Breaking News
recent

کراچی سے چھینے ہوئے موبائل، کراچی میں ہی فروخت

قیمتی اور مہنگے اسمارٹ فونز رکھنا تو آج کل کے نوجوانوں کا شوق ہے، لیکن ہر کوئی یہ شوق پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ کچھ شوقین اپنا یہ مہنگا شوق پورا کرنے کیلئے غیر قانونی طریقہ استعمال کرتے ہیں، اور چوری شدہ موبائل بھی خریدنے سے دریغ نہیں کرتے۔

کراچی کے سب سے بڑے ٹاؤن ’’اورنگی ٹاؤن‘‘ میں ہر اتوار کو چور اور ڈکیت ’’چوری شدہ موبائل فونز‘‘ سے ایک وسیع و عریض مارکیٹ سجاتے ہیں۔ جہاں معصوم شہریوں سے چھینے گئے موبائل شہریوں کو ہی سستے دام فروخت کیے جاتے ہیں۔ صبح 9 بجے سے لے کر شام 5 بجے تک اس مارکیٹ میں چوری شدہ موبائل فونز کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس دوران مارکیٹ میں خریداروں کا ایک بڑا ہجوم دیکھنے کو ملتا ہے۔
 مزے کی بات تو یہ کہ نہ بیچنے والوں کو ریاست کی سزا کا خوف اور نہ ہی خریدنے والوں کو۔ یہاں مہنگے سے مہنگا چوری شدہ موبائل انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہوتا ہے۔ اورنگی ٹاؤن 13 نمبر کے قریب لگے اس بازار میں ہر رنگ و نسل کے موبائل فونز با آسانی مل جاتے ہیں۔ جن کی قیمت 3 سو روپے سے لے کر 4 ہزار روپے تک کے درمیان ہوتی ہے۔

فروخت کنندگان کے پاس نہ تو موبائل کے ڈبے موجود ہوتے ہیں، اور نہ ہی وہ خریداروں کو کوئی رسید یا شناختی کارڈ کی نقل دیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر یہاں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی خواتین بھی چوری چکاری کے موبائل فونز فروخت کرتی نظر آتی ہیں۔ اس بازار کی مصروفیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہفتے میں چھ دن ویران رہنے والا علاقہ اتوار آتے ہی میلے کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔

 مختلف کھانے پینے کی اشیاء درجنوں ریڑیوں پر فروخت ہوتی نظر آتی ہیں۔ بازار کے اندر ہی ایک بدبو دار اور غلیظ کچرا کُنڈی بھی ہے جہاں چند نشے میں دُھت موالی کھلےعام منشیات کا استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بازار میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کاروبار کے طور پر یہاں سے کم قیمت میں موبائل خرید کر یہیں تھوڑا مہنگا فروخت کردیتے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس چور بازار سے چند منٹوں کی دوری پر ہی مومن آباد پولیس اسٹیشن موجود ہے لیکن اس کے باوجود فروخت کنندگان بلا کسی خوف و خطر بازار میں چوری شدہ موبائل فونز بیچتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اس غیر قانونی دھندے کیخلاف موثر کارروائی کی جائے تو شہر میں بھتہ خوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ملزمان تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن پولیس کے رویے سے لگتا ہے کہ شاید پولیس خود ان کی سرپرستی کر رہی ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس گندے دھندے کو روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن نہ لینا ایک سوالیہ نشان ہے۔

دہشتگردانہ کارروائیوں میں عام طور پر چوری شدہ موبائل فونز کا ہی استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ملزمان تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب کسی ملک کے اقتصادی شہہ رگ میں ایسے بازار پروان چڑھنے لگیں تو ملک کی معیشت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ شہر سے دہشتگری ختم کرنے کیلئے چوری شدہ موبائل فونز کی فروخت پر قابو ضروری ہے، اگر اس گورکھ دھندے پر قابو نہ پایا گیا تو شاید دہشتگردی پر قابو پانا ایک خواب ہی رہے گا۔

محمد فراز

No comments:

Powered by Blogger.