Breaking News
recent

کراچی سرکلر ریلوے کی سنہری یادیں

تقریباً دو کروڑ آبادی والا پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی اب تک پبلک ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولیات سے محروم ہے۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی اپنی آبادی اور پاکستان کے مختلف شہروں سے روزگار کے لیے آنے والے لوگوں کی تعداد میں روز بروز اضافے کے باوجود اس شہر میں رہنے والے شہریوں کو وہ سفری سہولیات میسر نہیں ہیں جو ہونی چاہیئں۔

یوں تو ہر آنے والی حکومت نے اس شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی اعلانات کیے جن میں گرین بس اور میٹرو بس وغیرہ شامل ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی بھی اعلان کردہ منصوبے پر عمل نہیں ہوا، یا پھر اگر کسی پر ہوا بھی تو اسے کچھ ہی عرصے بعد ختم کردیا گیا۔
ماضی میں اس شہر میں بہت سی سرکاری بسیں (کے ٹی سی) کے تحت چلتی تھیں جن میں طلباء کو بھی رعایتی کرائے پر سفری سہولت حاصل تھی، لیکن رفتہ رفتہ یہ بسیں بند کر دی گئیں۔ ان بسوں کے ٹرمینلز، جنہیں ڈپو کہا جاتا ہے، شہر کے کئی مقامات پر اب بھی موجود ہیں۔
اسی طرح ماضی میں اس شہرِ کراچی میں ریلوے کا ایک مربوط نظام سرکلر ریلوے کی صورت میں موجود تھا جس سے اس شہر کو صاف ستھری بہترین سفری سہولت میسر تھی۔ سرکلر ریلوے کا منصوبہ 1969 میں پاکستان ریلوے کی جانب سے شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت ڈرگ روڈ سے سٹی اسٹیشن تک خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں، جو نہایت کامیاب رہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس سہولت سے سالانہ 60 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچتا تھا۔ عوام میں بے پناہ پذیرائی اور ریلوے نظام کو کافی فائدہ ہونے کی بنا پر 1970 سے 1980 کے درمیان کراچی سرکلر ریلوے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر 104 ٹرینیں چلائی جانے لگیں، جن میں سے 24 ٹرینیں لوکل لوپ ٹریک اور 80 مین ٹریک پر چلائی گئیں۔ کراچی سرکلر ریلوے لائن ڈرگ روڈ اسٹیشن سے شروع ہو کر لیاقت آباد سے ہوتی ہوئی کراچی سٹی اسٹیشن پر ختم ہوتی تھی جب کہ پاکستان ریلوے کی مرکزی ریلوے لائن پر بھی کراچی سٹی اسٹیشن سے لانڈھی اور کراچی سٹی اسٹیشن سے ملیر چھاؤنی تک ٹرینیں چلا کرتی تھیں جن سے ہزاروں لوگ روز مستفید ہوتے تھے۔
جن لوگوں نے کراچی سرکلر ریلوے سے سفر کیا ہے وہ اس پر لطف سفر سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس سرکلر ریلوے میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سفر کرتے تھے۔ یہاں تک بھی دیکھا جاتا تھا کہ لوگ اپنی کاریں ریلوے اسٹیشن پر پارک کر کے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے اس سرکلر ریلوے کے سفر کو ترجیح دیتے تھے۔ طالب علم، ملازمت پیشہ افراد، تاجر اور کارباری حضرات نہ صرف روزانہ ٹکٹ لے کر سفر کرتے تھے بلکہ ماہانہ پاس بھی بنوائے جاتے تھے اور ٹکٹ بوگی میں ہی فراہم کرنے کی سہولت بھی موجود تھی۔

صبح کے اوقات میں ان بوگیوں میں وہ منظر دکھائی دیتے تھے کہ جیسے کہ کوئی پوری سوسائٹی ریلوے لائین پر دوڑ رہی ہو۔ خواتین کی بوگیوں میں اسکول و کالج کی بچیاں مطالعہ کرتے ہوئے سفر کرتی تھیں تو ایک بوگی میں لوگ قرآن کی تلاوت کرتے نظر آتے تھے۔ کسی بوگی میں درسِ قرآن ہو رہا ہوتا تھا تو کسی میں سیاسی حالات پر بحث مباحثہ ہو رہا ہوتا تھا۔ کسی بوگی میں اخبارات کا مطالعہ ہو رہا ہوتا تھا تو کسی میں اخبارات کے ہاکر اخبارات کو ترتیب دے رہے ہوتے تھے اسی طرح شام میں جب لوگ اپنے گھروں کو لوٹتے تھے تو ان ٹرینوں کا منظر کچھ اور ہوتا تھا۔ کسی بوگی میں لوڈو، کسی میں کیرم اور کسی میں تاش کھیلا جا رہا ہوتا تھا۔ آج کل کے سوشل میڈیا سے وہ سوشل ٹرینوں کے رابطے کہیں زیادہ مضبوط تعلقات کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔

لیکن بدقسمتی سے 1992 کی دہائی میں کئی ٹرینیں ریلوے کو خسارہ ہونے کی بنیاد بتا کر بند کر دی گئیں۔ اس وقت یہ خبریں بھی اخبارات کی زینت بنیں کہ نجی ٹرانسپورٹ مافیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے اس نظام کو بتدریج زوال کی طرف لے جایا گیا۔ بالآخر 1999 میں عوامی بھلائی کے اس منصوبے کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔

بعد میں ہر آنے والی حکومت نے اس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کئی بار فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی مگر اس کی منظوری ہونے کے باوجود اس منصوبے کو شروع نہ کیا جا سکا۔
 
س وقت ایک امید کی کرن نظر آئی تھی جب جاپان انٹرنیشنل کوپریشن ایجنسی نے کراچی سرکلر ریلوے کے لیے آسان شرائط پر قرضہ دینے کی پیشکش کی اور اس پیشکش کی منظوری کی صورت میں اس ایجنسی کے اشتراک سے کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جاپان کی ایجنسی نے اس منصوبے کے لیے دو ارب چالیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی لیکن ایک بار پھر یہ منصوبہ فائلوں کی نذر کر دیا گیا۔

اس کی بھی بنیادی وجہ جو سامنے آئی تھی وہ یہ کہ جاپان نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کو کرپشن سے پاک رکھنے کے لیے اپنی زیرِ نگرانی سخت مانیٹرنگ سے مشروط کیا تھا اور دوسری شرط یہ رکھی گئی تھی کہ اس پچاس کلومیٹر طویل سرکلر ٹریک کے روٹ میں آنے والی ریلوے اراضی پر جو لوگ قابض ہیں، انہیں حکومت قبضہ ختم کرنے کے عوض معاوضہ دے یا متبادل اراضی دے۔

اس بات پر کبھی بھی متاثرین اور حکومت کے درمیان اتفاق نہیں ہو سکا اور ساتھ ہی ٹرانسپورٹ مافیا جسے اس سرکلر ریلوے سروس شروع ہونے سے شہر میں اپنی گرفت کمزور اور اجارہ داری ختم ہوتی نظر آ رہی تھی، وہ بھی اس منصوبے کی راہ میں مشکلات پیدا کرنے میں متحرک ہوگئی۔

جب انڈیا کی وزارت ریلوے لالو پرشاد یادو کے پاس تھی تو انہوں نے انڈیا کے ریلوے نظام میں ایک نئی جان ڈال کر دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن افسوس کہ ہمارا ریلوے نظام اس عشرے میں بھی تنزلی کا شکار تھا۔ بجائے اس کے کہ ریلوے نظام پر توجہ دی جاتی اور اسے بہتر کیا جاتا، مزید دو اہم ٹرینیں اچانک بند کردی گئیں۔

یہ ٹرینیں مہران ایکسپریس اور شاہ لطیف بھٹائی ایکسپریس تھیں جو کراچی سٹی اسٹیشن سے میرپور خاص تک دن کے مختلف اوقات میں چلا کرتی تھیں۔ ان ٹرینوں سے حیدرآباد، ٹنڈوجام، ٹنڈوالہیار اور میرپور خاص کے لوگوں کو بہت سہولیات میسر تھیں جن میں سب سے زیادہ فائدہ ان ملازمت پیشہ لوگوں کو تھا جو روزانہ حیدرآباد سے کراچی یا کراچی سے حیدرآباد جایا کرتے تھے۔
ایک ٹرین صبح میرپور خاص سے چلتی تھی کراچی کے لیے اور دوسری اسی وقت کراچی سے چلتی تھی میرپورخاص کے لیے۔ ان ٹرینوں کی بندش سے بھی دراصل فائدہ ان ٹرانسپورٹرز کو پہنچا جن کی کوچز کراچی سے میر پور خاص چلا کرتی ہیں۔

جب میں نے محکمہ ریلوے کے ایک ریٹائرڈ افسر سے پوچھا کہ سرکلر ریلوے کا نظام عمدہ ہونے کے باوجود اسے بند کرنے کی کیا وجہ تھی، تو ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک ناکام نہیں ہوتا، جب تک اسے اس کے اندر سے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ کراچی سرکلر ریلوے سے لوگوں نے اس وقت منہ موڑنا شروع کردیا تھا جب ان ٹرینوں کا تاخیر سے آنا جانا روز کا معمول بن گیا تھا۔
ظاہر ہے کہ ان ٹرینوں میں طالب علم، ملازمت پیشہ افراد اور تاجران کی کثیر تعداد سفر کرتی تھی، لیکن جب وہ وقت پر اپنے اداروں میں نہیں پہنچ پاتے تھے تو ان کے لیے یہ سفری سہولت بے فائدہ تھی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ ٹرینیں کیوں تاخیر کا شکار ہونے لگیں، تو انہوں نے بتایا کہ انہیں دانستہ تاخیر سے لایا جاتا تھا جن میں ریلوے کے افسران اور ملازمین ملے ہوئے تھے، جنہیں اس کے عوض معاوضہ دیا جاتا تھا۔ گویا یوں کہنا بجا ہوگا کہ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

جون 2013 میں سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے 26 لاکھ امریکی ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی جس میں کئی نئے اسٹیشن اور ان اسٹیشنوں کے مطابق کئی نئے بس روٹس چلانے کا اعلان بھی کیا گیا، لیکن ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر نہ جانے کن وجوہات کی بناء پر یہ منصوبہ کھٹائی کا شکار ہوگیا اور اب کچھ معلوم نہیں کہ یہ سرکلر ریلوے منصوبہ کبھی بھی پایہء تکمیل تک پہنچ سکے گا یا اس شہر کے لوگ ایک آہ بھر کر اس ماضی کی سنہری یاد کو ہمیشہ ماضی کا ایک خوبصورت باب جان کر ہی یاد کریں گے۔

محمد ارشد قریشی

No comments:

Powered by Blogger.