Sunday, November 23, 2014

Street crime in Karachi


اگرچہ شہرِ قائد میں دہشت گردوں کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن دوسرے سال میں داخل ہو گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشتبہ ملزمان، عسکریت پسندوں اور شر پسندوں کو پکڑنے میں بہت زیادہ مستعدی بھی دکھا رہے ہیں، تاہم یہ ساری پریکٹس اسٹریٹ کرائمز کو روکنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے اور پولیس و رینجرز کے مشترکہ آپریشن کے پہلے 14 مہینوں کے دوران موبائل اور موٹر سائیکل چھیننے کے متعدد کیسز رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔

کراچی پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے اعداو شمار کے مطابق کراچی کے شہری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیے جانے کے بعد 421 دنوں میں 18,519 موبائل فونز سے محروم ہوئے، جبکہ اس سے قبل اتنے ہی دنوں میں یہ تعداد 11,295 تھی۔

کراچی پولیس کے ایک عہدیدار نے اعدادو شمار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ 'ستمبر 2013 میں جب اس آپریشن کا آغاز کیا گیا تو کراچی کے شہری ایک دن میں 44 موبائل فونز سے محروم ہو رہے تھے، جبکہ آپریشن شروع کیے جانے سے قبل یہ تعداد 27 تھی'۔

'اسی طرح آپریشن کے 421 دنوں کے دوران 26,040 موٹر سائیکلیں یا تو چھینی گئیں یا پھر چوری ہو گئیں، جبکہ آپریشن سے قبل اتنے ہی دورانیے میں موٹر سائیکلیں چھیننے یا چوری ہونے کے 24,672 واقعات ہوئے'۔
'اس کا مطلب یہ ہے کہ آپریشن کے آغاز کے بعد ہر دن 58 شہری اپنی موٹر سائیکلوں سے محروم ہو رہے ہیں'۔

کراچی پولیس کو بھی اس ٹارگٹ آپریشن میں مستعدی دکھانے کی قیمت، دہشت گردوں کی جانب سے دھمکیوں سے لے کر پولیس مقابلوں، مافیا اور اہم سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے اور اکتوبر 2014 تک محکمہ پولیس اپنے 132 اہلکار کھو چکی ہے۔
جہاں پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں کی بدولت کسی حد تک فرقہ وارانہ اور سیاسی بنیادوں پر قتل کی وارداتوں میں کمی آئی ہے وہیں موبائل اور موٹر سائیکل چھیننے سمیت دیگر اسٹریٹ کرائمز کی تعداد میں اضافے نے اس حوالے سے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، تاہم سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کے پیچھے بھی ایک وجہ ہے۔

سٹیزن پولیس لائیژن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے چیف احمد چنائے کے مطابق 'آپریشن کے دوران چار سنگین جرائم جیسے قتل، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری اور اسٹریٹ کرائمز پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے'۔
'تین مسائل جیسے قتل، اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری جیسے جرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس اور رینجرز کے خصوصی یونٹس کام کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان جرائم کی شرح میں تیزی سے کمی آئی ہے، جبکہ اسٹریٹ کرائمز کو صرف پولیس اسٹیشنز کے ذریعے ہی کنٹرول کیا جاتا ہیے اور ان کی کارکردگی یقیناً اچھی نہیں ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پولیس اسٹیشنزکو اتنے وسائل مہیا نہیں ہیں اور دوسری جانب وہ موبائل اور موٹر سائیکل چھینے کی وارداتوں کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے'۔

احمد چنائے کا کہنا تھا کہ 'سی پی ایل سی میں ہم نے متعدد بار ان جگہوں کی نشاندہی کی ہے، جہاں اسٹریٹ کرائمز کی شرح زیادہ ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ان مقامات پر مناسب نفری تعیانت کی جائے اور سنجیدگی سے نگرانی کی جائے، لیکن بدقسمتی سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا'۔


انھوں نے پولیس تھانوں میں فوری اصلاحات کے نفاذ کی تجویز دینے کے ساتھ ساتھ پولیس تھانوں میں انفرادی سطح پر کارکردگی کی نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

احمد چنائے کا کہنا تھا کہ 'ہماری پولیس اس مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم اس سلسلسے میں انھیں وسائل مہیا کیے جانے چاہئیں اور تھانوں کی سطح پر پولیس پٹرولنگ کے نظام کو موثر بنایا جانا چاہیے'۔

عمران ایوب

Street crime in Karachi

Monday, September 22, 2014

Mafias in Karachi


 کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، دنیا کے دس بڑے شہروں میں سے ایک  پاکستان کی معاشی شہ رگ۔ بیرون دنیا سے سمندر کے ذریعے رابطے کا پاکستان کا واحد ذریعہ، ملکی ٹیکس کی آمدنی میں 60 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالنے والا شہر۔ یہ وہ تمام خصوصیات ہیں جو اس شہر کی ملک کی اقتصادی اور معاشی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں۔

بدقسمتی سے اس وقت بہت سے مافیا کے شکنجے میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے۔ جو لوگ کراچی کے حالات پر خاص نظر رکھتے ہیں وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ پچھلے 5 سے 6 سال کے دوران اس شہر کو جتنا نظرانداز کیا گیا اس کی شاید ہی کوئی مثال مل سکے۔ اور اگر یہ کہا جائے تو بجا ہوگا کہ اس شہر کے ساتھ سیاسی یتیموں جیسا سلوک کیا گیا۔

اس شہر کے منتخب نمایندے چاہے اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں اپنی بے بسی اور اختیارات نہ ہونے کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی عدم توجہی کے باعث یہ شہر اب مسائل کا گڑھ بنتا نظر آتا ہے۔ پچھلے 5 برسوں میں امن وامان کی انتہائی مخدوش صورتحال جسے وزیرستان اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے بھی بدتر گردانا گیا وہ ریکارڈ حصہ ہے لیکن اب خدا کا شکر ہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جس کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکمرانوں دونوں کو کریڈٹ دینا چاہیے، لیکن یہ ناسور ابھی تک ختم نہیں ہوا اور وقتاً فوقتاً سر اٹھاتا رہتا ہے لیکن اس وقت ہم بات کرتے ہیں ان مختلف مافیاز اور گروپوں کی جنھوں نے پاکستان کی اس معاشی شہ رگ کو بری طریقے سے جکڑا ہوا ہے۔

سب سے پہلے لینڈ مافیا جس کی بڑھتی ہوئی مجرمانہ سرگرمیوں سے سب ہی پریشان ہیں، اگر آپ کا پلاٹ کراچی کے مضافاتی اور دور دراز علاقے میں موجود ہے تو پھر آپ اپنے کو بہت ہی خوش قسمت کہلائیں گے اگر آپ کے پلاٹ پر قبضہ نہ ہوا ہو اور اس کے اردگرد چار دیواری نہ کھینچی گئی ہو اور اگر آپ اتفاق سے وہاں کا دورہ کرنے پہنچ جائیں تو اپنے ہی پلاٹ میں اجنبیوں کی طرح داخل ہونا پڑتا ہے اور جسارت کرنے پر آپ کو بتایا جاتا ہے کہ یہ تو آپ کا پلاٹ ہی نہیں بلکہ جب آپ اپنے کاغذات دکھائیں تو آپ کے سامنے بھی اسی طرح کے کاغذات کا ایک اور سیٹ دکھایا جاتا ہے جس میں قبضہ کرنے والے کے کوائف اور اس کو مالک دکھایا جاتا ہے۔

عمومی طور پر اس کو دہری فائل (deed file) کہا جاتا ہے، اب اصل کاغذات کس کے ہیں اور اس زمین کا اصل مالک کون ہے اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے جس کے لیے آپ کو برسوں انتظار کرنا پڑے گا اور اپنی زمین کی واپسی کے لیے اور اپنے آپ کو مالک ثابت کرنے کے لیے لاکھوں روپے بھی خرچ کرنا پڑیں گے۔ بعض اوقات قبضہ کرنے والی پارٹی بھی بڑی بے باکی سے آپ کو پلاٹ کی مالیت کے حساب سے رقم یا جرمانے کی ادائیگی کا مطالبہ کرے گی جس کو دے کر آپ اپنے پلاٹ کا دوبارہ قبضہ حاصل کرسکتے ہیں۔

کافی لوگ اس طرح کا جرمانہ دے کر اپنی جان چھڑاتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ رقم عدالتوں میں خرچ ہونے والی رقم اور وہاں پیشیاں بھگتنے والے وقت سے کہیں کم ہوتی ہے۔ اور اب تو یہ وبا دور دراز نہیں بلکہ کراچی کے بیچ و بیچ رہنے والے علاقوں تک میں پھیل چکی ہے۔ حتیٰ کہ کراچی کے پوش اور امیر علاقوں میں اگر آپ کو کوئی خالی پلاٹ نظر آئے تو اس کے گرد چار دیواری اور اس کے باہر لگا ہوا خبردار کرنے والا نوٹس اور سیکیورٹی گارڈ بیٹھا بھی نظر آئے گا۔ یعنی اپنے پلاٹ کی حفاظت اپنے خرچ پر۔ حکومتی اداروں کی طرف سے دادرسی کا کوئی امکان موجود نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے خالی مکان کسی نہ کسی کو کرایے پر دینے میں زیادہ عافیت تصور کرتے ہیں۔ کیونکہ اتنا جنگل کا قانون ابھی نہیں آیا کہ رہنے والے کو اس کے سامان سمیت باہر نکال کر پھینک دیا جائے، ہاں البتہ یہ بات اور ہے کہ اگر آپ اس کرائے دار کو ایک یا دو سال سے زیادہ عرصے وہاں رہنے دیں تو وہ خود ہی اس پر قبضہ کرلے اور پھر اس کی حمایت میں اپنے قانونی کاغذات بھی ثبوت کے طور پر پیش کردے یا پھر اپنے آپ کو کسی کالعدم تنظیم یا سیاسی جماعت کا کارندہ ظاہر کرکے ڈرا دھمکا کر مالک مکان کو چلتا کردے، کیونکہ یہاں پر ویسے بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج موجود ہے۔

اس کے بعد ہے بلڈر مافیا۔ یہ مافیا رہائشی علاقوں میں سنگل یا ڈبل اسٹوری مکان خرید کر اس کو ملیا میٹ کرنے کے بعد اس جگہ پر 8 سے 10 منزلہ عمارتیں تعمیر کرتا ہے۔ جن میں کبھی کبھار دو سے تین فلورز پارکنگ کے لیے وقف کیے جاتے ہیں ورنہ ان کے رہائشیوں کی گاڑیاں بھی رہائشی علاقوں کی گلیوں میں ہی پارک ہوں گی۔ چونکہ یہ فلیٹ لاکھوں روپے میں فروخت کیے جاتے ہیں اس وجہ سے یہ بلڈر مافیا اوپر تک سارے حکام تک رشوت پہنچانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ کیونکہ اس صورت میں بھی یہ گھاٹے کا سودا بالکل نہیں۔
اب وہاں رہنے والے رہائشی جس در کا دروازہ کھٹکھٹا لیں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کا علاقہ نہ چاہتے ہوئے بھی اور خلاف قانون بھی کمرشل ہوچکا۔

 اب وہاں بجلی، پانی اور سیوریج کے نظام پر کیا اثر ہوگا؟ اس کا پرسان حال تو کوئی بھی نہیں۔ ایک زمانے میں لوگ ایک پلازہ کی تاریخی عمارت کو کراچی کی بلند ترین اور ممتاز عمارت کے طور پر یاد کرتے تھے لیکن اب ذرا شہر کا دورہ کریں یہاں پر تو آپ کو بہت سارے (چھوٹے) پلازہ نظر آئیں گے۔ اب یہ ترقی کی علامت ہیں یا پھر اس شہر کے باسیوں اور یہاں موجود خستہ حال انفرااسٹرکچر پر بوجھ عظیم، اس کا فیصلہ قارئین خود ہی کرسکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اسلحہ مافیا کی طرف۔ شہر میں ہر جگہ تھوڑی سی کوشش کرنے پر اسلحہ کے ڈھیر وافر مقدار میں نظر آتے ہیں۔ اب کسی کا ریسٹورنٹ میں جھگڑا ہوجائے یا کسی دکان پر تنازعہ ہوجائے فوراً سے اسلحہ باہر نکل آتا ہے اور معمولی سی تکرار پر لوگوں کا قتل اور زخمی ہونا ایک معمول کا امر بن گیا ہے۔ اور اگر آپ کو ڈر ہے کہ یہ غیر قانونی اسلحہ ہے تو تھوڑے سے پیسے دے کر کسی رکن اسمبلی کے کوٹے پر اسلحہ خرید کر اس کا لائسنس بنالیں، اب جب اسلحے کا لائسنس ہے تو کون پوچھے گا کہ اس کو قانونی طور پر استعمال کرنا ہے یا غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔

لائسنس تو پھر اجازت نامہ ہے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی اسلحے سے لیس گاڑیاں دیکھنا تو اب معمول کا مشاہدہ ہے۔ کسی کی جرأت ہے تو ان کو روک کر پوچھ لے کہ اسلحے کی اس طرح نمائش تو قطعاً غیر قانونی ہے۔ لائسنس کا پوچھنا تو دور کی بات ہے۔ کبھی کبھار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مہم شروع ہوئی تو تھوڑی بہت پکڑ دھکڑ اور اس کے بعد وہی معمول۔ کون پوچھنے والا ہے کہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے یا پھر کوئی دور دراز قبائلی علاقہ۔ جہاں پر علاقے کے جاگیردار اور زمیندار اپنا رعب و دبدبہ دکھانے کے لیے کھلے عام اسلحے کی نمائش کرتے ہیں۔

عبد الوارث

Mafias in Karachi

کراچی! قائد کا مولد، مسکن اور مدفن......


شہر کراچی کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح اس شہر میں پیدا ہوئے،اسی کو اپنا مسکن بنایا اور یہیں مدفون ہوئے۔ قائد سے والہانہ عقیدت و محبت کے اظہار کے لیے ہندوستان سے لٹے پٹے آنے والے مہاجرین اپنی جھونپڑیاں ہٹاکر مزار قائد کے لیے جگہ فراہم کی۔ قائد اعظم کے علاوہ شہید ملت لیاقت علی خان، محترمہ فاطمہ جناح، سردار عبدالرب نشتر اور نورالامین جیسی شخصیات بھی مدفون ہیں اس میں ایک میوزیم بھی قائم ہے۔

تقسیم ہند کے بعد نوزائیدہ مملکت پاکستان کی تعمیر وترقی میں اہل کراچی کا کلیدی کردار رہا ہے یہ شہر حکومت کا دارالخلافہ بھی رہا مگر اس سے اعزاز چھین لیا گیا۔ صنعت وحرفت، تجارت و معیشت، سیاست و تعلیم اور فنون لطیفہ غرض ہر شعبہ زندگی میں اس شہر کے باسیوں کا کلیدی اور ہراول دستے کا کردار رہا ہے گزشتہ روز شاہ محمود قریشی نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بجا کہا ہے کہ ’’جب کراچی جاگتا ہے تو پاکستان کی سیاست کروٹ لیتی ہے۔‘‘

حقیقت بھی یہی ہے کہ جب کراچی میں امن و سکون سیاست اور معیشت دونوں عروج پر تھے جب یہاں امن وامان کا مسئلہ گمبھیر ہوجاتا ہے تو اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت اور سیاست دانوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ آج محسوس یہ ہوتا ہے کہ کسی مذموم سازش اور منصوبہ بندی کے تحت اس شہر میں مذہبی، لسانی اور سیاسی تفریق کو پروان چڑھاکر امن وامان، صحت و صفائی، تعلیم و میرٹ کو تباہ کرکے شہریوں کو بے ہنگم ٹریفک تجاوزات، لینڈ مافیا، اسٹریٹ کرائمز، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے حوالے کردیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ قائد کے شہر کے علاوہ قائد کے مزار کو بھی نہیں بخشا گیا جو قومی تشخص کی علامت ہے۔یہاں پر کون کون سے اخلاقی و قانونی جرائم سرعام نہیں ہوتے ہیں۔

غالباً 28 اگست سے سیکیورٹی کی وجوہات ظاہر کرکے مزار قائد اور اس کے احاطے میں عوام الناس کا داخلہ بند ہے۔ مزار قائد شہر کے وسط میں ایک وسیع و عریض علاقے پر مشتمل ہے جہاں گھاس، درخت، فوارے اور پانی کے حوض مزار پر آنے والے شہریوں کے لیے تفریحی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں احاطے میں گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے بہت بڑا حصہ مختص ہے۔

قومی تہواروں اور تعطیلات کے ایام میں شہریوں کی بڑی تعداد مزار قائد پر حاضری دیتی ہے۔ اس 11 ستمبر کو قائد کا 66 واں یوم وفات منایا گیا تمام صوبائی اور وفاقی دارالحکومتوں میں توپوں کی سلامی دی گئی، مزار پر حکمرانوں، سیاستدانوں، اعلیٰ حکام اور تنظیموں نے حاضری دی ذرائع ابلاغ نے خصوصی پروگرام نشر کیے اخبارات نے خصوصی ایڈیشن شائع کیے بانی پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا گیا قیام پاکستان کے لیے ان کی انتھک جدوجہد اور قائدانہ کردار کے تذکرے کیے گئے۔

اس سال قائد اعظم کا یوم وفات اس لحاظ سے پاکستانی تاریخ کا بدقسمت دن تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث مزار قائد کے دروازے تمام شہریوں پر بند کردیے گئے تھے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے مزار کا رخ کیا تھا جو یہاں آکر مایوس ہوئے۔ شہریوں کا گلہ تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قائد کے یوم وفات پر ان کے لیے مزار کے دروازے بند کیے گئے ہیں اگر حکومت چاہتی تو انتظامات بہتر کرکے مزار کو عام شہریوں کے لیے کھول سکتی تھی۔ مزار قائد کے مینجمنٹ بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث مزار کو عام شہریوں کے لیے بند کیا گیا تھا جو کلیرینس ملنے پر کھول دیا جائے گا۔

کچھ عرصے سے قائد کے نظریات اور ذات کے مطابق غلط بیانیوں، بدگمانیوں اور مبالغہ آرائی کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ کبھی ان کی ذات، مذہب اور جائے پیدائش سے متعلق سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور کبھی نظریات کے حوالے سے بحث کی جاتی ہے کہ قائد اعظم ایسا پاکستان چاہتے تھے، قائد اعظم ویسا پاکستان چاہتے تھے روز روز نئے سیاسی نعرے لگائے جاتے ہیں پہلے کہا جاتا تھا کہ ہم اس ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنائیں گے اب دعوے کیے جاتے ہیں کہ ہم نیا پاکستان بنائیں گے۔ جب قائد اعظم نے ایک نظریاتی مملکت کی بنیاد ڈال دی، اس کے خدوخال بیان کردیے پھر اس کو ایک متفقہ آئین بھی مل گیا جس میں یہ تمام امور طے شدہ ہیں تو نئے پاکستان کے نعروں کا مقصد سمجھ سے بالاتر ہے۔

قائد اعظم کے تشخص اور شخصیت کو مسخ کرنے کے لیے قائد اور ابوالکلام آزاد کی ذات اور نظریات کا موازنہ شروع کردیا جاتا ہے اور اس کے لیے ان دونوں شخصیات کے مخصوص موضوعات پر تقریروں اور تحریروں کے من پسند حصے ان کے سیاق و سباق سے ہٹ کر من چاہے مطالب و معنی پہناکر استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ایک مخصوص سوچ پیدا کرکے اپنے مطلوبہ مذموم مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔ ان کوششوں میں قائد اعظم اور ابوالکلام آزاد دونوں کے نظریات و افکار اور ان کی ذات کی نفی ہوتی ہے۔ پچھلے سال زیارت میں قائد اعظم ریزیڈنسی میں تخریب کارانہ آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس میں عمارت سے پاکستان کا قومی پرچم اتار کر ایک علیحدگی پسند تحریک کا پرچم لہرادیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد علاقے کے لوگ جمع ہوگئے تھے جنھوں نے اس المناک کارروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور قائد اعظم اور پاکستان کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے تھے۔ لیکن حکومت کی بے حسی یہ تھی کہ اس نے اس قومی المیے کو صوبائی معاملہ قرار دے کر اپنا دامن چھڑالیا تھا سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں اور شخصیات کی جانب سے بھی سانحے پر عمومی طور پر لاتعلقی کا رویہ رہا۔

البتہ قائد اعظم کی نواسی اور ان کے شوہر کی گنتی کے چار افراد کے ساتھ مظاہرہ کرتے ہوئے ایک تصویر اخبارات میں ضرور چھپی جس میں یہ افراد ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے قائد کی رہائش گاہ اور عظیم قومی ورثے کو بموں اور راکٹوں سے تباہ کردینے کی اس دہشت گردانہ کارروائی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ملک کے خالق کے ساتھ اس قسم کا رویہ دنیا کے کسی اور ملک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منظم سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔

سب سے پہلے اس کی ابتدا 25 دسمبر 2006 کو پرویز مشرف کی حکومت نے کی جب مزار قائد کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اس دن مزار کے دروازے بند کرکے احاطہ مزار میں نغمہ سرائی کی محفل سجاکر سیاسی پروپیگنڈا کیا گیا، رہبر ترقی و کمال کے نام سے یہ تقریب رات گئے تک جاری رہی۔ مزار قائد پر 6 خواتین اور ایک سکھ گارڈ کو تعینات کرکے اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک کرنے پر داد سمیٹی گئی مزار قائد کے احاطے میں جہاں پان سپاری تک لے جانا منع ہے وہاں حکومتی سطح پر اس قسم کا پروگرام کرکے مزار کے تقدس کو نقصان پہنچایا گیا اس کے بعد سے یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔

مزار پر ایک مجسٹریٹ بیٹھتا ہے دیگر ایجنسیوں کے افراد بھی موجود رہتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود احاطہ مزار اور اطراف کی شاہراہیں بدقماش لوگوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں۔ مزار کو فحاشی کے لیے کرایہ پر دینے کا انکشاف، ثبوت اور فلمیں ٹی وی کے ذریعے تمام دنیا نے دیکھیں مگر ارباب اختیار اور اقتدار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ چند سال قبل پنجاب سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مزار قائد پر آنے والی دوشیزہ کو چند لمحوں کے لیے مزار کی روشنیاں بند کرکے اغوا کرلیا گیا تھا اور مزار میں کئی دنوں تک جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رات کی تاریکی میں مزار کے احاطے سے باہر ملحقہ سڑک پر پھینک دیا گیا تھا۔
مزار کا انتظامی بورڈ، مجسٹریٹ، کیڈٹ اور قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کے ہوتے ہوئے اس قسم کے قبیح واقعات ببانگ دہل کیونکر ہو رہے ہیں جن کو سن کر انسانیت کا سر بھی ندامت سے جھک جاتا ہے۔ مگر ارباب اختیار و اقتدار کو جھرجھری تک نہیں آتی۔ پرویز مشرف کی مسلم لیگ سے شروع ہونے والے اس سلسلے میں مسلم لیگ ن تک بے انتہا تیزی آگئی ہے کاش یہ مسلم لیگی اور قائد اعظم کے سیاسی و نظریاتی جانشینی کا دعویٰ کرنے والے قائد اور اس ملک کے تشخص کا دفاع کرسکیں۔

عدنان اشرف ایڈووکیٹ