں کے مول عنایت کی جا سکے، جبکہ ان منصوبوں کا اندرونی انفراسٹرکچر بھی سرکاری اداروں کے اخراجات سے تعمیر کروایا جاتا ہے۔ یہاں سے بے دخل کیے گئے ہر مقامی شخص کو احتجاج کرنے پر پولیس گرفتار کر لیتی ہے، اور دھمکاتی ہے کہ اگر منہ بند نہ رکھا گیا تو سنگین مقدمات میں پھنسا دیا جائے گا۔

یہ کہانی اتنی باقاعدگی سے دہرائی جاتی ہے کہ اب یہ ایک معمول ہی بن گیا ہے۔ اس اخبار کے ایک تحقیقی مضمون نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے بارے میں ایک ایسے ہی معاملے کی تفصیلات سے پردہ چاک کیا ہے، مگر اسی طرح کی ناانصافیوں کی کہانیاں ملک کے تمام بڑے پراپرٹی ڈویلپرز کے بارے میں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ اسلام آباد میں ڈی ایچ اے ویلی فراڈ، اور الائیسیئم ہولڈنگز کیس، جو ایک شہر سے زیادہ پر پھیلا ہوا ہے اور جس میں سابق آرمی چیف کے بھائی کا نام بھی موجود ہے، کی تحقیقات مکمل نہیں کروائی گئیں اور نہ ہی ملزمان کے خلاف الزامات کا تعین کیا گیا۔
امراء اور طاقتور افراد کو ان اسکینڈلز سے بچ نکلنے کا ہنر بخوبی آتا ہے، اور قانون کے ہاتھ شاید ہی کبھی ان کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل ہوئے ہوں۔
کراچی کی بات کی جائے تو زمینوں کو برابر کرکے ان پر مہنگے ترین رہائشی منصوبوں کی تعمیر اس شہر میں ہو رہی ہے جہاں آدھی سے زیادہ آبادی اس کی 8 فیصد سے بھی کم زمین پر ان کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں بنیادی سہولیات جیسے کہ پانی، سیوریج اور کچرا اٹھانا وغیرہ کا کوئی تصور موجود نہیں۔

دوسری جانب ریاست کی توانائی ان ڈویلپرز کو زمین کے حصول میں مدد دینے میں صرف ہو رہی ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے کئی مواقع پر فخریہ انداز میں بتایا ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری افسران کو رشوتیں دے چکے ہیں۔ ان کا یہ جملہ تو بہت ہی مشہور ہے کہ اگر وہ اپنی دی ہوئی سب سے بڑی رشوت کی رقم ظاہر کر دیں تو عوام کو 'ہارٹ اٹیک' ہوجائے۔

ان منصوبوں کو نکیل ڈالی جانی چاہیے۔ ریاست کی توجہ اپنے اصل مقصد کی جانب ہونی چاہیے، یعنی غریبوں کو چھت فراہم کرنا، نہ کہ ان کی چھت چھیننا۔
زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طاقتور افراد کا جو گٹھ جوڑ یہ پراپرٹی ڈویلپمنٹ منصوبے پیدا کرتے ہیں، وہ ہماری سیاست کا ایک زہریلا عنصر ہے۔ اس سے تباہ کن طاقتوں کو اپنے مفادات حاصل کرنے اور حکمرانوں اور عوام کی ترجیحات تبدیل کرنے کی کھلی چھوٹ ملتی ہے۔

ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں کو یہ بات سمجھائی جانی چاہیے کہ رشوت دینا بھی اتنا ہی غلط کام ہے جتنا کہ رشوت لینا۔

یہ اداریہ ڈان اخبار میں 20 اپریل 2016 کو شائع ہوا۔

Read More