Breaking News
recent

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بچوں کے لیے کیوں اچھی نہیں؟

آج کل سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا بول بالا ہے۔ نوجوان نسل میں اس کی مقبولیت انتہا کو چھو رہی ہے، لیکن جس قدر نوجوان نسل اس کی عادی ہو رہی ہے، اسی شدت سے یہ سوال بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ ویب سائٹس بچوں کے لیے فائدہ مند ہیں یا نقصان دہ؟اس سوال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نئی نسل کو نہیں معلوم ہو گا کہ گھر میں کیا معاملات چل رہے ہیں؟ والدین کی طبیعت کیسی ہے؟ لیکن یہ ضرور معلوم ہو گا کہ فلاں ملک میں بیٹھا فلاں دوست اس وقت کیا کر رہا ہے حالانکہ یہ دوست اسی سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے ہوئی ہے جبکہ کوئی ملاقات بھی نہیں۔ حقیقی دنیا سے رشتہ اصل تو یہ ہونا چاہیے کہ بچوں کو اپنے اردگرد کے لوگوں کا معلوم ہو کہ کون کیا کر رہا ہے؟ 

اُن کے پڑوس میں کون رہتا ہے؟ کن کن سے دوستی ہو سکتی ہے؟ لیکن یہ معلوم ہونے کی بجائے وہ بس سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہی لوگوں کا احوال معلوم کرتے رہتے ہیں، جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے بات کرتے ہوئے گھبرانا شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ ان ویب سائٹس نے اُن کو حقیقی دنیا سے بہت دور کر دیا ہے۔ موٹاپے کی اہم وجہ اگر آپ کا بچہ زیادہ وقت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گزار رہا ہے، تو یہ بات لازم ہے کہ اُس کی صحت بتدریج خرابی کی طرف جائے گی کیونکہ یہ وہ عمر ہے جب بچوں کے جسم کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس سے بچہ بالکل دور ہے اور بس ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے کی وجہ سے صحت بھی خراب ہوتی ہے اور بچہ موٹاپے کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔

بینائی کی کمی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے استعمال کے لیے بچہ اپنا زیادہ وقت ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ یا موبائل پر ہی گزارتا ہے، جس کی وجہ سے بینائی میں کمی کا خدشہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اجنبیوں سے دوستی، خطرناک نتائج بچے جرائم پیشہ افراد کے لیے بہت آسان ہدف ہوتے ہیں اور وہ فوراً دوسرے کے بہلاوے میں آجاتے ہیں۔ بس سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے مسلسل استعمال سے یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کر بیٹھیں جن کی صحبت اُن کے لیے ہر گز اچھی نہیں۔ روئیے میں منفی تبدیلی ان سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی عادت کی وجہ سے بچوں کے روئیے پر بہت زیادہ منفی اثر پڑتا ہے۔ اُن میں غصہ اور پریشانی بڑھ جاتی ہے۔

 فیس بک پر مشہور ہونے کے لیے بچے بہت کوشش کرتے ہیں اور اپنی پوسٹ پر زیادہ سے زیادہ لائکس حاصل کرنے کے لیے ہر طریقہ استعمال کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوتے ہیں اور تمام تر کوشش کے باوجود بھی ایسا نہ ہو پا رہا ہو، تو وہ مایوس اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے روئیوں میں تبدیلی عام مسئلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ 

(اُردو ٹرائب سے ماخوذ) 

No comments:

Powered by Blogger.